محبت کے جلوے۔۔گُل بخشوی

ماں جی آپ کیوں نہیں سمجھتیں شاہد میرا چچازاد بھائی ہے اور مجھے جان سے زیادہ عزیز ہے کیا ہوا اگر مالی طور پر ان کا خاندان کمز ور ہے ۔پڑھا لکھا سرکار کا ملازم ہے شخصیت میں مجھ سے زیادہ جاذب ِ نظر ہے اخلاق وکردار میں خاندان کی پہچان ہے آپ بلکہ خاندان کے سبھی لوگ جانتے ہیں کہ شازیہ ،شاہد سے پیار کرتی ہے ۔میں اُس کے پیار اور اُس کے حق پر ڈاکہ نہیں ڈال سکتا ، یہ کہہ کرشہزاد اُٹھ کر کمرے سے باہرجانے لگا ،دیکھا تو سامنے شاہد کھڑا مسکرارہا تھا ،
کیوں کیا ہوا آج پھر ماتھے پر ہزارسلوٹیں ۔شہزاد مسکرایا ،ہاتھ ملاتے ہوئے کہنے لگا نہیں یار ایسی تو کوئی بات نہیں ۔
کیوں نہیں آج پھر شادی کی بحث چھڑی ہوگی ۔ شاہد کہنے لگا دیکھو شہزاد پہلے بھی کہہ چکا ہوں ،شازیہ سے شادی کومسئلہ نہ بنائیں تمہارے والدین کی خواہش ہے، شازیہ سے مری بات ہوئی ہے وہ بھی پریشان ہے ،بڑوں کی خواہشات کا احترام کرنا پڑے گا ۔
اس کا مطلب ہے کہ آپ بڑوں کی خود غرضی پر اپنی محبت قربان کر رہے ہیں ۔ شاہد تم کیوں نہیں سمجھتے! میں جانتا ہوں ،میں شازیہ کے وجود سے شادی نہیں کروں گا، میں گھر بسانا چاہوں گا اُس بیوی کیساتھ جس کی دھڑکنوں میں صرف اور صرف میں دھڑکتا رہوں!
شازیہ اور شہزاد کے والدین کی خواہش تھی لیکن شہزاد اور شازیہ دونوں کو والدین کے فیصلے سے اختلاف تھا, والدین کی ایک ہی ضد تھی کہ شازیہ شہزاد کی دلہن بنے، اسی ایک ضد میں شہزاد ،شازیہ اور شاہد تینوں خاندانوں کا ذہنی سکون برباد تھا ۔
شازیہ ایک صبح کو شہزاد سے ملنے اُن کے گھر آئی ۔شہزاد لان میں سرجھکائے کرسی پر پریشان بیٹھا تھا،شازیہ اس کے قریب آکر کہنے لگی دیکھو شہزاد میں آپ کی چُپ کو جانتی ہوں لیکن والدین کا بھی کوئی حق ہوتا ہے اُن کی بھی کچھ خواہشات ہوتی ہیں ۔میں اعتراف کرتی ہوں خاندان کے سبھی لوگ بھی جانتے ہیں کہ میں شاہد میں دلچسپی رکھتی ہوں لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ میں صرف اُسی سے شادی کروں گی، میں نے شاہد سے باقاعدہ مشورہ کر لیا ہے اُسے بھی کوئی اعتراض نہیں ۔
شہزاد تڑپ کر اُٹھ کھڑا ہوا، اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولوکیا تم جو کہہ رہی ہو دل سے کہہ رہی ہو ،کیا تم اپنے خاندان کی ضد پر اپنی محبت قربان کرنے لگی ہو ؟ کیا حماقت ہے ،کہو شازیہ ،کیا یہی تیری محبت ہے ،کیا تم بھی دولت اور امارت کو غربت اور شرافت پر ترجیح دینے جا رہی ہو؟
شازیہ سرجھکا ئے خاموش بیٹھ گئی ،شہزاد کہنے لگا ۔ٹھیک ہے اگر شاہد اور تم دونوں نے مجھے قربانی کا بکرا سمجھ ہی لیا ہے تو ٹھیک ہے ،میں تم سے شادی کیلئے تیار ہوں مگر میری ایک شرط ہے اگر میری شرط تم دونوں کو قبول ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔
ملازمہ چائے لائی تو شہزاد کہنے لگا ،ایک کپ چائے اور لاؤ،شاہد آرہا ہے اور کچھ ہی دیر بعد شاہد آیا، شازیہ کو شہزاد کےساتھ لان میں اکیلے بیٹھے دیکھ کر پریشان سا ہوگیا ۔وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے سلام کرتے ہوئے ساتھ پڑی خالی کرسی پر بیٹھ گیا۔
شہزاد کہنے لگا ،شاہد آپ عمر میں مجھ سے کچھ بڑے ہیں لیکن آج ہم تینوں میں کوئی بڑا چھوٹا نہیں آپ اور شازیہ کا فیصلہ میرے لیے باعث ِصدافتخار ہے ۔خاندانی وقار کیلئے صاحب بصیرت اولاد ایسے ہی جاندار فیصلے کرتے ہیں لیکن جہاں مسئلہ ہو زندگی اور مستقبل کا وہاں خاندان کی ضد پر اپنی خواہشات قربان کردیناخاندانی وقار کی توہین ہے ۔والدین کے فیصلوں کا ہمیں احترام ہے لیکن والدین کو بھی اولاد کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے !
شہزاد کی والدہ نے صبح سویرے تینوں کو ایک ساتھ لان میں دیکھا تو پریشان ہوگئی وہ قریب آئیں تو تینوں احترام میں اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔
شہزاد ماں سے کہنے لگا ٹھیک ہے ماں جی اگر سب کچھ جانتے ہوئے بھی آپ کی یہی خواہش ہے تو مجھے منظور ہے لیکن اگر آنے والے کل کو ساس بہو کے درمیان کوئی تنازعہ کھڑا ہوگیا تو کم از کم میں ذمہ دار نہیں ہوں گا ۔یہ کہتے ہوئے وہ لان سے کمرے کی جانب چل دیا شازیہ اور شاہد ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے۔
شہزاد کی والدہ تو جیسے پاگل ہوگئی، فون پر اُسی وقت شازیہ کی والدہ کو خوشخبری سنائی ۔خاندان کے بڑے اس اچانک فیصلے پر حیران ہو گئے البتہ شاہد کے والدین دل ہی دل میں اپنی غربت پر ماتم ضرور کر رہے تھے ۔خاندان کے بڑے سرجوڑ کر بیٹھ گئے ۔شادی کی تاریخ طے ہوگئی مٹھائی بٹنے لگی ،وہ کچھ ہونے جارہاتھا جو نہیں ہونا چاہیے تھا،دولت کے ترازو میں محبت کی قربانی کے باوجود شادی کی تیاریوں میں مصروف عزیزوں کی انگلیاں دانتوں میں اس وقت دب کررہ گئیں جب شادی سے ایک دن پہلے شہزاد اپنی دلہن نبیلہ کےساتھ گھر آیا ۔سب کے منہ  اور آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
شہزاد اپنی سیکرٹری جواب اُس کی دلہن تھی کیساتھ کھڑا کہنے لگا میں آپ سب سے معافی چاہتا ہوں ،شازیہ سے شادی کے انکار کی اصل وجہ ہی یہ تھی ۔میں شرمندگی کے خوف سے آپ سب کو اصل صورتحال بتانہیں سکا تھا ۔ میں نبیلہ سے کورٹ میں شادی کر چکا ہوں میں شازیہ کو دھوکہ نہیں دینا چاہتا تھا ۔ اُمید ہے آپ سب مجھے معاف کردیں گے میں کچھ دن کیلئے نبیلہ کیساتھ مری جارہا ہوں یہ کہتے ہوئے کسی کا کوئی جواب سُنے بغیر وہ اپنی دلہن کیساتھ ڈرائنگ روم سے نکل گیا ۔شازیہ کی ماں نے چُپ توڑتے ہوئے کہا میں نے اپنی بیٹی کی خواہشات کا گلہ گھونٹا یہ  میری ضد کی سزا ہے ۔شہزاد کے والدین شرمندہ تھے اور شاہد کے والدین کے چہروں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی ۔
شاہد کی والدہ کہنے لگی نیک کام میں دیر کس بات کی، تاریخ طے ہوچکی ہے ۔شاہد اور شازیہ کی جوڑی خوب رہے گی ۔
شہزاد کی والدہ کہنے لگی ہاں ہاں تمہاری تو لاٹری نکل آئی ،بجاؤ ڈھولک شاہد بھی تو میرا بیٹا ہے شازیہ کی ماں نے کھلکھلا کر ہنستے ہوئے کہا ہم عورتیں اپنے مردوں کو مشکل میں ڈال دیا کرتی ہیں ۔
شادی کی تاریخ نکاح بارات اور سارے پروگرام طے ہوگئے لیکن رخصتی کی تاریخ میں تبدیلی ہوگئی ،شہزاد کی ماں کہنے لگی شہزاد اپنی بیگم کیساتھ مری چلا گیا ہے اُس کے مشورے ہی سے شادی کی تاریخ مقرر کروں گی کیاہوا اگر اُس نے ہم سے پوچھے بغیر اپنی پسند کی شادی کر لی ! ہے تو ہمارا بیٹا ۔
شہزاد کے ابو نے شہزاد کو فون پر کہا آپ ہی شاہد اور شازیہ کی شادی کی تاریخ کا فیصلہ کریں گے ۔ شہزاد نے جواب میں کہاکیا واقعی آپ سب نے میری غلطی کو معاف کرکے شاہد اور شازیہ کی شادی کا فیصلہ کر لیا ۔ ہاں بیٹا خاندان کا یہ ہی فیصلہ ہے شہزاد کہنے لگامجھے یقین نہیں آرہا مجھے میری ماں کہے گی تو یقین کروں گا ۔شہزاد کے ابو نے اہلیہ کو فون دیتے ہوئے مائیک آن کر دیا ۔
ہاں بیٹا آپ نے جو کچھ کیا آپ کی خوشی اب ہماری خوشی کیلئے آپ کا فیصلہ ۔۔ٹھہریں ماں جی ،شہزاد بول پڑا ،اگر بات پکی ہوچکی ہو تو ۔۔ہاں بیٹا ،شاہد اور شازیہ کی شادی کا فیصلہ تینوں خاندان کے بڑوں نے مشترکہ طور پر کر لیا ہے ۔ماں جی تویہ کمال نہیں ہوگیا ۔ماں جی میں گیا کہاں تھا شہر ہی کے ہوٹل میں تو ہوں دو دن سے اکیلا او رمیں نے شادی کب کی ہے نبیلہ میری دلہن نہیں سیکرٹری تھی اور ہے۔
کیا ؟۔ ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے سب عزیز واقارب کھلکھلا کر ہنس دئیے ۔شہزاد کے ابو کہنے لگے۔۔
اسے کہتے ہیں خاندان کے بڑوں کے بعد باشعور بچوں کے خونی مہک میں محبت کے جلوے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *