کالج ہاسٹل میں آخری رمضان۔۔ڈاکٹر محمد شافع صابر

ماہ رمضان اپنے اختتام کی طرف گامزن ہے، اس سال پوری دنیا کے مسلمان رمضان کو روایتی جوش و جذبے کے ساتھ نہ  منا سکے،کرونا کی وجہ سے مذہبی اجتماعات پر بھی پابندی تھی، تو زیادہ تر لوگوں کا رمضان گھروں میں  ہی گزرا۔لیکن سب سے زیادہ افسردہ وہ طلبہ تھے، جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے،  اس سال رمضان ہاسٹل نہ  گزار سکے، گورنمنٹ نے سارے سرکاری و پرائیویٹ ہاسٹل بند کر دیے تھے،اب سبھی طلبہ فیسبک اور دیگر سوشل میڈیا پر افسردگی کی حالت میں ہاسٹل میں رمضان کے متعلق ممیز شیئر کر رہے ہیں۔

ہاسٹل میں رمضان ایک الگ ہی قسم کی فیلنگ ہے، تو ہمارے سینئر کہا کرتے تھے،جب مرضی گھر جاؤ، لیکن رمضان ہاسٹل میں گزارو، کیونکہ رمضان میں ہاسٹل کی ایک علیحدہ ہی دنیا ہوتی ہے، ہم نے تو پہلے انکی بات نہیں مانی، لیکن جب ہاسٹل میں پہلا رمضان گزارا، تو ہمیں احساس ہوا کہ وہ بالکل ٹھیک کہتے تھے۔

پچھلے سال ہمارا بھی میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں آخری رمضان تھا، تو ہم نے وہ رمضان جی بھر کر انجوائے کیا، ہم تین روم میٹ ہوا کرتے تھے، اسداللہ، محسن اور میں، تو ہمارا ہاسٹل میں آخری رمضان بھی اکھٹے گزرا۔

ہم افطاری میں تو کام تقسیم کر لیتے تھے، ایک روح افزا بنا لیتا تھا، ایک افطاری کا سامان لے آتا، ایک دسترخوان پر چیزیں لگا دیتا، لیجیے جناب، ہماری افطاری تیار، کھانے کا اگر موڈ ہوتا تو میس سے،نہیں تو ریسٹورنٹس تھے ہی، سہری میں تو محسن ہی سارا انتظام کرتا تھا، ہمیں جگاتا بھی وہ ہی تھا، اسے کام کرنے میں مزا آتا تھا، ہاں جب کبھی کبھار یوسف آ جاتا تو ہمارے دسترخوان میں سموسوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہو جاتا تھا۔

ہم ہاسٹل والوں کو سب سے بڑا ایج یہ ہوتا ہے کہ ہم ہاسٹل والے ہیں اور گھروں سے دور ہیں، تو ہمارے days caller دوست ہماری افطاری لازمی کرواتے تھے، پچھلے سال بھی یہ روایت برقرار رہی۔

ہاسٹل میں رمضان کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ  آپ کو کوئی کام نہیں کرنا پڑتا، بنی بنائی افطاری منگوا لو، کھا لو، سو لو اللہ اللہ خیر سلا۔ افطاری کے بعد جو دوست سوٹا لگاتے تھے، وہ باہر نکل جاتے تھے، ہاسٹل میں افطاری کے بعد چائے اور سگریٹ لازم و ملزوم ہیں، انکے بنا افطاری کا تصور ہی نہیں۔ ہاسٹل کے باہر ایک ملک شاپ تھی، وہاں چائے کے دور چلتے تھے۔

ہم سب سحری کر کے ہی سوتے تھے، آٹھ بجے کالج، کالج سے آ کر دوبارہ سو گئے، افطاری کی، پھر لیٹ گئے، پھر کبھی کسی کو تنگ کرو تو کبھی کسی کو، یہاں تک کہ  سحری کا وقت ہو جاتا تھا۔
رمضان میں سب تھکے ہی رہتے تھے،  کالج سے دوست، ہمارے کمروں  میں آ جایا کرتے تھے، یوں باتوں باتوں میں ٹائم گزر جاتا تھا، ابوبکر اور شاہزیب مغل، یہ دونوں اچھے بھلے تھے مگر مجال جو انہوں نے کبھی روزہ رکھا ہو۔

پچھلے سال کا رمضان ایک لحاظ سے افسردہ بھی تھا، کیونکہ وہ ہمارا کالج ہاسٹل میں آخری رمضان تھا، ہمیں اس بات کا بخوبی اندازہ تھا، اس لیے ہم نے وہ رمضان دل کھول کر انجوائے کیا۔
اب جو سٹوڈنٹس فیسبک پر افسردہ پوسٹس لگاتے ہیں تو ہمیں انکی افسر دگی اچھی طرح سمجھ آتی ہے۔کیونکہ ہاسٹل میں رمضان کی سعادت کسی کسی کو حاصل ہوتی ہے، لیکن ہم میں سے کچھ ایسے بھی تھے جنہیں رمضان ہاسٹل میں گزارنا زہر لگتا تھا، ہم ان سے یہی کہتے تھے کہ ہمارے درمیان بس یہی فرق ہے۔

اس سال کا رمضان بھی آخری مراحل میں ہے، جن دوستوں کے ساتھ، اکھٹے پانچ سال ہاسٹل میں رمضان گزارا تھا، یہ انکے بنا پہلا رمضان تھا، گویا گزارا یہ بھی ہاسٹل میں ہے، لیکن وہ کالج ہاسٹل والی بات نہیں تھی، نہ ہم روم میٹس اکھٹے تھے، سحری ٹائم کی باتیں، ہر سحری کرتے وقت یاد آئی۔

جو طلبہ اس سال ہاسٹل میں رمضان نہ گزار سکے، انکے غم کو ہم سمجھ سکتے ہیں ، لیکن دل چھوٹا نہ  کریں، اگلا رمضان ہاسٹل میں دوستوں کے ساتھ گزار لیجیے گا۔ایک ہم بھی ہیں، جن کا کالج ہاسٹل میں دوستوں کے ساتھ ایک اور رمضان بس اب ایک خواب ہی رہے گا۔

جن طلبہ نے آج تک ہاسٹل میں رمضان نہیں گزارا، ان سے درخواست ہے کہ ایک بار ہی سہی، کچھ روزے ہی ہاسٹل میں رکھ کر دیکھیں، یقین مانیے آپ بعد میں ہاسٹل میں رمضان گزارنے کے لیے دل سے دعا کریں گےڈاکٹ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *