مظہر حسین سید - ٹیگ

سکوت کا شور۔۔۔پارس جان/بُک ریویو

مابعدجدیت کے بارے میں اردو میں بھی بہت کچھ لکھا، پڑھا اور ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ یہاں اس موضوع پرکسی قسم کی تفصیلی بحث سے گریز کرتے ہوئے محض یہ کہنا کافی ہو گا کہ اس مابعدجدیدیت کا بنیادی←  مزید پڑھیے

غزل۔۔۔مظہر حسین سید

شعورِ حسن سے عاری ہیں فطرت سے بھی نفرت ہے یہ کیسے لوگ ہیں جن کو محبت سے بھی نفرت ہے روایت کا امیں سمجھے تھے ہم فرسودہ لوگوں کو مگر ان کو محبت کی روایت سے بھی نفرت ہے←  مزید پڑھیے

غزل۔۔۔مظہر حسین سید

  خطِ شکستہ میں کچھ ریت پر لکھا ہوا تھا جو میں نے غور سے دیکھا تو گھر لکھا ہوا تھا کتابِ زیست میں لکھا نہیں گیا مرا نام مٹا دیا ہے کسی نے اگر لکھا ہوا تھا خبیث بھیڑیے←  مزید پڑھیے

چالاک۔۔۔۔مظہر حسین سید

ارشاد  خان  صغریٰ ہسپتال کے  برآمدے  میں بے صبری سے ٹہل رہا تھا ۔  بچے کی پیدائش کے بعد آج اس کی بیوی نے ڈسچارج ہونا تھا ۔ اور ضروری کاغذی  کاروائی ہو رہی تھی ۔  ہسپتال کا آخری بل←  مزید پڑھیے

جس نے آواز اُٹھائی ہے، اُٹھایا گیا ہے۔۔۔مظہر حسین سید

پشتون تحفظ موومنٹ  پہلے دن سے ہی ریاست اور ریاستی اداروں کے لیے  ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔  لیکن اس تحریک  کے مطالبات کا حقیقی بنیادوں  پر جائزہ لینے  اور اُن  کے حل کے لیے  مناسب اقدام اُٹھانے کے بجائے←  مزید پڑھیے

آخری حل۔۔مظہر حسین سید

نوشاد منصف جب بھی آتا  بعنوانِ شاعری کچھ صفحات میرے سپرد کر جاتا ۔ اُس نے  خود کو میرا شاگرد مقرّر کر کے  مجھے اپنی اُستادی میں لیا ہوا تھا   اور تصحیح کی ذمہ داری میرے نازک کندھوں پر ڈال←  مزید پڑھیے

شاعرہ ۔۔۔مظہر حسین سید

سہیل نظامی صاحب کے آنے کی اطلاع پا کر شہلا کوثر نے ہیڈ فون اُتار دیے ۔ وہ کل کے مشاعرے میں کیا پہنے اس پر سہیلی سے مشاورت کر رہی تھی ۔ سنائیں نظامی صاحب کیسے ہیں ؟ اور←  مزید پڑھیے

ترقی۔۔مظہر حسین سید

اس جگہ کا نقشہ مکمل طور پر بدل چکا تھا ۔ چاچے شکورے کے چائے کا کھوکھا اب تین منزلہ “کیانی ہوٹل” تھا ۔جہاں رفیق سگریٹ ، نسوار اور ٹافیاں بیچتا تھا ۔ وہاں ایک عالی شان پلازہ بن چکا←  مزید پڑھیے

حفظِ ماتقدّم۔۔مظہر حسین سید

جب میں نے خیر دین سے کہا کہ میں انڈیا کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہوں   تو وہ چونک کر مجھے دیکھنے لگا ۔ میں نے کہا موجودہ جمہوریت ہی سب سے اچھا نظام ہے اور اسے←  مزید پڑھیے