ابراہیم ارمان لونی شہید اور پی ٹی ایم۔۔۔نصیر اللہ خان

ابراہیم ارمان لونی کا کردار ریاستی اداروں کے ظلم کی داستان میں ایک اور اضافہ ثابت ہوا  ہے۔ ارمان لونی پی ٹی ایم کے ساتھ روزِ اول سے وابستہ چلے آ رہے تھے۔ فعال کارکن کے طور پر پی ٹی ایم کے لیے اپنی خدمات دیتے چلے آ رہے تھے۔ ان کی شہادت پر اب پورے پاکستان میں مظاہرے اور جلوس دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اس حوالہ سے پارلیمنٹ میں قراردادِ مذمت بھی پیش ہوئی اور کے پی بار کونسل نے ہڑتال کا اعلان کرکے عدالتوں سے بائیکاٹ بھی کیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عوام نے ایک سچا اور پُرخلوص انسانی حقوق کا نمائندہ کھو دیا ہے۔ راقم خود بھی ارمان کی ملنساری، اخلاص اور سچائی کا شاہد ہے۔ اس مد میں وزارتِ داخلہ، حکومتی وزرا، میڈیا کا غیر ذمہ دار رویہ، بلیک آوٹ اور مجرمانہ خاموشی معنی خیز ہے۔

ارمان لونی کی شہادت کی وجہ سے پی ٹی ایم میں مزید جوش و جذبہ پیدا ہوا ہے۔ پی ٹی ایم کے کارکنان اور حمایتی اس کی شہادت کو انقلاب لانے سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ پختون تحفظ موومنٹ، پاکستان کے آئین اور قانون کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے جائز مطالبات رکھتی ہے۔ مطالبات کی فہرست میں وزیرستان میں مائنز کی صفائی، ایکسٹرا جوڈیشنل کلنگ، نقیب اللہ محسود شہید کیس میں راؤ انوار کو پھانسی، پختون روایات کا خیال رکھتے ہوئے سیکورٹی چیک پوسٹس پر نرمی اور مسنگ پرسنز کو عدالتوں میں پیش کرنے جیسے مطالبات شامل ہیں۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ پچھلی حکومت اور دوسری پارٹیوں بشمول پی ٹی آئی نے ان مطالبات کو جائز، قانونی اور آئینی مانا ہے۔

اس سارے منظر نامے میں پختون تحفظ موومنٹ فلسفۂ عدم تشدد پر اپنی منزل کی جانب خراماں خراماں رواں دواں ہے اور فلسفۂ مذکورہ پر عمل کرتے ہوئے ریاستی اداروں سے ٹکر یا مزاحمت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ البتہ اس کے برعکس ریاستی ادارے پختون تحفظ موومنٹ کے بانیوں اور حامیوں پر ہر جلسے اور ہر مظاہرے حتی کہ ان کی نقل و حمل میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔ ان کو جیلوں میں بند کر دیا جاتا ہے اور “لاپتا” کر دیا جاتا ہے، نامعلوم جگہوں پر انہیں رکھا جاتا ہے۔ ایف آئی آر، تو روزمرہ کا معمول بن چکی ہے۔ اس سب کے باوجود پی ٹی ایم انتہائی مناسب اور قانونی طریقے سے حکومت اور سیکورٹی اداروں سے ڈیلنگ کرتی ہے۔ کوئی ایک بھی ایسا واقعہ اب تک رو نما نہیں ہوا کہ جس سے ثابت ہوسکے کہ پی ٹی ایم کے نمائندوں، راہنما اور سپورٹرز نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا ہو۔ ایک طرف مطالبات جائز، آئینی اور قانونی ہیں۔ حتی کہ جے او سی کے پی اور سینئر آرمی آفیشل بھی اس کو جائز مانتے ہیں، بلکہ وہ بھی سمجھتے ہیں کہ پی ٹی ایم کے مطالبات کو حل ہونا چاہیے۔

دوسری طرف پختونخوا ملی عوامی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی کے ورکرز، عوامی پارٹی، جمہوری وطن پارٹی اور طبقاتی جدوجہد کے ممبران کے علاوہ سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں سے وابستہ اشخاص، صحافی برادری، دیارِ غیر میں مسافر اور تمام دانشور “پختون تحفظ موومنٹ” کے مطالبات کو عین قانونی اور آئین کے فریم ورک کے اندر مانتے ہیں۔ جب صورتحال یہ ہو اور ان جائز مطالبات میں ٹال مٹول اور تاخیر سے کام لیا جاتا ہو، تو لازمی بات ہے کہ پختونوں میں بے چینی میں اضافہ ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ خیبر پختونخوا اور جنوبی پختونخوا کے پختونوں کے ساتھ جاری ظلم اور جبر کے خلاف “پختون تحفظ موومنٹ” ایک نمائندہ تحریک کے طور پر ابھری ہے۔ فی الحال پی ٹی ایم پارلیمنٹ کی سیاست سے اجتناب کرتی ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ پی ٹی ایم غیر سیاسی تحریک ہے، بلکہ پی ٹی ایم انتہائی سیاسی طریقے سے اپنے مطالبات منوانا چاہتی ہے اور سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ پی ٹی ایم کے راہنما ہر سیاسی و غیر سیاسی تنظیموں کے راہنماؤں سے پختونوں کے مطالبات کو حل کرنے اور تحریک میں شامل ہونے کے لیے ملتے رہتے ہیں۔ حالیہ انتخابات میں پارلیمانی سیاست کے بغیر اور مروجہ سیاسی پلیٹ فارم کی بجائے “پختون تحفظ موومنٹ” کے دو ایم این ایز پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہوچکے ہیں اور مذکورہ نمائندگان پارلیمنٹ کے فلور پر پختونوں اور پی ٹی ایم کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ اگر پی ٹی ایم کے جائز اور قانونی مطالبات میں مزید روڑے اٹکائے جاتے ہیں، تو اس صورت پی ٹی ایم کے بنیادی مطالبات جو کہ پانچ نِکات پر مبنی ہیں، میں ایزادگی یقینی ہے اور اس سے ایک نیا “پنڈورا باکس” کھلنے کا بھی اندیشہ موجود ہے۔ اس لیے یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومت اور ریاستی اداروں کے کمپرومائز نہ کرنے کی وجہ سے پی ٹی ایم کی فہرست میں مزید علاقوں کے دیرینہ مسائل کے شامل ہونے کا قوی امکان ہے۔ پی ٹی ایم کو بنے ہوئے ایک سال کا عرصہ ہوچکا ہے، لیکن تاحال حکومت اور ریاستی ادارے جائز مطالبات کو حل کرنے میں تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں، اس لیے میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کیوں اور کس مقصد کے لیے پختونوں کے ذہنوں میں ریاست مخالف سوالات کو جگہ دی جا رہی ہے؟ اگر یہ سب کام ہو رہا ہے، تو میرا شک یقین میں بدلے گا اور میں کہنے میں بالکل حق بجانب ہوں گا کہ ریاست اپنی سٹرٹیجک پالیسی اور سیاسی انجینئرنگ کا مرتکب ہو رہی ہے۔

پروفیسر ابراہیم ارمان لونی کے قاتل اے ایس پی عطاء الرحمان جو کہ پہلے سے سیکورٹی اداروں کے ساتھ منسلک رہ چکا ہے اور اب پولیس فورس میں ڈیوٹی دے رہا ہے، وہ عینی شاہدین کے مطابق ارمان لونی کے قتل میں ملوث ہے۔ اس لیے اُس کو قانون کے مطابق سزا دینا پختونوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے مترادف ہوگا۔ ان کا ماننا ہے کہ ارمان لونی کو کلاشنکوف کے بٹ مار مار کر شہید کیا گیا۔ سب سے بڑھ کر ظلم یہ کیا گیا ہے کہ پھر اس کو ہسپتال بھی جانے نہیں دیا گیا۔ یہ بھی ظلم ہے کہ کہا جا رہا ہے کہ ان کو “ہارٹ اٹیک” ہوا تھا۔
میرا خیال ہے کہ نقیب محسود شہید، ساہیوال واقعہ اور اب ارمان لونی کے ماورائے عدالت قتل کے علاوہ بے شمار ایسے کیس حکومت کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ اس لیے ماورائے عدالت قتلِ عام کے خلاف حکومت کو مؤثر قانون بنانے کی ضرورت ہے۔ اس قتل میں جو بھی ملوث ہوں، ان کو سزائیں دینا حکومت اور عدالتوں کی ذمہ داری ہے۔ وما علینا الاالبلاغ!

نصیر اللہ خان
نصیر اللہ خان
وکالت کے شعبے سے منسلک ہوکرقانون کی پریکٹس کرتا ہوں۔ قانونی،سماجی اور معاشرتی مضامین پر اخباروں اور ویب سائٹس پر لکھنا پڑھنامیرا مشغلہ ہے ۔ شعوراورآگاہی کا پرچار اپنا عین فریضہ سمجھتا ہوں۔ پولیٹکل سائنس میں ایم اے کیا ہےاس لئے پولیٹکل موضوعات اورمروجہ سیاست پر تعمیری ،تنقیدی جائزے لکھ کرسیاست دانوں ، حکام اعلی اور قارئین کرام کیساتھ اپنا نقطۂ نظر،فہم اور فکر شریک کرتا ہو۔ قانون،تاریخ، سائنس اور جنرل نالج کی کتابوں سے دلی طور پر لگاؤ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *