ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 9 )

شالا مار باغ ، ایک عظیم شاہکار جسے یونیسکو نے عالمی ورثہ قرار دے رکھا ہے/تحریر و تحقیق : احسان اللہ اسحاق

ہوسٹل میں اپنے کمرے میں بیٹھا کام میں مصروف  تھا کہ اسی دوران دوپہر تین بجے کے قریب دوست کی کال آئی کہ احسان کدھر ہو آ جاو انارکلی سے کھانا کھاتے اورکہیں گھومنے چلتے، میں نے بولا کہ ٹھیک←  مزید پڑھیے

رسول حمزہ توف کی خیالی یادداشتیں/ناصر عباس نیّر

’’شکستہ دل کی دو صدائیں ہوتی ہیں’’ وہ آخری بارچھ ماہ پہلے مجھے ملا۔ ان دنوں وہ لوگوں کو ہنسانے کے لیے مسخرے کا کردار اپنائے ہوئے تھا۔ اس بار میں نے ا س کے رویے میں بے اعتنائی محسوس←  مزید پڑھیے

نوآبادکار نے “RATIONALITY” کو میعار کیوں بنایا ؟اور جذبات کمتر کیوں ؟-سائرہ رباب

رنجیت گوہا اور پارٹھا چٹرجی اپنی کتاب The Nation and Its Fragments میں لکھتے ہیں کہ ہندوستانی تاریخ میں کمیونٹیز نے اپنی سیاسی شناخت محض عقیدے، ذات یا نسل پر نہیں بلکہ جذباتی اقدار پر بنائی ہوئی تھی۔بھائی چارہ، وفاداری،←  مزید پڑھیے

میری ہند یاترا( باب نمبر:4 )-امرتسر/سلمیٰ اعوان

یہ میری ہند کیلئے تیسری یاترا تھی اور یہ بھی مفتے میں تھی۔ امر تسر کی ایک بڑی سماجی اور فلاحی شخصیت ہر بھجن سنگھ برا ر جو میاں میر فاؤنڈیشن امر تسرکے سرگرم اور فعال ممبر ہیں۔حضرت میاں میرصاحب←  مزید پڑھیے

اسلام پر منشی پریم چند کے خیالات/ ابھے کمار

ان دنوں اردو اور ہندی کے عظیم ادیب منشی پریم چند کا یومِ ولادت منایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز اردو زبان سے کیا تھا اور ابتدائی طور پر “نواب رائے” کے نام سے جانے←  مزید پڑھیے

ستیہ پا ل آنند کی یاد میں/ناصر عباس نیّر

آج صبح ستیہ پال آنند کے انتقال کی خبر ملی۔ موت کی ہر خبر پہلے ہمیں خاموش کرتی ہے،پھر ایک دم ہمارے اندر ، دنیا سے گزر جانے والی کی موجودگی بھر دیتی ہے۔ کئی بار ہم مرنے والے کو←  مزید پڑھیے

مصنوعی ذہانت، شعور، طاقت،معذرت، شرمندگی /ناصر عباس نیّر

مصنوعی ذہانت ، مکمل انسانی دماغ کی نہیں ، محض اس کی ایک خصوصیت : ذہانت کی نقل ہے۔ اس کے پاس بے مثل و بے انتہا ذہانت ہے،لیکن شعور کی کوئی رمق نہیں ہے۔سادہ وجہ یہ ہے کہ ذہانت←  مزید پڑھیے

مجھے “رُک ” جانا ہے/ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری

انگریزوں کا خواب پورا ہو جاتا تو آج یہ بڑا جنکشن ہوتا۔ رُک جانا ہے، مجھے رُک جانا تھا، مجھے رُک ہی تو جانا تھا، جب سے رضا علی عابدی کی کتاب ”ریل کہانی“ پڑھی تھی، مجھے رُک ریلوے اسٹیشن←  مزید پڑھیے

ایک منتشر قاری کا افسانے سے استغراقی مکالمہ/راشد سعیدی

پروشاسی، کروفر، فروشاسی”: ناصر عباس نیر کا چشم کشا افسانوی متن: بعض اوقات دورانِ قرات ، فکشن کے قاری کے سامنے کچھ تحریریں آ جاتی ہیں جو محض کہانی نہیں ہوتیں بلکہ اس کے لیے فکری سنگ میل بن جاتی←  مزید پڑھیے

تمثیل عشق/ علی عبداللہ

شام آنگن میں یوں اتر رہی ہے جیسے کسی بوڑھے شاعر کے دل میں کوئی پرانی یاد دبے پاؤں لوٹ آئی ہو، یا جیسے کسی شکستہ دل پر اداسی کی چادر تن جائے- یہ شام کسی خط کے بند لفافے←  مزید پڑھیے

میری ہند یاترا( باب نمبر:3 )- دِلّی اور اس کی یادگاریں/سلمیٰ اعوان

شتا بدی کیا مزے کی گاڑی تھی۔ٹرین کا سفر اور وہ بھی دوستوں کے ساتھ۔ افضال شاہد جیسے ہنس مکھ اور مجلسی بندے کا ساتھ ہو تو پھلجھڑیاں پل پل چھوٹتی ہیں۔گاڑی کسی پتی ورتا قسم کی خاتون جیسی تھی←  مزید پڑھیے

دل کی کتاب، اور اپنی ہی کہانی سے جلاوطن کردار/ناصر عباس نیّر

سچ یہ ہے کہ میرا دل ،ایک کتاب ہے۔ اس سے کڑا سچ یہ ہے کہ اس کے سب ابواب میرے نہیں لکھے ہوئے۔ کیسا ستم ہے کہ میں اپنے ہی دل کی کتاب کا اکلوتا مصنف نہیں ہوں۔ یہ←  مزید پڑھیے

دنیا رنگ بازی پر قائم ہے/شکیل رشید

اظہر حسین کی ’ کہانیاں ‘ پہلی بار پڑھیں اور پہلی ہی بار میں اُنہیں ’ کہانی کار ‘ مان لیا ۔ اور پہلی بار یہ بھی سمجھ میں آیا کہ افسانہ اور کہانی میں کیا فرق ہوتا ہے ۔←  مزید پڑھیے

سٹیم روم (ایک افسانچہ)-عاطف ملک

سٹیم روم میں  بھاپ پھیلی تھی۔ چھوٹا سا کمرہ   جس میں داخل ہوں تو زمین پر چوکوار جالی دار چوکٹھا تھا جس میں سے بھاپ نکلتی رہتی تھی۔  ہمیشہ خیال کرنا پڑتا تھا کہ ٹانگ اس بھاپ اگلتی جالی سے←  مزید پڑھیے

تو تم بھی؟-حبیب شیخ

“ہیلو۔” “ہیلو، سلام یار۔” وینا نے دیوار پہ سجی گھڑی کی طرف دیکھ کر کہا، “دو تین بار فون کر چکی ہوں۔ بارہ بجے تک تو تم اٹھ جاتی ہو۔ سب خیریت ہے نا آج—” “تم میرا کیوں اتنا فکر←  مزید پڑھیے

سلسلہء خطوط/دو طبیب،دو ادیب،دو حبیب(ڈاکٹر خالد سہیل/ڈاکٹر عابد نواز)-خط نمبر13,14

خط نمبر ۱۳-ڈاکٹر ۔خالد سہیل کا ڈاکٹر عابد نواز کو خط ماہر امراض چشم ڈاکٹر عابد نواز ! حضور والا۔۔۔مجھے آپ کا محبت نامہ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ میرا دوست نہ صرف ایوارڈ←  مزید پڑھیے

مجلس خاکہ نما/ جاوید خان

گُنگناتا لہجہ ،قدقامت بدن اَور قدقامت مزاج ،جہاں مجھ جیسے گیارہویں بارہویں کے طالب علم دب کر رہ جاتے ۔مادرعلمی حسین شہید کالج کی پرانی عمارت اپنے کلاسیکل حُلیے اور ماحول کی وجہ سے منفر د تھی۔مرکزی داخلہ گاہ سے←  مزید پڑھیے

ٹُٹ پینے عاشق اور فیس بُکی حسینائیں/ احمد شہزاد

محبت ایک فطری جذبہ ہے جس کا اظہار شروع ہی سے ہے، جب سے فیس بک اور سوشل میڈیا کا چلن عام ہوا شدت آ گئی ہے۔ پہلے عاشق کو بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے تھے محبوب کی گلی کے بیسیوں←  مزید پڑھیے

اچھی صورت بھی کیا بُری شئے ہے/ارشد ابرارارش

ایک خواب ہے جس کی کوئی تعبیر نہیں ، ایک خیال ہے جس کا کوئی وجود نہیں ، ایک جیون ہے جو زیست کے پنوں میں کہیں شامل نہیں ، ایک راستہ ہے جس کے اختتام پر کوئی منزل نہیں←  مزید پڑھیے

وحشت کہاں سے آتی ہے؟-محمد نصر اللہ

سر الحمرا ہال کی ادبی بیٹھک میں، اپنی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر کی گئی گفتگو میں آپ نے یہ کہا تھا کہ وحشت آپ کے مزاج کا بہت حصہ ہے۔ آپ کے دوست ،طالب علم؛ حتی کہ آپ کے←  مزید پڑھیے