آغا جی” سید امجد حسین”(حصّہ اوّل)۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ان گنت خوبیوں کے مالک، لا تعداد گُنوں کی گُتھلی، بے مثال انسان اور بندہ پرور دوست، ڈاکٹر سید امجد حسین شاعر نہیں ہیں، افسانہ نگار نہیں ہیں، انشائیے نہیں لکھتے، لیکن جو کچھ بھی وہ لکھتے ہیں ان میں ان تینوں اصناف سخن کی خوبیاں موجود ہوتی ہیں۔ پیشے سے سرجن ہیں،( بلکہ سرجنوں کے استاد ہیں)، لیکن جراحی میں جیسے آنکھ کی باریک بینی ، ہاتھ کی صفائی اور جراحی کے کاٹنے والے اوزاروں کی درستگی اور تلخیصیت کی ضرورت پڑتی ہے، ویسے ہی اپنی نگارشات میں بے کم و کاست ، کم سے کم الفاظ کے استعمال کے ساتھ اپنی بات کہنے کے ہنر کے ماہر ہیں۔ تاریخ نویسی ہو، وقائع نگاری ہو، شخصی خاکہ ہو، سفر کی روداد ہو خود نوشت سوانح ہو، یا یاداشتوں کا مجموعہ ، جسے انگریزی میں کہا جاتا ہے ، ہو، ان کے پاس کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ معانی بھرنے کی استبداد ہے۔ میں نے ان کی سب کتابیں الِف سے یے تک پڑھی ہیں، ما سوا انگریزی کی کتاب جو ان کی مرحوم اہلیہ کے نام ان کے مرقومہ خطوط (جو اس کی رحلت کے بعد تحریر کیے گئے) کا گلدستہ ہے، باقی کی سب کتابوں میں یہ خوبی موجود ہے۔ میں ان کی ذاتی خوبیاں توبعد میں شمار کرنے کی کوشش کروں گا، پہلے اگر ایک طائرانہ نظر ان کی آدھ درجن کے قریب کتابوں پر ڈال لی جائے تو کیا ہرج ہے؟ مجھ جیسے طائر کے لیے تو اس کبوتروں کی چھتری پر بہت دانا دنکا ہے۔ ان کی قلم کی قدرت کی خوبیوں کو ایک ایک کر کے دیکھا جائے تو مجھے ایک کتاب بعنوان ’’عالم میں انتخاب ’’پشاور‘‘ نظر آتی ہے، جس میں تاریخ نویسی، وقائع نگاری اور مرتب کی جملہ خصوصیات یعنی ہر ایک مرقع نگار کا لیکھا جوکھا ۔ سب بدرجۂ اتَم نظر آتا ہے۔اس لیے بسم اللہ اسی کتاب سے کی جائے۔

پشاور؟ یعنی ’’عالم میں انتخاب‘‘۔پشاور کب بسا؟ کس نے بسایا؟اس کا اتہ پتہ تو تاریخی ظواہر سے یا کتابوں سے ہی مل سکتا ہے۔ آغا جی نے اپنی مرتب کردہ کتاب ضخامت آٹھ سو صفحات) ’’پشاور‘‘ (1999) میں تیار کی اور حالانکہ اس ضخیم کتاب (آٹھ سو سولہہ صفحات) میں مضمون نگاروں میں مرحوم جوہر میر، مختار علی نیئر، تاج سعید، مجاہد اکبر، رضا ہمدانی، ظہور اعوان، عبداحمید اعظمی، ارشاد صدیقی اور زاہد علی عسکر جیسے جید نام بھی ہیں، صرف ایک نظر فہرست مضامین پر ڈالنے سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ آغا جی کے خود نوشت مضامین کی تعداد (۱۷) سترہ ہے اور یہ کتاب کے لگ بھگ تین سو صفحات کو نرغے میں لیے ہوئے ہیں۔ ان میں اگر ان کے ابتدائیہ اور تعارف کو بھی شامل کر لیا جائے تو (۳۲) صفحات اور بڑھ جاتے ہیں۔ گویا آغا جی کے اندر کا ’’مصنف‘‘ ان کے باہر کے ’’مرتب‘‘ پر حاوی ہو گیا ہے ۔۔

مجھے پشاور کی تاریخ کو مسخ کرنے کے بارے میں پاکستان کی عسکری حکومتوں کے ’اوقات ِ ضرر رساں‘کے دورانئے میں آغا جی کا تبصرہ پڑھ کر افسوس ہوا، اور پھر یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ انہوں نے دہلی کی پرانی تاریخ کے بارے میں مہیشور دیال کی کتاب کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ کتاب پرانی دلی کی جگمگاتی ہوئی تصویر ہے۔ ایسی ہی ایک تصویر عبدلعلیم شرر نے لکھنئو کی بھی اپنے الفاظ سے سجائی تھی، پچھلے دنوں اس کے انگریزی ترجمے کا ایک نسخہ لنڈن میں مقیم اس کے انگریزی مترجم اور اپنے بزرگوار ڈاکٹر سید فاخر حسین صاحب سے میں لے کر آیا تو مجھے آغا جی کے ان الفاظ کی صداقت کا احساس ہوا کہ ’’۔۔۔۔میں نے تہیہ کر لیا کہ پشاور شہر کی بھی ایک ایسے تصویر بنائی جائے جس میں اس ’’یک شہر آرزو‘‘ کے خد و خال، اس کے باسی اور ان باسیوں کے اقدار حیات اور طرز معاشرت تیز اور چوکھے رنگوں میں پوری آب اور اتنی ہی تاب کے ساتھ نمودار ہوں۔

سید امجد حسیں (آغا جی)

اس کتاب میں مشتمل پشاور کی لفظی تصویروں میں کچھ رنگ آغا جی نے چوکھے بھر دیے ہیں۔ ’’پشاور ، قدیم سیاحوں کی نظر میں‘‘ تو ایک تحقیقی کام ہے اور میری اس رائے پر مہر تصدیق اس امر سے ہے کہ آغا جی جس قسم کا چاہے چوغا پہن کر سٹیج پر آ سکتے ہیں۔ اس مضمون میں وہ ایک محقق ہیں۔ دو قصے، ایک ٹکیوں والی نیاز کا اور دوسرا ایک جنازے کی جیتی جاگتی تصویر ان کی وقائع نگاری کو ficto-graphy کی تکنیک میں بیان کرنے کی قدرت کا ثبوت ہیں۔ شہر کے آثار کے تناظر میں قدیم و جدید میں منافقت ، تفاوت اور یکرنگی آغا جی کے تین مضامین سے ابھرتی ہے، جن میں ’قدیم سواریاں‘ سر فہرست ہے اور ہونا بھی چاہیے، کیونکہ یہ مضمون وہ باصری منظر نامے پیش کرتا ہے، جنہیں میں نے بچپن میں دیکھا ہوا ہے۔ تعلیمی اداروں کے ماضی اور حال کے بارے میں مجھے خود کچھ علم نہیں تھا، لیکن پڑھ کر اچھا لگا۔ خدا کرے، ان اداروں کا مستقبل بھی اچھا ہو۔ اندرون ِ شہر کے ذرائع ابلاغ کا علم بھی پہلی بار مجھ کو ہوا، لیکن اس سلسلے کا جاندار مضمون ’پشاور میں ٹیلی ویژن کی آمد‘‘ ہے، جو جیتی جاگتی تصویریں پیش کرتا ہے۔ میرے وقت میں تو ریڈیو بھی خال خال گھروں میں تھا! خداجانے، آغا جی نے ایک ہی باب میں سیاسی ثقافتی اور ادبی اکھاڑوں کو کیوں اکٹھا کر دیا ، لیکن ان کی ٹیڑھی منطق کے سامنے میں کیا کہہ سکتا ہوں؟ مرغ بازی، بٹیر بازی اور کتے بازی کے مقابلے، (شرطیں بد کر) میرے بھی دیکھے ہوئے ہیں۔ ایک اور قسم کی بازی اکیلے میں کھیلی جاتی ہے ، اس لیے اس کا ذکر عنقا ہے۔ کشتی اکھاڑہ، پہلوانی، گتکا بازی بھی میرے دیکھے ہوئے ہیں۔ اس باب میں ایک سنجیدہ مضمون بھی ہے، جس نے مجھے بہت متاثر کیا، یہ اردو اور ہندکو کی ادبی فضا کے بارے میں ہے۔ اللہ کرے یہ تصویریں، جیتی جاگتی ، چلتی پھرتی رہیں۔ ہم تو نہیں ہوں گے لیکن نوجوان ان روایات کو آگے بڑھائیں گے۔ ایک اور باب میں زندہ دلان ِ پشاور کے زیر ِعنوان ’تختہ کلب‘ کا ذکر ہے، جسے پڑھ کر مزہ آ گیا۔ دو نظمیں جو آغا جی نے اس کتاب میں شامل کی ہیں، ناسٹیلجیا کی بہترین مثالیں ہیں۔ مرحوم جوہر میرؔ کی نظم اور پیارے دوست ارشاد صدیقی کی نظم ، دونوں دل چھو گئیں۔

در مکتب‘‘ جہازی سائز میں مطبوعہ ایک ایسا مجموعہ ہے، جسے صحیح معانی میں یاداشتوں کا خزینہ کہا جا سکتا ہے۔ کوئی پیر مرد (مجھ سے چھہ برس چھوٹے، آغا جی اس وقت چھیتّر برس کے ہیں) کیسے اپنے بچپن، شروع جوانی کی پہلی کچی بلوغت اور پھر مسیں پھوٹنے کے وقت کی روداد ’ناسٹیلجیا‘ کی آمیزش سے اپنے مدرسوں، سکولوں، کالجوں اور پیشہ ورانہ مہارت کے دارالعلوم کے بارے میں لکھ سکتا ہے، اس کی بہترین مثال یہ کتاب ہے۔ خدا جانے اپنے ذہن کے کن کن خانوں میں یہ یاداشتیں آغا جی نے بھر کر رکھی ہوئی تھی کہ وقت آنے پر ان کے خوش خط قلم سے کاغذ پر بکھر گئیں۔ (بر سبیل تذکرہ یہ عرض کر دوں کہ آغا جی میری طرح کمپیوٹرپر نہیں لکھتے۔ خطاطی میں ماہر ہیں، اور خوش خط حروف میں لکھتے ہیں، جنہیں پڑھ کر آنکھیں چمک اٹھتی ہی)۔ اس مجلے میں میرے تین دوستوں کے پیش الفاظ ہیں۔ ارشاد تو ہمہ وقت ذہن کی نظروں کے سامنے رہتے ہیں اور اگر کہیں راستہ کھو بھی جائیں تو صرف ایک فون کال کی دوری پر ہیں، لیکن اعجاز راہی اور ظہور احمد اعوان خاک آسودہ ہو چکے ہیں، او اس جہاں میں ہیں جہاں کسی فون کال کی رسائی نہیں۔

پہلا باب گورنمنٹ پرائمری سکول ، مچھی ہٹہ کے بارے میں ہے، جس میں چار قابل احترام شخصیات کا ذکر ہے۔’’ عبد العلی ـہڈی توڑ‘‘ مجھے اپنے پرائمری سکول ٹیچر رستم علی خان صاحب کی طرح ہی نظر آئے، جن کا مولا بخش ان کے سامنے میز پر پڑا رہتا تھا اور ہم بچے یہ سمجھتے تھے کہ یہ ڈنڈا ایک آنکھ کھلی رکھ کر سب شرارت کرنے والے لڑکوں کی طرف دیکھ رہا ہے۔ لیکن وہ شخصیت جن کے نام یہ کتاب منسوب ہے، عبدالقدوس حافظ جی صاحب ہیں جنہوں نے آغا جی کی نرم ہتھیلیوں اور اس بھی زیادہ نازک جسم پر چھڑیوں کی ضربوں کو فراخدلی سے استعمال کرتے ہوئے انہیں قرآن کی سورتیں حفظ کروائیں اور طہارت کے اصولوں سے اس درجہ روشناس کروایا کہ اب بھی جب وہ قبلہ رو کھڑے ہوتے ہیں، تو درد سے کراہتے ہوئے بھی وہی ضرب ِ کلیم اور وہی آموختہ ورد ِ زبان ہوتا ہے، جو اس قدر سیکھا گیا تھا۔

گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ۱ پشاور کا احوال نامہ بھی شخصیات کے حوالوں سے مرکب ہے۔ اس میں چار اساتذہ کا ذکر خیر ہے، لیکن راقم الحروف کو خود تذکرہ نویسی کی شد بد ہے، اور یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے، کہ سب سے زیادہ محبت سے لکھا گیا خاکہ حافظ مجید کا ہے، جو سائنس کی دقیق سے دقیق تھیوریوں کو بھی اسلامیات کے تناظر میں قرآن کے فرمودات کی روشنی میں سمجھاتے تھے۔ جس لیباریٹری میں آغا جی اور ان کے ہم جماعتوں کو پریکٹیکل کروائے جاتے تھے، اس کا فی زمانہ حال سن کر میری آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے جب یہ پڑھا کہ اس میں اب ٹوٹی پھوٹی چارپائیاں پڑی ہیں، دھول ہے اور مکڑیوں کے جالے لگے ہوئے ہیں، گویا پچاس برسوں میں سکولوں کے نظام میں ترقی کے بجائے تنزلی ہوئی ہے۔

اسلامیہ کالج پشاور اس کتاب کا تیسرا باب ہے۔ سب سے زیادہ خوبصورت فیچر اس باب کا وہ تصویر ہے، جس میں کالے کوٹوں اور سفید شلواروں میں ملبوس چار دوست کرسیوں پر بیٹھے ہیں۔ آغا جی کے علاوہ تین نوجوان، شیر احمد سیٹھی(مرحوم) ، سراج احمد اور فضل امین ہیں۔ سب ایک جیسے طرحدار نوجوان ہیں، سب مردانہ حسن کے بہترین نمونے ہیں، لیکن آغا جی کی چھب اپنی ہی ہے۔ کاش میں ان دنوں ان کو ملا ہوتا۔اور یہاں سے وہ داستان شروع ہوتی ہے جو بعد ازاں اردو کے لیے ایک نیک فال ثابت ہوئی کہ ہمعصر پاکستانی اردو ادب میں آغا جی کے نام کا اضافہ ہو گیا۔ لکھتے ہیں:
’’اردو ادب میں دلچسپی اور شغف تو ہائی سکول کے دنوں سے موجودتھا، پروفیسر طاہر فاروقی صاحب نے میرے شوق کو مزید جلا دی۔ فاروقی صاحب اردو پڑھاتے تھے اور میں نے بی ایس سی میں اردو اختیاری مضمون کے طور پر ان سے پڑھی۔۔۔شگفتہ بیانی کی ایک مثال اس پشتو بولنے والے لڑکے کی اردو کی مہارت ہے جس نے چائے دانی کا پکڑنے والا دستہ ٹوٹا ہوا دیکھ کر اپنے مہمان سے معذرت کی تھی، ’’اس چینک کا ہینڈل ٹوٹا ہوا ہے میں آپ سے معافی چاہتا ہوں۔ دراصل ہمارے پاس ایک اور چینک بھی ہے، لیکن اس کا خُتنہ ٹوٹا ہوا ہے۔‘‘ کمال معصومیت سے اس لالہ نے پشتو کے لفظ ’’سخے‘‘ کو اردو کے اس زیر ِ ناف لفظ میں ترجمہ کر دیا ۔

میڈیکل کالج کی دنیا ہی الگ تھی، پھر اس کے بعد سینٹ چارلس  ہسپتال جہاں ایک سال کے لیے ٹریننگ لینا ضروری تھا، ایک اور مرحلہ تھا جو بخوبی طے ہوا ۔ اپنے پروفیسروں اور ہم جماعت دوستوں کے بارے میں خوبصورتی سے لکھنے کے بعد جو طولانی قصہ شروع ہوتا ہے، اس کا نقطہ ٔ آغاز 1963 ہے جب آغا جی امریکا میں پہنچے۔ مجھے یہ قصہ طولانی اس لیے بھی محسوس ہوا کہ اردو ادب کے ساتھ گاہے بگاہے ’زبانی کلامی‘ چھیڑ چھاڑ کے علاوہ اس میں وہ سب کچھ نہیں ہے، جس کا میں دیوانہ ہوں۔ البتہ نویں باب تک پہنچتے ہی یہ تشنگی بھی تشفی میں بدل گئی جب سات برسوں کی ہجرت کے بعد آغا جی پشاور لوٹے۔ لکھتے ہیں، ’’میں سات سال وطن سے دور رہا تھا اور سوچتا تھا کہ پاکستان میں حالات بدل چکے ہوں گے۔ لوگوں کی سوچ بدل چکی ہو گی۔ دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور ترقی کی یہ ہوائیں پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہوں گی ؛ خیبر میڈیکل کالج کے پرنسپل اور اپنے دیرینہ استاد خاکٹر رضا علی سے جب ملاقات ہوئی تو احساس ہوا کہ سات سالوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔اور پھر ان دوستوں کے ، جو پاکستان میں خدمت کے جذبے کے تحت ، بیرونی ملکوں سے اعلیٰ  ڈگریاں لے کر لوٹے تھے، حالت ِ زار دیکھ کر یہ شعر لکھتے ہیں

کہاں کی منزل ِ مقصود، راستہ بھی نہیں
سفر میں ساتھ خدا بھی ہے، رہزن بھی ہے

اس کتاب پر مجھے اور کچھ نہیں لکھنا ہے،صرف اسلوب کے حوالے سے میں کہوں گا، کہ یہ دونوں کتابیں’’خالص ادبی تخلیقات‘‘ ہیں بھی اور نہیں بھی۔’’خالص ادبی تخلیق‘‘ کو نہ تو خیالات کے اظہار کا ذریعہ، معاشرتی صورتحال کا انعکاسی عمل، اور نہ ہی روزانہ کی زندگی یا شخصیات کی قلمی تصاویر کا آلہ ٔ کار کہا جا سکتا ہے، لیکن اگر اس کے توسط سے مادی حقیقت کا بالکل ایسے ہی جائزہ لیا جائے جیسے کسی مشین کی بابت معلومات شاعری میں بیان کی جائیں، تو یہ ادبی تخلیق کہلائی جا سکتی ہے۔

’’چتراں والا کٹورہ‘‘ پڑھتے ہوئے قاری کبھی ہنستا ہے، کبھی خیالات کی رو میں کسی ایسے کردار کو اپنی یاداشت کی قبر سے کھود کر نکالتا ہے، جو اس کتاب میں بیان کیے گئے کسی کردار سے ہو بہو مماثلت رکھتا ہے، کبھی یہی قاری ایک دو صفحے پیچھے پلٹ کر پھر دیکھنے لگتا ہے کہ کیا کوئی تفصیل ایک کردار کے بارے میں اس سے چھوٹ گئی جس کی باز گشت اس صفحے پر ہے، جو اس کے سامنے کھلا ہوا ہے۔ میں نے کوپن ہیگن میں عزیزہ صدف مرزا کی کتابوں کے شیلف میں اس کتاب کو دیکھ کر کہا تھا، اور اس نے کچھ زیادہ ہی زور سے سر ہلا کر اس کی تصدیق کی تھی۔ ’’چتراں والا کٹورہ‘‘ قابل ِ مطالعہ تو ہے ہی، یہ قاری کے احساس کو بھی جھنجھوڑتی ہے کہ اس میں ’’خالص بیانیہ‘‘ کی تکنیک میں (جو مکالمہ، ہم سخنی یا گفت و شنید سے معّرا ہو)ناقابل ِ فراموش کرداروں کو پیش کیا گیا ہے۔ چہ آنکہ یہ کردار اصلی ہیں، یعنی اصلی سے بھی کہیں زیادہ جیتے جاگتے وہ اشخاص ہیں، جنہیں آغا جی نے اپنے بچپن، لڑکپن، شروع جوانی کی کچی بلوغت میں قریب سے دیکھا، ان کے خال و خد کواپنے ذہن کی بہی میں درج کیا اور پھر لکھتے وقت بجنسہ انہیں ذہن سے کھرچ کھرچ کر نکالا۔ ( ’کھرچ کھرچ کر نکالنا‘ سے یاد آیا کہ دُرد تہ ِ ناب اس شراب سے زیادہ نشہ آور ہوتی ہے جو بوتل کے بالائی حصے میں سے پہلے انڈیلی جاتی ہے۔)
میں نے لکھا ہے کہ یہ کتاب صرف بیانیہ پر ہی مشتمل ہے، لیکن میں نے یہ غلط لکھا ہے، کیونکہ اس میں جہاں کہیں صیغہ واحد میں کسی کردار کی زبان سے کچھ کہلوایا گیا ہے، وہ ’’اصلی تے وڈّی ہیر‘‘ کی طرح اصل کی خوشبو رکھتا ہے۔ جان گُل المعروف بہ جانی گُلا‘‘ کے منہ سے لاہور سے پشاور تک کے سفر کے بارے میں یہ الفاظ کہلوائے گئے ہیں۔

’’آغا جی! میں شام نوں پشوروں فلائنگ کوچ وِچ بیٹھنا واں، تے، خدا سواڈا بھلا کرے، دوسرے دن سویلے سویلے ملاں بانگاں وخت لاہور پہنچ جانا واں۔ تے سامان اکٹھا کرنے دے بعد شام نوں وت فلینگ کوچ وِچ بیٹھنا واں، تے فیر ساری رات سوں کے پشور پہنچ جانا واں ۔‘‘

اس کے بعد ’آغا جی‘ اور ’جانی گُلا‘ کے مابین ہندکو میں بات چیت کا جو سلسلہ ہے، اس کا مزہ پشاور کے باسی ہی لوٹ سکتے ہیں، دوسرے نہیں۔یہ نہیں کہ بات صرف پشاوری لہجے کی ہی نہیں ہے، اس کلچر کی ہے، تمدن اور تہذیب کی ہے، جو پشاور کا خاصہ تھا (شاید اب بھی ہے، لیکن طالبان نے بہت کچھ بگاڑ کر رکھ دیا ہے)۔ جب قصہ خوان یعنی امجد حسین یہ پوچھتے ہیں کہ کیا لاہور جا کر اس نے بازار حسن کی بھی سیر کی، تو جان گلُّاکہتا ہے، ’’توبہ، توبہ، کیوں میری مٹی خراب کردے او آغہ جی، منے ساری عمر رندی بازی نئیں کیتی، تا ھونڑ بڑھاپے وچ کے کرنی ایں ‘‘

بیانیہ میں تصویر کشی کا ایک خاص مقام ہے۔ الفاظ کی مدد سے باصری نقشہ نویسی ایک ایسا ہنر ہے جو کسی کسی کو ہی آتا ہے۔ ’مجید دکاندار‘ جو آغا جی ا ہے یا لکھنو کی زبان میں ایک ’بانکا‘ ہے، ان الفاظ میں آغا جی نے مصور کیا ہے۔

’’وہ گھر سے سج دھج کر نکلتا تھا، سفید بوسکی کی قمیض، سونے کے بٹن اور سٹد، لٹھّے کی شلوار، پاؤں میں طلائی چپل، سیدھے بال اور پیشانی پر ایک آوارہ لٹ بوسے دیتی ہوئی، لڑکیاں اسے چلمنوں کے پیچھے سے دیکھتی تھیں اور شاید دل پکڑ کر رہ جاتی تھیں۔‘‘

یہ تو ایک ، یعنی غیر متحرک، ساکن تصویر تھی، اب اس کو فلم کی طرح متحرک بنانےکا کمال بھی آغا جی کے قلم کا ہی طلسم ہے۔مجید کی شادی ہونے سے کچھ دن پہلے کی منـظر نگاری یوں کی گئی ہے۔

ـ’’گھر کی خواتین مہینہ بھر ـ’’سدے‘‘ پھرتی رہیں۔ خاندان بھی تو بڑا تھا۔ ہر روز چھ  سات گھروں میں دعوت دینے جاتیں، شادی کے ہنگامے شروع ہوئے تو دس روز تک گلی محلے میں عید ہو گئی، مٹھائیوں کے خوانچے آ رہے ہیں، اور بانٹے جا رہے ہیں، خیرات الگ بٹ رہی ہے، ڈوم میراثی بھی آ رہے ہیں، دولہا میاں کے صدقے اتارے جا رہے ہیں، گھر میں ڈھولک کا شور الگ، باہر گانے والوں کا الگ، اندر ڈومنیاں اور باہر ہیجڑے داد وصول کر رہے ہیں۔۔۔۔
اس اقتباس میں صیغہ ماضی سے پلٹ کر صیغہ حال میں آنے کی شروعات اس جملے سے ہوتی ہے۔ ’’مٹھائیوں کے خوانچے آ رہے ہیں۔‘‘ اب یہ ایک زندہ live showہے۔ تحریر میں یہ چابکدستی پڑھنے لکھنے سے آتی ہے۔ اور آغا جی اس ساری کتاب میں ، مختلف کرداروں کی عادات، خصائل، پوشاک، چلنے کا انداز، رکھ رکھاؤ، بات چیت کا ڈھنگ کچھ اس طریقے سے بیان کرتے ہیں کہ ’’بے جان بیانیہ‘‘ ایک ’’زندہ شو‘‘ میں تبدیل ہوتا چلا جاتا ہے۔

کرداروں میں ’’ماسی بوُلی‘‘،’’ماما چن‘‘، فقیر دی ماں‘‘،’’آغا صفدر شاہ، تعویزاں والا‘‘،چاچا حکیموں‘‘ وغیرہ چونکہ مصنف کے ہمسایوں کی فہرست میں آتے ہیں، اس لیے ان کوبچپن، لڑکپن، شروع جوانی کی عینک سے دیکھنے کی شہادت ہر نثر پارے میں ملتی ہے کیونکہ ان میں تجزیہ نگاری کا پیوند نہیں لگا یا گیا، جبکہ قریبی دوستوں، ہم پیشہ احباب، اور یار غار ہم نفسوں کو تحلیل نفسی کے مختلف رنگوں کی عینک سے بھی دیکھا گیا ہے۔ مثلاً مرحوم جوہر میر کے بارے میں یہ جملے پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ’’جوہر میرزود نویس نہیں۔ مقدار (کوانٹٹی) کے بجائے کوالٹی کو ترجیح دیتا ہے۔اچھے ادب کا عاشق ہے۔‘‘ ارشاد صدیقی کے بارے میں یہ جملے بھی قابل غور ہیں، ’’ہمارا یار (ارشاد صدیقی) سمیٹنے اور بکھیرنے دونوں کا ماہر ہے۔ نثر لکھ ے گا تو’’پ ‘‘سے’’ پر‘‘ بنائے گا، پھر پر سے ’’پرندہ‘‘ بنائے گا اور پرندے کے پروں پر پشاوری نقشی ہانڈی کی طرح نقش و نگار کرے گا اور پھر اس کم بخت پرندے کو اڑان بھی دے گا۔ سمیٹنے کو آئے تو چند لفظوں میں دفتر کہہ دے۔‘‘
طوالت کا خوف مانع ہے کہ مجھے لگ بھگ آدھ درجن دیگر کتابوں کے بار ے میں لکھنا ہے۔ اس لیے اس کتاب کا احوال نامہ یہیں بند کرتا ہوں، لیکن وعد ہ کرتا ہوں کہ پھر کبھی اس پر ایک جامع مضمون لکھ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالوں گا۔

اب آئیں، ایک اور کتاب کی طرف اپنی توجہ مبذول کریں، جو ایک عجیب سی، خلط ملط، لیکن متوازن صنف ِ نثر کہی جا سکتی ہے۔ یہ ہے۔’’بھاکری منزل‘‘، جو آغا جی اور ان کی ہمشیرہ ثریا بیگم سید منور شاہ نے مل کر لکھی ہے۔ آغا جی اس کا تذکرہ تو وقتاً فوقتاً کرتے ہی رہتے تھے، لیکن راقم الحروف کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ایک ایسی جامع کتاب معرضِ وجود میں آ سکے گی، جس کی بنیادی تحریک نگارش میں ان کا اپنا حصہ کم اور ثریا بیگم صاحبہ کا حصہ زیادہ ہو، خاص طور پر اس لیے کہ میں آغا جی کے قلم کی گل فشانیاں تو دیکھ چکا تھا، لیکن ثریا بیگم صاحبہ میرے لیے اجنبی تھیں۔پہلے دیکھیں کہ یہ صنف نثر کی کون سی قبیل ہے۔ سر ورق پر تحریر سے کچھ اندازہ ہوتا ہے۔ ’’پشاور شہر کے محّلہ مچھی ہٹّہ کے سادات گھرانے کی داستان‘‘۔۔۔یعنی ایک مکانی اور جغرافیائی نقشہ بند بستی، ’’مچھّی ہٹہ‘‘ اور ’’بھاکری منزل‘‘ ۔۔۔اور دوسرا زمانی پہلو، جو جغرافیہ سے زیادہ تاریخ سے تعلق رکھتا ہے، یعنی سادات گھرانے کی داستان۔۔۔تاریخ اور جغرافیہ کے اس ملاپ میں نسل در نسل داستانیں موجود ہیں۔

میں نے خود بچپن اور لڑکپن میں اندرون شہر پشاور کے گلی کوچوں میں آوارگی کی ہے۔ کھلتے ہوئے صاف رنگ، کُرتے، شلوار اور ربڑ کے جوتوں میں ملبوس میں ان پٹھان لڑکوں سے مختلف نہیں تھا جو میری عمر کے ہوتے ہوئے بھی میرے قد اور جسامت کی وجہ سے مجھ سے خوف کھاتے تھے یا اس لیے کہ اسکول میں ہاکی کی ٹیم کا کیپٹن ہونے کی وجہ سے میں عادتاً اپنے ہاتھ میں ہاکی لیے رکھتا تھا ۔ڈھکی کا علاقہ جہاں میرے ماموں رہتے تھے، مجھے اپنے ہاتھ کی پشت کی طرح از بر تھا، لیکن اس کتاب کے اندرون سر ورق پر دیے ہوئے کمپیوٹرکی وساطت سے بنائے ہوئے نقشے کی مدد سے بھی میں اپنے ذہن میں بھاکری منزل کو تلاش نہیں کر سکا۔ مچھی ہٹہ کہاں تھایہ تو میری یاداشتوں کے خزانے میں محفوظ ہے،۔ لیکن میں نہیں جان پایاکہ عورتوں کا مینا بازار کہاں تھا، شاید یہ پاکستان بننے کے بعد ہی اس کا نام تبدیل کر دیا گیا تھا۔گھنٹہ گھر کے ارد گرد علاقوں کے بارے میں بھی مجھے کافی علم ہے، لیکن میں اپنی یاداشت پر اب ساٹھ سے زیادہ برسوں کے بعد اتنا زور نہیں دے سکتا۔ بہر حال آگے چلتا ہوں۔

چونکہ یہ کتاب دو قلموں کی نگارش کا مرقع ہے، اس لیے جن حصوں میں آغا جی کی ہمشیرہ ثریا بیگم نے الفاظ میں زر دوزی کی ہے، ان کا طرز ِ بیان الگ ہے اور نسائی بافت کا بے حد قیمتی نمونہ ہے، البتہ جن مضامین کا سوتا آغا جی کے قلم سے پھوٹا ہے، ان میں دل کم اور دماغ زیادہ ہے۔ آغا جی کے ہاں نظم و انسجام کا ایک واضح منشور ہے، جس میں انضباط اور توزن ہے، بے ہنگم اوٹ پٹانگ ،بے ترتیبی یا جذباتی غل غپاڑہ نہیں ہے۔شاید ہر سرجن ایسا ہی ہوتا ہے، لیکن بات چیت میں بھی اور لکھاوٹ میں بھی جو قرینہ اور ترتیب ان کے ہاں ہے، بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ چونکہ اس مضمون کا تعلق آغا جی سے ہے، اس لیے میںصرف انہی مضامین پر غور کروں گا، جو ان کے تحریر کردہ ہیں۔ثریا بیگم کے بارے میں پھر کبھی لکھنے کا وعدہ کرتا ہوں۔

’’ہمارے خاندان کا پس منظر‘‘ میں آغا جی بتاتے ہیں کہ ان کا خاندان سترھویں صدی عیسوی کی دوسری دہائی میں عراق سے ہندوستان منتقل ہوا۔ ان کے سادات گھرانے کا تعلق حضرت فاطمہ ؓ سے ملتا ہے اور ہندوستان آنے کے بعد بہ سلسلہ ملازمت لاہور، کشمیر وغیرہ میں اقامت پذیر ہونے کے بعد ان کے دادا نے انیسویں صدی کے آخر میں یہ مکان خریدا، پھر اس کی توسیع کی گئی۔ یہی آبائی مکان اب بھاکری منزل کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

مکان کا نقشہ ہو بہو ہی ہو گا، لیکن ایک قاری کے لیے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی۔اس کے بعد کے دو ابواب میں خاندان میں شادیوں، ولادتوں اور اموات کا ذکر بالتفصیل ملتا ہے۔ یہ حصہ خاندان سے متعلق لوگوں کے لیے ایک تاریخی احوال نامہ ہے اور حقائق نویسی کے جملہ لوازمات کی کسوٹی پر کھرا اترتا ہے، لیکن ۔ ایک بار پھر ۔ عام قاری کے لیے اس کی کوئی وقعت نہیں ہے۔

’’قصہ ٹِکیوں والی نیاز کا‘‘ اس کتاب سے لیا گیا ہے، جس کا ذکر اس مضمون کے شروع میں ہو چکا ہے، یعنی ’’عالم میں انتخاب‘‘ ۔۔۔۔ جیسے کہ میں پہلے تحریر کر چکا ہوں، اس مضمون میں واقعاتی، وارداتی یا حادثاتی، تینوں اقسام کی جزو نگاری سوُت سے بافت کی گئی اس چارپائی کی طرح ہے، جس میں مختلف رنگوںکے سوت کے تاگے اس مہارت سے بُنے جاتے ہیں کہ چارپائی کے عین وسط میں ایک پھول یا ایک گلدستہ بن جاتا ہے۔ آغا جی نے اس ’چابکدستی‘ سے بھی کام لیا ہے، جس کی طرف میں پہلے اشارہ کر چکا ہوں۔ یعنی صیغہ ماضی میں واقعات کے بیانیے کو یک لخت صیغہ حال میں موڑ کر اسے حقیقت کے قریب تر کر لینا ۔۔ یہ انہی کا کام ہے اور اس باب میں بھی انہوں نے اس سے بخوبی کام لیا ہے۔ ماضی بعید کے ’’تھا‘‘، ’’تھی‘‘ ، ’’تھے‘‘ کے فعل ِ ناقص سے یکدم پیٹھ موڑ کر ماضی قریب یا حال کے صیغوں کا استعمال بیانہ کو تیزی دیتا ہے۔ ملاحظہ کریں۔ ایک پیرا گراف یہاں ختم ہو تا ہے

’موہرے والے بڑے کمرے میں ایک بڑا دسترخوان تھا۔ اسی دستر خوان پر نیاز چنی جاتی تھی اور یہیں فاتحہ دیا جاتا تھا ۔۔۔۔‘‘

اب اس سے اگلے پیرا گرافوںکی شروعات یوں ہوتی ہے۔

جاری ہے

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”آغا جی” سید امجد حسین”(حصّہ اوّل)۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

  1. This brought back the old memories.i know where Dr. Amjad lived . I used to pass by his twice a day while going to school (Islamia High School)and coming back from school.it was 1945.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *