آہ! حیات بلوچ کی “حیاتی” چھین لی گئی۔۔محمد وقاص  ڈوگر

برسوں بڑے مان سَمّان سے پال پوس کر جوان کیے خواب دیکھتی آنکھوں کے سامنے بکھرتے دکھائی دیں ،تو جس اذیت، کرب اور درد سے واسطہ پڑتا ہے اسے لفظوں کا جامہ پہنانا بھلا کہاں ممکن ہے؟

ماں باپ کی آنکھوں کے سامنے جب بے گناہ جوان شیر “دہشتگرد” کہہ کر “محافظ” پھڑکا ڈالیں بتلائیے تب والدین کے دکھ کو بھلا قلم کی زبان سے بیان کیا جا سکتا ہے؟

ارادہ باندھ رکھا تھا کہ لکھنے لکھانے کا سلسلہ چند ہفتوں واسطے اُٹھا رکھتا ہوں تاکہ ایم فل میتھ کے قریب آن پہنچے امتحانات کی جم کر تیاری کر سکوں ۔مگر اک سانحہ ہوا، ایسا کہ ضمیر اس ظلم عظیم پہ خاموش رہنا گوارا نہ کر سکا۔

سانحہ کیا تھا؟ ۔لیجیے تربت میں پیش آئے سانحے کی کتھا پڑھیے۔

اگست کی تیرہ تاریخ تھی، سورج زمین پر آگ برسا رہا تھا، وطن عزیز کے باسی تہترواں یوم آزادی بڑے دھوم دھڑکے اور جوش و جذبے سے منانے کی تیاریوں میں مگن تھے کہ بلوچستان کے ضلع تربت میں اک طالب علم کو فرنٹیئر کور کے محافظوں نے “دہشتگرد” کہہ کر ماورائے عدالت قتل کر دیا۔

حیات بلوچ جو کراچی سے فزیالوجی کے شعبے میں اپنی ڈگری کی تکمیل کے قریب تھا کہ کرونا وبا پھوٹ پڑی۔وبا کے پھیلاؤ کو روکنے واسطے بندش کی زَد میں تعلیمی ادارے بھی آئے۔تعلیمی ادارے بند ہو جانے پر دور دراز سے حصول علم کی غرض سے آئے طَلبہ گھروں کو لوٹ گئے۔حیات بلوچ بھی آبائی گاؤں پہنچ کر اپنے بابا کے ساتھ کام میں جت گیا۔حیات بلوچ اپنے کنبے کا پہلا فرد تھا جو کراچی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہا تھا۔کہا جاتا ہے کہ اپنے مستقبل کو درخشاں بنانے اور شورش زدہ بلوچستان کی ترقی و بہتری میں اپنا حصہ ڈالنے کی غرض سے وہ سی ایس ایس کی تیاری کا عزم کر چکا تھا۔تاکہ انتظامی منصب پر فائز ہو کر اپنی جنم بھومی کی خوشحالی و استحکام میں عملاً کردار ادا کر سکے۔مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔خواب تعبیر کی منزل نہ پا سکے۔قلم کی قوت اور علم کی طاقت کو بروئے کار لا کر حسین و بہتر مستقبل کے سپنے دیکھتی آنکھیں، افسوس کہ ہمیشہ واسطے جبراً بند کر دی گئیں۔

محمد حیات بلوچ چھٹیوں کے ایام اپنے بابا کے ساتھ کھجوروں کے باغات میں ہاتھ بٹا کر بِتا رہا تھا۔ حسب معمول باغ میں اپنے بابا اور ماں کے ساتھ کام میں جُتے حیات بلوچ کو قریب سے دھماکوں کی آواز سنائی دی۔ہوا یوں کہ راہ چلتی فرنٹیئر کور کی گاڑی کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ ہوا۔باردو کی بو چہار سو پھیل گئی۔ایف سی اہلکار دشمن کی کھوج میں گاڑی سے اتر کر قریب کے علاقے میں پھیل گئے۔قریب ہی باغیچے میں حیات بلوچ والدین کے ساتھ کام میں مگن تھا کہ ایف سی کے محافظ نے مبینہ دہشتگرد سمجھ  کر پہلے تو حیات بلوچ پر تھپیڑ برسائے، پھر گھسیٹتے ہوئے سڑک کنارے لے گیا،مبینہ “دہشتگرد” کے ہاتھ پیر باندھے گئے، بعد ازاں چیختے چلاتے جوان بیٹے کی صفائیاں دیتے والدین کے سامنے محافظ نے مبینہ “دہشتگرد” کے جسم میں آٹھ گولیاں اتار کر “حیات” کی “حیاتی” کا چراغ گل کر دیا۔

سانحہ کی اک تصویر وائرل ہوئی۔یقین جانیے دیکھتے ہی رونگٹے کھڑے ہو گئے۔دل اداسی سے بھر گیا۔آنکھوں میں نمی اُتر آئی۔کاندھے جھکائے خون میں لت پت جوان بیٹے کے لاشے کے قریب بیٹھے باپ اور آسمان کی جانب ہاتھ کیے منصف اعظم کو دہائی دیتی ماں کی حالت دیکھی نہیں گئی۔یہ بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی حساس فرد ایسا وحشیانہ منظر دیکھے اور اندر تلک ہل نہ جائے؟

صاحبو! مائیں بڑے چاؤ سے اولاد پالتی ہیں۔لوریاں دیتی مائیں کھلی آنکھوں سے اولاد کے سہانے مستقبل کے خواب دیکھ رہی ہوتی ہیں۔جوان ہوتی اولاد سے اُمیدیں بھی تو جُڑی ہوتی ہیں ناں۔سوچیے اس ماں پر کیا بِیت رہی ہو گی جس کی جوان اولاد محافظوں کی جانب سے ماورائے عدالت قتل کی نذر ہو جائے؟ تپتی دھوپ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے، اولاد کو پڑھانے کی تڑپ لیے، محنت کرتے اس باپ پر کیا گزر رہی ہو گی جس کے بڑھاپے کے سہارے کو محافظوں نے مار دیا؟

محمد حیات بلوچ کا قتل ناحق رلا دینے والی درد ناک کتھا ہے۔پیش نظر رہے کہ محافظوں کی جانب سے ماورائے عدالت قتل کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔اس سے قبل بیسیوں ایسے واقعات منظر عام پر آ چکے ہیں جن میں محافظ کسی فرد کو مبینہ دہشتگرد سمجھ کر پھڑکا دیتے ہیں۔شور اٹھنے پر تحقیق ہوتی ہے تو مبینہ دہشتگرد معصوم ثابت ہوتا ہے۔جب قانون کے رکھوالے ہی قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ماورائے عدالت قتل ایسے سنگین جرائم میں ملوث ہوں گے تو شہری خود کو بھلا کیسے محفوظ سمجھیں گے؟؟ ایسے واقعات ہی کو بنیاد بنا کر مٹھی بھر لسانی و علاقائی دہشتگرد تنظیمیں اپنے بیانیے کو جواز فراہم کرتی ہیں۔نفرت و تعصب کی بھڑکتی آگ کو ایسے ہی واقعات ایندھن مہیا کرتے ہیں۔خدا جانےمحافظوں کی جانب سے ماورائے عدالت قتل کا یہ سلسلہ کب تھمے گا؟

تسلیم کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا وطن عزیز کو دہشتگردی کے اژدہے سے نجات دلانے میں اہم کردار ہے۔بجا کہ ملک کی حفاظت پر مامور جوانان اپنی جان ہتھیلی پر رکھے وطن دشمنوں کی ہر ہر سازش ناکام بنانے میں مگن ہیں۔وطن کی حفاظت کے باب میں محافظوں کی تمام تر خوبیوں کے اعتراف کے باوجود اس بات کی اجازت بھلا کیسے دی جا سکتی ہے کہ محافظ شک کی بنیاد پر ماورائے عدالت قتل ایسا بھیانک اقدام کرتے پھریں؟ محافظوں کے ماورائے عدالت قتل کو کولیٹرل ڈیمج کے غلاف میں چھپا کر جواز فراہم کرنا غلط طرز عمل ہے ۔قانون کے باب میں جس کی کوئی حثیت و وقعت نہیں۔
یہ بات پلے باندھ لیجیے کہ ماورائے عدالت قتل جرم ہے۔اس جرم کا ارتکاب بھلے محافظ کسی پر دہشتگردی کا مبینہ الزام لگا کر کریں یا فرد/ ہجوم توہین مذہب کا مبینہ الزام لگا کر ۔ہر دو صورت میں ماورائے عدالت قتل نا قابل قبول ہے۔

کاش کہ روتی بلکتی بکھرے خوابوں کی کرچیاں سمیٹتی حیات بلوچ کی ماں کو انصاف مل سکے۔کاش کہ ممتا کی دہائی کا عرش سے یوں جواب آئے کہ بےقصورشہریوں کامحافظوں کے ہاتھوں مارے جانے کا سلسلہ تھم جائے۔اے کاش!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *