حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رح۔۔قُرسم فاطمہ

خواجہ گنج شکر

ہو کرم کی نظر

ہوں دیوانہ

تیرا قائم رہے آستانہ

پاک ہیں وہ تمام بزرگ و برتر اور اعلیٰ و ارفع ہستیاں جن کی فیضِ نظر اور رہنمائی ہر دور میں آنے والے انس و جاں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ایسی بزرگ ہستیاں اندھیر گھٹاؤں کے سائے میں ڈوبے انسانوں کو روشنی میں ٹمٹماتے سورج کے سامنے لاکھڑا کرتی ہیں جہاں حق کے سوا انسان کو کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر دور میں آنے والے انسانوں کی بہتری و بھلائی کے لیے سلوک و طریقت کے روشن سلسلے مبعوث فرمائے جو آستانہ اہلِ بیتِ اطہار سے لے کر باب مدینتہ العلم تک جاپہنچے۔ شرق تا غرب پروان چڑھتے معرفت کے سلسلے کی یہ کڑی سلسلہ شریفۂ چشتیہ کے عظیم صوفی بزرگ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رح تک جا پہنچی جن کا نسبتی تعلق حضرت سیدّنا عمر فاروق رضہ اور روحانی تعلق حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رضہ سے جاملتا ہے۔ آٹھ صدیاں قبل فیضانِ رحمت کے چشمے جاری کرنے والے بابا فرید ۵۸۹ ہجری کو ملتان کے ایک قصبے کھوتوال میں اللہ کا خاص کرم لیے قصرِ روحانیت پر اس شان کے ساتھ طلوع ہوئے کہ آپ نے آٹھ صدیاں قبل جو روشن چراغ منور کیے تھے وہ دیپ آج بھی آستانۂِ عالیہ پر عشقِ الہٰی کی جستجو میں سرگرداں زائرین کی صورت میں روشن ہیں۔

ابتدائی عمر سے ہی بابا فرید اللہ کی خاص نظرِ کرم کے سائے میں تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ بی بی قُرسم خاتون تیرہ سپاروں کی حافظہ تھیں اور دورانِ حمل قرآن پاک کی تلاوت فرماتی رہتیں۔ والدہ کی نیک و پاکباز سیرت اور اعلیٰ تربیت کا اثر یہ تھا کہ بابا صاحب بھی بچپن میں ہی تیرہ سپارے حفظ فرما چکے تھے۔ آپ کی وجۂِ تسمیہ “گنج شکر” کے متعلق روایت ہے کہ بچپن میں آپ کی نماز کی عادت کو برقرار رکھنے کے لیے والدہ آپ کے مُصّلے کے نیچے چپکے سے شکر رکھ دیا کرتی اور فرماتی تھیں کہ جو بچہ نماز پڑھتا ہے اسے اللہ تعالیٰ شکر عطا فرماتا ہے۔ ایک روز آپ شکر رکھنا بھول گئیں مگر جب دیکھا تو معمول کے مطابق مُصّلے کے نیچے سے شکر برآمد ہوگئی۔ اللہ کے اس کرم پر قرسم خاتون کی آنکھیں بھر آئیں اور انہوں نے لاج رکھنے پر سجدۂِ شکر ادا کیا۔ اسی نسبت سے بابا فرید کو “گنج شکر” پکارا جانے لگا۔ اسی ضمن میں ایک اور روایت ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے پیرومرشد کے کہنے پر روزے رکھے۔ سات روز سے محض پانی سے روزہ رکھ رہے تھے۔ ایک روز ضعف اور مدہوشی کے عالم میں آپ نے کنکریاں اٹھا کر منہ میں ڈال لیں جو بعد ازاں شکر بن گئی۔ جب آپ نے شیخ سے یہ ماجرا بیان کیا تو انہوں نے آپ کو “گنج شکر” کے لقب سے پکارا جو تاحیات بابا صاحب کا وجۂِ تسمیہ بن گیا۔

حضرت بابا فرید نے دینی و دنیاوی علوم ملتان سے حاصل کرنے کے بعد دہلی میں اپنے مرشدِ کامل حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی رضہ کی زیر نگرانی طریقت کے مدارج طے کیے اور اس کے ساتھ ساتھ سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی نظرِ کرم سے بھی فیض یاب ہوتے رہے۔ آپ نے قطب الاقطاب حضرت قطب الدین بختیار کاکی اوشیؒ کے دست حق پر بیعت کی جو خواجہ معین الدین چشتیؒ کے جانشین تھے۔ بابا صاحب کویہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ کے پیرو مرشد خواجہ قطب الدین بختیار کاکی سمیت سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی المعروف خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ نے بیک وقت آپ کو روحانی قوت عطا فرمائی اور اس موقع پر سلطان الہند نے تاریخی الفاظ ادا کیے کہ:

“قطب الدین تم ایک شہباز کو زیر دام لائے ہو ” جس کے بعد آپ کو شہباز لامکاں کا لقب عطا ہوا کہ جس کا ٹھکانہ کہیں نہیں صرف سدرۃ المنتہیٰ پر ہے۔

دہلی میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سے فیض حاصل کرنے کے بعد بابا صاحب نے انتہائی گمنام اور ویران علاقے “اجودھن” میں قیام کرنا پسند فرمایا۔ اجودھن (موجودہ نام: پاکپتن شریف) دریائے ستلج کے کنارے واقع ایسا غیر آباد علاقہ تھا جو حشرات الارض کی بہتات کے حوالے سے مشہور تھا اور آبادی کے نام پر صرف چند گھرانے مقیم تھے مگر آپ نے درخت کے نیچے بوریا بچھایا اور یہیں سے رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری کیا۔ آپ موحّد بھی تھے عارف بھی۔ مُحبّ بھی اور مُوقّن بھی۔ مُکاشف بھی اور مجاہد بھی۔ سالک بھی اور مجذوب بھی۔ آپ راضی بہ رضا کا ایسا کامل نمونہ تھے کہ گفتار فرماتے تو ہر انگ سے توحید و عبودیت، اطمینان و اخلاص، صدق و تواضع، تسلیم و رضا، تسکین و وقار، سخا و اعتماد اور محبت و اُنس کی مُشکِ امبر ٹپکٹی تھی۔ آپ علم الحق و یقین کا ایسا بحر بیکراں تھے جن کو مختلف علوم پر مہارت کے ساتھ ساتھ مختلف زبانوں پر بھی کامل عبور حاصل تھا۔ آپ کے انداز و بیاں کے پُراثر رنگ اہلِ سماعت کے اذہان کے بند دریچے کھول دیتے اور مُریدین کے قلب و روح کی دنیا میں عشقِ الٰہی کا سمندر ٹھاٹیں مارنے لگتا۔ آپ عوام الناس سے پنجابی زبان میں گویا ہوئے اور آپ کے کلام میں استقامت، توّکل، سچائی، اِخلاص، مساوات اور ہم آہنگی واضح جھلکتی تھی۔ ایک گنجان آباد علاقے میں قیام کے دوران عوام الناس میں آپ کی مقبولیت کی اہم ترین وجہ لوگوں سے ذاتی و نظریاتی محبت تھی۔ آپ نے انسانوں کے درمیان تفرقے کو ختم کیا اور فرمایا:

فریدا خالق خلق میں، خلق وسے رب مانہہ مندا کس نوں آکھیے، جاں تس بن کوئی نانہہ

ترجمہ:

فریدا خدا مخلوق میں اور مخلوق خدا میں جاگزیں ہے

کس کو برا کہیں جب اس کے سوا کوئی نہیں ہے

چشتیہ سلسلیہ کی بنیاد جن امور پر رکھی گئی ہے، حضرت بابا فرید ان تمام امور کا مظہرِ عین تھے۔ چشتیہ مشائخ کے مطابق عشقِ الٰہی کے حصول کے لیے اطاعت، عبادت، ریاضت، مجاہدہ اور جہاد بن نفس کرنا عین عبادت ہے۔ بابا صاحب نے بھی تصفیہِ باطن اور تزکیہ اخلاق کے حصول کے لیے نفس کو زیر کرکے ریاضت و مجاہدات پر گہرا زور دیا۔ آپ مجذوب السالک تھے یعنی سلوک کی راہ پر سفر کرتے ہوئے جذب کی لطیف کیفیات آپ کی ذات میں سرایت کرتی تھیں۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ کے ہم عصر اولیائے کرام میں حضرت بہاؤ الدین زکریا، حضرت لال شہباز قلندر، اور حضرت جلال الدین سرخ بخاری رحمتہ اللہ علیہ شامل ہیں۔ آپ کے خلفا کی تعداد سات سو ہے، چھ سو خلفاء انسانوں میں اور سو خلفاء جنات میں سے شامل ہیں۔ بابا فرید نے اپنے چھ خلفائے کبیر کو چھ علاقہ ولایت عطا کیے۔ قطب عالم شیخ جمال الدین ہانسویؒ کو ہانسی، خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کو غیاث پور(دلی)، مخدوم صابر کلیریؒ کو کلیر شریف، منگھوپیر بابا کو کراچی کا علاقہ ، لعل شہباز قلندرؒ کو سیہون شریف بھیجا اور اپنے داماد شیخ بدر الدین اسحاقؒ کو اپنے ساتھ رکھا۔ اس کے علاوہ ہر خلفاء کبیر کے ماتحت سو خلفاء رکھے جو کہ چھ سو ہوئے جبکہ سو خلفاء جنات میں سے تھے یوں سات سو کی تعداد پوری ہوتی ہے۔

حضرت بابا فرید نے چالیس سال تک گوشہ نشینی اختیار کی اور سلوک کی راہ پر اخ الخواص کا درجہ پانے کے بعد آپ نے ایک مقام پر فرمایا:

” چالیس برس تک فرید نے وہ کیا جو خدا نے چاہا اب فرید جو چاہتا ہے خدا اسے پورا کردیتا ہے۔”

آپ کے کشف و کرامات کی طویل فہرست میں سرِ فہرست مٹی کا سونے میں تبدیل ہوجانا ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت بیٹیوں کی شادی کی درخواست کے لیے آئی اور فکرِ معاش کے باعث رونے لگی۔ آپ نے مٹی پر قل ھو اللہ احد کا ورد کرکے دم کیا تو وہ سونا بن گئی۔ بعدازاں عورت بھی اپنے گھر میں یہی عمل دہرانے لگی مگر مٹی مٹی ہی رہی۔ اس نے آکر آپ سے کہا تو آپ نے فرمایا: اے عورت! تیرے منہ میں فرید کی زبان نہیں جو مٹی کو سونا کردے۔”

سلسلۂِ چشتیہ کے آفتاب ولایت اور علم و حکمت کے خورشید تاباں گنج شکر ۹۵ سال کی عمر میں پانچ محرم الحرام ۶۹۰ ہجری کو باعثِ علالت دنیا سے پردہ فرما گئے مگر اہلِ عقیدت کے دلوں میں آج بھی حیات و جاوید ہیں۔ آپ کا مزارِ مقدس آپ کے مرید شہنشاہ محمد بن تغلق نے پاکپتن شریف میں انتہائی محبت و عشق کے ساتھ تعمیر کروایا۔

آپ کے روضہ اقدس کے دو دروازے ہیں۔ ایک مشرق کی جانب “شرقی دروازہ” جسے “نوری دروازہ” کہا جاتا ہے۔ روضہ مبارک کی زیارت کے لیے آنے والے زائرین اسی دروازے سے روضہ مبارک میں داخل ہوتے ہیں۔ دوسرا دروازہ جنوب کی جانب جنوبی دروازہ ہے جسے “بہشتی دروازہ” کہتے ہیں۔ یہ دروازہ عموماً بند رہتا ہے اور محرم الحرام میں ایامِ عرس کے دوران پانچ تا دس محرم الحرام تک کھولا جاتا ہے۔

جس وقت بابا صاحب کا وصال ہوا حضرت نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی پاکپتن شریف میں موجود نہ تھے ۔ جب آپ کی پاکپتن شریف آمد ہوئی تو روضہ کی تعمیر کا کام شروع ہوا۔ حضرت نظام الدین اولیاؒ نے اشارہ غیبی سے روضہ مبارک کی بنیاد ایسی پاک اینٹوں پر رکھی تھی جن پر قرآن پاک تلاوت کیے گئے تھے۔ ( ایک روایت کے مطابق ایک ایک اینٹ پر گیارہ قرآن مجید کی تلاوت کی گئی تھی)۔ حضرت نظام الدین اولیاء نے سرکارِ مدینہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو چار یاروں کے ہمراہ حضرت عثمان ہارونیؒ، حضرت معین الدین اجمیریؒ اور حضرت خواجہ قطب الدین بخیار کاکیؒ کو ٹھیک اسی مقام پر دیکھا جہاں اس وقت بہشتی دروازہ ہے۔ بقول حضرت نظام الدین اولیاء سرکارِ مدینہ نے فرمایا (من دخل ھذا لباب امن) جو کوئی اس دروازہ سے گزرے گا امن پائے گا۔ اس موقع پر خلیفہ سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی یہ نظارہ دیکھ کر وجد میں آ گئے اور آپ نے بے ساختہ فرمایا:

اللہ محمد چار یار

حاجیؒ خواجہؒ قطب ؒفریدؒ

اس وقت سے لے کر آج تک یہی نعرہ سلسلہ چشتیہ میں رائج ہے۔ عشاق و عقیدت مند بہشتی دروازے کی زیارت کے لیے پروانہ وار چلے آتے ہیں۔ بزرگوں کے نزدیک بہشتی دروازہ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ پر اﷲ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم اور بخشش و عطا ہے۔ عشاءکی نماز کے بعد حضرت دیوان صاحب جلوس کی صورت میں تشریف لاتے ہیں اور بہشتی دروازہ کھولنے سے قبل محفل سماع میں شرکت فرماتے ہیں۔ یہ محفل پائنتی کے دالان میں کھڑے کھڑے قائم رہتی ہے۔ اس کے بعد تالیوں اور گولوں کی گونج میں دیوان صاحب آگے بڑھ کر اپنے ہاتھ سے بہشتی دروازہ کھولتے ہیں۔ بابا فرید کے لاکھوں پروانے فرید فرید کے نعرے لگاتے ہوئے جنتی دروازے میں داخل ہوتے رہتے ہیں اور یہ سلسلہ پانچ دن تک انتہائی عشق و عقیدت کے ساتھ جاری و ساری رہتا ہے۔ جیسا کہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی نے فرمایا:

نفسو شیطان سے کہو میری تمنا نہ کرے

مالک الفقر فرید است سلیمان اپنا

بہشتی دروازے کے متعلق بعض افراد مختلف اعتراضات اٹھاتے سامنے آتے ہیں مگر حقیقت کے آئینے میں نظر ثانی کی جائے تو چشت سلسلے کے تمام بزرگ اپنے اپنے وقت کے غوث و ابدال تھے۔ تصوف پر نکتہ اٹھانے والوں کے لیے اہلِ عشق کی جانب سے یہی ثبوت کافی ہے کہ اولیاء کرام اللہ کے وہ خاص اور منتخب بندے ہیں جن کی تعلیمات و کرامات کئی صدیاں گزر جانے کے بعد بھی حیات و جاوید ہیں۔ یہ معرفت کے راز ہیں جنہیں صرف اہلِ عقیدت سمجھ پاتے ہیں اور اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ صوفیائے کرام کی تعلیمات اور ان کے مزارات ہمارے پاس مقدس امانت ہیں جن کی تکریم و حفاظت کرنا انفرادی طور پر ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ عزوجل اپنے تمام ولیوں کے صدقے ہم سب پر اپنا خصوصی کرم فرمائے اور ہمیں تصوف کے تمام سلسلوں کو حق و سچ کے ساتھ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

حوالہ جات:

سیرالاولیاء: مولف حضرت امیر خورد کرمانیؒ

خیر المجالس: ملفوظات خواجہ نصیر الدین چراغ دہلی ؒ

کتاب سیرالاقطاب، مولف شیخ اللہ دیا چشتی ،مترجم محمد علی جویا مراد آبادی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *