کبھی سانس لی ہے؟۔۔۔۔نورِ مریم کنور

“کبھی سانس لی ہے؟”

ہاں لی ہے،
بالکل ایسے ہی جیسے ایک حبس زدہ چھوٹا سا بند کمرہ ہو
جو ایسے گھر میں ہو جس میں سورج تک نہ آنا چاہے،
کہ جس کا راستہ اتنی تنگ گلیوں کے گچھے سے گزر کے آتا ہو
اور جہاں راستے میں تعفن اٹھتا ہو

وہاں جب ایک ٹی بی کی مریض عورت سانس لے تو اس کی سانس کی جو آواز آتی ہے
بس ویسی ہی سانس لی ہے میں نے

میں پھول، پرندے، تتلی، جگنو اور رنگوں کی دنیا کی باسی تھی
خوشبو، ستارے، آسماں، محبت اور کچھ خواب میرا سرمایہ تھے
پھر ہوا یہ کہ بچپن گزرا اور پھول پرندے تتلی جگنو ستارے اور خواب بھی
اور پھر محبت
محبت بھی خواب ہوئی

آنکھ کھلی تو سامنے دو آنکھیں تھیں، چار سے پانچ سالہ مزدور بچے کی
کہ جس کا منہ معصوم تھا لیکن اس پہ سنجیدگی ساٹھ سالہ اس بوڑھے باپ کی تھی
کہ جس کے ٹھیلے پہ کوئی بِکری نہ ہوئی ہو، کوئی گاہک نہ آیا ہو
اور وہ سوچ رہا ہو کہ گھر خالی ہاتھ کیسے جائے کہ بچے بھوکے بیٹھے ہیں

وہ آنکھیں اور ان میں سوال تھے یا شاید خالی پن یا شاید فکر
مجھے یاد نہیں
پر وہ آنکھیں آج بھی یاد ہیں

وہ آنکھیں مجھے سونے نہیں دیتی تھیں
وہ آنکھیں جیسے میرے اندر بند ہو گیئں تھیں

اور پھر ان آنکھوں کو بھولنے کے لیے
میں نے اپنی آنکھیں کان اور دل بند کر لیے

پر وہ آنکھیں اور آنکھوں میں بدل گئیں
ایک بے کس اور لاچار ماں کی آنکھیں
کہ جس کا بیٹا بم بلاسٹ میں مارا گیا ہو اور اسے بیٹے کا ہاتھ ملا ہو
کبھی اس باپ کی آنکھیں کہ جس نے بیٹے کی قبر کشائی کے بعد کہا، یہ بال میرے بیٹے کے نہیں تھے!
وہ آنکھیں جو پیدل باپ کی تلاش میں کوئٹہ سے اسلام آباد چلیں
اور جنھوں نے دس سالہ زندگی میں دس ہزار مسافت طے کی

ان آنکھوں پہ کتاب لکھی جا سکتی ہے
جانے کتنے ہی صفحے کالے کیے جا سکتے ہیں
کیا اس سیاہی سے اجالا ہو سکتا ہے؟

اب وہ آنکھیں میری سانسوں میں آ گئیں ہیں

ڈاکٹر نے پوچھا، کبھی سانس لی ہے؟

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *