تین سو ارب روپے(دوسری،آخری قسط)۔۔۔۔محمد اسد شاہ

گزشتہ ماہ کے اختتام پر عمران خان نے بطور وزیراعظم ، گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس آرڈی نینس میں ترمیم کی سمری ، اپنی ہی پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر مملکت کو ارسال کی – صدر کے دستخط سے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ترمیمی آرڈیننس (GIDC 2019) جاری اور نافذ ہو گیا ، اس آرڈیننس کے ذریعے پاکستان کے غریب عوام کی جمع پونجی سے “تین سو ارب روپے” چند صنعت کاروں کو “معاف” فرما دیئے گئے ، ان صنعت کاروں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ خان صاحب کی سیاست کا خرچ اٹھاتے رہے ہیں – اس بات میں کہاں تک صداقت ہے ، اللّٰہ جانے – یہ آرڈیننس بس یوں ہی ، کسی مذاق یا غلطی سے جاری نہیں ہوا تھا – اس کی تیاری میں وفاقی وزارت پٹرولیم اور وزارت قانون شامل تھے – پھر اس پر خود خان صاحب کی اپنی صدارت میں وفاقی کابینہ کے اجلاسوں میں باقاعدہ تفصیلی غور و خوض ہوتا رہا – تمام شرکاء نے متفقہ طور پر اس کی منظوری دی – اس کے بعد کہیں جا کر اسے دستخط کے لیے صدر مملکت کو بھیجا گیا – صدر نے بھی اس کے مطالعے اور غور و خوض کے بعد اس پر دستخط فرمائے – یوں پارلیمنٹ سے منظوری کے بغیر بھی چار ماہ کے لیے یہ نافذالعمل قرار پایا –

لیکن اپوزیشن ، سوشل میڈیا اور پھر ریگولر میڈیا پر جب اس حوالے سے تنقید ، بلکہ  مذمت کا طوفان اٹھا تو خان صاحب نے اجراء کے 9 دن بعد اس آرڈیننس کو منسوخ کرنے کا اعلان فرما دیا –
ضروری ہے کہ اس آرڈیننس کے اجراء اور پھر منسوخی کے معاملے کا جائزہ لیا جائے –

اس آرڈیننس کے ذریعے خان صاحب کی حکومت نے چند صنعت کاروں کو “بنیادی طور”پر 208  ارب روپے کے واجبات معاف کر دیے – دراصل یہ رقم ان صنعت کاروں کے ذمہ  کل رقم کا نصف ہے – ( پٹرولیم ڈویژن نے جو اعداد و شمار دسمبر 2018 میں جمع کروائے ، ان کے مطابق کل رقم جو ان سرمایہ داروں کے ذمہ  واجب الادا ہے وہ 416.3 ارب روپے ہے-) مزید یہ کہ گزشتہ 7 سالوں کے دوران ان واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ان پر جو جرمانہ بنتا تھا ، وہ بھی معاف کر دیا گیا –

ان صنعتوں میں کھاد ، ٹیکسٹائل ، پاور جنریشن اور کمپریسڈ نیچرل گیس (CNG) شامل ہیں – یہ آرڈیننس خود موجودہ حکومت نے سرکاری گزٹ میں بھی شائع کر دیا – اسی آرڈیننس کے ذریعے جی آئی ڈی سی کے ریٹس میں بھی 75 فیصد تک کمی کا اعلان کر دیا گیا – یہ آرڈیننس پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا – اس کی وجہ بھی ظاہر ہے کہ موجودہ حکومت کو پارلیمنٹ میں مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں – قومی اسمبلی اگر اس کو منظور کر بھی لیتی تو سینٹ  میں اس کا مسترد ہونا لازمی تھا -سینٹ میں اب بھی پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی ہی اکثریت ہے ، جب کہ دوسرے نمبر پر پاکستان پیپلز پارٹی ہے – پھر جمعیت علمائے اسلام (ف) اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان بھی مل کر بہت فیصلہ کُن اکثریت کے حامل ہو جاتے ہیں –

(بعض قارئین یہ سوچ سکتے ہیں کہ اس قدر بھاری اکثریت کے باوجود سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیوں کامیاب نہ ہوئی – تو اس پر ان شاء اللّٰہ پھر کبھی لکھوں گا -)

چنانچہ  حکومت نے پارلیمنٹ کو بائی پاس کرتے ہوئے براہ راست صدارتی آرڈیننس جاری کر دیا – اس حکم نامے کی رو سے حکومت نے انھی صنعت کاروں کے ذمے ادائیگیوں میں تاخیر کی وجہ سے لگنے والا 4 فی صد سرچارج ، اور کراچی انٹر بینک آفرڈ ریٹ (kibor) کی وجہ سے عائد تین ماہ کا 13.7 فی صد جرمانہ بھی معاف کر دیا – اس طرح مجموعی طور پر ان چند صنعت کاروں کو جو رقم معاف کی گئی وہ 300 ارب روپے بنتی ہے – یہ رقم 1971 سے 2018 تک معاف کیے گئے تمام قرضوں سے زیادہ ہے –

تاہم اس آرڈیننس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان صنعت کاروں کے ذمہ باقی رقم ان سے کیسے وصول کی جائے گی – یاد رہے کہ ان صنعت کاروں میں سے زیادہ تر کا تعلق کراچی سے ہے – البتہ جہانگیر ترین کا تعلق ضلع لودھراں سے ہے –

گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس آرڈیننس پہلی بار 12-2011 میں پیپلز پارٹی کے دور میں جاری ہوا تھا – صنعت کاروں نے اس کے خلاف مقدمہ دائر کیا – اس آرڈیننس میں چند خامیوں کی وجہ سے مالی نقصان کا خطرہ تھا – 2015 میں پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی حکومت نے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے اس آرڈیننس میں موجود ان خامیوں کو دور کر دیا – ترمیم کے بعد حکومت کا موقف مضبوط ہو گیا اور واضح امکانات تھے کہ حکومت عدالت میں یہ مقدمہ جیت جاتی –

پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی طرف سے کی گئی ترمیم کے مطابق گیس صارفین اور گیس کمپنیز کو کل 7 فی صد (3%+4%) مارک اپ جولائی 2015 سے جمع کروانا تھا –
لیکن اب موجودہ حکومت نے جو آرڈیننس جاری کیا اس میں گزشتہ مارک اپ بھی معاف کر دیا گیا ، اور اس کو صرف جولائی 2019 سے واجب الادا قرار دیا گیا ہے –
اس آرڈیننس کے اجراء پر اپوزیشن نے شور مچایا ، پھر سوشل میڈیا اور ریگولر میڈیا میں بھی اس پر شدید تنقید کی گئی – حتیٰ کہ بعض چینلز نے تو قرض معافی کے حوالے سے خاں صاحب کی ماضی کی تقاریر اور انٹرویوز بھی نشر کر دیئے جن میں وہ اس حوالے سے سابقہ منتخب حکومتوں کے خلاف بہت تند و تیز اور تلخ الفاظ و لہجہ استعمال کر رہے تھے –

اس کے بعد خبر آئی کہ وزیراعظم نے اپنی کابینہ کے ارکان کو ہدایت کی کہ اس آرڈیننس کے اجراء کے متعلق عوام کو “قائل” کیا جائے – ان کے اس حکم کے مطابق پانچ وفاقی وزراء نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے عوام اور صحافیوں کو مطمئن کرنے کی بھرپور کوشش کی اور اس آرڈیننس کے ایسے ایسے فوائد گنوائے کہ الامان ! لیکن یہ کوشش عملاً بے سود رہی – لوگ قائل ہونے کی بجائے مزید مخالفت کرنے لگے –

اگلے ہی دن وفاقی حکومت کی طرف سے ایک وضاحتی بیان جاری کیا گیا اور بتایا گیا کہ اس آرڈیننس کو واپس لیا جا رہا ہے اور فیصلہ عدالت پر چھوڑ دیا گیا ہے –
دوسری طرف اقتصادی و سیاسی ماہرین اب بھی مطمئن ہوتے نظر نہیں آ رہے –
آرڈیننس کے ذریعے جن با اثر سرمایہ کاروں کو اتنی خطیر رقم معاف کی گئی تھی ، وہ اب بھی با اثر ہی ہیں – اندیشہ ہے کہ وفاقی حکومت جو مقدمہ عدالت میں جیتتی نظر آ رہی تھی ، کہیں وہ ہار ہی نہ جائے ، یہ با اثر سرمایہ کار انتہائی مہنگے وکلاء کی خدمات حاصل کریں گے – جب کہ حکومت کی طرف مقدمہ کس انداز میں لڑا جائے گا ، معلوم نہیں – کہیں ایسا نہ ہو کہ جو معافی آرڈیننس کے ذریعے نہیں دی جا سکی ، وہ “کسی اور راستے سے” دے دی جائے –

محمد اسد شاہ
محمد اسد شاہ
محمد اسد شاہ کالم نگاری اور تعلیم و تدریس سے وابستہ ہیں - پاکستانی سیاست ، انگریزی و اردو ادب ، تقابل ادیان اور سماجی مسائل ان کے موضوعات ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *