منوڑہ کا ورن دیو مندر۔۔ثنا اللہ خان احسن

اگر آپ کراچی کے کیماڑی سے بذریعہ لانچ منوڑہ کے جزیرے پر جائیں تو وہاں ساحل پر چہل قدمی کرتے ہوئے آپ کو دور ایک مندر نظر آئے گا جس کی ساخت جنوبی ہند میں تعمیر شدہ مندروں جیسی ہے۔ زرد پہاڑی پتھر سے تعمیر شدہ یہ مندر ایک عرصہ تک لوگ رفع حاجت کے لئے استعمال کرتے رہے کہ پاکستان میں کبھی کسی حکومت یا میونسپل ادارے کو یہ توفیق نہیں ہوئی  کہ وہ پبلک مقامات جہاں لوگ ہزاروں کی تعداد میں آتے ہیں وہاں پبلک ٹوائلٹس بھی تعمیر کروادے۔ پاکستان کے قیام کو ستر سال گزر چکے لیکن ان پبلک اور تفریحی مقامات پر آنے والے لوگ آج بھی رفع حاجت کے لئے کوئی  آڑ یا کیکر کی جھاڑی تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔ اس مندر کو بھی لوگوں نے اس مقصد کے لئے استعمال کیا اور اس کی طرف جائیے تو ہوا میں موجود تعفن آپ کا استقبال کرے گا۔ دنیا کے غریب ترین ممالک نے بھی اپنے ساحلوں کو انتہائی  خوبصورت اور پر آسائش بنا دیا ہے لیکن پاکستان میں آج بھی ساحلوں پر کیچڑ مٹی اور کوڑا کرکٹ نظر آتا ہے۔
کہ جس طرح خورد و نوش انسان کی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے بالکل اسی طرح نظام ہضم کا فعل مکمل ہونے کے بعد رفع حاجت بھی ایک انتہائ اہم اور ناقابل کنٹرول حاجت ہے۔ انسان بھوک پیاس پر تو برداشت کرلیتا ہے لین رفع حاجت ایک خاص حد تک روکنے کے بعد بے قابو ہو کر اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے۔ ہمارے یہاں تمام تفریح گاہوں اور پبلک مقامات پر کھانے پینے کا سامان تو وافر مقدار اور ورائٹی میں دستیاب ہوتا ہے۔ بے شمار ہوٹل ڈھابے، ٹھیلے، خوانچہ فروش ، چھابڑی والے، لیکن رفع حاجت کو عوام کی اپنی صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا ہے جو سراسر ایک انتہائی  بد تہذیبی اور جہالت کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ کسی بھی مہذب اور نفیس قوم کی نشانی نہیں ۔ جبکہ کراچی کے ان ساحلوں پر روزانہ ہزاروں افراد سیرو تفریح کے لئے آتے ہیں۔

بلدیاتی اداروں کو لازمی پبلک ٹوائلٹس ہر جگہ بنانے چاہئیں۔ بے شک وہ ان کو استعمال کرنے کی فیس وصول کریں لیکن ان کی صفائی ستھرائی کا بھی مناسب انتظام ہونا چاہیے۔ کہ ہم وہ امت ہیں جس کا نصف ایمان صفائی ہے۔
بات ہو رہی تھی منوڑہ میں واقع ورن دیو مندر کی۔ یہ مندر پانچ سو سال پرانا ہے۔ ہندو مذہب میں ورن سمندر کا دیوتا ہے۔ اس کو وہی درجہ حاصل ہے جو اوڈیرولال نامی دیوتا کو حاصل ہے جو ہندو عقیدے کے مطابق سندھ کے تمام دریاؤں جھیلوں اور ندی نالوں پر راج کرتا ہے۔ سندھ کو صوفیائے کرام کی سرزمین کہا جاتا ہے جہاں بزرگان دین نے محبت ، رواداری اور بھائی چارے کا پیغام عام کیا ان ہی بزرگوں میں ایک نام امر اوڈیرو لال عرف پانی کا پیر یا زندہ پیر کا بھی ہے۔ضلع مٹیاری کا چھوٹا سا شہر اوڈیرو لال بھی ان ہی کے نام سے منسوب ہے ۔اْڈیرو لال میں واقع یہ مزار ایک مندر اور ایک مسلم طرزتعمیر کے مقبرے پر مشتمل ہے جب کہ اس کے سجادہ نشینوں میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہیں، شام کے وقت ہندو یہاں پوجا کرتے ہیں اور آرتی اتارتے ہیں جب کہ مسلمان نماز پڑھتے ہیں۔ اوڈیرو لال کی پیدائش کے حوالے سے مختلف روایات ہیں اور پیدائش کا سن 1007 ءبتایا جاتا ہے ۔اس بچے کا نام اُڈیرو لال رکھا گیا اور انہیں ‘جھولے لال’ کا لقب بھی دیا گیا کیونکہ مانا جاتا ہے کہ ان کا جھولا خود بخود ہلتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ٹھٹھہ میں میرت شاہ نامی ایک ظالم آدمی رہتا تھا وہ ہندو کو زبردستی مسلمان کرتا تھا۔کہا جاتا ہے یہ بچہ نصر پور میں پیدا ہوا اس نے اوتار لیا اور میرت شاہ کو شکست دی اس زمانے سے اسے اوڈیرو لال پانی کا اوتار مانا جاتا ہے۔درگاہ اوڈیرو لال کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں مندراور مسجد ساتھ ساتھ بنے ہوئے ہیں ۔پھر بھی کبھی کوئی کشیدگی دیکھنے میں نہیں آئی ۔مسلمان اپنی نماز پڑھتے ہیں اور ہندہ اپنی پوجا کرتے ہیں ۔پورے دنیا سے لوگ یہاں آتے ہیں سوچتے ہیں یہ کیا معجزہ ہے مسجد بھی ہے اور مندر بھی ہے لوگ ایک ساتھ عبادت کر رہے ہیں ۔اوڈیرولال کے ماننے والے دنیا بھر میں ہیں لیکن ان کی زیادہ تعداد بھارت اور پاکستان میں ہے ۔اوڈیرو لال کا بڑا میلا اپریل اور چھوٹا میلا ستمبر میں لگتا ہے۔ ۔

ورن مندر کی تعمیر:
روایات کے مطابق سولہویں صدی عیسوی میں ایک ہندو ساہوکار بھوجومل نانسے بھاٹیا نے منوڑہ کا جزیرہ اس وقت کے خان آف قلات سے خریدلیا تھا۔ اس وقت یہاں کے اکثر ساحلی علاقے خان آف قلات کی ملکیت تھے جس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ کراچی شاید سندھ نہیں بلکہ بلوچستان کا حصہ تھا۔ یہاں کے قدیم باسی بھی بلوچ مکرانی ہی تھے جنہوں نے یہاں ایک مچھیروں کی بستی قائم کی تھی جو آگے چل کر کراچی کہلائ۔ آج بھی کراچی کے ان اصلی اور قدیم باشندوں کی نسلیں سمندر کے ساتھ آباد اپنی قدیم آبادیوں میں بستی ہیں جن میں سب سے زیادہ قابل ذکر لیاری ہے۔ ان کے ساتھ یہاں وہی سلوک ہوا جو امریکہ میں ریڈ انڈینز کے ساتھ ہوا۔کراچی کب اور کیسے سندھ کا حصہ بنا یہ بات قابل تحقیق ہے۔
SKAF
بھوجومل نے منوڑہ کے مالکانہ حقوق حاصل ہونے کے بعد یہاں یہ مندر تعمیر کروایا۔
منوڑہ جیسے چھوٹے اور غیر آباد جزیرے پر اس شاندار مندر کی تعمیر بذات خودایک پراسرار راز ہے کہ کیوں ایک ہندو سیٹھ نے سینکڑوں میل کا سفر طے کرنے کے بعد ہندو مت کی جنم بھومی بھارت کو چھوڑ کر اس جزیرے کو محض اس مندر کی تعمیر کے لئے خریدا تھا۔ مندر کی تعمیر کا درست سن تو نامعلوم ہے لیکن اس مندر کی موجودہ عمارت و تعمیر سے پتہ چلتا ہے کہ اس کو 1916-17 میں دوبارہ تعمیر و مرمت کی گئ۔ دیونگری رسم الخط میں مندر کی پیشانی پر ورن دیو مندر تحریر ہے۔ جبکہ مرکزی گیٹ پر سندھی زبان میں تحریر ہے
” بیٹوں کی طرف سے آنجہانی سیٹھ ہرچند مل دیا داس آف بھریا کی یاد میں”
بھریا سندھ کاایک چھوٹا شہر ہے جو نیشنل ھائی وے پر نوشہرو فیروز سے کچھ فاصلے پر واقع ہے۔

اس مندر کو1950 میں آخری بار ہندو مزہبی رسومات و عبادات ادا کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔
صدیوں سے کراچی کے جزیرے منوڑہ کے ساحل پر کھڑا یہ مندر اس شہر کے ایک چھوٹے سے گائوں سے عروس البلاد بننے تک کے تمام مدارج کی ایک ایک گھڑی کا چشم دید گواہ ہے۔ اس کے خستہ درو دیوار حالت شکستگی میں بھی اپنے شاندار ماضی کی داستان سنا رہے ہیں۔ جگہ جگہ کیکر اور دیگر خودرو جھاڑیوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے جوں جوں آپ اس مندر سے قریب ہوتے جاتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ حال سے ناطہ توڑ کر ماضی میں داخل ہورہے ہیں۔ اس مندر کی دیواروں پر کھدے ہوئ نقش و نگار اور پچی کاری سمندری ہوائوں اور دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب دھندلا چکے ہیں۔یہاں ایک کنواں بھی موجود تھا جو کہ معدوم ہوچکا ہے۔

ایک ہندو عقیدے کے مطابق یہ مندر اوڈیرو لال نے ھنگلاج سے واپسی پر منوڑہ کے ساحل پر بنایا تھا۔ کسی زمانے میں یہ ایک وسیع و عریض برامدوں اور راھداریوں والا کشادہ مندر تھا۔ اس کے صدر دروازے سے داخل ہوتے ہی ایک بڑے چبوترے پر ورن دیوتا کی مورتی نصب تھی۔ اس کے سامنے بہت بڑا برامدہ تھا۔ اس برامدے سے ملحق مندر کا مرکزی ھال ہے- مندر کےاندرونی مرکزی حال کی گول پیالہ نما چھت پر مختلف دیوی دیوتائوں کی شبیہات کندہ ہیں جو امتداد زمانہ کے ہاتھوں سیاہ پڑ چکی ہیں۔ اندر وہی مندروں والی نیم تاریکی اور سیلن ماحول کو مزید پراسرار بناتی ہے۔
یہاں مختلف مورتیوں کے علاوہ ایک پتھر سے تراشا ہوا کچھوا بھی موجود ہے۔ سن 1992 میں بھارت میں بابری مسجد کی شہادت کے ردعمل کے طور پر کچھ مشتعل افراد نے اس مندر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی کوشش کی تھی تب سے یہ مندر مکمل طور پر سیل کر عوام کے داخلے کو مکمل طور پر ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔ اس مندر کے اندر مزید دو چھوٹے مندر ” جھولےلال” اور شو مندر کے نام سے بھی موجود ہیں جن کی 1970 میں مرمت وغیرہ کی گئی تھی۔
یہ مندر اس وقت پاکستان ہندو کونسل کے زیر نگرانی ہے۔ مندر کے موجودہ نگران جیو راج کہتےہیں کہ سن 2008 میں ہم نے منوڑہ کنٹونمنٹ بورڈ MCB سے اس مندر کی ملکیت کے حقوق کا ریکارڈ طلب کرنے کے لئے خط لکھا تھا لیکن بورڈ نے یہ کہہ کر معزرت کرلی کہ ان کے پاس اس قسم کا کوئ ریکارڈ موجود نہیں کیونکہ یہ مندر پاکستان نیوی کی حدود میں آتا ہے اور بورڈ اس سلسلے میں کسی بھی کاروائی  کا اختیار نہیں رکھتا۔
ایک اچھی خبر یہ ہے کہ ابھی کچھ عرصہ پہلے اس مندر کی مرمت اور آرائش و تزئین کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ اس کے لئے فنڈز امریکی سفارت خانے کے ادارہ برائے تحفظ تہذیبی ورثہ نے فراہم کئے ہیں۔ امید ہے کہ جلد ہی یہ مندر اپنی پرانی شکل و صورت میں بحال ہوجائےگا۔ اس مندر کے نزدیک ہی دو سکھ گردوارے اور ایک چرچ بھی موجود ہے جو اب بھی کھلے ہوئے ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا کہ منوڑہ کسی زمانے میں ایک ہمہ گیر تہزیب و مزاہب کا مرکز رہ چکا ہے۔ امید ہے کہ ورن دیو مندر جلد ہی اپنی مرمت اور تزئین و آرائش کے بعد ہندو کمیونٹی کے لئے کھول دیا جائے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *