اک عہد تمام ہوا۔۔حافظ انعام خان

پھر اس کے بعد صبح ہے اور صبحِ نو مجازؔ
سترہ جنوری ۲۰۱۹ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن تصور کیا جائیگا ۔ اس دن پاکستان کے پچیسویں چیف جسٹس جناب میاں ثاقب نثار اپنی مدّتِ ملازمت مکمل کرکے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو گئے ہیں۔ اس ملک کی تاریخ میں میاں ثاقب نثار کے علاوہ شاید ہی کوئی دوسرا چیف جسٹس رہا ہو جس نے ہماری سیاست اور سماج پر اتنے گہرے اثرات مرتب کئے ہوں۔ یہ اثرات منفی تھے یا مثبت اس پر تو بحث ہو سکتی ہے مگر جو بات اظہرمن الاشمس ہے وہ یہ کہ یہ اثرات حقیقت بھی ہیں، دور رس اور دیر پا بھی۔

ذرا اکتیس دسمبر ۲۰۱۶ سے پہلے کا پاکستان ذہن میں لائیں۔ مئی ۲۰۱۶میں پانامہ پیپرز منظرِعام پر آچکے تھے۔ اندرونی طور پر سیاسی ابتری عروج پر تھی۔ تحریکِ انصاف نواز شریف کی حکومت کے خلاف پوری قوّت سے سر گرمِ عمل تھی اور پانامہ پیپرز جیسی ’غیبی نصرت‘ کو کسی قیمت پر شکرانِ نعمت کے مصداق ضائع نہیں کر سکتی تھی۔ اسلام آباد ’لاک ڈاؤن‘ اور اسلام آباد کے محاصرے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ عمران خان دس لاکھ لوگوں کو سڑکوں پہ لانے کا اعلان کر چکے تھے۔ پرویز خٹک کی قیادت میں آنے والا تحریکِ انصاف کا قافلہ بزورِ طاقت اسلام آباد کے نواح میں روک دیا گیا۔ اس واقعہ نے وفاق اور صوبے میں پہلے سے موجود سیاسی چپقلش کو لسانی رنگ دے دیا تھا۔ان حالات میں اس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے پانامہ پیپرز کی روشنی میں وزیر اعظم نواز شریف کی ممکنہ نا اہلی سے متعلق دائر درخواستوں کو سننے کا فیصلہ کیا۔ جب ثاقب نثار صاحب نے قاضیء القضاء کا منصب سنبھالا تو یہ کیس از سرِنو سنا گیا۔ یہاں سے ہماری سیاسی تاریخ یکسر بدل جاتی ہے۔ حقیقی معنوں میں یہ تھا نئے پاکستان کا آغاز جب ملک کے طاقتور ترین حکمران اور تیسری بار وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر براجمان ہونے والے نواز شریف کو اپنی سیاسی زندگی میں پہلی بار آزاد عدلیہ کے روبرو کڑے احتساب سے گزرنا پڑا۔ گویا عالمِ امکاں میں کہیں دور بہت دور صبحِ نو کی بنیاد ڈال دی گئی تھی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔

میاں ثاقب نثار نے پے در پے مفادِ عامہ سے متعلق کیسز کو نہ صرف سنا بلکہ ان کو منطقی انجام تک بھی پہنچایا۔ یہ وہ معاملات تھے جو براہِ راست سول حکومت ، ضلعی انتظامیہ یا بیورو کریسی کے زیرِ اثر آتے تھے۔ چیف جسٹس چاہتے تو اعلیٰ افسران یا حکومتی نمائندگان کو بلا کر جھاڑ پلاتے اور انگلی کٹا کر شہداء میں اپنا نام لکھوا لیتے اس لئے کہ بنیادی ذمہ داری تو حکومتِ وقت ہی کی ہوتی ہے۔ اور یہی کچھ اس ملک میں پچھلی کئی دہائیوں سے ہو رہا ہے۔ ہر صاحبِ اختیار شخص اس ملک میں اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد کا سو چتا ہے مگر مفادِ عامہ کا کسی کو خیال نہیں رہتا۔
اس سے آگے کون جائے دشتِ نا معلوم میں
میں نہ کہتا تھا کہ سارے ہمسفر منزل کے ہیں
مگر شکر ہے کہ اس بار ایک شخص نے ایسا نہیں سوچااور آگے بڑھ کر وہ قرض اتاراجو واجب بھی نہیں تھا۔اور یہی وہ نکتہ ہے جو آنے والے وقت میں وجہِ تنازع بنا۔جوڈیشل ایکٹیویزم یا عدالتی فعالیت کا سہرا یوں تو جناب افتخار چودھری کے سر جاتا ہے جو اس مقبول بدعت کے بانی تھے ، مگر جس کثرت اور یکسوئی سے میاں ثاقب نثار صاحب نے اس کو استعمال کیا اس کی عدالتی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ انہوں نے منرل واٹر کمپنیوں کی جانب سے شیرِ مادر سمجھ کر زیرِ زمین پانی کو استعمال کرنے سے متعلق کیس، پرائیوٹ اسکولوں کی فیس اور ڈیمز جیسے مفادِ عامہ کے کیسز کو نہ صرف سنا بلکہ سخت فیصلے بھی صادر کئے۔ اب آپ خود انصاف کیجئے اور بتائیے کہ عوامی مسائل کا ادراک رکھنا اور انکا تدارک کرنا اعلیٰ عدلیہ کی ذمہ داری تھی یا منتخب جمہوری حکومت کی؟ والدین کو اسکولوں کی بھاری فیسوں کے بوجھ سے نجات دلانا عدلیہ کا کام تھا یا جمہور کے ووٹوں سے قائم ہونے والی حکومت کا؟ قبضہ کی گئی زمین وا گزار کرانا اورمجرمین میں قانون کا خوف پیدا کرنا عدلیہ کا کام تھا یا منتخب لوگوں کا؟ ہماری آنے والی نسلیں پانی کی بوند بوند کو ترس سکتی ہیں۔ اس ملک کو آبی قلت سے بچانے کے لئے پیش بندی کرنا عدلیہ کا دردِسر تھا یا جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کا؟ اگر یہ سب کچھ عدلیہ نے ہی کرنا تھا تو متعلقہ ریاستی ادارے کس مرض کی دوا تھے؟ جب ملک کے جمہوری وزیراعظم نے قومی اسمبلی کے فلور پر جھوٹ بولا اور ان کی اولاد کے بیانات میں واضح تضاد بھی موجود تھا، تب متعلقہ ریاستی ادارے کہاں تھے؟ کیا یہ ذمہ داری ایس ای سی پی، ایف بی آر، نیب اور ایف آئی اے کی نہیں تھی کہ وہ وزیر اعظم نواز شریف سے پوچھتے کہ یہ بے شمار دولت آپنے اور آپ کی اولادنے کیسے اکٹھی کی؟مگر یہ ادارے بھلا کیسے پوچھتے۔ ان کے تو اپنے سربراہان کے مفادات اس بوسیدہ نظام سے وابستہ تھے۔ حضور! یہ تھے وہ حالات جن میں عدلیہ کو انتظامی معاملات میں دخل اندازی کرنی پڑی اور اپنی حدود سے ’تجاوز‘ کرنا پڑا۔

آسیہ بی بی کا کیس ہمارے سامنے ہے۔ اس کیس کا فیصلہ دس سال پہلے آجانا تھا مگر عوامی دباؤ کے تحت اس معاملے کو مؤخر کیا جاتا رہا۔ حکومت ہو کہ عدلیہ دونوں ہی اس معاملے میں خوفزدہ تھے۔ مگر چیف جسٹس کی سربراہی میں اعلیٰ عدلیہ نے قدرے جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیس کو سنا اور اپنے تفصیلی فیصلے میں یہ واضح کیا کہ آسیہ بی بی کی رہائی آئین اور قانون کی روشنی میں کی گئی ہے۔ جہاں اس فیصلے نے ایک دہائی سے زیادہ طویل کیس کو مکمل کیا وہیں اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ انصاف عوامی جذبات سے مغلوب ہوکر نہیں بلکہ آئین کی روشنی میں طے کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب ا س فیصلے کے خلاف عوام کے ایک حلقے کی طرف سے سخت نا پسندیدگی کا مظاہرہ کیا گیا اور نوبت پر تشدد مظاہروں تک جا پہنچی تو حکومتِ وقت نے لا قا نونیت کی اس کوشش کو طاقت اور مذاکرات کے ذریعے ناکام بنایا۔ یہ کامیابی محض اس لئے ممکن ہو سکی کہ ریاست کے تمام ادارے بشمول عدلیہ اس معاملے پر ہم آواز تھے۔
اب جبکہ ثاقب نثار صاحب رٹائر ہو چکے ہیں، ان کے تمام فیصلوں پرگفتگوبھی کی جا سکتی ہے اور انکا غیر جانبدارانہ تجزیہ بھی کیا جا سکتا ہے۔اور یہ بحث تو ابھی چلے گی کہ میاں ثاقب نثار نے بطور چیف جسٹس اس ملک کی خدمت کی یا ریاست کے اداروں کو ایک دوسرے کے خلاف لا کھڑا کیا۔ مگر مؤدبانہ عرض ہے کہ حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے اُن حالات کا بھی بغور جائزہ لیں جن حالات میں پچھلے دو سالوں میں ہماری عدلیہ کو کام کرنا پڑا۔مکررعرض ہے کہ جمہوریت ایک اکائی ہے جو مختلف اجزاء پہ مشتمل ہے۔ جمہوری نظام میں حکومتِ وقت ہی تمام اختیارات کی حامل نہیں ہوتی بلکہ یہ اختیارات دیگر اداروں میں بھی منقسم ہوتے ہیں۔یاد رہے کہ قوت کو خلاء پسند نہیں ہے۔ جب کبھی کوئی خلاء پیدا ہوتا ہے تو ریاست کے دیگر ستون آگے بڑھ کر یہ ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ چاہے اس کوشش میں منتخب حکومت اپنے اختیارات کے پر ہی کیوں نہ کھو دے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *