• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ڈاکٹر مبارک علی کتاب “تاریخ اور سیاست”/ ایک تبصرہ۔۔شہزاد بلوچ

ڈاکٹر مبارک علی کتاب “تاریخ اور سیاست”/ ایک تبصرہ۔۔شہزاد بلوچ

کتاب تاریخ اور سیاست ڈاکٹر مبارک علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 2016 میں تاریخ پبلیکشنز لاہور نے شائع کی۔ اس کتاب میں کل تین باب ہیں۔ پہلا باب تاریخ کے متعلق مضامین پہ مشتمل ہے۔ دوسرا باب امپیریل ازم کے متعلق ہے جب کہ تیسرا باب انقلاب کے بارے میں ہے۔ دوسرے باب کے بیشتر مضامین انگریز مصنفوں کے ہیں جن کا ترجمہ کر کے اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر مبارک علی ایک محقق اور تاریخ نویس ہیں جنھوں نے تاریخ کے مختلف موضوعات پہ متعدد کتابیں لکھیں۔

کتاب پہ میری رائے

ڈاکٹر مبارک علی کی کتاب تاریخ اور سیاست ایک مستند کتاب ہے جو ماضی کے دریچوں سے سیاست اور سماج کے ان پہلوؤں کو مدنظر رکھ کہ تصنیف کی گئی ہے کہ ہمیشہ عوام کو سیاسی حوالے سے بیوقوف بنانے کے لیے یا تو تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے یا تاریخ کے وسیع مضمون کو محدود کر کے پیش کیا گیا ہے۔ اس لیے دنیا کے عوام کی اکثریت تاریخ سے نابلد نظر آتی ہے۔ اس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ قرونِ وسطیٰ یا اس سے قبل کے زمانے میں چین، مصر یا دیگر ریاستیں دوسری ریاستوں سے تعلق نہ ہونے کی وجہ سے خود کو دنیا کا سربراہ یا بڑی طاقت گردانتے تھے حالاں کہ اس زمانے میں کئی تہذیبیں وجود رکھتی تھیں لیکن تعلقات نہ ہونے کی وجہ سے وہ خود کو ہی دنیا کی سب سے بڑی قوم کا درجہ دیتے تھے۔

اس کتاب کے پہلے حصے میں ان پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے کہ کس طرح شخصی بنیادوں پہ تاریخی کہانیاں گھڑی گئیں اور ان واقعات کو بیان کرنے کے لیے پسند و ناپسند کا سہارا لیا گیا۔ مؤرخ صرف ایک درباری کا فریضہ سرانجام دیتا تھا۔ ان تاریخ دانوں کو عوام کے حالات سے بالکل بھی آگہی نہ تھی اور اسی طرح مذہبی لوگ بطور وعظ تاریخ کا چہرہ مسخ کرتے رہے۔

اس کتاب کے پہلے حصے میں ان امور کا تجزیہ کیا گیا ہے کہ نام نہاد مورخین جنھوں نے تاریخ کو اپنے آقاؤں کے مقاصد کی تکمیل میں استعمال کر کے نفرت اور تعصب کو فروغ دینے کا کام لیا۔ تعلیمی اداروں میں ذہن سازی کے لیے صرف اس مواد کا سہارا لیا جاتا ہے جو موجودہ سیاسی ضروریات کا حصہ ہے۔

کتاب کے صفحہ نمبر اٹھاون میں مصنف نو آبادیاتی ادوار کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ یورپی اقوام نے محکوم اقوام کو مغربی تہذیب میں ضم کر کے ان کی انفرادیت پہ کاری ضرب لگا کر ان کی تہذیبی شناخت کو مٹایا اور ان کی تاریخ کو مسخ کر کے رکھ دیا۔ آج بھی دنیا میں پسماندہ اقوام کی تاریخ کو مسخ کرنے کا عمل مختلف طریقوں سے جاری ہے۔

اس کتاب میں ان پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ پاکستان میں تاریخ کا آغاز محمد بن قاسم کی فتوحات سے کیا جاتا ہے اور اس سے قبل کی تاریخ کو دورِ جاہلیت مان کر اس سے پہلو تہی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس پر مصنف ان پہ تنقید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ دورِ جاہلیت کے تصور نے مسلمان معاشرے کے تاریخی شعور کو بڑا نقصان پہنچایا۔ اس مفروضے کو بنیاد بنا کر گزشتہ عہد کے مطالعہ کو بیکار قرار دیا گیا اور اس دور کے علمی کارناموں کو کافروں کی پیداوار قرار دے کر رد کر دیا گیا۔

صفحہ نمبر بیالیس پہ مصنف تاریخ کی تقسیم کے متعلق کہتا ہے کہ مختلف مورخین نے تاریخ کو مختلف ادوار میں تقسیم کیا ہے جیسے مسلمان زمانہ جاہلیت اور اسلام کے بعد کی تاریخ کہتے ہیں، عیسائی قبل میسح اور بعد مسیح، روشن خیالی اور عقلیت کا عہد، اشوک اور اکبر کا زمانہ وغیرہ۔

مصنف یہ کہتا ہے کہ ہماری تاریخ پہ نوآبادیاتی دور کے گہرے اثرات ہیں۔ پوری تاریخ کو مذہبی نقطہ نظر کے مطابق بیان کیا گیا ہے۔ جدید تاریخ کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ سماج میں فرقہ واریت اور تنگ نظری کے احساسات ختم ہو جائیں۔

اس حصے میں مختلف موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے جس میں تاریخ اور شکست، تاریخ میں قوموں کا تصادم، تاریخ اور بغاوت، قومی ثقافت کی تشکیل، انسانی عظمت کی اہمیت سمیت اُنیس عنوانات کو شاملِ بحث کیا گیا ہے۔ جس کے مطالعے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ حکمرانوں نے اپنے تاریخ نویسوں کی مدد سے تاریخ کو ہمیشہ مسخ کرنے کی کوششوں پہ زور دیا ہے۔ تاریخ کو ایسے پیش کیا گیا ہے جیسے تاریخ شخصیتوں کی ملکیت ہے۔ مبارک علی ان غلطیوں کی وضاحت ان الفاظ میں کرتا ہے؛

“تاریخی عمل جب آگے بڑھتا ہے تو وہ کسی خاص شخصیت کا محتاج نہیں ہوتا کیونکہ حالات کا دباؤ اس قدر شدید ہوتا ہے کہ ایک کام ضرور تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔ جب یورپ کے معاشرے میں پندرہویں صدی سے تبدیلی کا آغاز ہوا تو ان حالات میں انھوں نے تجارت کی غرض سے بحری راستوں کی تلاش کی اور اسی ضرورت کے تحت واسکوڈی گاما اور کولمبس نے نئے راستوں اور ملکوں کو دریافت کیا۔ لیکن اگر یہ نہ ہوتے تب بھی ان راستوں کی دریافت ضرور ہوتی کیونکہ یہ حالات کا تقاضا اور وقت کی ضرورت تھی۔ اور جہاں حالات نے انھیں پیدا کیا وہاں یہ کسی اور کو بھی پیدا کر سکتے تھے۔”

کتاب کے دوسرے حصے میں سامراجیت اور نوآبادیاتی نظام کی ابتدا، لوٹ کھسوٹ اور مقامی لوگوں کی جدوجہد اور نیو نوآبادیاتی نظام پہ بحث کی گئی ہے۔

اس حصے میں سامراجیت کی تعریف، اس اصطلاح کا استعمال اور اس کے مختلف پہلوؤں کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ مصنف سامراجیت کو تین ادوار میں تقسیم کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کی ساخت وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے اور یہ اپنے مقاصد اور مفادات کو بھی تبدیل کرتی رہتی ہے لیکن ان تینوں ادوار میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے؛ ظلم و استحصال، جس کے ذریعے سادہ لوح عوام کو قتل و غارت گری، امن اور جمہوریت اور تجارت کے نام پہ لوٹا گیا۔ سامراج نے اپنے مفاد کے لیے سرمایہ کاری اور منڈی کی تلاش میں مظلوموں کی سرزمین پہ دھاوا بول کر ان کی سیاسی آزادی کو کچل ڈالا۔

مصنف کہتا ہے کہ نوآبادیاتی نظام کی ابتدا پرتگال اور اسپین نے کی جنھوں نے دریافت کے زمانے میں ہندوہستان، چین، افریقہ اور امریکہ میں لوٹ مار کی اور تجارت کے نام پہ دھوکہ دہی کا بازار گرم کیا۔

اس نظام کے آغاز سے غلامی کو فروغ حاصل ہوا اور انسانیت نے وہ شرمسار مقام دیکھا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اسپین نے شمالی امریکی ملکوں میں تہذیبوں کو تباہ و برباد کیا، غلاموں پہ تشدد اور اس کے خلاف رعمل اور بغاوت معمول کا حصہ تھی، ہر جگہ قتل و غارت گری اور عالمی طاقتوں کے دوغلے پن کا چرچا تھا۔ سولہویں صدی کے آخر میں اسپین اور پرتگال کی جگہ برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ نے لے لی، انھوں نے بھی اسپین اور پرتگال کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے ظلم و ستم کا بازار گرم کیا۔

امریکہ کے مقامی باشندے حقارت سے ریڈ انڈین کہلاتے تھے۔ سامراج کی ذہنیت کا اندازہ جارج سوم کے ان الفاظ سے کیا جا سکتا ہے؛

“ہر مرد ریڈ انڈین کے قتل کی شہادت پر اس کی کھوپڑی لانے والے کو چالیس پاؤنڈ اور ہر ریڈ انڈین عورت اور بارہ سال سے کم عمر کی کھوپڑی لانے والے کو بیس پاؤنڈ ملیں گے۔” (صفحہ نمبر 95)

صنعتی انقلاب کی آمد نے کئی ملکوں کے عام عوام کی معاشی حالت کو دگرگوں کر دیا۔ صنعتی ترقی کے دور میں ٹیکسٹائل صنعت کاروں نے ہندوہستان سمیت کئی ممالک کی دست کاری کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ صنعت کاروں نے ہندوہستانی کپڑے پہ ٹیکس لگا کر ہندوہستانی عوام کو مجبور کر دیا کہ وہ ان کے غلام بنیں۔

منڈی کی تلاش اور لوٹ کھسوٹ کے عمل میں تیزی کے لیے مقامی آبادی پہ ظلم و جبر کے علاوہ ان کی زبان اور کلچر پہ وار کیا گیا، انھیں بدتہذیب اور وحشی ظاہر کیا گیا۔ لوگوں کو قتل و غارت گری کے علاوہ مختلف بیماریوں کا شکار بنا کر قتل کیا گیا اور اپنے ظلم کو چھپانے کے لیے آبادیوں کو ہمیشہ کم ظاہر کیا گیا تاکہ اموات کی تعداد کو کم سے کم ظاہر کیا جا سکے۔

اس کتاب میں مقامی آبادیوں کی جدوجہد اور کالونیل ازم کے خلاف نفرت انگیز مظاہر کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ اسی نو آبادیاتی نظام نے آزادی کی تحریکوں کو جنم دیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد کئی آزاد ریاستیں وجود میں آئیں۔ اس لیے سامراجی طاقتوں نے اپنی پالیسی تبدیل کی اور ظلم و غارت گری کی جگہ جمہوریت، آزاد تجارت، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں نے سنبھال لی ہے۔ آج سامراجی طاقتیں اپنے تشکیل کردہ اداروں کے ذریعے تیسری دنیا کے ملکوں میں مداخلت کر کے حکومت کی پالیسیاں ترتیب دے رہی ہیں۔

اس کتاب کے تیسرے حصے میں انقلاب کے موضوع کو بیان کیا گیا ہے۔

مصنف کہتا ہے کہ انقلاب کے معنی وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہے۔ قدیم یونان میں انقلاب ایک چکر کا نام تھا یعنی جب بادشاہی نظام عوام کے لیے نقصان تھا جہاں بادشاہ کو ہٹا کر چند سری حکومت تشکیل دی جاتی تھی اور جب اشرافیہ عوامی مفاد کے برعکس پالیسیاں نافذ کرتی تو ان کے خلاف بغاوت جنم لیتی اور کوئی نیا نظام تشکیل دیا جاتا اور اسی کو انقلاب کہتے تھے لیکن یورپ میں روشن خیال اور خرد افروزی کی تحریکوں نے عوامی شعور میں اضافہ کیا جس سے انقلاب کے معنی بھی تبدیل ہوئے۔

تاریخ اور سیاست کی اس کتاب میں انقلابِ فرانس، انقلابِ روس اور انقلابِ چین کو بھی مختصر بیان کیا گیا ہے اور ان انقلابات کی وجوہات اور سامراجی نظام کے خلاف عوامی جدوجہد کو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ ظلمت اور اندھیرے کی چکی میں پسنے والے عوام نے اپنے حقوق کے لیے ظالم بادشاہوں کو تخت سے اٹھا کر سزا دی اور حکومت عوام نمائندوں کو عطا کی۔

اس کتاب پہ مختصر یہی کہا جا سکتا ہے کہ سیاست مفادات کے حصول کا کھیل ہے جس پہ عالمی طاقتوں نے اپنی اجارہ داری قائم کی ہوئی ہے۔ مظلوم اقوام کی تاریخ کو مسخ کرنے کا عمل ہو یا انھیں وحشی اور بدتہذیب ظاہر کرنے کے عمل میں سامراجی طاقتوں نے کردار ادا کر کے اپنے مفادات حاصل کیے۔ سامراج نے نہ صرف ظلم و جبر کی چکی میں عوام کو پیس کر رکھ دیا بلکہ نیو نوآبادیاتی نظام کے تحت اپنے کٹھ پتلی رہنماؤں کو استعمال کر کے عوام کا استحصال کیا۔ آج بھی دنیا کے بیشتر ممالک آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ہاتھوں اپنی معشیت کا جنازہ نکلتے دیکھ رہے ہیں اور عوام بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہیں۔

اس کتاب میں ہمیں یہ دیکھنے کو بھی ملتا ہے کہ کس طرح سامراجی طاقتوں نے پسماندہ ملکوں میں بیماریاں پھیلا کر مظلوم کا قتلِ عام کیا۔ آج بھی اس کی تازہ مثال کرونا وائرس کی شکل میں موجود ہے جو دنیا میں قبضے کی جنگ کو طول دینے اور سامراج کی تشکیل کردہ حیاتیاتی جنگ کا حصہ ہے جس میں ان کے میڈیا کا بھی اہم کردار ہے۔

مظلوموں کی جدوجہد اور انقلابات اور بغاوت کا ذکر بھی اس کتاب کا حصہ ہے کہ کس طرح مظلوموں نے ہمت و بہادری کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے سامراجی عزائم کو ناکام بنانے کی سعی کی۔

جو تاریخ ہمیں پڑھائی جاتی ہے وہ خوابوں اور خیالوں کی تاریخ ہے جس میں سچائی کی پرچھائیں تک کا وجود نہیں۔ بس مسخ شدہ تاریخ کے مجموعے کو جمع کر کے عوام کو بیوقوف بنا کر اس کا استحصال کیا جاتا رہا ہے۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *