ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 3 )

موت کا کنواں/سید محمد زاہد

آج عرس مبارک کا آغاز تھا اور آج ہی ڈاکٹر نے پلاسٹر اتار کر کہا تھا کہ ہڈی جڑ چکی ہے، اب وہ چلنے پھرنے میں آزاد ہے۔ سینے کا درد بھی ٹھیک ہو چکا تھا۔ مهک کو پچپن کے←  مزید پڑھیے

سیاہ دائرے کا طواف/مقصود جعفری

دو ہاتھ۔۔۔ جن کی لکیریں مٹ چکی تھیں، وہ ایک مردہ جانور کی کھال پر زندگی کی بھیک مانگ رہے تھے۔دائیں ہاتھ کی پوروں میں ایک قدیم تھکن جمی ہوئی تھی، اور بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ایک ان کہی←  مزید پڑھیے

نیاسال ، عزائم اور ادھورے خواب /احمد شہزاد

نیاسال ، عزائم اور ادھورے خواب تحریر: احمد شہزادنیا سال آتے ہی خوابوں کی ایسی بارش ہوتی ہے جیسے بجٹ کے موقع پر حکومتی خوش کن اعلانات ، یوں ذہن کے گوشوں سے کچھ پرانی اور دیرینہ خواہشات بھی انگڑائی←  مزید پڑھیے

صفر اور تین کنارے/مقصود جعفری

غائب ۔ غائب ایک شخص نہیں تھا۔ وہ ایک کیفیت تھی—نہایت ہلکے خاکستری رنگ کی ایک غیر متحرک شکل جو ہمیشہ دیوار اور زمین کے سنگم پر بیٹھی رہتی۔ وہ کسی شے کو نہیں دیکھتا تھا، وہ صرف محسوس کرتا←  مزید پڑھیے

عبثیت (absurdism) کا سامنا/اظہر علی

البرٹ کامو کو اکثر وجودیت پسند (Existentialist) کہا جاتا ہے حالانکہ اس نے خود اس اصطلاح کو قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ کامو کو پڑھنا زندگی کی انتہائی بے لاگ سچائی سے ملاقات ہے۔ معنی کی ہماری شدید خواہش←  مزید پڑھیے

تبصرہ کتاب: ’’راکھ روشن ہے‘‘رخسانہ صبا ۔۔۔۔ (فیصل عظیم)

رخسانہ صبا صاحبہ کو میں نے پہلی بار اس وقت سنا جب میں ادب کی دنیا میں داخل ہورہا تھا اور ڈاکٹر صاحبہ نوجوان شاعروں کی صف میں اپنا مقام بنانے کے راستے پہ گامزن تھیں۔ بزرگ جب اُن نوجوانوں←  مزید پڑھیے

ٹی ایس ایلیٹ کی داخلی شکستگی اور جدید انسان کا بنجر پن/اظہر علی

1919 سے 1921 تک  کا عرصہ ٹی ایس ایلیٹ کی زندگی کا نہایت کٹھن دور تھا ۔ ازدواجی تناؤ، معاشی دباؤ اور شدید ذہنی تھکن نے ان کی شخصیت کو اندر سے توڑ دیا تھا ۔ یہی داخلی شکستگی بعد←  مزید پڑھیے

کونسل کا کتا اور آوارہ آرٹ/مقصود جعفری

منظر سیدھا سادہ تھا۔ یہ ایک پرانی عمارت تھی۔ جسے شہر کی آرٹس کونسل قرار دیا گیا تھا۔ اس کی سفید سیمنٹ کی دیوار پر جابجا کائی جمی ہوئی تھی۔ اس کائی کے اوپر ایک بورڈ لگا تھا جس پر←  مزید پڑھیے

چوڑی / علی عبداللہ

شام کی سرخی ابھی اندھیرے میں نہیں بدلی تھی، درختوں پہ دن بھر تھک کے لوٹ آتے پرندوں کا شور تھا- کہتے ہیں شور آلودگی ہوتا ہے، مگر پرندوں کا یہ شور آلودگی نہیں تھا، یہ ان کے لوٹ آنے←  مزید پڑھیے

یقین کامل/محمد کوکب جمیل ہاشمی

رات نے اپنی تاریکی کے سیاہ پر پھیلا رکھے تھے، جب نسیم کے ابو کی بےبسی، بند آنکھوں کی بھیگی پلکوں سے ٹپک رہی تھی۔ اکھڑتی ہوئی بے ربط سانسیں پچکے ہوئے زرد گالوں کی ڈھلان پہ اتر کر کسی←  مزید پڑھیے

حامد یزدانی کی غزل میں سماجی شعور/ طارق کامران

بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے فروغِ گلشن  و  صوتِ ہزار  کا  موسم میرے نزدیک یہ شعر دولتِ تیقن سے محروم کوئی شاعر نہیں کہہ سکتا۔تو ہمارے فیض صاحب دولت ِیقین و امید سے مالامال شاعر←  مزید پڑھیے

بُت، ترے تفرقہ پرداز کی ایسی تیسی/ابو نثر

سوال بہت دلچسپ تھا۔ اُس روز سماعت گاہ اِس سرے سے اُس سرے تک سراسر ساکت تھی۔ کیوں نہ ہوتی؟ نظیر اکبر آبادی کی معرکہ آرا نظم “آدمی نامہ” کے اِس بند کی چٹخارے دار تشریح جو کی جارہی تھی:←  مزید پڑھیے

انتخاب /علی عبداللہ

سرد رات کے اس پہر صحرا میں چلنے والی تیز ہواؤں کا شور عجیب بے چینی پیدا کر رہا ہے- کبھی سوچتا ہوں کہ انھیں نظر انداز کروں اور لحاف اوڑھ کر سو جاؤں، لیکن پھر خیال آتا ہے کہ←  مزید پڑھیے

حاصل /تسنیم عباس

تیس سالہ نرما نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے گہری سانس لی۔ درختوں کے پتوں میں ہلکی سی سرسراہٹ تھی، جیسے کائنات اس کے اندرونی طوفان سے ہم آہنگ ہو رہی ہو۔ شبیر کی دنیا اور نرما کی دنیا اب←  مزید پڑھیے

کفنائی ہوئی کرچیوں کا نوحہ/مقصود جعفری

شہر میم نون کے ان گزرتے دنوں کو میں کسی طرح بھی بیان نہیں کر سکتا ہوں ۔ ہر طرف تیزی ہے ، ہر کوئی جلد ی میں ہے ، ہر چیز بدل رہی ہے ، ہر لمحہ بوجھل ہے←  مزید پڑھیے

لمس ایک دھوکا ہے/سیّد محمد زاہد

’’اس ملک میں لوگ ایک دوسرے کو ہمیشہ رشتوں سے پکارتے ہیں. کسی کو بھائی بنا لیا، کسی کو بہن کہہ دیا۔ جگری دوست کو بھی بلانا ہے تو اس کا نام لینے کی بجائے بہن بھائی کہہ کر پکارا←  مزید پڑھیے

ناصر کاظمی کا فن: خالی پیالے کی جمالیات/ناصر عباس نیّر

کل لمز میں ناصر کاظمی کی شاعری پر گفتگو کی۔ ہجرت ، اداسی ، تنہائی ، رت جگا وغیرہ کے علاوہ ، ناصر کی شاعری کی جس پہلو پر بہ طور خاص بات ہوئی ، وہ ان کا فن شعر←  مزید پڑھیے

آصف رضا کا افسانہ ”سی ویو“: تجزیاتی مطالعہ/ شاہد عزیز انجم

آصف رضا ایک نوجوان اور ابھرتے ہوئے اردو افسانہ نگار ہیں جو پوسٹ ماڈرن اسلوب میں وجودی تنہائی، ڈیجیٹل دنیا کے اثرات اور انسانی حقیقت کی تلاش جیسے گہرے موضوعات کو بے باک انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان کا←  مزید پڑھیے

ضمیر حسن قیس کی منفرد اسلوب کی شاعری /ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

ضمیر حسن قیس کا تعلق ملتان سے ہے، غزل اور نظم کے شاعر ہیں۔ ان کی ایک منفرد اسلوب کی نظم “یثرب” نے کافی مقبولیت حاصل کی ہے۔ یہ نظم پانچ حصوں پر مشتمل ہے، جو مختلف تاریخی مراحل اور←  مزید پڑھیے

وجود کا سفر /علی عبداللہ

  Whose woods these are I think I know…. برف سے ڈھکے جنگل کی طرف رکے ہوئے مسافر کی یہ بات یقیناً ایک لمحے کا بیان نہیں، بلکہ پوری انسانی تاریخ کا یہ ایک گہرا، تہہ در تہہ استعارہ ہے۔←  مزید پڑھیے