روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کُل
کھیل لڑکوں کا ہوا، دیدہ ٔ بینا نہ ہو ا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ستیہ پال آنند
میں نے دجلہ تو نہیں دیکھا، حضور ِ انور
وسط مشرق میں کہیں ایک ندی ہے شاید
آپ نے ذکر کیا ہے تو پھر دیکھی ہو گی

مرزا غالب
کیسی طفلانہ سی حرکت ہے یہ ، اے ستیہ پال؟
مجھ سے کیوں کرتے ہو تم ایسی چھچھوری حرکت؟
جانتے بھی ہو، خرافات ہے یہ استفسار
اور پھر ایسے سوالات کیے جاتے ہو؟

ستیہ پال آنند
آپ نے ذکر کیا “دیدہء بینا”کا ، حضور
اور قطرے میں ہی دریا کا دکھائی دینا
میں نے سوچا کہ یہ بات ذرا پوچھ ہی لوں
ایک دریا تو یہیں عقب میں بہتا ہے جناب
اس کی تشبیہہ کیا صادق نہ تھی اس بارے میں؟
کیا ضرورت ہے ہمیں دور تلک جانے کی؟
جمنا اور “دجلہ” ہیں ہم قافیہ دونوں الفاظ

مرز ا غالب
دیکھو، مت چھیڑو، میاں، بھڑوں کے اس چھتے کو
اس سے اب شہد نہیں ، زہر ہی نکلے گا، عزیز
وہ بھی کیا دن تھے دکن میں کہ وہاں کے شعرا
اپنے ماحول کو ہی مد ِ نظر رکھتے تھے
ہندوی شبہ ہی تصحیف ِ نظر رہتی تھی

ستیہ پال آنند
پھر یہ کیسے ہوا اور کیوں ہوا،استاد ِ زماں؟
ر ہتے دلی میں ہیں اور بولتے طہران میں ہیں؟

مرزا غالب
غیر دریافت شدہ تھا یہ مجوزہ نسخہ
اس کی تنقیح طلب تہہ میں تو کوئی نہ گیا
سطح کے کاہ کو ہی ہم نے حقیقت سمجھا
بولی ٹھولی کو گنواروں کی زباں مان لیا
فارسی بیش تر، عربی ذرا کم تر۔۔یہ سفوف
شعر و حکمت کی زباں کا نیا نسخہ ٹھہرا

ستیہ پال آنند
اس سے اب کیسے رہا ئی ہو کہ یہ بوجھل بولی
سُننے کی شے ہے ، نہ پڑھنے کے لیے واثق ہے
چاہ ِ خس پوش سےچھٹکارہ بھلا کیسے ملے؟

مرزا غالب
رائج الوقت ہے یہ سکہ ، عزیزی، اب تو
یہی اردو ہے، یہی ریختہ، سب کچھ ہے یہی
—————-

(یہ نظم خواب کی سی حالت میں لکھی گئی۔ظا ہر ہے کہ اس نظم کا غالبؔ اصلی غالبؔ نہیں ہے۔ یہ میرے ذہن کی پیداوار ہے۔ یعنی میں چاہتا تھا کہ اس موضوع پر غالب بھی اسی طرح ہی سوچے۔ جیسے کہ میں سوچتا ہوں ۔۔ستیہ پال آنند)

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *