افتخار بلوچ کی تحاریر

مصور(2،آخری حصّہ)۔۔افتخار بلوچ

ناصر نے اپنی انگلیاں اپنے ہی بالوں میں ڈال کر تیزی سے گھما دیں اور خود ہی بول اٹھا یہ اصل تصویر ہے حقیقی معنوں میں میرا چہرہ جو مکمل طور پر میری زندگی کا عکاس ہے۔ اُس پر اداسی←  مزید پڑھیے

مصور(1)۔۔افتخار بلوچ

ناصر ایک عام آدمی تھا۔ سڑکوں  کنارے درختوں کی چھاؤں میں بیٹھے گاڑیاں گننے والے لوگ۔ ہر گزرتی گاڑی دیکھ کر اپنی خواہش کا معیار بدل لینے والے لوگوں کی طرح۔ مگر قدرت نے ناصر کے اندر سائنس اور ادب←  مزید پڑھیے

چکوری(2،آخری حصّہ)۔۔ افتخار بلوچ

ماہین دوبارہ اسی پھول کو سوچنے لگی۔ پھول، کہ جس کی دھندلی سی تصویر اُس کے ذہن میں ہچکولے کھا رہی تھی۔ یہ تصویر ماہین کو اس لمحے ایسے محسوس ہوئی جیسے غیب کا کوئی منظر ہو، پھر اُس کی←  مزید پڑھیے

چکوری(1)۔۔ افتخار بلوچ

کمرہ خوشبو سے بھرا ہوا تھا, جیسے کوئی باغ ہو ,جسے دل کے خون سے سیراب کیا گیا ہو۔ کمرے کی چاروں دیواروں پر تصویریں چسپاں تھیں۔ یہ تصویریں اپنے مصور کے اظہارِ فن کا ایسا نمونہ تھیں جیسے کسی←  مزید پڑھیے