مرد مومن اور آم گردی۔۔مہرساجدشاد

SHOPPING

آج کے دن ہم اگر اپنے محبوب مرد مومن کو یاد نہ کریں تو زیادتی ہوگی، یہ ان کی ہی شخصیت جلیلہ تھی کہ ہم اپنے دوست کے اکسانے پر مرد مومن کی زیارت کو چل دئیے تب ہم پرائمری  سکول کی آخری جماعت میں مانیٹر ہوا کرتے تھے، ہمارے اس باخبر دوست کا خیال تھا کہ ہماری تصویر شام کو ٹی وی کے خبرنامہ میں دکھائی دے گی، ہیلی کاپٹر کالج گراؤنڈ میں اُترا، کالے رنگ کی چمچماتی گاڑی گراؤنڈ سے باہر آئی ،عوام سڑک کنارے دوطرفہ کھڑے تھے اور مرد مومن گاڑی میں بیٹھے باہر دیکھ کر ہاتھ ہلا رہے تھے، ہمارے قریب سے گذرتے ہوئے انکے چٹے دانت بہت نمایاں تھے جو آج تک یاد ہیں، دوسرا یہ ہوا کہ جونہی گاڑی آگے بڑھی پیچھے عوام سڑک پر آ گئی اور ایک بھگدڑ مچ گئی۔ ہم گم ہو گئے آج تک یہ سبق یاد ہے کہ آمر کے پیچھے جانے والے گم ہی ہو جاتے ہیں چاہے نیت کچھ بھی ہو۔

پھر ہمارے کام بھی عوام ہی آئی، دو نوجوان جو سائیکلوں پر سوار تھے انہوں نے ہمیں دیکھا تو سمجھ گئے کہ ہمیں کس نے رلایا ہے، ہمارے پتہ بتانے پر وہ نیک دل نوجوان ہمیں گھر پہنچا گئے۔ سارا راستہ یہی فکر رہی کہ ہم نے تو پہلے ہی خوب رو لیا ہے اب جو متوقع پھینٹی پڑے گی اسکے بعد رونا چاہیے یا نہیں۔ خیر بچت ہو گئی ،کیونکہ ہمارا دوست پہلے ہی گھر پہنچ کر سارا قصور اپنے سر لے چکا تھا۔

یہ تھی مرد مومن سے ہماری پہلی اور آخری ملاقات، لیکن پھر ہم نے انکا ریفرنڈم بھی دیکھا اور انکا وزیراعظم محمد خان جونیجو بھی ، یہ نام ہی ہمارے لیے بڑا عجیب تھا، بس کچھ ہی عرصہ میں مرد مومن نے بھی ہم سے اتفاق کیا اور انکو بھی جونیجو عجیب سا لگا تو انہیں رخصت کر دیا۔

پھر وہ دن بھی آ گیا جب ہم نے مشہور زمانہ خبر غلام اسحاق کی زبانی سنی “اور جہاز پٹ گیا”۔ آج تک ہمیں دکھ ہے کہ ہمارے محبوب مرد مومن آم گردی کا شکار ہوئے، اس سے پہلے ہم حضرت نوشہ غالب جی کی تقلید میں آم کھاتے تھے لیکن اس آم گردی کے بعد ہم نے آم سے بدلہ لینے کا عہد کر لیا بس یہ انتقام ہمیں ہر سال دیوانہ کر دیتا ہے۔ ہمارے محبوب مرد مومن نے بہت بڑے بڑے کارنامے سر انجام دئیے، نوے دن کا وعدہ کر کے گیارہ سال سیسہ پلائی دیوار بنے رہے، افغانستان میں وہ کچھ کیا کہ امریکہ کو بھی حیران کردیا،امریکہ حیران کیساتھ جب پریشان بھی ہوا تو انہوں نے اوجڑی کیمپ سے اسکی پریشانی دور کر دی۔

کئی دفعہ وہ خود بھی حیران ہو جاتے تھے اور ایسے موقعے کو وہ مخمصہ کہا کرتے تھے ،ہماری اردو میں یہ لفظ بھی انکی یادگار ہے۔ کلاشنکوف اور افغان مہاجرین کو وہ پاکستان لائے، ان دونوں نے ہمیں ہمیشہ ہینڈز اپ ہی رکھا ،لیکن محبوب مرد مومن کی محبت میں یہ معمولی قربانی ہے قوم نے تو بہت بڑی قربانیاں بھی دیں موئی فرنگی جمہوریت کو ہم نے نشان عبرت ہی بنا کر رکھا۔

ہمارے قومی محبوب مرد مومن جن کے بعد کوئی قومی مومن سامنے نہیں آسکا، ان کی خدمات عالیہ میں ایک اہم وہ صدقہ جاریہ سپلائی لائن ہے جن سے مستفید ہونے والے آج بھی دیواروں کی طرف منہ کر کے زور کے سانس لیتے ہیں اور چاند پر روانہ ہو جاتے ہیں، اور انکے لواحقین دیوار سے دور بھی گریہ ہی فرماتے ہیں۔

SHOPPING

آج ان سے ہمیں بچھڑے دہائیاں بیت گئیں لیکن ہم آج بھی دُہائیاں دے رہے ہیں کیونکہ انکے پیٹی بھائیوں نے بھی اپنے بے مثال کارناموں سے انکا نام زندہ رکھا ہے، یہ الگ بات ہے کہ انکے مزار پر کوئی سیلفی بھی نہیں بناتا۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *