روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

شب خمار ِ شوق ِ ساقی رستخیز اندازہ تھا
تا محیط ِ بادہ صورت خانہ ٗ خمیازہ تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ستیہ پال آنند
بندہ پرور، پرسش ِ احوال ہے، بے جا ، مگر
اہم کیوں ہے رات کا احوال نامہ ، صبحدم؟
صبح تو ہنگام ہے حمد و دعا، تمجید کا
رات میخانے میں گذری، اس کا َقصہ کیوں بھلا؟
’’شوق ساقی‘‘ ، ’’بادہ صورت‘‘ جیسے یہ الفاظ تو
صبحدم سننا بھی کانوں کے لیے مقطوع ہے

مرزا غالب
عمر بھر تو رات کے قصے ہی سنتے آئے ہیں
اب بھلا روداد دن کی کیا سنائے گا کوئی

ستیہ پال آنند
جانتا ہوں، فارسی سے آج کی اردو تلک
ر ات کی ہی داستانیںہیں ، گئی گذری یہاں
دن کا کوئی کاروبار ِ زیست ہے عنقا، حضور
شعر ِ حاضر بھی اسی بدعت کا مظہر ہے، مگر
یہ کہولت یا حداثت آپ کے شایاں نہیں

مرزا غالب
یہ سخن گوئی کی رسم و راہ ہے، طور و طریق

آج تک جاری و ساری نہج ہے، طور و طریق
اس سے غیر آمادگی ، برگشتگی ، سُنت نہیں
میں بھلا کیوںاس الِف سے دست کش ہونے لگا؟

ستیہ پال آنند
میں ہی ،استاذی، ہوا جاتا ہوں اس سے دست کش
یہ بتائیں، ’’شوق ِ ِ ساقی ‘‘کے معانی کیا ہیں یاں؟
کیا یہ شوق و ذوقِ ساقی ہےکہ اس کا انتظار؟

مرزا غالب
تم بتاؤ  ، مصر ع اولیٰ کے کیا معنی ہیں یاں؟
دیکھتا ہوں تم نے کیا سمجھا ہے اس میمنت سے

ستیہ پال آنند
پہلے تو الفاظ کا مفہوم دیکھیں غور سے
کیا’’ خمار ِشوق ِ ساقی‘‘ سےطلب ساقی کی ہے؟
جو نشے کے ٹوٹنے میں یاد آیا ہے بہتِ
’’رستخیز اندازہ ‘‘تو ہے حشر کی منظر کشی
ہاتھ اُٹھائے جس میں اُٹھ کر چل پڑ یں گے مرد زن
کیا یہ نظارہ نشے کی ابتری کا ہے گواہ
جس میں بے لطفی ، نقاہت کی ہے اک واضح جھلک؟
میری تو پہلی نظر میں بس یہی بینش ہے یاں
آپ اپنی دید بافی سے مجھے واقف کریں

مرزا غالب
مصرع ِ ثانی پہ اک غائر نظر بھی اہم ہے

ستیہ پال آنند
’’تا محیط ِ بادہ صورت خانہ ٗ خمیازہ تھا‘‘
ہے ’’محیط ِ بادہ‘‘ کیا دریائے مے کا جوش ، یاں؟
اور ’’خمیازہ‘‘ ہے کیا اُٹھ کر کھڑا ہونے کا فعل ؟
گویا مردے اٹھ رہے ہیں حشر کے میدان میں؟

مرزا غالب
تم بتاؤ، کیا سمجھتے ہو ، عزیزی ستیہ پال؟

ستیہ پال آنند
لفظ ’’مہمل‘‘ ذہن میں میرے ہے کب سے رو بکف
آپ کے غصّے سے، استاذی ،میں ڈرتا ہوں بہت
اس لیے خاموش ہوں ، پنبہ دہن، صامت کھڑا
ورنہ کہہ دیتا کہ اس کوحذف ہی کر دیں ،جناب!

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *