حاضری قبول ہوئی۔۔محمد فہد صدیقی

وہ خدا کے لیے جیا اور خدا کے لیے ہی مرگیا۔ وہ فرض شناسی کا اوج کمال تھا وہ جدوجہد کا استعارہ تھا۔ وہ کراچی کی پاکیزہ مٹی تھی اس لیے داتا کی نگری میں اللہ کی رضا سے شفاف گلیوں سے گزرتا ایک سایہ دار قبرستان میں سپرد خاک ہوگیا۔ غلام محمد صوفی کے گھر میں آنکھ کھولنے والا تنویر احمد کوئی بلند قامت شخص نہ تھا ,لیکن اس کے کردار نے ہم جیسے نجانے کتنے  عام لوگوں کو کوتاہ قامت بنادیا۔ اس کا ظاہر کوئی یوسف کا پر تو نہیں تھا لیکن اس کا باطن یوسف کے حسن کی  شبیہ تھا۔ اس نے فلاح کا راستہ چنا اور فلاح پاگیا اور اس نے عشق رسول کا راستہ چنا تو ان کی بارگاہ میں سرخرو ہوگیا۔

عباس تابش کہتا ہے کہ

یہ محبت کی کہانی  نہیں  مرتی

لوگ کردار نبھاتے ہوئے مرجاتے ہیں

اور ایسا ہی ہے لیکن کچھ کردار امر ہوجاتے ہیں بظاہر سانسوں کے رک جانے کو ہم موت کا نام تو دے دیتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ کچھ لوگ اپنا کردار اس خوبی سے نبھاگئے ہیں کہ سانس کی ڈوری ٹوٹنے  کے بعد بھی ان کے کردار کو زندہ رہنا ہے۔

ٹاؤن شپ کے قبرستان میں آسودہ خاک وہ نیک روح بھی ایک جانب دنیا کی جانب دیکھتی ہوگی تو الحمداللہ اس کی زبان سے ضرور جاری ہوتا ہوگا۔ وہ صفر سے شروع ہوا۔ حلال رزق کے لیے کوئی لالچ اور کوئی ترغیب اس کو راہ سے نہیں ہٹاسکی۔ اس کو فرائض کا علم تھا اور ان کو نبھانے کا فن بھی جانتا تھا۔ لیکن صبر اور شکر کے ساتھ جلد بازی اس کی فطرت نہ تھی۔اس نے شاید وہ سب پایا جس کی اسے آرزوتھی۔۔

بہت سے لوگ وہ سب پالیتے ہیں جس کی ان کو چاہ ہوتی ہے لیکن اس کا کمال یہ تھا کہ صراط مستقیم پر رہتے ہوئے اس نے سب کچھ پایا۔ یہ خدا پر کامل یقین کی اعلیٰ ترین مثال تھی۔ کیا یہ کسی شخص کے لیے سب سے بڑی کامیابی نہیں ہے کہ جب وہ دنیا سے جائے تو ایک شخص بھی ایسا نہ ہو جو یہ گواہی   دے سکے کہ اس کے اور اس کی اولاد کے پیٹ میں حرام کا کوئی لقمہ ہے۔

وہ صابر تھا شاکر تھا ،جلد باز بھی نہ تھا لیکن نجانے کیوں سفر آخرت کے لیے وہ جلدی دکھاگیا۔ لوگ بتاتے ہیں کہ آخر تک زبان سے بس الحمد اللہ ادا ہورہا تھا۔ توجو خدا کا اتنا شکر گزار ہو اس کو ملاقات کی جلدی تو ٹھہری ہوگی۔۔ ایسا لگتا ہے کہ آخری لمحات میں اس کی  زبان سے الحمد اللہ سنتے ہوئے شاید خدا بھی مسکرایا ہو۔۔۔رسول اللہ کی آنکھیں چمک اٹھی ہوں کہ امتی نے لاج رکھ لی۔۔جب ہی تو ایک دنیا سے دوسری دنیا کا سفر اتنی تیزی اور آسانی  سے طے کیا کہ ساتھ بیٹھے لوگوں کو بھی علم نہ ہوسکا کہ عاشق اپنے محبوب کے پاس پہنچ گیاہے۔

بے شک ہم سب کو اس کی طرف ہی لوٹنا ہے۔۔۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اپنے چمکتے چہرے کے ساتھ جب یہ نیک روح اپنے رب کے حضور پہنچی ہوگی تو اس کا خاص استقبال ہوا ہوگا۔۔۔

وہ عاشق رسول تھا۔۔۔اس لیے صحابہ کے جھرمٹ میں کسی نے محبوب خدا کو بتایا ہوگا کہ تنویر احمد حاضر ہوگیا اور آقائے دو جہاں نے زیر لب مسکراتے ہوئے کہا ہوگا کہ حاضری قبول ہوئی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *