حلال فوڈ انڈسٹری اور پاکستان۔۔محمد ہاشم

ایک اندازے کے مطابق دنیا میں مسلم آبادی ایک اعشاریہ آٹھ ملین سے تجاوز کر گئی ہے۔ آبادی کا یہ حصہ ایک بہت بڑی بزنس انڈسٹری کو جنم دیتا ہے اور وہ ہے حلال فوڈ انڈسٹری۔
مسلمانوں کے لئے حلال خوراک بنیادی مذہبی اہمیت رکھتا ہے۔ مسلمان دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو، حلال خوراک کا استعمال کرتا ہے۔
الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں حلال فوڈ انڈسٹری کا حجم 415 بلین ڈالر سے ذیادہ ہے۔
حلال فوڈز میں حلال گوشت بنیادی اہمیت کا حامل ہے جس کی ایکسپورٹ دنیا بھر میں خصوصی طور پر عرب ممالک اور یورپی ممالک کو ہوتی ہے اور وہاں کی مسلم آبادی حلال گوشت کا استعمال کرتی ہے۔

حیران کن حقائق یہ ہیں کہ حلال گوشت سپلائی کرنے والے ممالک میں برازیل پہلے، آسٹریلیا دوسرے اور انڈیا تیسرے نمبر پر ہے اور یہ تینوں غیر مسلم ممالک ہیں اور حلال گوشت سپلائی کرنے میں کئی مسلم ممالک سے آگے ہیں۔

اس لسٹ میں ٹاپ دس ممالک میں صرف 3 مسلم ممالک شامل ہیں اور انکے بھی آخر میں نمبرز آتے ہیں۔دنیا کی مسلم آبادی اس لئے ان غیر مسلم ممالک سے گوشت نہیں لیتی کہ ان پر بھروسہ ذیادہ ہے، بلکہ اس لئے لیتی ہے کہ کوئی مسلم ملک اس مارکیٹ کی طرف توجہ دینے اور اس میں اپنا مقام بنانے سے قاصر ہے یا بہت پیچھے ہے۔
مسلمان ممالک کی طرف سے اگر حلال گوشت سپلائی کیا جاتا ہے تو دنیا کی حلال فوڈ مارکیٹ میں اس کی اہمیت بلاشبہ برازیل اور آسٹریلیا جیسے غیر مسلم ممالک کے گوشت سے  زیادہ ہوگی۔
کچھ عرصہ پہلے وزیر اعظم عمران خان نے ملائیشیا کا دورہ کیا۔
وہاں پر دوطرفہ تجارت کے حوالے سے میٹنگز میں حلال فوڈ انڈسٹری کی بھی بات ہوئی۔

مذکورہ بالا حقائق اور ملائیشیا سے ہوئی تجارتی میٹنگ کے بعد عمران خان نے اپنے 100 روزہ کارکردگی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کچھ بات حلال گوشت اور حلال فوڈ انڈسٹری پر بھی کی۔ اس دوران مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہم بھینس کا جو نر بچہ ہوتا ہے اس کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہیں اور اس کے مقابلے میں مادہ کو خوراک ذیادہ دیتے ہیں کیونکہ اس نے دودھ دینا ہوتا ہے۔ اور نر بچے کو تھوڑا بڑا ہوتے ہی یا تو ذبح کر کے خود کھا جاتے یا قصائی کو بیچ دیتے ہیں۔ گاؤں کا رہنے والا ہر بندہ اس حقیقت کو جانتا ہے کہ نر بچے پر خاص توجہ نہیں دی جاتی اور اگر دیتے بھی ہیں تو قربانی کی عید تک کی اہمیت ہوتی ہے یا بریڈنگ کے لئے ایک آدھ رکھ لیتے ہیں۔

ہمارا بہت بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ ہماری 70 فیصد آبادی جو دیہاتوں میں رہتی ہے ان کو ایکسپورٹ اور ویلیو ایڈنگ میتھڈ کے بارے میں کبھی کسی نے تعلیم اور تربیت دینے کا سوچا ہی نہیں۔ان کے پھل، سبزیاں، خشک میوہ جات اور کافی ساری فصلیں صرف اسی وجہ سے ضائع ہوجاتی ہیں۔ان کو معلوم ہی نہیں کہ ہمارا بچھڑے کا گوشت، ہمارا پھل، ہمارے اچار سے لے کر ہماری گھریلوں دستکایوں تک محفوظ ہو کے باہر ممالک تک جا سکتی ہیں۔پہلی بار وزیر اعظم نے اس چھوٹی انڈسٹری پر بات کی تو ہمارے “دانشوروں” کو جیسے چھیڑخانی اور طنز کا موقع ہی مل گیا۔
فرض کرتے ہیں دبئی یا لندن کے ایک سٹور پر حلال گوشت کے دو  سٹال ہوں، ایک گوشت پاکستان کا اور ایک گوشت آسٹریلیا، یا انڈیا کا ہو، میں یقین سے کہتا ہوں مسلمان خریدار پاکستانی گوشت خریدے گا۔

415 بلین ڈالر کی اتنی بڑی انڈسٹری پر وزیر اعظم بات کرتا ہے اور اس کی تضحیک کی جاتی ہیں۔اس پر ستم ظریفی یہ کہ کچھ ن لیگی سپورٹر پہلے مذاق اڑانے لگے اور بعد میں جب حمزہ شہباز کے پولٹری بزنس پر بات ہوئی تو اس کا کریڈٹ پچھلی حکومت کو دینے لگے کہ یہ کام تو پچھلی حکومت بھی کرتی رہی  ہے۔ بھائی کہیں تو ٹھہر جاؤ۔
ہماری غربت اور ڈوبتی معیشت میں کرپشن کے بعد سب سے زیادہ جو چیز اثر انداز ہوئی ہے وہ ہے وژن اور پلاننگ کا فقدان ہے۔ ہم نے قرضے لے کے ہیومن ڈویلپمنٹ اور منافع بخش منصوبوں, جیسے گھریلوں اور چھوٹی صنعت, زراعت اور ایکسپورٹ پہ لگائے ہوتے تو آج یہ منافع بخش منصوبے ہمارا گردشی قرضہ آسانی سے اتارتے۔ لیکن ہم نے شارٹ ٹرم پلاننگ اور اگلے الیکشن میں ووٹ کے لئے میٹرو بس, اورنج ٹرین, انڈرپاسسز اور اوور ہیڈ برجز کے نام پر کنکریٹ کے ڈھیر کھڑے کئے جو کہ ٹوٹل سبسڈی پر چل رہے ہیں اور قرض اترنے کے بجائے مزید قرض چڑھا رہے ہیں. جب نچلا طبقہ اٹھے گا اور ملک قرض کے دلدل سے نجات حاصل کرے گا تو بے شک آپ ایسے سہولیات والے منصوبے بنائیں لیکن مقروض قوم کو مزید مقروض کر کے عارضی سہولیات دینا ہرگز دانشمندی نہیں ہے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اکثریتی آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے۔ اگر چائنہ جیسا بڑا ملک سوئی دھاگہ سے لیکر باتھ روپ کے سلیپر تک ایکسپورٹ کر کے ڈالرز کما سکتا ہے، اگر مسلمانوں کی تسبیح اور جائے نماز تک چائینہ بناتا ہے، اگر انڈیا میں بھگوان کی مورتیوں سے لے کر دیوالی کے پٹاخے تک چائینہ سپلائی کرسکتا ہے، اگر پورے یورپ کو کرسمس ڈیکوریشنز چائنہ دے سکتا ہے تو ہم اتنے گئے گزرے ہیں کہ حلال فوڈ انڈسٹری کے 415 بلین ڈالر میں اپنا حصہ نہ کما سکیں۔ بس وژن اور نیت درست ہوتو پوٹینشل میں ہم کسی سے پیچھے نہیں۔
اللہ ایسے لوگوں  سمجھ بوجھ اور ہدایت دے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *