آفس، - ٹیگ

خواتین کے خلاف ذہنی ہراسمنٹ ،آخر کب تک؟-تحریر/ملیحہ سیّد

ہائے بڑے دنوں بعد کنوارے ہاتھوں کا کھانا کھایا ہے سواد ہی آ گیا۔ اس ایک جملے کے خلاف احتجاج نے مجھے ہر طرح کی ہتک برداشت کرنے پر مجبور کیا اور جب میری ہمت جواب دے گئی، میں نے←  مزید پڑھیے

قصّہ شہر بدر کا(14)-شکور پٹھان

بحرین کی زندگی میں اب کچھ یکسانیت سی آگئی تھی۔ دن بھر سونے کی کوشش کرنا، شام کو فلم دیکھنا، چھٹی کے دن دوستوں کے گھروں کا چکر لگانا یا یوسف کے ساتھ کہیں باہر نکل جانا یا پھر چچا←  مزید پڑھیے

پرائیویٹ ادارے کے ملازم بھی انسان ہیں/ ڈاکٹر نویدؔخالد تارڑ

وہ ایک پرائیویٹ بینک تھا، مجھے وہاں نوکری سے متعلقہ اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے جانا پڑا۔ وہاں جاتے ہوئے میرے کولیگز نے بڑی تفصیل سے سمجھایا تھا کہ سختی سے بات کرنا ورنہ بات ہی نہیں سنتے اور اکاؤنٹ کھولنے←  مزید پڑھیے

رکشہ ڈرائیور۔۔افتخار بلوچ

رکشہ ڈرائیور۔۔افتخار بلوچ/اُسے اپنے کپڑوں پر ایک خاص قسم کا فخر محسوس ہورہا تھا۔ تھری پیس سوٹ کی گواہی تو آج اس کا کوئی دشمن بھی دے دیتا۔ رنگوں کے تناسب نے سر چڑھ کر اس کی صلاحیت کو داد دی تھی۔ اُسے اپنے دفتر کے دروازے پر لگی ہوئی تختی نے خاص طور پر متوجہ کیا تھا۔←  مزید پڑھیے

نیند میں وقت۔۔۔وہارا امباکر

رات کو ذرا دیر سے آپ اپنے دوست کے ساتھ خوش گپیاں کرتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے۔ آپ نے دیکھا کہ آپ کا بھائی صوفے پر لیٹا تھا۔ کوئی آواز نہیں، آپ کی طرف دھیان نہیں، سر ایک طرف←  مزید پڑھیے