• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • زیادہ چہروں والے شیطان میں سے کس شیطان کے ساتھ امریکی ’’ امن مذاکرات ‘‘ کر رہے ہیں؟۔۔۔غیور شاہ ترمذی

زیادہ چہروں والے شیطان میں سے کس شیطان کے ساتھ امریکی ’’ امن مذاکرات ‘‘ کر رہے ہیں؟۔۔۔غیور شاہ ترمذی

ہندو مذہب میں رامائن کے قصے  میں شیطان راون تھا جس کا دھڑ تو ایک ہی تھا مگر اُس کے سَر بہت زیادہ تھے۔ کہتے ہیں کہ اُسے کسی دیوتا کا وردھان ملا ہوا تھا کہ بے شک اُس کا سر ہزاروں دفعہ تن سے جدا ہوتا رہے مگر اُس کے سر یکے بعد دیگرے اُس کے دھڑ سے منسلک ہوکر اُسے مرنے سے بچائے رکھیں گے۔ ہندو دیوتا رام اور اُس کے بھائی لکشمن نے بالآخر اُس کے دل پر جادوئی ترشول سے تیر چلا کر اُس کا خاتمہ کیا۔

افغانستان کے مستقبل کا تعین کرنے کے لئے 18 سال بعد امریکہ طالبان سے مذاکرات کر رہا ہے۔ مگر سوال یہ پید ا ہوتا ہے کہ آخر اصلی طالبان کون ہیں؟۔۔۔ مقبول عام روایتی خیال کے برعکس طالبان اب ایک متحد گروہ نہیں ہے بلکہ مختلف الخیال دھڑوں میں بٹے ہوئے جنگجو ہیں جن میں سے ایک کے ساتھ امریکہ اپنے اتحادی ساتھیوں کی قیادت کرتے ہوئے مذکرات میں مصروف ہے۔ مگر کیا معلوم اس اژدہے کا سامنے دکھائی دینے والا سَر ہی اصلی ہے یا ان مذاکرات کے بعد دوسرے سَر اپنا پھن نہیں پھیلائیں گے۔

امسال 7 مارچ کو طالبان جنگجوؤں نے افغان نیشنل آرمی کی ایک کمپنی پر حملہ کر کے50 سے زیادہ فوجیوں کو اُڑا دیا ۔ یہ حال ہی میں دیوبندی مسلح گروہ کی جانب سے بڑی حکمت عملی سے کیا گیا حملہ تھا جبکہ دوسری طرف وہ امریکہ سے امن مذاکرات کے لئے بھی بات چیت کر رہے تھے۔ نہ صرف حکمت عملی بلکہ سٹریٹیجک اور اتحادی فوجوں پر اپنی دھاک بٹھانے کے لحاظ سے بھی یہ ایک بڑی کاروائی تھی۔

سنہ 2019ء کے آغاز سے ہی طالبان نے وحشت پھیلاتی مسلح سرگرمیوں سے 400 سے زیادہ افغان فوجیوں کو قتل، زخمی یا اغواء کرنے کی کاروائیاں شروع کر رکھی ہیں جن کی وجہ سے کابل کی امریکی حمایت یافتہ حکومت شدید دباؤ میں آ چکی ہے اور واشنگٹن قیادت پر شدید غصہ کھائے بیٹھی ہے کہ اُس کی جانب سے طالبان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی بجائے مذاکرات کرنے کے بعد کابل حکومت کا مستقبل کیا ہوگا؟۔ افغان آرمی کے تباہ کن نقصانات میں امسال کی یہ سب سے بڑی کاروائی افغانستان کی مغربی سرحد پر ترکمانستان سے ملے ہوئے صوبہ بادغیس میں کی گئی۔ طالبان کے ایک بڑے گروہ نے اس کاروائی میں بالا مرُغاب کے بیرون میں واقع قرون وسطی کے شہر مروالروذ کے کھنڈرات میں قائم افغان نیشنل آرمی کی بیس پر زوردار حملہ کیا۔ اس حملہ کے دوران افغان آرمی ایسے حملوں میں فضائی امداد کے لئے مسلسل ائیربیس کو کال کرتی رہی مگر کسی نے اُن کی کال بھی اٹینڈ نہیں کی۔ اس کے نتیجہ میں طالبان جنگجوؤں نے چار گھنٹوں تک چلنے والی اس لڑائی میں اس بیس کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ اس حملہ کے صرف دودن بعد ہی 9 مارچ کو اسی صوبہ میں ایک اور واقعہ ہو گیا۔ افغان آرمی کے فارورڈ آپریٹنگ بیس (FOB) کے فوجیوں نے بیس کے کچھ فاصلہ پر کچھ لوگوں کے ایک گروہ کو دیکھا۔ دو دن پہلے کے حملے سے گبھرائے ہوئے فوجیوں نے اندازہ لگایا کہ ہو نہ ہو یہ طالبان کی طرف سے ایک اور حملہ کرنے کی تیاری ہے۔ انہوں نے یہ سوچا کہ کہیں (FOB) بھی طالبان کے بڑے گروہ کے ہاتھوں   تباہ نہ  ہو جائے۔ بیس کے کمانڈر نے فی الفور فضائی امداد کے لئے کال کی اور ان آدمیوں پر فائرنگ شروع کروا دی۔ اس دفعہ سینٹرل افغان کمانڈنے بیس کی کال کا جواب دیا اور امریکی جہاز فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف اُڑ گئے۔ تاہم (FOB) کے فوجیوں کے پاس یہ معلومات نہیں تھیں کہ دور فاصلہ پر آدمیوں کا یہ گروپ افغان اور امریکی فوجیوں کا سپیشل پٹرولنگ مشن تھا۔ بدقسمتی سے دوسری طرف افغان۔امریکن سپیشل آپریٹنگ ٹیم نے یہ سمجھا کہ اُن پر طالبان نے حملہ کر دیا ہے لہذا انہوں نے بھی فضائی امداد کے لئے ریڈیو سگنل بھیج دیا تھا۔ اس کے نتیجہ میں امریکہ کے فضاء سے زمین پر مار کرنے والے میزائل نے (FOB) کے باہر لڑ رہے 17میں سے 6 افغان فوجیوں کو چشم زدن میں اُڑا دیا جبکہ 9 دوسرے شدید زخمی ہو گئے۔ افغان ۔ امریکہ سپیشل پٹرولنگ یونٹ کا ایک کمانڈو بھی اس میزائل حملہ میں شدید زخمی ہو گیا۔

اُس کے بعد زیادہ مضحکہ خیز صورتحال یہ پیدا ہوئی کہ ان حملوں کے کچھ ہی دنوں بعد افغان نیشنل آرمی کے فوجیوں نے طالبان کے زمینی حملوں سے خوفزدہ ہو کر اپنی پوسٹیں خالی کرنا شروع کر دیں۔ زیادہ تباہ  کن صورتحال افغان بارڈر پولیس کے جوانوں کے ساتھ پیش آئی جو ترکمانستان کے بارڈر عبور کر کے فرار ہونا شروع ہو گئے۔ شروع میں فوجیوں کی گمشدگی بہت پرسرار اور حیرا ن کن رہی مگر جلد ہی ترکمانستان فوج نے اس راز سے پردہ اٹھا دیا۔ کم از کم 100 اور بعض اطلاعات کے مطابق 150 افغان فوجیوں کے بارے ترکمانستان نے اعلان کیا ہے کہ جیسے ہی  وہ پکڑے گئے، انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔

پچھلے دو ہفتوں کے دوران صوبہ کو 78 فوجیوں کے ہلاک، زخمی اور اغواء ہونے کے نقصانات سے نبرد آزما ہونا پڑا ہے۔ یہ تعداد ترکمانستان فرار ہونے والے فوجیوں کے علاوہ ہے۔ صوبہ بادغیس کی صوبائی کونسل کے سربراہ عبدالعزیز بیگ کا کہنا ہے کہ طالبان کی طرف سے ڈالے جا رہے اس بڑے پریشر کی وجہ سے اُس کا ضلع سرنگوں ہونے کے خطرے کے بہت نزدیک ہے۔ اس بیان کے بعد 16 مارچ تک اس ضلع کے بیشتر حصوں پر طالبان کا عملاًًً  کنٹرول ہو چکا ہے۔ افغان لوکل پولیس کے کمانڈر صالح محمد مبارز نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال بہت خراب ہو چکی ہے اور طالبان سے زیرکنٹرول علاقوں کو واپس لینے کے لئے حکمت عملی اور ذرائع کا شدید فقدان ہے۔ ائیر فورس کے ہوائی حملوں کو فی الفور مدد کرنی چاہیے۔ 7 مارچ کے حملہ کے دوران افغان ائیر فورس کے پائلٹوں نے دو عدد Mi-17 ہیلی کاپٹروں سے امداد فراہم کرنے کی بھر پور کوشش کی تھی مگر طالبان کی شدید فائرنگ کی وجہ سے وہ لینڈہی نہیں کر سکے اور انہیں مشن ختم کرنا پڑا۔ حالیہ  برسوں میں پرانی ہوتی افغان ائیر فورس کے پاس سوویت یونین زمانہ والے ہیلی کاپٹر ز سخت استعمال اور کمزور دیکھ بھال کی وجہ سے بہت زیادہ ناقابل اعتبار ہو چکے ہیں۔ حتیٰ کہ افغان پائلٹ انہیں اڑانے سے بھی گریزاں ہوتے ہیں۔

امسال کے شروع میں افغان صدر اشرف غنی نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2014ء سے برسراقتدار آنے کے بعد افغان سیکورٹی فورسز کے 45,000 سے زائد اراکین ہلاک ہو چکے ہیں۔ آج تک کی تاریخ میں افغان حکومت کی طرف سے مہیا کئے جانے والے یہ سب سے بڑے اعدادو شمار ہیں۔

ضمناًًً  عرض ہے کہ 2001 ء سے 2016 ء کے وسط تک انٹرنیشنل سیکورٹی اسسٹنس فورس (ISAF) کے 4,000 فوجی اور سول کنٹریکٹر اور افغان نیشنل سیکورٹی فورسز کے 62,000 سے زائد اراکین ہلاک ہو چکے ہیں۔ اگست 2016ء تک 31,000 سویلین ہلاکتوں کی بھی اطلاعات موجود ہیں۔ مجموعی طور پر افغانستان جنگ میں 2001ء سے اب تک 173,000 ہلاکتوں اور 183,000 کے شدید زخمی ہونے کے ریکارڈز موجود ہیں۔ یہ واقعات اگرچہ حکمت عملی کی سطح پر ہی وقوع پذیر ہوئے مگر زمینی حقائق واضح طور پر مختلف ہیں۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شیر مال کا ناشتہ کرتے ہوئے امریکہ اور طالبان کے وفود افغانستان کے مستقبل پر مذاکرات کر رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اتحادی افواج کس سے مذاکرات کر رہی ہیں؟۔ یہ طالبان آخر ہیں کون؟۔ آج کل جنہیں طالبان کہا جاتا ہے یہ دراصل وہ چھوٹا سا گروہ تھا جو امریکی حمایت سے 1979ء سے 1989ء کے دس سالوں کے درمیان افغانستان پر قابض سوویت یونین کی افواج کے خلاف لڑ رہی افغان مجاہدین ملیشیاء کا حصہ تھا۔ امریکہ کی افغان قبائلی ملیشیاء تحریک کو سوویت یونین کے خلاف لڑنے کے لئے امداد اُس وقت کے لحاظ سے اہم سٹریٹیجک مقصد کے لئے تھی۔ مگر تب سے نظر انداز کر دئیے جانے کے بعدانٹیلی جنس ایجنسیوں کی زبان میں خود پر ہی واپس پلٹ آنے کی بہت واضح مثال ہے۔ سوویت یونین14,453 فوجیوں کی ہلاکت اور$36 ارب ڈالرز سے $45 ارب ڈالرز کے نقصانات کے بعد 15 فروری 1989ء کو اپنا انخلاء مکمل کر کے نکل گئیں۔ جاتے ہوئے سوویت یونین کی افواج اپنی بنائی ہوئی کابل حکومت کو حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے تنہا چھوڑ گئیں مگر محدود پیمانے پر ماسکو نے افغان حکومت کی مالی مد د جاری رکھی۔ بالکل آج کی طرح ہی سوویت کابل حکومت بھی اپنی فعالیت کے لئے بیرونی مالی امداد، مہارت اور ذرائع پر منحصر ہوا کرتی تھی۔ سوویت یونین کی اپنی بنائی حکومت کو ملنے والی یہ محدود امداد روزانہ کی بنیادوں پر سکڑتی جا رہی تھی مگر افغان جنگجوؤں کو پاکستانی انٹیلی جنس ایجینسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے توسط سے امریکی اور سعودی امداد مسلسل مل رہی تھی تاکہ افغان جنگجو اپنی حقیقی منزل کو حاصل کر سکیں۔ اسلام آباد کے سیاستدانوں نے اس صورتحال کا بہت فائدہ اٹھایا اور انہوں نے جنگجو سرداروں اور مذہبی علماؤں کے ساتھ اپنے تعلقات بہترین بنانے پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔ پاکستان نے فی الفور ہی افغان جنگجو سردار گلبدین حکمت یا ر کی حمایت کرنا شروع کر دیا جس کی نظریں کابل پر جمی ہوئی تھیں۔ حکمت یار کے ارادوں سے خائف دوسرے جنگجو سرداروں نے اپنا ایک الگ گروپ سوویت یونین کی فنڈنگ سے قائم کر لیا۔ اس اتحاد کے دو بنیادی کردار ازبک جنگجو سردار جنرل رشید دوستم اور تاجک جنگجو سردار احمد شاہ مسعود تھے۔ احمد شاہ مسعود کو پنج شیر کا ببر شیر بھی کہا جاتا تھا۔ دوستم اور مسعود نے کابل کے دفاع کے لئے اپنے جنگجو جمع کرنے شروع کر دئیے۔ جلد ہی اُنکے اتحاد میں اقلیتی شیعہ ہزارہ گروپ کے کریم خلیلی نے بھی اتحاد کر لیا جو ایران کے حمایت یافتہ جنگجو سردار تھے۔ جنرل رشید دوستم نے کابل کے دفاع کے لئے لڑنے والے پنج شیری جنگوؤں کے لئے ہیلی کاپٹر اورٹینک بھی فراہم کئے۔

تاہم جنوری 1992ء میں سوویت یونین نے امریکہ کے ساتھ جاری اپنی سرد جنگ کے خاتمہ کے معاہدہ پر عمل درآمد کرتے ہوئے افغان حکومت کو تمام تر مالی و دوسری ہر طرح کی امداد بند کر دی۔اس امداد بند ہونے کے صرف دو مہینوں بعد یعنی مارچ تک ڈاکٹر نجیب نے افغان حکومت کی صدارت سے استعفی دے دیا۔

کابل میں سوویت یونین کے انخلاء کے بعد کے حالات معلومات کے فقدان کی وجہ سے تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم ہو چکے ہیں مگر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دور افغانستان کی تاریخ میں شدید ترین ابتلاء کا دور تھا۔ دوستم اور اُس کے جنگوؤں نے حکمت یار کو گرفتار کرنے کے بعد اپریل 1992ء تک احمد شاہ مسعود کا ساتھ دیا اور حکمت یار کی افواج کی طرف سے 1992ء میں کابل کو  مکمل کنٹرول کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔اُ س وقت تک جنگ کا میدان کابل سے باہر کے علاقوں پر مشتمل تھا جس کی وجہ سے سوویت ڈیزائن میں کابل کی تعمیر نو کا خوب موقع دنیا کے سامنے آیا۔آج بھی بُرے چھوٹے اپارٹمنٹس اورگورنمنٹ دفاتر کے ڈیزائن اُس وقت کے سوویت ڈیزائن کی یاد دلاتے ہیں۔ مسعود اور حکمت یار کی لڑائی کی وجہ سے کابل کی بربادی کا سہرا ان دونوں کو دیا جاتا ہے جس میں ان کی باہمی لڑائی میں امریکی ہتھیاروں کا خوب استعمال کیا گیا۔ تاہم 1994ء میں کابل کو مکمل تباہی سے بچانے کے لئے دوستم اور حکمت یار نے احمد شاہ مسعود کے خلاف اتحاد قائم کر لیا۔ کابل جنگ زدہ شہر کے درجہ سے نیچے گرتے ہوئے ہر گلی محلہ میں لڑی جانے والی جنگ کا میدان بن کر رہ گیا۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ گروپوں نے افغانیوں کو افغانیوں سے لڑاتے ہوئے دارالحکومت کابل کو مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیا۔ پورے ملک میں جہاں کہیں بھی مرکزی حکومت کے کوئی آثار تھے وہ سب صفحہ ہستی سے ناپید ہو گئے۔ بالآخر دوستم کے جنگجوؤں نے کابل سے باہر نکلنے کے لئے جنگ لڑی اور اپنے شمالی علاقوں کی طرف واپس چلے گئے۔ دوستم نے اپنے علاقہ میں جا کر ریاست کے اندر اپنی ریاست قائم کر لی، حتیٰ کی اُس نے اپنی کرنسی بھی جاری کر دی اور اپنی ائیر لائن بھی شروع کر لی۔

رابرٹ ڈی کپلان نے کہا تھا کہ ’’نہ صرف افغانستان کو سمجھنے کے لئے بلکہ دنیا کے کسی بھی غریب، پس ماندہ اور جنگ زدہ ملک کو سمجھنے کے لئے پہلی چیز جس کا جاننا سب سے ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ نقشہ میں جنگ زدہ ملک جتنا بڑا نظر آتا ہے، مگر جب آپ وہاں پہنچتے ہیں تو حقیقت میں یہ اُس سے کئی ہزار گنا بڑا ہوتا ہے‘‘۔

طالبان کی پردہ جنگ میں آمد:

اس بحران کے عین بیچ 1994ء میں سابقہ افغان جنگجوؤں اور افغان مہاجرین کے درمیان سے شدت پسند نظریات رکھنے والا ایک گروپ نمودار ہوا جو افغان۔پاکستان بارڈر پر مشروم کی طرح پھیلے ہوئے مذہبی مدرسوں سے فارغ التحصیل تھا۔ ان مدارس کی اکثریت کو پاکستانی سنی دیوبندی جماعت ’’جمعیت علمائے اسلام‘‘ نے قائم کیا تھا۔ اس گروپ کے لئے زیادہ تر امداد سعودی عرب سے براستہ آئی ایس آئی مہیا کی جا رہی تھی۔ افغان سوویت جنگ کے اواخر میں ان مذہبی مدارس نے ہزاروں مہاجرین بچوں کو مخصوص مذہبی تعلیم مہیا کی تھی جو شدت پسندانہ اور انتہا پسندانہ نظریات پر مشتمل تھی۔ ان طلبہ کی اکثریت نے آنے والے دنوں میں مقامی انتہاپسند گروپوں میں شمولیت اختیار کر لی۔ ان نئے گروپوں نے بعد میں سلفی جہادی اور دیوبندی جہادی نظریات کے بیچ میں ایک نیا سیاسی و تکفیری اسلام دریافت کر لیا جو اپنے علاوہ سب کو کافر اور واجب القتل سمجھتا تھا۔ حتیٰ کہ ان میں سے بہت سے طلبہ دنیا بھر میں پھیلی دہشت گرد تحریکوں کی قیادت کرنے اور دہشت گردانہ منصوبوں کی پلاننگ کرنے کے لئے بھی گئے۔ عرب ممالک اور دوسرے مسلمان ممالک کی طرف سے سوویت افغان جنگ کے دوران کافر روسیوں سے لڑنے کے لئے آنے والے جنگجو بھی جب اپنے ممالک واپس گئے تو وہ ماہر قائدین، مذہبی سکالرز اور ملٹری کمانڈرز کے طور پر سامنے آئے۔ ان پرانے اور نئے طلباء پر مشتمل گروپوں نے خود کو طالبان کہنا شروع کر دیا۔ پشتو زبان میں طالب کا مطلب اردو کی طرح طالب علم ہی ہوتا ہے۔ طالبان کے پہلے گروپ کی قیادت محمد عمر کے پاس تھی جسے دنیا نے بعد میں ملا عمر کے نام سے جانا۔ اُس نے افغان پاکستان بارڈر پر واقع ان مدارس سے بہت زیادہ طالبان بھرتی کئے۔ اس سلسلہ میں 1994ء میں سابق برطانوی وزیر اعظم جان میجر کی کابینہ میں سیکریٹری خارجہ ڈگلس رچرڈ ہرڈ کا کوئٹہ میں قیام اور طالبان جنگجوؤں کی بھرتی کے لئے مالی امداد فراہم کرنے کی افواہیں بھی بہت زیادہ سرگر م رہیں۔ ملا عمر نے اپنے ہم خیال مذہبی ملاؤں اور طلبہ پر مشتمل ایک گروپ بنا کر 50 کے نزدیک مسلح جوانوں اور 20 آٹومیٹک بندوقوں کے ساتھ اپنی تحریک کا آغاز کیا جن کی اکثریت افغان مہاجرین پر مشتمل تھی۔ سب سے پہلے اس گروپ نے سڑکوں پر جاری لوٹ مار ختم کرنے کے لئے جنوبی افغانستان کے علاقوں سے اپنی کاروائیوں کا آغاز کیا جس کے لئے انہیں اُن علاقوں کے جنگجو سرداروں سے مقابلہ کرنا پڑا۔ اس مقصدکے لئے اُن کا ساتھ دینے والوں میں آئی ایس آئی کے ذریعہ سپیشل سروسز گروپ کے کچھ سابقہ ملازمین بھی شامل تھے جن کے ذمہ طالبان کی عسکری تربیت کے علاوہ چھاپہ مار کاروائیوں کی پلاننگ کرنا اور اسے طالبان کو سکھانا بھی شامل تھا۔ گروپ نے اپنا بنیادی فوکس خانہ جنگی کی وجہ سے بڑھتی ہوئی کرپشن کے خاتمہ پر رکھا جس کی وجہ سے انہیں افغان عوام میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی جو افغان جنگجوؤں کے ہاتھوں بہت پریشان تھے۔انہوں نے افغان معاشرہ میں بری طرح پھیلتی ہوئی بچہ بازی کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی جو ایک عفریت کی طرح پھیلی ہوئی تھی اور آج بھی طالبان سمیت ہر افغان حلقہ میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ اس قبیح فعل میں بدکردار مالدار افغانی بڈھے مرد اپنے ساتھ ایک کم عمر لڑکا رکھنے اور اس سے جنسی تعلقات قائم کرنے میں اپنی عزت محسوس کرتے ہیں۔ ملا عمر افغان جنگجو سرداروں کے کم عمر لڑکوں پر جنسی تشدد کے اس قبیح روایت کے سخت خلاف تھا اور اُس نے اس کے خاتمہ کے لئے ان جنگجو سرداروں سے بھی ٹکرانے کا فیصلہ کر لیا۔

ان تمام مقاصدکے پورا کرنے کے لئے طالبان کو افرادی قوت کی بہت ضرورت تھی۔ طالبان نے نعرہ لگایا کہ وہ خانہ جنگی سے متاثرہ اور تباہ حال افغانستان میں امن قائم کر سکتے ہیں اور مذکورہ بالا قبیح روایات کا سختی سے خاتمہ کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ ان کے علاوہ طالبان نے دوسری تمام غیر اسلامی روایات پر بھی سختی سے پابندی لگانے کا اعلان کیا اوراس پر اپنے زیر قبضہ علاقوں میں سختی سے عمل کروانے کے عملی مظاہرے بھی کئے۔ ان غیر اسلامی روایات میں افغانستان کی سب سے بڑی برآمد پوست کی کاشت پر پابندی لگانا بھی شامل تھا۔افغانستان میں دس سالوں سے طویل جنگ اور بعد کے پانچ سالوں پر محیط خانہ جنگی نے افغانستان کے زمینی پیداواری ماحول اور قابل کاشت زمین کو بہت مشکل اور کم یاب بنا دیا تھا۔ افغانستان میں صرف 2 فی صد رقبہ پر ہی جنگلات باقی رہ گئے تھے۔ سنہ 1960ء کی دہائی میں وہ افغانستان جو اپنے پستہ اور چلغوزہ کے درختوں کے لئے مشہور تھا جن کی جڑیں دنیا بھر میں مختلف امراض کی ادویات بنانے کے لئے برآمد کی جاتی تھیں، اب وہاں ان میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہا تھا۔ افغان زمین میں سخت حالات کا مقابلہ کر کے جو کاشت آسانی سے کی جا سکتی تھی وہ پوست کی تھی۔ طالبان نے ابتداء میں دھمکیوں کے ذریعہ اور زمینوں سے بے دخلی کر کے پوست کی کاشت رکوانے کی کوشش کی۔ بعد میں خلاف ورزی کرنے والوں کو سرعام سخت سزائیں بھی دی گئیں۔جولائی 2000ء میں ملا عمر نے امریکہ کے ساتھ افغانستان میں پوست کی کاشت کے خاتمہ اور ہیروئن کی فیکٹریوں کو تباہ کرنے کے لئے تعاون بھی کیا۔ امریکن ڈرگ انفورسمنٹ ایجینسی اور اقوام متحدہ کے مندوبین سے اس تعاون کی وجہ سے انہیں منشیات مخالف مہم میں تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ملی اور انہوں نے دوردراز علاقوں میں پوست کی فصلوں کو تلاش کیا اور انہیں تباہ کر دیا۔ طالبان حکومت کے خاتمہ تک افغانستان میں پوست کی کاشت میں 99 فی صد کمی کا حکومتی دعویٰ کیا جاتاتھا جو کہ دنیا میں 75 فی صد تک ہیروئن کی سپلائی منقطع کرنے کا سبب بنا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ طالبان کی طرف سے کئے جانے والے ان دعوؤں کی تصدیق اپنی جگہ اہم ہے لیکن پوست کی فصلوں کو تباہ کرنے کے پیچھے طالبان کی نیت پوست کا خاتمہ نہیں تھی۔ پوست ایسی فصل ہے جسے بہت لمبے عرصہ کئی سالوں تک خشک کرکے استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کے لئے کسی مشینری کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ مارٹن مائیک کی 2014ء میں شائع ہونے والی کتاب ’’آگاہی کی جنگ‘‘ (An Intimate War) میں بتایا گیا ہے کہ کیسے طالبان نے ملک بھر میں پھیلی پوست کی فصلوں کو حاصل کیا اور اسے اپنے ٹھکانوں میں ذخیرہ کرکے اس کی کاشت پر پابندی لگا دی۔ مارکیٹ میں پوست کی سپلائی بند ہو جانے کے بعد طالبان گروہوں نے اسے اپنی مرضی کی منہ مانگی قیمتوں پر فروخت کرکے خوب منافع کمایا۔

طالبان بالآخر اپنی اسی حکمت عملی سے بغیرکوئی گولی چلائے پاکستانی اور سعودی پیسہ سے اہم پوزیشنوں اور صوبوں پر قابض ہوتے چلے گئے۔ انہوں نے سفارتی محاذ پر بھی پشاور معاہدہ کے ذریعہ کامیابی حاصل کی۔ اس معاہدہ کے تحت نئے قابضین طالبان اور ملک کے جنوبی حصوں میں قبائلی سرداروں کے بیچ حکومتی اقتدار کا فیصلہ کیا گیا۔ مقامی سرداروں کی اپنے علاقوں میں حاکمیت کا حق تسلیم کیا گیا اور بدلہ میں اُن سے آمدنی کا کچھ حصہ اور لڑائی کے دوران عسکری امداد کا تقاضا کیا گیا۔ یہ صورتحال طالبان اور مقامی سرداروں دونوں کے لئے پرکشش تھی کہ دونوں کی اپنی اپنی سلطنتیں قائم ہو رہی تھیں۔ اس طرح کی کامیابیوں اور مذہب کی خود ساختہ تشریح سے طالبان گروپ بڑھتا چلا گیا اور قابل ذکر زمینی طاقت بن گیا۔ بالآخر 1996ء تک طالبان تباہ حال افغانستان میں داخل ہو گئے۔ طالبان کے لئے اپنی 7ویں صدی کی سوچ اور فہم کے مقابلہ میں کابل اپنی تباہ حالی کے باوجود بہت زیادہ ترقی یافتہ اور مغربی کلچر کا علاقہ تھا۔ انہوں نے کابل داخل ہوتے ہی ٹیلی ویژن سیٹ توڑڈالے۔ کیسٹ، ٹیپ ریکارڈرز تباہ کر دئیے اور عورتوں کو حکم دیا کہ وہ فی الفور خود کو شٹل کاک برقعہ میں ملبوس کر لیں۔ ان اقدامات کی وجہ سے غیر سرکاری تنظیموں اور طالبان کے درمیان ایک مستقل مخاصمت پیدا ہو گئی جس میں مہذب دنیا کی این جی اوز نے طالبان کے ان ظالمانہ اقدامات کی خوب تشہیر کی اور انہیں ترقی کا دشمن قرار دیا۔ طالبان نے صحافیوں کو ایک دن کے وزٹ کروائے اور انہوں نے خواتین کی تعلیم میں کمی کی، مردوں کو زبردستی لمبی داڑھیاں رکھوانے کی اور ہر جمعہ والے دن کابل سٹیڈیم میں اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارنے کے طالبانی اعمال کی شدید مذمت کی۔ طالبان کے ان اقدامات کی وجہ سے لوگ یہ بھی بھول گئے کہ امریکی حمایت یافتہ گلبدین حکمت یار تو طالبان سے بھی زیادہ پس ماندہ اور خونخوار ذہنیت رکھتا تھا۔ طالبان حکومت میں کابل کے شہریوں نے سوویت یونین افواج کے جانے کے بعد پہلی دفعہ جنگ کا خاتمہ دیکھا۔ کابل کے بیشتر حصہ پر طالبان کے کنٹرول کے بعد شہر پرسکون تو ہو گیا مگر وہ ایک ایسے شہر کی شکل اختیار کر چکا تھا جس کا مستقبل انتہائی تباہ حال، کرپشن زدہ، مایوسی اور پسماندگی کا شکار ہونے جا رہا تھا۔ یہ قبضہ بہت جلد اتنا طاقتور ہو چکا تھا کہ 26 ستمبر 1996ء کو طالبان جنگجو بغیر کوئی گولی چلائے اقوام متحدہ کے مقامی دفتر میں داخل ہوئے جہاں سابقہ افغانی صدر ڈاکٹر نجیب اللہ پناہ لئے ہوئے تھا۔ اندر آتے ہی انہوں نے طالبان لیڈر ملا عمر کے ذاتی احکامات پر اقوام متحدہ کے سٹاف کے سامنے نجیب پر سخت ترین تشدد کیا اور جب وہ موت کے بالکل نزدیک پہنچ گیا تو اُسے ایک پک اپ ٹرک کے پیچھے باندھ کر کابل کی سڑکوں، بازاروں میں گھسیٹا گیا۔ ڈاکٹر نجیب کے بھائی احمدزئی کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا مگر اُس کے ساتھ ایک مہربانی ضرور کی گئی کہ اُسے ٹرک کے پیچھے گھسیٹنے سے پہلے اُس کے سَر میں ایک گولی اتار دی گئی۔

طالبان نے اب یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ شمالی اتحاد کے ساتھ کیسے نبٹیں کیونکہ جنوب کے پشتونوں کے لئے وہ کچھ اجنبی علاقہ تھا جس کے بارے میں وہ زیادہ نہیں جانتے تھے۔ انہوں نے بہت جلد ہی اس جھلسی ہوئی زمین پر سخت ظالمانہ کاروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے ہر 20 منٹ بعد پاکستانی اور افغان جنگجوؤں کو طیاروں کے ذریعہ قندوز پہنچانا شروع کر دیا۔ دوسری طرف ایک بڑا لشکر زمینی راستہ سے قندوز کی طرف بڑھنا شروع ہوا۔ اس لشکر کے راستہ میں جہاں سے بھی کوئی مزاحمت آتی یہ اُسے برباد کرتے اور گاؤں کے گاؤں جلاتے ہوئے بڑھتے چلے گئے۔ دوستم جو مسعود اور حکمت یار کی لڑائی میں کابل کی تباہی دیکھ کر اسے چھوڑ کر اپنے علاقہ میں واپس چلا گیا تھا، اُس نے اپنے پرانے مخالفین سے طالبان کے مقابلہ میں اتحاد قائم کر لیا۔ دوستم، مسعود اور کریم خلیلی نے 1996ء میں ہونے والے اپنے اس اکٹھ کو شمالی اتحاد کا نام دیا تاکہ وہ جنونی ملاؤں کا مقابلہ کر سکیں۔ مسعود اپنا علاقہ  بچانے میں کامیاب رہا مگر پاکستانی پیسے نے مسعود کے نمبر 2 کو خرید لیا جس کی وجہ سے دوستم بھاگ کر ترکی چلا گیا۔ 2001ء تک دوستم کے کچھ لوگ پہاڑوں میں چھپے رہے اور مسعود ایرانی مدد سے اپنے علاقہ پر کنٹرول قائم رکھنے میں کامیاب رہا۔ احمد شاہ مسعود بہت کایاں اور زیرک کمانڈر تھا جو ایک طرف کریم خلیلی کی مدد سے ایران سے مالی امداد لے رہا تھا اور دوسری طرف طالبان کو پالنے والی امریکن انٹیلی جنس ایجینسی سی آئی سے بھی بڑی رقوم بٹور رہا تھا۔

طالبان دور کی یہ پہلی خونخوار خانہ جنگی 1992ء سے 1996ء تک جاری رہی جس کے بعد طالبان نے کابل کو اسلامی امارات افغانستان کا دارالحکومت قرار دے دیا۔ طالبان اگرچہ اپنے دور حکومت 1996ء سے 2001ء کے درمیان عالمی برادری سے اپنی حکومت کو نہیں منوا سکے مگر پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے نہ صرف ان کی حکومت کو تسلیم کیا بلکہ ان کی کھلم کھلا حمایت اور امداد بھی کی۔ ملا عمر کا حکومتی ہنی مون امریکہ میں ہونے والے 9/11 حملوں کے بعد القاعدہ کی قیادت کا پیچھا کرتی امریکی افواج کے ہاتھوں اختتام پذیر ہوا جو طالبان کے پاس پناہ گزین تھیں۔

ملا عمر کی زیر قیادت تحریک طالبان بہت حریص طلب تھی اور سٹریٹیجک سطح پر اپنے مفادات کو تقویت دیتی خود ساختہ اسلامی ریاست قائم کرنے کے مقاصد کے لئے کوشاں تھی۔ اُن کے تصورات کے مطابق یہ ریاست اسلامی امارات افغانستان قائم ہو چکی تھی اور اُسے اُن شریعہ قوانین کے تحت چلنا تھا جس کی تشریح بنیاد پرستانہ، تکفیرانہ نظریات پر مشتمل تھی۔ یہ یقین کہ طالبان کی حکومت اسلامی قوانین کے تحت چلائی جا رہی تھی بہت ہی ہولناک ہے کیونکہ اس کا اسلام کے امن و آتشی، صلح جوئی، انسان دوستی اور مساوات جیسے اہم ترین اصولوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ کتنی بڑی بدقسمتی ہے کہ طالبان کے حمایتی آج بھی اس دور حکومت کو اسلامی قرار دیتے ہیں اور کھلم کھلا طالبان کی حمایت میں میڈیا پر آ کر اس کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ آج بھی جو کوئی چاہے پاکستان سمیت دوسرے ممالک مثلاً اردن کے شہر عمان میں کسی مذہبی مدرسہ میں داخلہ لے سکتا ہے جہا ں کھلم کھلا اُسے یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ خونخواری اور تشدد سے بھر پور طالبان کا طرزِ عمل عین اسلامی تھا۔ طالبان کے نام نہاد اسلامی دور حکومت کے بارے نہایت جھوٹی خبریں عامۃ الناس تک پہنچائی جاتی ہیں اور خصوصاً  اُن کے نظام عدل کا بڑا حوالہ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ طالبان دور میں ہرگز قانون کی حکمرانی اور آزاد عدلیہ قائم نہیں تھی۔ اس کے برعکس وہاں جو بھی نظام تھا وہ طالبان کمانڈروں کی خواہشات کی تکمیل اور قبائلی روایات پر عمل داری کو وہ قانون شریعت کا نام دیا کرتے تھے۔ اُن کا نظام صرف اور صرف خوف پھیلا کر اپنی حکومتی رٹ کو مستحکم کرنے پر مشتمل تھا۔ وہ سزائے موت کو عوام کے سامنے انجام دے کر، ناجائز تعلقات رکھنے والوں کو سنگسار کرکے، چوروں کے ہاتھ کاٹ کر لوگوں کو سخت خوفزدہ کرتے تاکہ اس سے ڈ ر کر کوئی اُن کے خلاف آواز اٹھانے کی جرأت نہ کر سکے۔ عوامی مقامات پر ان سخت ترین سزا پانے والوں میں اُن کی اکثریت بھی ہوتی جو طالبان کی طرف سے پیش کردہ نظریہ مذہب کو قبول کرنے سے انکار کرتے تھے۔ طالبان کے نظام عدل میں جوبھی فیصلے دئیے جاتے تھے وہ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کے اصول کو اپنی نام نہاد شریعت کا لبادہ اوڑھا کر کئے جاتے تھے۔ اکثر اوقات یہ ہوتا کہ مقدمات کی سماعت کے عین درمیان یکایک قاضی (جج) یہ کہتے کہ کچھ دیر کے لئے سماعت ملتوی کی جاتی ہے ۔ وہ اپنے حجروں میں جاتے اور واپس آتے ہی مقدمہ کا فیصلہ بھی سنا دیتے حالانکہ ابھی سماعت مکمل ہی نہیں ہوئی ہوتی تھی۔ اُس زمانہ میں کہا جاتا تھا کہ سماعت کے عین ۔ درمیان قاضی کا اٹھ کر اپنے حجروں میں جانا فائدہ حاصل کرنے والی پارٹی کے ایک مخصوص اشارہ کے بعد ہوتا تھا جس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ حجرہ میں معاملات طے کر لئے جائیں۔ بعض اوقات یہ بھی ہوتا کہ ایک پارٹی قاضی کے ساتھ حجرہ میں معاملات طے کرتی تو دوسری اس کے بعد قاضی کو دوسرا اشارہ کرتی اور حجرہ میں جا کر پہلی پارٹی سے دگنی آفر دے کر فیصلہ اپنے حق میں کروا لیتی۔

ملا عمر کی 50 جنگجوؤں سے شروع ہونے والی تحریک پہلے سال کے اختتام تک 12,000 تک پہنچ گئی جن کی اکثریت پاکستان اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ مدرسوں سے منسلک رہی تھی جو پاکستان ۔ افغانستان کے بارڈر پر واقع تھے۔ ان ابتدائی سے اگلے دور میں 12,000 جنگجوؤں کے بعد ملا عمر کو مزید اتنے ہی جنگجو پاکستان کی کالعدم دہشت گرد تنظیموں لشکر جھنگوی، جیش العدل، جنداللہ، جیش  محمد وغیرہ سے حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ آرمی کے ریٹائرڈایس جی ایس کمانڈوز کی خدمات الگ سے مہیا تھیں۔ جیسے جیسے ملا عمر کے حامیوں کی تعداد بڑھتی گئی، ویسے ویسے سعودی عرب کے پیٹروڈالرز براستہ آئی ایس آئی طالبان کے لئے بڑھتے رہے۔ اتنی بھرتیوں کے بعد بھی مزید ہزاروں بھرتیوں کے لئے طالبان کا بہت زیادہ فوکس ہر وقت نئے نئے ریکروٹس لینا ہوتا تھا جس کے لئے وہ ہر طرح کی دینی تشریحات ایجاد کرتے رہتے۔ بعض اوقات پہلے پیش کردہ تشریح کچھ اور ہوتی جبکہ اگلی دفعہ وہ اس کے برعکس کچھ اور بیان کر رہے ہوتے۔ ان تضادات کی وجہ سے اور بڑھتے ہوئے پیسوں کی آمدن پر اپنا اپنا تسلط جمانے کی خواہشات کی بنیاد پر طالبان کمانڈروں میں اختلافات پیدا ہونے شروع ہوچکے تھے۔اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے اور اپنی قیادت کو غیر متنازعہ رکھنے کے لئے ملا عمر نے مقامی کمانڈروں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دینے شروع کر دئیے۔ ملا عمر نے اپنے اردگرد ایسے لوگ رکھے ہوئے تھے  جن کا سارا وقت ملا عمر کو معجزاتی، کرشماتی، نیک، دین دار، سادہ اور ایمان دار مشہور کرنے پر صرف کرتے رہتے۔ نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان میں بھی ملا عمر نے اپنے حامیوں کے ذریعہ اس بات کو یقینی بنایا کہ اُس کی شہرت بالکل ویسے ہی کی جائے جیسا وہ چاہتا تھا۔ اس مقصد کے لئے ملا عمر نے صحافیوں کی خدمات بھی حاصل کیں ۔ ملا عمر کے بعد اس طریقہ کار کو داعش کے امیر ابوبکر البغدادی نے بھی استعمال کیا۔ ملا عمر کی جانب سے اپنے اختیارات کو تقسیم کرنے کے پیچھے اپنے بچاؤ کی حکمت عملی کارفرما تھی۔ اپنے اقتدار کو صوبوں اور اضلاع کے حریص کمانڈروں کو منتقل کرنے کے بعد ملا عمر کی کوشش یہ تھی کہ وہ اُس کے وفادار رہیں اور اُ س کے خلاف کسی سازش کو نہ رچیں۔ یہ وہ حکمت عملی تھی جو قدیم رومن، عثمانی خلافت اور برطانوی سامراج نے اپنے دور اقتدار میں اپنائی اور اُن کے لمبے اقتدار کو قائم رکھنے میں بہت مددگار ثابت رہی تھی چاہے وہ زمانہ امن ہو یا جنگ کا  ۔

سنہ 2001ء کی دوسری ششماہی کے وسط میں نہ تو جنگ کے سائے اورنہ ہی ملا عمر کا اقتدار حکومت کے تخت پر اپنی گرفت مضبوط رکھ پانے میں کامیاب رہ سکا تھا۔ طالبان کی جانب سے اپنی تحریک کو بکھرنے سے بچانے کے لئے کی جانے والی کوششوں کو اس وجہ سے بھی کامیابی نہیں مل رہی تھی کہ امریکی اور اتحادی فوجیں اُن کے دروازے پر دستک دے رہی تھیں۔

سنہ 2002ء سے 2010ء تک رہنے والی اقوام متحدہ کی ڈرگز اور کرائمز کے انسداد کے لئے ایگزیکٹو  ڈائریکٹر ماریا کوسٹا نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ افغانستان میں کوئی قانون نہیں تھا ماسوائے گولی کے قانون کے۔ طالبان اُس دور میں مقامی کمانڈروں اور جنگجو سرداروں میں تقسیم ہو چکی تھی جو اپنے اپنے علاقوں میں خودمختار حکمران بنے بیٹھے تھے مگر اپنے مفادات کے لئے ملا عمر کی مرکزیت کو ظاہری طور پر تسلیم کئے ہوئے تھے۔ آج بھی ملا عمر کا گروپ حکمت عملی اور سیاسی و سٹریٹیجک پوزیشنوں کے لحاظ سے اہم ترین مقامات پر قابض ہے مگر یہ طالبان کے زیر تسلط تمام علاقوں کی نمائندگی نہیں رکھتا۔ فی الحال یہ تو واضح ہے کہ طالبان اب کوئی واحد گروپ نہیں ہیں اور نہ ہی یہ پشتونوں کی واحد نمائندہ جماعت کا کردار رکھتی ہیں۔ طالبان ایک چھتری کا نام ہے جس کے نیچے مختلف طاقتور گروہ اپنے اپنے مفادات کے لئے جمع ہوتے رہتے ہیں یا دوسری دنیا ان تمام گروہوں کی الگ الگ پہچان بیان کرنے کی بجائے انہیں صرف طالبان کہہ کر اپنے لئے آسانیاں پیدا کرتی ہے۔ طالبان کی چھتری کے نیچے جو مختلف گروپ ہیں ان کے مفادات بھی ایک دوسرے سے نہیں ملتے اور ان کے ایجنڈہ بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ طالبان میں پشتونوں کی اکثریت ہے مگر ان میں ازبک، تاجک اور ترک لوگ بھی شامل ہیں جو طالبان کے علاقوں میں بہت طاقتور حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے علاوہ طالبان میں 1,000 کے نزدیک غیر افغانی جنگجو بھی موجود ہیں جو وسط ایشیائی ریاستوں، چین، چیچنیا، تیونس، یمن، سعودی عرب اور شام کے علاقوں سے ہیں۔ ان سب طاقتور گروپوں کو طالبان نام دیا جانا ایک عمومی خیال سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔

ان میں سب سے پہلے افغانستان میں ہر لحظہ پھیلتی داعش کا معاملہ بھی الگ سے سامنے ہے۔ اس کے علاوہ بہت زیادہ ناقابل رسائی، نامکمل اور خفیہ ترجیحات رکھنے والے گروپ بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ یہ ترجیحات افغانیوں میں اجنبیوں سے نفرت، حریصانہ جنگ جوئی اور  سرمایہ دار مخالف جذبات پر مشتمل تھیں۔ اس کے علاوہ طالبان کے تما م گروہوں میں سب سے خوفزدہ کرنے والی سوچ معاشرہ میں ترقی پسند سیکولرازم اور جمہوریت پسند رویوں کی ترویج ہے۔ یہ درست ہے کہ طالبان تحریک کا آغاز پشتون قبیلوں سے ہوا تھا لیکن اس نعرہ کو استعمال کرکے بعد میں اس میں دوسرے لسانی گروہوں کو بھی شامل کیا گیا۔ اس کی ضرورت اس لئے محسوس کی گئی کہ طالبان کی بھرتی کے لئے پشتونوں میں سے مزید بھرتیاں ممکن نہیں رہی تھیں اور مزید برآں طالبان کا ساتھ دینے والوں میں غیر ملک بھی شامل ہو رہے تھے تو مقامی غیر پشتون کیوں نہ قبول کئے جاتے۔ ملا عمر کو یہ بھی خطرہ تھا کہ اگر مقامی لوگوں کی طالبان میں اکثریت نہ رہی تو بعد کے دنوں میں ہو سکتا ہے کہ غیر ملکیوں کا طالبان پر زیادہ کنٹرول ہو جائے جو پشتون معاشرہ میں کبھی قابل قبول نہ ہوتا۔

طالبان قیادت نے اپنی تحریک کو القاعدہ کی طرح منظم کیا جس کی وجہ سے اس کے مفادات کے ایجنڈہ میں اپنے جنگجوؤں کی خواہشات کے مطابق وسعت آتی چلی گئی ۔ اس بڑھتے ہوئے ایجنڈے کی وجہ سے مختلف الخیال گروپوں میں اختلافات بھی پیدا ہوتے چلے گئے اور طالبان کے اندر مختلف گروپ تشکیل پانے کا سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ آج تک تھم نہیں سکا۔ ان گروپوں میں بعض گروپ ایسے بھی تھے جو خود کو طالبان کی چھتری تلے رکھنے میں قباحت محسوس کرنا شروع ہو گئے اور کئی ایک گروپ ایسے بھی تھے جو خود کو طالبان کی چھتری تلے تو رکھنے پر اتفاق کرتے تھے مگر طالبان کی مرکزی قیادت کے احکامات پر من و عن عمل کرنے کی بجائے جن فیصلوں سے انہیں فائدہ پہنچتا وہ تو قبول کر لیتے مگر جن فیصلوں سے ان کے کسی مفاد کو ضرب لگنے کا خدشہ ہوتا، وہ اُسے تسلیم کرنے میں پس و پیش کرتے رہتے۔ ان گروپوں میں سب سے بڑی مثال فدائی محاذکی دی جا سکتی ہے جسے طالبان کے سابق کمانڈر نجیب اللہ نے قائم کیا۔ اپریل 1979ء میں پیدا ہونے والے نجیب اللہ نے طالبان میں صرف 15 سال کی عمر میں 1994ء میں اُس وقت شمولیت اختیار کی جب احمد شاہ مسعود اور رشید دوستم کی افواج کابل میں داخل ہوئیں۔ نجیب اللہ کو کابل میں طالبان افواج کا آپریشنل چیف بنایا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب طالبان تحریک نئی نئی قائم ہوئی تھی اوراُس میں جو بھی شمولیت اختیار کرتا تھا اُسے اپنے علاقہ میں اہم عہدوں پر فائز کیا جاتا تھا۔ بطور  آپریشنل چیف کے اُسے ملا داداللہ اخوند کے نائب کی حیثیت سے اپنی جنگجویانہ اور تنظیمی ذمہ داریاں سر انجام دینا تھیں۔ ملا اخوند اُن ابتدائی 50 کے ٹولہ میں ملا عمر کے سب سے قریبی ساتھیوں میں سے ایک تھا۔ ملا عمر کا ساتھی بننے سے پہلے ملا اخوند، سوویت یونین کے خلا ف بھی لڑنے کا تجربہ رکھتا تھا جس میں ایک لڑائی کے دوران اُس کی ایک ٹانگ ضائع بھی ہوئی تھی۔ ملا اخوند کی شہرت کی وجہ دو واقعات کی بنیاد پر تھی جس میں ایک یہ کہ اُس نے 2000ء میں بامیان میں اقلیتوں کے اتحاد کو نہایت سختی سے کچل کر رکھ دیا تھا اور دوسری یہ کہ اُس نے 2001ء میں بامیان میں گوتم بدھ کے کئی ہزار سالہ پرانے مجسموں کو بھی تباہ کر دیا تھا۔ یہ وہ مجسمے تھے جنہیں یہاں سے 55 میل دور غزنی شہر کے حاکم محمود غزنوی نے بھی تباہ نہیں کیا تھا کیونکہ یہاں کسی قسم کا چڑھاوا نہیں چڑھتا تھا البتہ اسی محمود غزنوی کو 2000 میل سے زیادہ دور سومنات کے مندر گرانے کا جہاد کبھی نہ بھولا جس میں منوں بلکہ ٹنوں کے حسا ب سے سونا، چاندی کے چڑھاوے چڑھتے تھے اور کنواری دوشیزائیں یہاں کی داسیاں ہوا کرتی تھیں۔ ملا اخوند کی موت ہلمند صوبہ میں 2007ء میں برٹش امریکن سپیشل متحدہ  آپریشن کی ایک ریڈ کے دوران مزاحمت میں ہوئی۔ اس کے بعد نجیب اللہ نے فوری طور پر ملا اخوند گروپ کا کنٹرول سنبھال لیا۔

تاہم نجیب اللہ اس کے بعدطالبان تحریک سے اس بنیاد پر الگ ہو گیا کہ اُس کے خیال میں طالبان ماڈرن ہوتے جا رہے ہیں۔ سنہ 2012ء کی ابتداء میں طالبان نے قطر کے دارالحکومت دوحہ  میں اپنا سفارتی دفتر قائم کیا تاکہ وہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کر سکے۔ نجیب اللہ کے مطابق یہ ناقابل قبول تھا کیونکہ اس کا ماننا تھا کہ اپنے دشمنوں کے ساتھ جنگ کی جاتی ہے مزاکرات نہیں۔ اس کے بعد ہی اُس نے تحریک طالبان کے اندر اپنا فدائی محاذ تشکیل دیا۔ ملا عمر نے اس موقع پر کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔ جنگ دراصل اب شروع ہوئی ہے اور اس کے شعلے اونچے ہو رہے ہیں۔ اس جنگ کو ہم وہائیٹ ہاؤس تک لے کر جائیں گے کیونکہ یہ ظلم اور بے انصافی کا مرکز ہے‘‘۔

تحریک طالبان میں دھڑے بندی کی دوسری مثال تحریک طالبان پاکستان ونگ کا قیام ہے جسے دسمبر 2007ء میں 13 پاکستانی دیوبندی جنگجو تنظیوں کے اتحاد سے تشکیل دیا گیا۔ اس کا سربراہ بیت اللہ محسود کو بنایا گیا جو سوویت یونین افغان جنگ کے دوران مشہور ہونے والے پاکستانی نیک محمد کا شاگرد تھا۔ بیت اللہ اور نیک محمد نے پورے وزیرستان میں جنگجوؤں کے لئے محفوظ ٹھکانے اور تربیتی مراکز قائم کر دئیے۔ جون 2004ء میں نیک محمد کو پاکستان میں جنوبی وزیرستان میں ہونے والے پہلے امریکی ڈرون حملہ میں مار دیا گیا۔ بیت اللہ نے تحریک طالبان پاکستان کو افغانی طالبان کی اجازت کے بغیرخود ہی قائم کیا تھا۔ لیکن دسمبر 2008ء میں بیت اللہ نے خود کو اور اپنی تنظیم کو ملا عمر کے سپاہی قرار دے دیا جس کے بعد افغان طالبان نے بیت اللہ محسود کو آزادانہ کام کرنے سے روکنے سے منع نہیں کیا کیونکہ ملا عمر کا شروع سے ہی یہ مقصد تھا کہ بے شک ہر قصبہ، ضلع میں مقامی سردار اپنی حکومت قائم کریں مگر مرکزی قائد کے طور پر ملا عمر کی خلافت کو تسلیم کرتے رہیں۔ ملا عمر کی اس بیعت  کے بعد تحریک طالبان پاکستان کو جنوب وسطی ایشیاء کی دوسری تنظیموں جیسے لشکر جھنگوی ، حرکت الجہاد الاسلامی کے ساتھ تحریک طالبان کا حصہ قرار دے دیا گیا۔ اس نئے انتظام کے تحت تحریک طالبان پاکستان اور دوسری تنظیمیں پاکستان میں شوری اتحاد مجاہدین کے نام سے متعارف کروائی گئیں مگر کچھ ہی مہینوں بعد ان تینوں تنظیموں کا آپس میں اتحاد ٹوٹ گیا اور اس میں بڑا گروپ دوبارہ تحریک طالبان پاکستان کے نام سے بیت اللہ محسود کی قیادت میں الگ سے کھڑا ہو گیا۔ تحریک طالبان پاکستان کا دعویٰٰٰ  تھا کہ 2014ء تک ان کے پاس 25,000سے زیادہ جنگجو تھے۔ بیت اللہ اُس وقت تک تحریک طالبان کے جنگجوؤں کا سب سے بڑا لیڈر بن چکا تھا۔ اُس کے روابط نہ صرف پاکستان کی آئی ایس آئی سے تھے بلکہ وہ افغان پالیسی کے تعین کے لئے عالمی طاقتوں کے ساتھ فیصلہ کن پوزیشن دئیے جانے کا مطالبہ بھی کرتا تھا۔ بقول جنرل مشرف کے ان دنوں پاکستان کی آئی ایس آئی سے وابستہ کچھ طاقتوں (جنرل حمید گل وغیرہ) نے 2007ء میں سابقہ پاکستانی وزیر اعظم کے قتل کے لئے بیت اللہ محسود کو کنٹریکٹ دیا۔ ستمبر 2007ء میں اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ہونے والے 80% خود کش بم دھماکوں کا ذمہ دار بیت اللہ محسود کو قرار دیا جاتا تھا۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق 2007ء سے 2009ء کے درمیان ہونے والے 90% خود کش اور مسلح حملوں کا ذمہ دار جنوبی وزیرستان میں قائم بیت اللہ محسود کا نیٹ ورک تھا۔ بیت اللہ محسود کے بڑھتے ہوئے مطالبات سے زچ پاکستانی خفیہ ایجینسی آئی ایس آئی اور امریکن ایجینسی سی آئی اے نے بالآخر اُس کے خاتمہ کا فیصلہ کیا اور 5 اگست 2009ء کو ایک ڈرون حملہ میں اُس کا خاتمہ کروا دیا گیا۔ بیت اللہ محسود کے بعد اُس کے خاص الخاص حکیم اللہ محسود کو تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ بنایا گیا اور بعد میں اُسے بھی ایک ڈرون حملہ میں ہلاک کروا دیا گیا۔ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان کئی ٹکڑوں میں تقسیم ایک دہشت گرد گروہ کی شکل میں اب بھی موجود ہے اور وقتاًًً  فوقتاًًً کی جانے والی خوفناک دہشتگردانہ کاروائیوں سے اپنی موجودگی کا احساس کرواتا رہتا ہے۔

ملا عمر کی پرسرار موت اور طالبان کی تقسیم در تقسیم:

اپریل 2013ء میں ملا عمر کی کچھ پرسرا ر حالات میں موت واقع ہو گئی۔ کچھ حلقے الزام لگاتے ہیں کہ اُسے ملا عمر کی جگہ لینے والے ملا منصور اختر نے قتل کیا تھا۔ 2013ء سے 2015ء کے درمیان تحریک طالبان کسی منتخب مرکزی قائد کے بغیر چلتی رہی تھی کیونکہ ملا عمر نے اپنی موت کی صورت میں کسی کو بھی اپنا جانشین بنانے سے انکار کر دیا تھا۔ ملا عمر کی موت کے بعد امریکی صدر باراک اوباما نے کہا کہ 2014ء کے بعد ہم ایک متحدہ افغانستان کی حمایت کریں گے جو اپنے مستقبل کی ذمہ داریاں خود اٹھا سکے۔ شاید اس بیان کی وجہ ملا عمر کی پرسرار موت ہی تھی جسے 2014ء تک خفیہ رکھا گیا تھا۔ ان سالوں کے دوران ملا منصور اختر ایک منتخب قائد اور امیرالمومنین کی بجائے تحریک طالبان کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے ذمہ دایاں سرانجام دیتا رہا۔ اس کے نتیجہ میں طالبان کے مضبوط جنگجو سرداروں نے ملا منصور کو امیر المومنین تسلیم کرنے کی بجائے اپنا گروپ الگ کر لیا اور اپنے علاقہ میں پہلے سے زیادہ خود مختاری کے ساتھ اپنی حکومت قائم رکھی۔ ملا منصورکو امیرالمومنین اور قیادت کو تسلیم کرنے میں پس و پیش کے پیچھے بہت سی جائز اور بنیادی وجوہات بھی شامل تھیں۔ اس میں سب سے بڑی مسلسل افواہ تو یہ بھی تھی کہ یہ خود ملا منصور ہی تھا جس نے ملا عمر کو اپنے ہاتھوں سے گولی ماری تھی۔ ایک افواہ یہ بھی تھی کہ ملا منصور نے سالوں تک دبئی سے ایک خاص زہر منگوا کر ملا عمر کے گردوں کو فیل کروا کر اس کی موت کا انتظام کیا تھا۔ ملا عمر کے زمانہ میں پوست کی جو کاشت ختم کروا دی گئی تھی، ملا منصور کے زمانہ میں وہ اگلے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ کر دوبارہ شروع ہو چکی تھی۔ اگرچہ طالبان کی طرف سے پوست کی کاشت پر لگائی پابندی 2008ء سے ویسے بھی ختم ہو چکی تھی کیونکہ طالبان کو اپنی جنگ جاری رکھنے کے لئے اضافی آمدنی کی ضرورت تھی جو پوست کی کاشت اور اس کی فروخت سے ہی پوری کی جا سکتی تھی۔ وہ علاقہ جس پر ملا منصور کا کنٹرول تھا اس میں تو 2008ء سے ہی طالبان پوست کی کاشت کروا کر اور اس کی فروخت کر کے خوب پیسہ اکٹھا کر رہے تھے۔ ملا منصور کے علاقہ میں طالبان نے غیر قانونی تجارت اور اسمگلنگ کو بھی فروغ دے دیا تھا تاکہ اپنے جنگجوؤں کے بڑھتے ہوئے اخراجات پورے کئے جا سکیں اور جنگجو سرداروں کے حریصانہ مطالبات کو بھی تسکین دی جا سکے۔ یہ وہ معاملات تھے جن پر ملا منصور کے علاوہ دوسرے جنگجو سردار محروم رہ رہے تھے جیسا کہ ملا منان جو کہ صوبہ ہلمند میں طالبان کا کمانڈر تھا اور ملا عمر کا وفادار ی میں ابھی تک پوست کی فصلوں کو تلف کرواتا رہا تھا۔ ملا منان کے علاوہ ملا محمد رسول بھی ایک اور طاقتور جنگجو سردار تھا جس کا یقین تھا کہ ملا منصور نے تحریک کو ہائی جیک کر لیا ہے اور اس میں بدعنوانی کو جگہ دی ہے۔ ملا رسول نے ملا منصور کی مخالفت میں اپنے الگ گروپ کو اسلامی امارات افغانستان کی ہائی کونسل کا نام بھی سے دیا۔ ملارسول نے اس کے اغراض و مقاصد کو مختلف جنگجو گروپوں کے درمیان صلاح کاری قرار دیا جن میں القاعدہ، داعش اور النصرہ فرنٹ وغیرہ بھی شامل تھے۔ ہائی کونسل نے پہلی دفعہ صوبہ خراسان میں داعش کو بطور جنگجو گروپ تسلیم کیا اور اس کے علاوہ افغان حکومت کو بھی چھوٹی برائی کہہ کر اس کے ساتھ مختلف مقامات پر اہم تہواروں کے مواقع پر عارضی جنگ بندی جیسے موضوعات پر بات چیت کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ جیسے جیسے منصور کی امیرالمومنیت اور قیادت اختلافات سے پُر ہوتی چلی گئی، اُس نے پرزور طریقہ سے کابل حکومت اور امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کی مخالفت کرنا شروع کر دی کیونکہ اُس کا دیرینہ مخالفین ملا رسول اور ملا منان کے علاوہ ملا عمر کے بیشتر جنگجو سردار ان دونوں سے مذاکرات کی حمایت کر رہے تھے۔ملا منصور کے ساتھ بڑھتے اختلافات کے نتیجہ میں اچانک ملا منصور کی موت 2 1 مئی 2016ء کو اُس وقت ہوئی جب احمد وال نزد ایران بارڈر کے نزدیک پاکستانی علاقہ میں N-40 نیشنل ہائی وے پر ایک ٹیکسی میں سفر کرتے ہوئے امریکن ائیر فورس کے ایک ڈرو ن طیارہ سے جدید امریکی ساختہ AGM-114 Hellfire میزائل نے اس ٹیکسی کو اڑا دیا۔ اس حملہ میں ملا منصور کے ساتھ وہ ٹیکسی ڈرائیور بھی مارا گیا ۔ اس موقع پر امریکی صدرباراک اوبامہ نے بیان دیا کہ ملا منصور کی موت سے طالبان جنگجوؤں کو مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا پلیٹ فارم مہیا کر دیا گیا ہے۔

ملا منصور کی موت کے بعد 26 مئی 2016ء کو مولوی ہیبت اللہ اخوانزادہ کو ملا منصور کا جانشین مقرر کر دیا گیا۔ وہ اس سے پہلے ملا منصور کے ڈپٹی کمانڈر کے طور پر ذمہ داری انجام دے چکا تھا۔ ملا عمر کی طرف سے اپنا جانشین مقرر کرنے سے انکار کے برعکس ملا منصور نے پہلے سے تیار شدہ اپنی وصیت میں مولوی اخونزادہ کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔ اخوانزادہ نے ابتداء میں مغرب کے ساتھ مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ طرز عمل اکتوبر 2018ء میں البتہ تبدیل ہوا ۔

طالبان کے اندرون سے جنم لیتی داعش اور اس کے ساتھ طالبان اور القائدہ کا ٹکراؤ۔

اندرونی رسہ کشی اور طالبان تحریک میں توڑ پھوڑ نے کئی گروپوں کو یہ ترغیب او ر موقع فرہم کیا کہ وہ طالبان کے اندرون سے اپنے لئے موزوں لوگوں کو اپنے گروپ میں جگہ دیں۔ درحقیقت اس عمل سے تحریک طالبان کا تیا پانچا ہو رہا تھا۔ ایسا نہ صرف طالبان کے سینئر  عہدے داروں کی طرف سے تحریک کے مضبوط پاور بلاکس کی قیادت حاصل کرنے کی خواہش کے زیراثرہو رہا تھا بلکہ اس میں ٖ غیر ملکی طالبان کے حصے بھی اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔ اس کی واضح مثال صوبہ خراسان میں داعش کی تشکیل ہے جو 2015ء سے افغانستان میں سرگرم عمل ہے۔ داعش خراسان نئے جنگجوؤں کی بھرتی کے لئے طالبان کے مختلف گروپوں اور القاعدہ کے لئے براہ راست خطرہ بن کر سامنے آئی۔ شروع میں طالبان کی قیادت نے داعش کی قیادت کے ساتھ اس مسئلہ کا سفارتی حل نکالنے کی کوشش کی۔ داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادای کو ایک خط لکھا گیا جس میں درخواست کی گئی کہ افغانستان میں جاری داعش کی تمام بھرتیاں بند کر دی جائیں اور اب تک داعش کے لئے جتنے بھی جنگجو بھرتی ہوئے ہیں، انہیں براہ راست طالبان کی قیادت کے ماتحت قرار دیا جائے۔ اس خط کا کبھی بھی طالبان کو جواب نہیں دیا گیا۔ دوسری طرف طالبان کے جنگجوؤں کا داعش کے لڑاکوں کے ساتھ ننگر ہار صوبہ میں جون 2015ء میں شدید تصادم ہو گیا کیونکہ داعش کے جنگجوؤں نے طالبان کے زیرقبضہ اُس علاقہ پر اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔ چند مہینوں بعد ہی اسلامک موومنٹ آف ازبکستان نامی گروپ نے طالبان سے اپنا اتحاد ختم کرکے افغان داعش کی اُس قیادت کو تسلیم کر لیا جو طالبان سے جنگ کر رہی تھی۔ طالبان قیادت کے مختلف دھڑوں نے فی الفور ایک میٹنگ کی اور اپنے اختلافات ایک طرف رکھتے ہوئے ازبک گروپ اور داعش کے خلاف زابل صوبہ میں ایک بڑا  آپریشن کلین اپ شروع کیا۔ اس  آپریشن سے ازبک گروپ کو شدید جانی نقصان اٹھا کر افغانستان اور ازبک بارڈر کی طرف فرار ہونا پڑا۔ مگر اس نقصان کے باوجود بھی افغان داعش کی افغانستان میں اپنا مضبوط ٹھکانہ بنانے کی سرگرمیوں کی روک تھام نہیں کی جا سکی۔

سنہ 2015ء میں افغان داعش اس قدر مضبوط ہو گئی کہ اُس نے خراسان صوبہ پر قبضہ جما لیا جس میں ہلمند اور فرح کے علاقے شامل تھے۔ افغان داعش نے پشتو اور دری زبان میں اپنا ریڈیو پراپیگنڈہ بھی شروع کر دیا۔ داعش کے خلاف جنگ ایک ایسا موضوع تھا جس پر طالبان کے سارے گروپ متفق تھے۔ طالبان کی پرانی اتحادی القائدہ بھی د عش کے خاتمہ کی اس مہم میں طالبان کے ساتھ شامل تھی۔ القائدہ جو آج کل مصر کے لیڈر ایمن الظواہری کی قیادت میں ہے، اُسے داعش کے خلاف کئی معاملات پر شدید اختلافات ہیں۔ 2015ء کے اوائل میں الظواہری نے ملا منصور کی قیادت کے ساتھ اپنے اور اپنے گروپ کے اتحاد کا حلف لیا۔ اس حلف میں القائدہ کی تمام علاقائی شاخیں اور افریقہ میں سرگرم عمل شباب اور بوکو حرام کے گروپ بھی شامل تھے۔ داعش بھی ایک وقت میں الظواہری کی قیادت میں القائدہ کا ہی ایک گروپ تھی ۔ داعش کو عراق میں القائدہ اور شام میں النصرہ فرنٹ کے ایک گروپ کی حیثیت میں منظم کیا گیا تھا مگر اپنے لیڈر ابوبکر البغدادی کی وجہ سے یہ اپنی اصل جماعت سے منحرف ہو گئے تھے کیونکہ ان کے خیال میں ایمن الظواہری بہت زیادہ ماڈرن سوچ کا حامل تھا۔ان معاملات کے علاوہ بھی کچھ دوسری وجوہات ایسی بھی ہیں جو القائدہ کی قیادت اور داعش کے مابین ذاتی سمجھی جاتی ہیں اور شاید دیگر تمام معاملوں پر حاوی ہیں۔ القائدہ نے افغانستان میں اپنی لڑائی کو ایک حکمت عملی کے دائرہ کار میں ہی رکھا ہے اور اس کے دوران یہ افغانستا ن میں اپنے لئے نئی بھرتیاں کرنے میں زیادہ کامیاب نہیں رہی۔ درحقیقت القائدہ کو اپنے تنظیمی سیٹ اپ میں سے کچھ لوگ نکل کر اس کے براہ راست مخالف داعش میں جاتے ہوئے دکھائی دئیے۔ القائدہ کے لئے یہ بہت حیران کن رہا ہے کیونکہ اس کے اتحادی طالبان کو مستقل بنیادوں پر نئی بھرتیاں ملتی رہتی ہیں اور وقتاً فوقتاً ان میں اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے۔

بغدادی کی داعش بہت زیادہ حریصانہ طرز عمل رکھتی ہے۔ یہ نہ صرف شام اور عراق کے سرحدی علاقوں کو اپنے زیر تسلط رکھنا چاہتی تھی بلکہ یہ وہاں سے پوری دنیا میں دہشت گردانہ حملوں کو کنٹرول کرنا چاہتی تھی۔ جب تک داعش کا کنٹرول اس علاقہ پر رہا ابوبکر البغدادی نے جہادیوں کی نئی کھیپ کو بہت متاثر کیا اور آئے روز اسے لڑکوں اور لڑکیوں کی شکل میں بہت زیادہ بھرتی ملتی رہی۔ یہ وہ جنگجو تھے جو الظواہری کے خیال میں اگرداعش اپنے اندر شامل نہ کرتی تو وہ اُس کی قیادت کے تلے القائدہ میں جمع ہو جاتے۔ شام اور عراق میں شیعہ عالم سید علی سیستانی اور لبنانی تنظیم حزب اللہ کی وجہ سے داعش کو شکست ہونے کے بعد داعش کے جنگجو وہاں سے فرار ہوکر جب سے افغانستان پہنچ رہے ہیں وہ ویسا ہی ماحول افغانستان میں بھی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ افغانستان میں داعش کے قیام اور نئے جنگجوؤں کی بھرتی میں اُس کو ملنے والی ترجیح سے القائدہ کی پریشانی قدرتی اور فطرتی ہے کیونکہ مذہبی جنگ کے میدان میں اُسی تنظیم کو کامیاب سمجھا جاتا ہے جو زیادہ سے زیادہ جنگجو بھرتی کرنے کی طاقت رکھتی ہو۔

طالبان اور القائدہ نے مل کر داعش کے مضبوط ٹھکانوں پر حملے کئے۔ سنہ 2016ء کے ابتداء تک دونوں نے مل کر داعش کو اُس کے مضبوط علاقوں سے پرے دھکیل دیا ۔ فرح صوبہ میں اس کو بہت پیچھے دھکیل دیا گیا جبکہ ہلمند میں اُس کے ٹھکانوں کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔ جس دلجمعی سے طالبان اور القائدہ نے مل کر داعش کے ساتھ لڑائی شروع کی ہوئی ہے ، اُس میں اگست 2018ء کے دوران ایک مقام یہ بھی آیا کہ طالبان نے افغانستان میں امریکی افواج سے باقاعدہ درخواست کی کہ وہ کچھ عرصہ کے لئے ہوائی حملے روک دیں۔ دوحہ ، قطر میں طالبان کے ترجمان کا اس سلسلہ میں کہنا تھا کہ اگر امریکہ اپنے فضائی حملے روک دے تو اس سے طالبان جنگجوؤں کو داعش کو افغانستان سے مستقل بھگانے میں مدد ملے گی۔ امریکہ نے اگرچہ زمینی ٹارگٹس پر فضائی حملے روکنے سے انکار کر دیا مگر اس کے باوجود بھی طالبان اور القائدہ نے داعش کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی۔ طالبان کے اس منظم حملہ کے نتیجہ میں داعش کے جنگجو اس قدر دہشت زدہ ہوئے کہ انہوں نے افغان حکومت کے سامنے گرفتاریاں پیش کرنا شروع کر دیں تاکہ وہ طالبان کے بڑھتے حملوں کے نتیجہ میں ہلاکتوں اور طالبان کے قبضہ میں جانے سے بچ سکیں۔

مغرب کی 18 سالہ طویل دخل اندازی کے باوجود بھی افغانستان کا مسئلہ اپنے منطقی حل کی طرف جاتا دکھائی نہیں دے رہا۔ اس کے برعکس یہ شطرنج کے کھیل کی طرح ہے جہاں میدان جنگ میں فتح حاصل نہیں کی جاتی بلکہ اسے مذاکرات کی میز پر طے کیا جاتا ہے۔ اس فروری کی 25تاریخ کو دوہا، قطر میں امریکہ کے افغان معاملہ پر خصوصی نمائندہ زلمی خلیل زادہ نے طالبان کے مذاکراتی وفد کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات کی۔ ملا برادر کو امریکہ کی خصوصی درخواست پر اکتوبر 2018ء میں پاکستان کی ایک جیل سے رہا کیا گیا تھا تاکہ وہ ان مذاکرات میں شرکت کر سکے۔ ملا برادر کی رہائی طالبان کی طرف سے مذاکرات شروع کرنے کے لئے اولین شرط تھی۔ طالبان کی دوسری اتنی ہی اہم شرط یہ بھی تھی کہ ان مذاکرات سے کابل کی افغان حکومت کو شامل نہ کیا جائے۔ طالبان مسلسل کابل حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے چلے آئے ہیں اور ان کے خیال میں ایسے مذاکرات کا مطلب یہ ہوگاکہ طالبان نے کابل حکومت کو قانونی حیثیت دے دی ہے۔ کابل حکومت نے طالبان کے اس اعتراض کی کئی دفعہ مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ ایسا کرنے سے 2019ء میں ہونے والے قومی انتخابات میں مرکزی حکومت کی قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ طالبان کی دونوں شرائط پورا کرنے میں امریکہ نے بہت پھرتی دکھائی۔ درحقیقت امریکہ تو اس سے بھی آگے دو ہاتھ بڑھ گیا۔ 18 مارچ کو امریکہ کے ایک سینئر  سفارت کار نے افغان حکومت کو باقاعدہ طور پر مطلع کر دیا کہ امریکہ مستقبل میں افغان صدر اشرف غنی کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر حمداللہ محب سے کسی بھی معاملہ پر بات چیت نہیں کرے گا اور نہ اُس سے کسی قسم کی ڈیلنگ کرے گا۔ امریکہ کے اس سخت پیغام کی وجہ محب کا 14 مارچ کا وہ بیان بنا تھا جس میں محب نے زلمی خلیل زادہ کی طرف سے طالبان کے مطالبہ پر افغان حکومت کو باہر نکالنے کے پیچھے چھپے مقاصد اور نیت کو واضح کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔

دوحہ  قطرمیں 6 روز تک ہونے والے ان ابتدائی امن مذاکرات کے بعد زلمی خلیل زادہ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ایک مسودہ ہے اور معاہدہ بنانے سے قبل کچھ تفصیلات حاصل کرنا ہیں۔ مجوزہ معاہدے کے تحت طالبان کو عہد کرنا ہو گا کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو شدت پسندی کے گڑھ کے طور پر استعمال ہونے سے روکیں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی حکمت عملی یہی رہی ہے کہ طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے پر مجبور کیا جائے۔ خلیل زادہ نے مزید کہا کہ جنگ بندی اور ان براہ راست مذاکرات میں طالبان کی شرکت کے بدلے میں افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلاء کی بات کی جا رہی ہے۔دوسری طرف طالبان کا کہنا ہے کہ وہ صرف اسی وقت افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کریں گے جب غیر ملکی افواج کے انخلاء کی صحیح تاریخ دی جائے گی۔

اب جب کہ اگلے ایک مہینے سے بھی کم کے عرصہ میں افغانستان کے مستقبل کے معاملہ پر امریکہ اور طالبان کے مابین مکمل سطح کے مذاکرات شروع ہونے جا رہے ہیں، ان میں دونوں فریقین نیٹو فورسز کی اگلے تین سے پانچ سالوں کے دوران افغانستان چھوڑنے کے پروگرام کو فائنل کرنے کے بارے میں بہت پرجوش ہیں۔ افغانستان سے روانگی کے اس پروگرام کے بدلہ میں طالبان اور امریکہ کابل میں قائم امریکی حمایت یافتہ حکومت کے ساتھ اختیارات کی تقسیم کا فارمولہ بھی طے کرنے پر بات چیت کریں گے۔ طالبان اس کے علاوہ بین الاقوامی برادری کو یہ یقین دہانی بھی کروائیں گے کہ وہ مستقبل میں اپنے زیر قبضہ علاقوں سے دنیا بھر میں کسی بھی جگہ پر دہشت گردانہ حملوں کے لئے لانچنگ پیڈ نہیں بننے دیں گے۔ مذاکرات میں اس بڑے نقطہ نے ایک دلچسپ بحث کو جنم دیا ہے کہ دہشت اور دہشت گرد آخر کہتے کس کو ہیں؟۔ ایسے کسی بھی معاہدہ کے تشکیل پانے کا مطلب یہ ہو گا کہ مغرب اور امریکہ نے دو دہائیوں سے جاری اس خونی جنگ و جدل کے بعد طالبان دہشت گردوں کی حکومت کو قانونی ہونے کا جواز فراہم کر دیا ہے۔ دہشت گردوں سے مذاکرات کرنے والے امریکہ اور اس کے اتحادی یہ جواب دیں کہ طالبان کے ہاتھوں قتل ہونے والے لاکھوں بے گناہوں کی لاشوں پر پاؤں رکھ کر آگے بڑھتے ہوئے کیا اُن کے قدم کبھی نہیں ڈگمگائے؟۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت جلد افغان عوام خود کو نسبتاً  بہتر اور تبدیل شدہ طالبان کے اقتدار میں رہتا ہوا پائیں گے۔ شاید ایسا بظاہر جمہوری طریقہ سے ہی ممکن ہو۔ ماضی کے کچھ سالوں سے طالبان خود کو ایسی ہی کسی صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لئے تیار کر رہے ہیں۔ایسے لگتا ہے کہ طالبان نے اپنے حریف لبنان کی حزب اللہ کی ملکی سیاست میں اپنی طاقتور موجودگی سے کچھ سیکھنے کی کوشش کی ہے۔ حزب اللہ کی اسی اپروچ کو القائدہ نے بھی یمن کی انتخابی سیاست میں بھی کامیابی سے استعمال کیا ہے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے اپنا رویہ درست کرنے کے لئے بہت کوششیں کی ہیں اور اپنے گروپ کے مقاصد کو بھی تبدیل کیا ہے۔ یہ صرف دیہی افغانستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں القاعدہ اور طالبان نے ایسی کوششیں کی ہیں۔ اس میں نئے سکول کھولنے کے لئے کوششیں، بعض اوقات اتحادی افوا ج سے تعاون اور امریکی امدادی ادارہ یو ایس ایڈ کے زیر اہتمام اپنے زیر قبضہ علاقوں میں سکولوں کی تعمیرات اور دوسرے فلاحی منصوبوں میں شمولیت بھی شامل ہیں ۔ طالبان اور القاعدہ کی طرف سے انفراسٹرکچر و تنصیبات کی حفاظت، سڑکوں اور بجلی گھروں کی تعمیر کے دوران کارکنوں کو حفاظت مہیا کرنے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔ یہ سب وہ ترقیاتی کام ہیں جنہیں طالبان کی حکومت وسط 90ء کی دہائی کے بعد نظر انداز کرتی تھی بلکہ ان کا انکارکرتی تھی۔ موجودہ کابل حکومت کی عرصہ دراز سے کوشش تھی کہ وہ یہ ضروریات زندگی دیہی افغانستان تک کسی طرح پہنچا پائے۔

ماضی کی تاریخ میں پوست کی کاشت سے جس طرح افغانستان منشیات کی مارکیٹ کو خام مال مہیا کرتا تھا، آج کی تاریخ میں چین، روس اور امریکہ افغانستان کی معدنیات سے بھری کان کنی کی صنعت کے حقوق لینے کے لئے کوشاں ہیں۔امریکہ اور اتحادیوں کو یقین ہے کہ اب پرانے نہیں بلکہ نئے طالبان کا دور ہے۔ اگر طالبان آزادانہ جمہوری عمل کے ذریعہ اقتدار میں آتے ہیں تو واشنگٹن ان کی حکومت کو قبول کرنے میں تامل نہیں کرے گا اگرچہ اس کے بدلہ میں امریکہ دو دہائیوں سے جاری اس افغان جنگ میں اپنا سب کچھ کھو دے گا۔ مگر افغانستان میں قائم ہوتے امن کے لئے اگر دنیا بھر کے تمام ممالک نے اب تک جو لگایا ہے اُس کا بدل انہیں کچھ نہ بھی ملے تو یہی کافی ہے کہ بے شمار سلطنتوں کے قبرستان افغانستان میں بالآخر امن قائم ہو ہی گیا جس میں امریکہ یا اُس کے اتحادی یا اُس کے مخالفین کو عسکری طور پر دوبارہ داخل نہیں ہونا پڑے گا۔

دسمبر 2018ء میں یہ اعلان کیا گیا کہ طالبان اور داعش کے درمیان جاری لڑائی کی وجہ سے پہلے سے ہی ملتوی ہوتے افغان صداتی انتخابات جو اپریل 2019ء میں ہونا تھے، وہ مزید لیٹ ہوکر جولائی، اگست 2019ء تک ملتوی ہو سکتے ہیں۔ اکتوبر 2018ء میں پارلیمنٹری انتخابات منعقد ہوئے جو چار سال سے الیکٹوریل فراڈ اور دوردراز علاقوں میں بیلٹ پیپرز نہ پہنچائے جانے کی وجہ سے نہیں ہو پا رہے تھے۔ تکنیکی خرابیوں اور 170 سے زائد افراد کی بم دھماکوں میں ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے باوجود بھی الیکشن کمیشن نے پہلے دن کا ووٹرز ٹرن اوور بہت متاثر کن قرار دیا جو 45 فی صد تک رہا تھا جس میں خواتین ووٹروں کی کل تعدادکے 33 فی صد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ 20 مارچ کو اشرف غنی انتظامیہ نے اعلان کیا کہ وہ آنے والے قومی انتخابات کو 28 ستمبر تک ملتوی کرنے جا رہی ہے۔ سرکاری طور پر تو یہ تکنیکی مشکلات کی وجہ سے کیا جانے کا اعلان تھا مگر درحقیقت کابل انتظامیہ یہ جاننا چاہتی تھی کہ دوہا قطر میں جاری طالبان ۔ امریکہ مذاکرات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ ہنری کسنجر نے 2014ء میں کہا تھا کہ زیادہ تر امکانات یہی ہیں کہ اگر امریکن افواج افغانستان سے باہر نکل آتی ہیں اور دوسرا کوئی بین الاقوامی انتظام نہیں بنایا جاتا تو خطوں اور گروپوں میں تاریخی جھگڑا پھر شروع ہو جائے گا۔ طالبان دوبارہ ابھر کر سامنے آئیں گے اور ایک نہایت الجھی ہوئی اور بحرانی صورتحال دنیا کے سامنے جنم لے گی۔

بہت لوگ یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ دوہا ان مذاکرات کیا اتحادی افواج کی فتح ہیں یا افغانستان کے پرخطر محاذ سے بھاگ نکلنے کا بہانہ تالش کرنے کی کوشش۔ طالبان کے اندر سے یہ اختلافی آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ کیا امریکا سے مذاکرات میں ملا برادر کے کردار کے حوالے سے قیادت میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ امریکی حکام ملّا عبدالغنی برادر کے ساتھ بالخصوص بات چیت کے خواہاں تھے تاکہ افغانستان میں جاری جنگ کے خاتمے کی راہ میں حائل پیچیدہ مسائل کی گتھی کو سلجھایا جاسکے۔ ملّا برادر امریکہ کے افغانستان پر حملے کے بعد قریباً نوسال تک افغان طالبان کی قابض فورسز کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں کی قیادت کرتے رہے تھے۔ انہیں 2010 ء میں امریکا اور پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں نے ایک مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا تھا اور اس کے بعد سے وہ پاکستان میں زیر حراست رہے تھے۔ وہ طالبان تحریک کے شریک بانی ہیں اور طالبان کے مرحوم قائد ملّا عمر کے معتمد و قریبی ساتھی تھے اور مرحوم ہی نے انھیں برادر یا بھائی قرار دیا تھا اور یہ لفظ اب ان کے نام کا حصہ بن چکا ہے۔

اس وقت طالبان کے قائد مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کے زیرقیادت گروپ کے علاوہ، نجیب اللہ کا فدائی گروپ ملا برادر کے فعال کردار سے سخت خائف ہے اور امریکہ یا افغان حکومت کے ساتھ کسی بھی طرح کے مذاکرات کا بھی سخت مخالف ہے۔ سوال یہ ہے کہ اتحادی افواج جو مذاکرات اس وقت جس طالبان کے بڑے گروپ سے کر رہی ہیں کیا یہ گروپ ان مذاکرات کی کامیابی کے لئے اس کے معاہدہ کو اپنے تمام گروپوں سے منظور کروا بھی سکے گا یا نہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *