کیا ہم عظیم ہیں ؟۔۔ثنا اللہ گوندل

یاد نہیں ضیاء الحق ابھی زندہ تھے یا شہید ہو کر مزید زندہ ہوچکے تھے۔ ہم اپنے دوست سے ملنے گئے۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے اس خاندان سے ہماری دو تین نسلوں سے دوستی ہے۔ ان کے ایک باریش بزرگ بھی بیٹھک میں تشریف فرما تھے۔ بات افغانستان اور پاکستان کی سیاست کی چھڑ گئی۔ درمیان میں پاکستان میں کمیونسٹ نظریات کے حامل لوگوں کا کوئی ذکر آیا تو بزرگ نے فرمایا:

“یار ایہہ کمیونسٹ دلے پاکستان دی جان چھڈ نہیں سکدے”

ہم خاموش ہوگئے ۔ لیکن ان کی آنکھوں اور لہجے کی نفرت اور حقارت ہمیں نہیں بھولتی۔

یہ بھی پڑھیں :  جادوئی دوربین۔احسان عبدالقدوس/کہانی

اسی طرح ایک دفعہ ہمارے ایک (ٹوینٹی) فرسٹ کزن بسلسلہ تعلیم لاہور میں مقیم تھے۔ طب پڑھ رہے تھے اور ہمارے ہمسائے ہی میں کسی فلیٹ میں رہتے تھے۔ دینی گھرانہ ہے۔ ایک دفعہ ہمارے گھر تشریف لائے اور اسلامی (اصل میں یونانی) طب کو جدید سائنس سے اعلیٰ ثابت کرنے لگے۔ ہم نے حسب عادت اختلاف کا ڈول ڈال دیا۔ بولے یہ سائنس دان بچارے کس کھیت کی مولی ہیں۔ مسلمان حکما خاص طور پر بو علی سینا تو سونا بھی بنا سکتے تھے۔ ہم نے نیا نیا میٹرک کیا تھا۔ اور سلیبس کی کتابیں ذہن میں تازہ تھیں۔ ہم چھوٹے بھائی کی کیمسٹری کی کتاب اٹھا لائے جس میں کچھ اس طرح لکھا تھا۔
“بو علی سینا غالباً وہ پہلا مسلمان سائنسدان تھا جس نے اس خیال کی تردید کی کہ عام دھاتوں کو سونے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے”
بولے یہی تو لکھا ہے کہ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ہم نے ان کی توجہ لفظ تردید کی طرف دلائی اور عرض کیا کہ سائنس بوعلی سینا کے دور سے بہت آگے جاچکی ہے۔ اور اگر یہ ممکن ہوتا تو سائنسدان اب تک یہ کر چکے ہوتے۔ غصے سے لال پیلے ہوگئے۔ ہماری والدہ کی موجودگی میں بولے۔

” ایہناں سائنسداناں دی ما وی سُو جاوے تے ایہہ بوعلی سینا  تیک  نہیں پہنچ سکدے”

ہمارے گھر میں عموماً  اس طرح کی زبان نہیں بولی جاتی تھی۔ ہم ششدر رہ گئے اور خاموشی اختیار کی۔

یہ بھی پڑھیں :  ہمیں خاص نہیں بننا۔عامر کاکازئی/نظم

یہ دلیل نما مشورہ تو ہمارے جماعت اسلامی کے دوستوں عزیزوں نے کئی دفعہ دیا کہ پاکستان تو اسلام کے نام پر بنا ہے اور یہاں اسلامی (مراد ضیاء الحق یا جماعت اسلامی کا اقتدار) نظام ہی چلے گا۔ جس کو اختلاف ہو وہ ملک چھوڑ جائے۔ ہم عرض کرتے تھے کہ قبلہ یہ ملک ہمارا بھی اتنا ہی ہے جتنا کسی اور کا۔ اور یہاں کے رہنے والے اسلام، جماعت اسلامی اور پاکستان کی پیدائش سے بھی پہلے سے یہاں رہ رہے ہیں۔ لہذا اختلاف پر انھیں چھوڑ جانے کا مشورہ دینا نامناسب ہے۔ ہاں مشورہ دینے والے اگر مناسب سمجھیں تو ہجرت پر غور کر سکتے ہیں۔

کراچی سہراب گوٹھ کی ایک دیوار پر فضل الرحمٰن یا سمیع الحق کی جمعیت علمائے اسلام کے طلبہ ونگ جمعیت طلبائے اسلام کی وال چاکنگ دیکھی۔ لکھا تھا:

“عرب سے آئی عجم پر چھائی، جے ٹی آئی جے ٹی آئی۔”

اس نعرے میں اسلام کا کوئی ذکر نہیں۔ ہاں خود کو عرب سمجھنے اور باقی دنیا پر چھا جانے کی شدید حسرت نظر آتی ہے۔

علامہ اقبال مرحوم عرب امپیریلزم اور اسلام کے فرق کو سمجھانے کی کوشش کر چکے ہیں۔

جب ہم سکول میں تھے تو ایک عام تاثر تھا کہ پی پی پی، اے این پی اور کمیونسٹ وغیرہ اسلام اور ملک کے دشمن ہوتے ہیں۔ جبکہ باقی سب اسلام چاہتے ہیں۔ ہمارے کزن اور بڑے بھائی جب کالج پہنچے تو کالج میں طلبہ تنظیموں میں لڑائیوں اور اختلافات کا سنا۔ وہ مختلف تنظیموں کے ناموں کے مخخف بھی بولتے تھے۔ ہم نے ایک دفعہ تمام تنظیموں کے ناموں کی تفصیل پوچھی۔ تو انھوں نے بتایا.
اسلامی جمیعت طلبہ
جمیعت طلبائے اسلام
انجمن طلبائے اسلام
مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن

یہ بھی پڑھیں :  کامریڈ نذیر عباسی شہید کا خط، بنام جنرل ضیاالحق

ہم حیران رہ گئے کہ نظریاتی ملک کی نظریاتی درسگاہوں میں پیپلز پارٹی، کمیونسٹ یا سیکولر قسم کے طلبہ کا تو کوئی گروہ ہی نہیں تھا۔ ( ضیاء الحق کے زمانے کے پنجاب کی بات کر رہے ہیں)
یہ تمام اسلامی اور مسلم طلبہ ہی درسگاہوں پر قبضوں کے لیے ایک دوسرے کو شہید کر رہے تھے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *