درد نہیں درماں بنیں۔۔۔گُل رُخ

ماسٹر ڈگری مکمل ہو نے کے فوراً بعد اس نے کمیشن کا امتحان پاس کرلیا اور انٹرویو کی تیاری کرنے لگی۔ انٹرویو والے دن وہ سب سے زیادہ پر اعتماد نظر آرہی تھی۔ انٹرویور نے ڈاکومنٹس دیکھتے ہی طنزیہ انداز میں تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بھی کیا جلدی ہے جاب کی؟ ابھی تو پاس آؤٹ ہوئے ایک سال بھی نہیں گزرا اور آپ یہاں تک آن پہنچیں۔

اس کو تب تو یہ بات سمجھ نہ آئی اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تلخ سوالوں کے جواب دیتی رہی لیکن رزلٹ دیکھ کر اسکو وہ تمام باتیں یاد آنے لگیں  جو اس وقت انٹرویور نے ہنستے ہنستے کہہ ڈالی تھیں۔ یہ اس کی پہلی شکست تھی جس کے بعد یکے بعد دیگرے اسکو بےشمار ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ گو کہ اسے ہر آسائش اور سہولت میسر تھی پھر بھی اس کے چہرے پر بےرونقی اور خالی پن نمایاں تھا۔ گھر کی بڑی بیٹی ہونے کے ناطے وہ اپنے ابو کا سہارا بننے کی شدید خواہش رکھتی تھی اور یہ خواہش ابھی تک عملی طور پر حقیقت کا روپ نہ دھار سکی۔ آج خود کو ایک بوجھ سمجھنے لگی تھی۔ اس کی ہر دعا رد ہورہی تھی۔ زندگی کے ہر میدان میں وہ ہارتی جارہی تھی۔ وقت تھم چکا تھا لیکن اسکی عمر تیزی سے گزر رہی تھی۔ اسکے والد جنھوں نے ہمیشہ اسکو گرتے ہوئے تھاما تھا اب روز بروز اسکی مایوس آنکھوں میں جھانکتے اور اندر ہی اندر گھٹتے۔ بچپن ہی سے وہ باقی بچوں کی نسبت کم گو اور زیادہ حساس ثابت ہوئی تھی اور اب بھی اس کو یہ سب بڑی شدت سے محسوس ہورہا تھا۔ یا اللّہ ایسا کیا گناہ ہو گیا مجھ سے جو ایسا کڑھا امتحان آن پڑا ہے وہ دل ہی دل میں سوچ کر روئی تھی۔ وہ لڑکی جو سب کو متحرک کرتی تھی سب کا حوصلہ بڑھانے والی تھی آج اسکو سب بےمطلب اور جھوٹ لگتا تھا گویا وہ نااُمیدی کی دلدل میں دھنستی جا رہی تھی۔ اس نے دنیا میں پیسے کی دوڑ دیکھی تھی۔ پیسہ ایسا جادو ہے جو کم عقل اور احمق کو بھی دنیا کی نظر میں اول درجے کا سیانا اور دانشور بنا سکتا ہے۔ کبھی نہ کبھی مایوسی کا یہ کالا بادل ضرور چھٹ جائے گا دل کے کسی کونے میں اب بھی اُمید کی کونپل پنپ رہی تھی جو رات بھر اسکو جگا کر رکھتی تھی۔

اسکو ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو اس پر اعتماد کرتا اور اس کو روشن مستقبل کی طرف دھکیلتا۔ کیونکہ ابو نے ہمیشہ ہر میدان میں اس کے اندر خود اعتمادی پیدا کی تھی لیکن اب شائد وہ نظر انداز ہو رہی تھی جس وجہ سے اسکا موٹیویشن لیول صفر ہوتا جارہا تھا۔

اچانک ایک دن کسی اللّہ کے بندے نے اسکی زندگی میں مسیحا بن کر دستک دی۔ اسکی ٹوٹی ہوئی اُمیدوں کو پھر سے سمیٹ کر ان میں روح پھونک دی۔ جس نے اس کے اندر یہ یقین پیدا کیا کہ زندگی کی گہما گہمی میں گم ہوجانے سے بہتر ہے کہ اٹھ کر اس کا سامنا کرو۔ مایوسی ہی تو سب سے بڑا گناہ ہے جس کو چھوڑ کر خدا سے اچھا گمان رکھنا ہے جبب ہی تو دعائیں قبول ہوں گی۔ جاب نہ ملنا ناکامی نہیں بلکہ اپنی قابلیت کو نظرانداز کرنا ناکامی ہے۔ کیلنڈر کو دیکھنا چھوڑو اور جینا شروع کرو۔ مقررہ وقت پر سب ہوگا اپنی سوچ کا زاویہ بدل کر دیکھو۔ کمرے میں بیٹھ کر سوچتے رہنے سے خواب پورے نہیں ہوتے!

اسکی باتوں نے جیسے جلتے صحرا میں نخلستان کا کام کیا۔ ایک انجان شخص نے اسکو زندگی کی طرف واپس بھیج دیا۔ اس نے آج پھر سے زندگی کی دوڑ میں مقابلہ کرنے کے لیے پہلا قدم اُٹھایا ہے۔ بچوں کو پڑھانے سے اسے قلبی اطمینان ملنے لگا ہے اور قدرے خوش رہنے لگی ہے۔ اب قسمت کے راستے بھی کُھلتے نظر آرہے ہیں۔

معاشرے کے پڑھے لکھے لوگوں میں خودکشی کا رحجان اسی لیے تیزی پکڑ رہا ہے کیونکہ ہم نے فیس بک اور انسٹاگرام پہ پڑھے لکھے بیروزگاروں کےلیے صرف میمز بنانا سیکھا ہے۔ اپنی زندگی کے کم و بیش سولہ سال تعلیم کو دینے کے بعد بھی ہاتھ خالی ہوتے ہیں اور باقی سال اس ڈگری کو ثابت کرنے کےلیے جاب ٹیسٹ اور انٹرویوز دیتے رہتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ایک ان پڑھ انہیں سولہ سال میں کوئی ہنر سیکھ کر کمانے لگتا ہے۔ قصور اس انگریزی نظامِ تعلیمی کا ہے جس نے ہماری اخلاقی و مذہبی اقدار کو چھین کر ہمیں نوکر بننا سکھایا ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایسی لڑکیوں کی بےتحاشا مثالیں موجود ہیں جو پڑھی لکھی ہونے کے باوجود حالات کے ہاتھوں ہار تسلیم کر لیتی ہیں۔ زندگی کی سولہ سالہ محنت اور دولت انویسٹ کرنے کے بعد زیرو آؤٹ پُٹ کے بعد خاندان کی جاہل عورتوں کے نشتر سے خود کو بچاتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ فیملی فنکشنز میں جانے سے انکار کرتی ہیں۔ اپنے آس پاس نظر دوڑائیں آپ دیکھیں گے ایسے لاکھوں بیروزگار نوجوان ہیں جو منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا نہیں ہوئے جن کا باپ کوئی گاؤں کا وڈیرا جاگیردار چ وہدری یا شہر کا مشہور بزنس مین یا سیاسی اثر و رسوخ والا نہیں جس کے دم پہ عیاشیاں کریں۔ انہیں اپنے حصّے کی ہزاروں جنگیں خود ہی لڑنی ہیں۔ نوکری ، کاروبار یا پیسے کی دوڑ میں اگر کوئی آپ سے پیچھے رہ گیا ہے تو خدارا ان کو اپنی طنز کا نشانہ مت بنائیں بلکہ حوصلہ افزائی کریں۔
بہرحال میرا لکھنے کا مقصد محض یہ بتانا ہے کہ آپ کی تسلی کے چند حرف ان کے زخموں پہ مرہم کا کام کر سکتے ہیں۔ چوائس آپ کی ہے آپ مرہم بنتے ہیں یا زخم۔ کون جانے کسی کا دل جوڑنے سے آپ جنت کے حقدار ٹھہریں۔

ہر شخص آپ کی زندگی میں بنا کسی مقصد کے نہیں آتا۔ کوئی آپ کو زندگی کا سبق سکھاتا ہے تو کوئی آپ کو پھر سے جینا سکھاتا ہے۔ جس کا جیسا ظرف ویسی اسکی تخلیق۔ میں اس اللّہ کے بندے کی تہہِ دل سے عزت کرتی ہوں اور ممنون ہوں جس نے انتہائی سادہ الفاظ اور رویے  سے مجھے یہ فرق سمجھایا۔ اللّہ سب کی مشکلات آسان فرمائے۔ آمین!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”درد نہیں درماں بنیں۔۔۔گُل رُخ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *