بحث ۔ گمشدہ آرٹ۔۔۔وہاراامباکر

اگر آپ لوگوں سے بات چیت کرتے ہیں تو آپ کا وقت بحث میں گزرا ہو گا۔ شاید روزانہ ہی۔ بحث وہ چیز ہے جو ہر کوئی کرتا ہے لیکن کم لوگ اس کو سمجھتے ہیں۔ یہ کریٹیکل سوچ کے لئے ایک ضروری مہارت ہے۔ ہم کس طریقے سے بحث کرتے ہیں ۔۔۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم خود کس طرح سے سوچتے ہیں اور خود اپنی سوچ کا تجزیہ کیسے کرتے ہیں۔

ایسا کیوں ہے کہ لوگ اختلاف کرتے وقت اتنے جذباتی ہو جاتے ہیں خواہ وہ بات فیکٹ کے متعلق ہی کیوں نہ ہو، نہ کہ آراء پر۔ اکثر ایسے اختلافات کی وجہ بحث کرنے کے طریقے سے واقفیت نہ ہونا ہے۔ عام طور پر بحث کے مقصد کو سمجھنے میں بھی غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ میں روز بحث کرتا ہوں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میری روز لڑائی ہوتی ہے بلکہ یہ کہ بحث کسی کو قائل کرنے کے لئے ہوتی ہے یا کسی اختلاف کو سمجھنے یا طے کرنے کے لئے۔
بہت سے مباحث ایسے ہوتے ہیں جہاں کوئی اپنی بات پر ایسی پوزیشن لے لیتا ہے جیسے کوئی ماہر وکیل اپنے موکل کا ہر قیمت پر دفاع کر رہا ہے اور اس کو ہم بے کار کی بحث کہتے ہیں۔

بحث قدیم فن ہے اور یہ تہذیب کے لئے بہت بڑی اور ضروری جدت تھی۔ دیانتداری سے کی جانے والی بحث ہمیں دنیا کو سمجھنے میں بہت مددگار ہو سکتی ہے۔ اور سب سے مددگار وہ مباحث ہوتے ہیں جو آپ ان سے کریں جن سے آپ اختلاف رکھتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ نیت ہار یا جیت کی نہ ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بحث دلیل پر ہوتی ہے اور دلیل کوسمجھنے کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ اس کا ایک خاص فارمیٹ ہوتا ہے۔ دلیل ایک یا ایک سے زیادہ بنیادوں پر اور کچھ بنیادی حقائق پر بنتی ہیں۔ ان کا آپس میں منطقی ربط ہے جو دکھاتا ہے کہ اگر بنیاد ٹھیک ہے اور منطق درست ہے تو کس طرح اس کا مطلب یہ والا نتیجہ ہے۔

کئی بار اپنے دعوے کو ایسے پیش کیا جاتا ہے کہ خود دعویٰ ہی دلیل ہے۔ دلیل بنیاد اور نتیجے کے درمیان کا کنکشن ہے۔ دعویٰ صرف نتیجے کو بیان کرتا ہے۔ اس کی مثال: اگر کوئی کہے کہ “میرا معجون تکلیف کا علاج ہے، کیونکہ یہ تکلیف کو ٹھیک کر دیتا ہے”۔ تو یہ ایک دلیل نہیں، ایک دعوٰی ہے، جس کو سپورٹ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یاد رہے کہ اگر بنیاد درست اور مکمل ہے اور منطق درست ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نتیجہ درست ہے۔ اگر نتیجہ درست نہیں تو یا بنیاد میں غلطی ہے یا کچھ ایسا ہے جو مکمل نہیں یا منطق درست نہیں ہے۔ مثال کے لئے ایک سوال: میں کہتا ہوں کہ“ہومیوپیتھک ادویات میں پانی کے سوا کچھ اور نہیں ہوتا اور پانی کے کوئی میڈیکل اثرات نہیں (سوائے ہائیڈریشن کے)، اس لئے ہومیوپیتھی علاج نہیں ہے”۔ اس میں “ہومیوپیتھک علاج نہیں ہے” کے نتیجے کو چیلنج کرنے کے لئے کیا کرنا ہو گا؟ (اشارہ: مجھے میڈیکل مافیا کا ایجنٹ قرار دینا اچھا جواب نہیں ہے)۔

اس کا برعکس درست نہیں۔ یعنی ایک کمزور یا غلط دلیل کا مطلب یہ نہیں کہ نتیجہ غلط ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ دلیل نتیجے کو سپورٹ نہیں کرتی۔ مثلاً اگر کوئی یہ کہے کہ سورج گول ہے کیونکہ گولائی خوبصورت ہوتی ہے تو دلیل غلط ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ نتیجہ درست نہیں۔ (کمزور دلیل کی وجہ سے سورج چوکور نہیں ہو جائے گا)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر دو فریق کسی دعوے کے بارے میں مختلف نتیجے تک پہنچے ہیں تو اس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ ایک یا دونوں غلط ہیں۔ ایک نے یا دونوں نے اپنی دلائل میں غلطی کی ہے۔ دونوں فریقین اب ملکر دیکھ سکتے ہیں کہ فرق کس وجہ سے آ رہا ہے اور اپنی غلطی کو درست کیا جا سکتا ہے۔

یہاں پر یہ بھی یاد رہے کہ یہ صرف اس وقت ہے اگر کسی فیکٹ پر بحث ہو رہی ہو، نہ کہ موضوعی احساسات پر یا اقدار کے بارے میں ججمنٹ پر۔ مثلاً، ایسا کوئی معروضی پیمانہ نہیں جس سے یہ بتایا جا سکے کہ مائیکل جیکسن بہتر گلوکار تھے یا نصرت فتح علی خان۔ اس نتیجے پر بحث سے نہیں پہنچا جا سکتا۔ لیکن کسی بحث میں اس کو پہچان لینا بہت مفید ہے، کہ جو اختلاف ہے وہ جمالیاتی رائے پر یا اخلاقی انتخاب پر ہے۔ اس طریقے سے ہم ایسی نا ختم ہونے والی بحثوں سے محفوظ رہتے ہیں جن کا بذریعہ بحث طے ہونا اصولی طور پر ممکن نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب سے ضروری چیز کی نشاندہی سب سے پہلے۔ ایسا کرنا عام ہے کہ منطق اور تجزیہ دوسرے کے آرگومنٹ کا تو کیا جاتا ہے، اپنے کا نہیں۔ بحث کے فن کو بحث میں دوسرے کے دلائل میں سے کمزوریاں نکالنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور پھر فتح کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔

بحث اور منطق کے فن کا سب سے پہلے اور سب سے ضروری فائدہ خود اپنی پوزیشن کو پرکھنا ہے۔ اپنی پوزیشن کا تجزیہ کہ اس کی بنیاد کس پر ہے۔ اور اس بارے میں ذہن کھلا رکھنا کہ آپ کے پاس جو انفارمیشن ہے وہ نامکمل یا غلط ہو سکتی ہے یا آپ کوئی ذہنی غلطی کر سکتے ہیں۔

اگر آپ وکیل ہیں تو کمرہ عدالت میں ایک خاص پوزیشن کا مسلسل دفاع کرنا آپ کا فرض ہے۔ اس صورت میں بھی آپ کے لئے فائدہ مند یہ رہے گا کہ آپ ایسی پوزیشن رکھنے کی کوشش رکھیں جو دستیاب شواہد کے مطابق درست ہو۔ اس کے لئے منطق اور دلیل مدد کرتے ہیں۔ لیکن اپنی عام زندگی میں سمجھنے کے لئے بنیادی نکتہ یہ ہے کہ یہ اوزار ہیں، ہتھیار نہیں۔ اگر انہیں ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے تو اپنے مقصد کے لئے انہیں مروڑ لینا بہت آسان ہے۔

ظاہر ہے کہ دوسروں کے دلائل کا تجزیہ بھی ضروری ہے۔ اور اس میں منصفانہ رویہ ضروری ہے۔ اس کو “خیرات کا اصول” کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے کو شک کا فائدہ دیں۔ ان کی پوزیشن کی اپنی طرف سے بہترین توجیہہ کریں۔

مقصد جیتنا نہیں ہے۔ کوئی بھی کہیں پر سکور نہیں گن رہا۔ کیا آپ چاہیں گے کہ کسی معاملے میں آپ سب سے مناسب پوزیشن پر کھڑے ہوں؟ اگر ہاں، تو پھر اسی مقصد کے لئے ضروری یہ ہے کہ آپ خود جس بھی پوزیشن پر ہیں، سب سے زیادہ تنقیدی نگاہ اسی پر ڈالنے کی ضرورت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مختلف لوگ ٹھیک منطق استعمال کرنے کے باوجود مختلف نتائج پر پہنچ سکتے ہیں۔ اس کی وجہ قائم کی گئی ابتدائی بنیاد میں ہونے والا فرق ہے۔ اس لئے اختلاف رکھنے والی دو اطراف کے لئے ان ابتدائی بنیادوں کا تجزیہ مفید ہو گا۔

سب سے پہلا مسئلہ یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کی بنیاد غلط ہو۔ مثال کے طور پر، اگر آپ ارتقا کی تھیوری کے غلط ہونے میں دلیل اس کو استعمال رہے ہیں کہ درمیانی (ٹرانزیشنل) فوسل موجود نہیں تو مسئلہ یہ ہے کہ بنیاد غلط ہے۔ ٹرانزینشل فاسل بکثرت دستیاب ہیں۔

ایک اور قسم کی غلطی مفروضے لینے میں ہے۔ ایسی چیز کو بنیاد بنانے میں جو ٹھیک یا غلط ہو سکتی ہے لیکن ابھی قابل نہیں ہوئی کہ اس کو دلیل بنایا جا سکے۔ اپنے مفروضات کا تجزیہ اپنی دلیل کے تجزیے کا اہم قدم ہے۔ اکثر فرق نتائج اس وجہ سے نکلتے ہیں کہ ابتدائی مفروضے میں فرق ہوتا ہے۔

کئی لوگ وہ مفروضے چنتے ہیں جو ان کی پسند والے نتیجے تک پہنچائیں۔ بلکہ نفسیاتی تجربات یہ بتاتے ہیں کہ اکثر لوگ آغاز پسندیدہ نتائج کو طے کر کے کرتے ہیں اوار پھر وہاں سے پیچھے جا کر دلائل کا انتخاب کرتے ہیں۔ (اس کو rationalisation کہا جاتا ہے)۔

مفروضے لینے میں کوئی حرج نہیں لیکن بحث میں اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو پہلے بتا دیا جائے۔ “ہم بحث کے لئے فرض کر لیتے ہیں۔۔۔۔”۔ اگر دو لوگ اپنے دلائل کا تجزیہ کرتے ہیں اور پتا لگتا ہے کہ ان مفروضات میں فرق ہے تو وہ “غیرمتفق ہونے پر اتفاق” کر سکتے ہیں اور اپنے اختلاف کی جگہ کا بھی معلوم ہو جاتا ہے اور دونوں اطراف کو پتا لگ جاتا ہے یہ بحث اسی وقت طے ہو سکتی ہے جب فلاں چیز کے بارے میں مزید بہتر معلوم ہو جائے۔

مثال: کیا حکومت کو کم از کم تنخواہ بڑھانی چاہیے؟ اس میں دو لوگوں کے درمیان اختلاف ہے۔ جب وہ اپنے دلائل کا تجزیہ کرتے ہیں تو ایک شخص کا مفروضہ یہ تھا کہ ایسا کرنے سے بے روزگاری میں اضافہ ہو گا جبکہ دوسرے کا یہ کہ ایسا کرنے سے بے روزگاری کی شرح پر فرق نہیں پڑے گا۔ دونوں کو جب اس مفروضے کے فرق کا معلوم ہو جاتا ہے تو اختلاف کی وجہ معلوم ہو جاتی ہے۔ اور جب تک یہ طے نہیں ہو جاتا، باقی بحث بے کار ہے۔ اصل بحث وہ تھی ہی نہیں جو کہ وہ کر رہے تھے۔

بنیاد کے بارے میں تیسرا مسئلہ چھپی ہوئی بنیاد ہے۔ یہ اختلاف کا مشکل مسئلہ ہے اور اس کو غور سے ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ ارتقا کی مثال پر اگر واپس جائیں تو اگر کسی کے انکار کی بنیاد اس پر ہے کہ ٹرانزیشنل فوسل نہیں تو اس کی ایک وجہ لاعلمی ہو سکتی ہے لیکن ایک اور وجہ یہ کہ ایک ان کہی اور چھپی ہوئی بنیاد ہو پر ہو سکتی ہے یعنی کہ ٹرانزیشنل کی تعریف میں فرق ہے۔ بائیولوجی میں تو اس بارے میں واضح ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذہن میں اس کی تعریف یہ ہو کہ کہیں کوئی آدھی مچھلی اور آدھی چھپکلی والا ناممکن اور بے ڈھنگا سا فوسل ملے گا۔ جب تک اس چھپی ہوئی بنیاد کی شناخت ہو کر اس کی وضاحت نہیں ہو جاتی، باقی بحث بے کار ہے۔

بنیاد کے ساتھ چوتھا مسئلہ باریک ہے اور وہ بنیاد کے بارے میں موضوعی رائے کا ہے۔ مثلاً، فلاں سورس قابلِ اعتبار ہے یا نہیں۔ اور کئی بار یہ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں نتیجے کو اپنے حق میں کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک بار پھر، جب اس کی شناخت ہو جائے تو مفید بات چیت ہو سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دنیا کو دیکھنے کے دو الگ طریقے ہیں۔ تجسس پسند کا اور وکیل کا۔ تجسس پسندی رائے کو پرکھتے رہنے کا طریقہ ہے۔ وکالت رائے کا دفاع کرتے رہنے کا۔

تجسس پسند کے لئے بحث کا فن اوزار ہے۔ یہ فکر کو نمو دیتا ہے۔
وکیل کے لئے بحث کا فن ہتھیار ہے۔ یہ فکر کو قید کر دیتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور ہاں، آپ اس مضمون کے مندرجات پر بحث کر سکتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *