دائروں کا سفر۔۔رؤف الحسن

ہم سب کہانیاں ہیں۔ کائنات میں پھیلی ہوئی لاتعداد کہانیاں۔ ان کہانیوں کے خالق نے اس بات کا خصوصی اہتمام کیا کہ کوئی کہانی دوسری کہانی سے مماثلت نہ رکھے۔ اسی لیے ہر کہانی کا آغاز جدا ہے, کردار الگ اور انجام مختلف۔
کچھ کہانیاں نئی بہار کی طرح رنگین ہوتی ہیں تو کچھ دسمبر کی سرد شام کی طرح خاموش۔ کچھ وقت سحر کی طرح مختصر تو کچھ جولائی کی گرم دوپہر کی طرح طویل۔ کچھ کہانیاں یوں پرسکون ہوتی ہیں جیسے صحرا کی سرد رات تو کچھ میں سمندر کی موجوں کا سا تلاطم ہوتا ہے۔ ایسی دسیوں کہانیوں سے روز ہمارا آمنا سامنا ہوتا ہے۔ ان میں سے اکثر ہوا کے جھونکے کی مانند ہوتی ہیں تو چند دل و دماغ پر گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔ تین سال پہلے پتوکی اسٹیشن پر ملنے والے اس بوڑھے شخص کی کہانی بھی شاید ان ہی کہانیوں میں سے ایک تھی۔
وہ بوڑھا شخص جس کا دھندلا سا خاکہ آج بھی یادوں کی بند کتاب کے کسی صفحے پر موجود ہے۔ وہی جس نے مجھے نومبر کی ایک خنک شام میں بتایا تھا کہ ہم سب دائروں کے قیدی ہیں۔ سب نے خود ساختہ دائرے بنائے ہوئے ہیں اور ہم زندگی بھر انہی میں گھومتے رہتے ہیں۔
“انا, ضد, اور مجبوریوں کی زنجیریں آپ کو ان دائروں سے نکلنے نہیں دیتیں بیٹا!” بوڑھے شخص نے دھندلے آسمان پر اڑتے پرندوں کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
“دائروں کے اس سفر میں اڑنے والی گرد کبھی خوابوں کو حسرتوں کی چادر پہناتی ہے تو کبھی خواہشات کو اپنے گرداب میں لے لیتی ہے۔ سفر پھر بھی چلتا رہتا ہے۔ دائروں کے مسافر بھی تھک ہار کے سود و زیاں, حاصل و لا حاصل کا حساب کرتے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ ان میں سے اکثر کو لا حاصل کا احساس وقت و عمر کے نکل جانے پر ہوتا ہے۔ ایک عمر کے سفر کے بعد علم ہوتا ہے کہ جسے منزل سمجھے تھے, وہ تو وہی مقام آغاز مقام ہے جہاں سے سفر شروع ہوا تھا۔”
بوڑھا شخص اب خاموش ہو چکا تھا۔
“ان دائروں سے آزاد کیسے ہوتے ہیں بابا جی؟” میں نے اس بوڑھے شخص سے سوال کیا تھا۔
“ان زنجیروں کو تھوڑا سا ڈھیلا چھوڑے رکھنا بیٹا۔ دائروں سے آزاد رہو گے۔” اس نے خاکی مفلر کو کانوں کے گرد لپیٹتے ہوئے جواب دیا۔
آسمان پر اڑتے پرندے شاید اپنے گھروں کو جا چکے تھے۔ بوڑھا شخص بھی جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ ڈوبتے سورج کی آخری کرنیں پیپل کے درخت کے پتوں سے چھن کر میرے چہرے پر پڑ رہی تھیں۔ دور کہیں سے آنے والی اذان مغرب کی آواز کانوں میں پڑی تو اس سرد شام میں نے بھی ان دائروں کو محسوس کیا۔
نا مکمل محبتوں کے دائرے, بھٹکتی یادوں کے دائرے, ان کہی باتوں کے دائرے, رسم و رواج اور اصول دنیا کے دائرے, مجبوریوں میں بندھے رشتوں کے دائرے, نسلوں سے چلتی نفرتوں کے دائرے۔
شاید بوڑھا ٹھیک ہی کہہ رہا تھا۔ دائروں کے مسافر!

Rauf Ul Hassan
Rauf Ul Hassan
I do not consider myself a writer. Instead, I am a player. As one of my friend s said: "You play with words. " He was right. I play, and play it beautifully.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *