دو سو سال پہلے ایک برطانوی تاجر نے تجربہ کیا جس کو انسانی تاریخ کا اہم ترین تجربہ کہا جا سکتا ہے۔ سیموئل گریگ نے 1784 میں ایک بہتی ندی کے کنارے ایک چھوٹی سی فیکٹری لگائی جس میں چند← مزید پڑھیے
یورپی تاجروں کے ہندوستان کی پیداوار پر کنٹرول کا مطلب یہ تھا کہ یورپ کی اپنی نوزائیدہ صنعت خطرے میں تھی۔ آخر انگلش، فرنچ، ڈچ اور دوسرے ہندوستانی کپڑے کا مقابلہ کیسے کر سکتے تھے جبکہ اس کا معیار بہتر← مزید پڑھیے
جنگی کیپٹلزم کے نظام کا دنیا پر اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں غلبہ رہا۔ اس کا انحصار امیر اور طاقتور یورپیوں کے لئے دنیا کو دو الگ حصوں میں تقسیم کرنے میں تھا۔ ایک “اندر” اور ایک “باہر”۔ اندر والی← مزید پڑھیے
ہندوستان میں یورپی طاقت محدود تھی۔ تجارتی چوکیاں بندرگاہوں کے قریب تھیں یا ان کے ساحلوں کے قریب بنائے گئے قلعے تھے جس میں فوجی اور تاجر رہا کرتے تھے۔ ایکسپورٹ کے لئے مقامی سوداگر اور بنیے کے ساتھ تعلقات← مزید پڑھیے
سترہویں صدی کے آغاز پر یورپی ملبوسات کا بڑا حصہ لنن کا یا اونی تھا۔ اگلی دو صدیوں میں یہ تبدیل ہو گیا۔ ابتدا میں یہ تبدیلی سست رفتار تھی لیکن اس کی رفتار بڑھتی گئی۔ اور ان ملبوسات کے← مزید پڑھیے
کپاس میں یورپ کہیں پر نہیں تھا۔ لنن اور اون لباس کے لئے استعمال ہوتی تھی۔ کاٹن بہت مہنگی درآمد تھی۔ اس کا ریشہ دور اگتا تھا۔ اس کے بارے میں قرونِ وسطیٰ میں دیومالائی قصے مشہور تھے۔ یورپ میں← مزید پڑھیے
عثمانی سلطنت کے شہر توقات میں ماہر ہنرمند تھے۔ بغداد، موصل اور بصرہ میں کاٹن ورکشاپ تھیں۔ موصل شہر تھا جہاں ململ بنتی تھی۔ موجودہ مالی کے دارالحکومت بماکو میں چھ سو جولاہے تھے۔ کانو میں بنے کپڑے صحارا میں← مزید پڑھیے
ہمارے علم کے مطابق کپاس کی domestication, spinning, weaving دنیا میں کم از کم تین علاقوں (جنوبی ایشیا، وسطی امریکہ اور مشرقی افریقہ) پر آزادانہ ڈویلپ ہوئی اور باقی دنیا میں پھیلی۔ ہجرت اور تجارت کے راستوں سے یہ میسوامریکہ← مزید پڑھیے
وادی سندھ کے کسان اور ہنرمند وہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے کپاس کو لباس کے لئے استعمال کیا۔ 1929 میں آرکیولوجسٹ کی ٹیم نے موجودہ پاکستان میں موہنجوداڑو سے کاٹن ٹیکسٹائل کے ٹکڑے دریافت کئے۔ یہ 3250 قبلِ مسیح← مزید پڑھیے
لباس کی تاریخ مرتب کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ وقت کے ساتھ طویل عرصہ باقی نہیں رہتا۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ جب ایک لاکھ سال قبل انسانوں نے افریقہ کے میدانوں سے سرد موسم کی طرف سفر کیا تو← مزید پڑھیے
پانچ سو سال پہلے، بحرالکاہل کے ساحل پر درجن بھر دیہات تھے۔ یہ علاقہ آج میکسیکو میں ہے۔ لوگ مکئی، لوبیا، توری اور مرچ اگاتے تھے۔ سمندری جانور پکڑے تھے۔ شہد اور موم اکٹھا کرتے تھے۔ سرامک کے برتن جن← مزید پڑھیے
جب آپ کپاس کے ایک پودے کو دیکھتے ہیں تو یہ عجوبہ نہیں لگتا۔ بڑا عام سا پودا ہے جو کئی شکلوں اور سائز میں ہے۔ کپاس کی عالمی سلطنت کی تخلیق سے قبل مختلف کلچر کپاس کے مختلف پودے← مزید پڑھیے
کچھ دیر ٹھہر کر ایسی زندگی کا تصور کریں جس میں کپاس نہ ہو۔ آپ صبح اٹھے ہیں تو آپ کا بستر یا تو جانور کی کھال سے یا بھوسے کا ہے۔ آپ اونی کپڑے پہنتے ہیں یا اگر امیر← مزید پڑھیے
آج کپاس ہر جگہ پر ہے۔ اور اتنی زیادہ عام ہے کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ یہ کیا ہے۔ یہ انسانیت کی عظیم کامیابی ہے۔ اس وقت جب آپ یہ فقرہ پڑھ رہے ہیں، امکان ہے کہ آپ نے← مزید پڑھیے
یہ جنوری 1860 کا دن تھا۔ مانچسٹر چیمبر آف کامرس کی سالانہ میٹنگ میں 68 ممبران اکٹھے ہوئے تھے۔ یہ دنیا کا سب سے زیادہ صنعتوں والا شہر تھا اور یہ لوگ کپاس کے تاجر اور کپڑے کے صنعتکار تھے۔← مزید پڑھیے
بائیولوجی کی انیسویں صدی کی تاریخ میں مٹر کے پودے اور جزیرے کی چڑیاں مشہور ہیں۔ بیسویں صدی میں جدید بائیولوجی کی بنیاد مکھیوں سے بھرے کمرے میں رکھی گئی تھی۔ ڈارون ازم کو زوال انیسویں صدی کے آخر میں← مزید پڑھیے
آج سے ٹھیک پچاس سال قبل پہلی بار انسان نے چاند پر قدم رکھا تھا۔ پہلا قدم رکھنے والے خلاباز نیل آرمسٹرانگ تھے۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کی بائیوگرافی سے لئے گئے ہیں۔ ان کی زندگی کی کہانی کی ایک← مزید پڑھیے
اگر آپ نے کبھی سرجری کروائی ہے تو آپ کو شاید یاد ہو کہ آپ الٹی گنتی گن رہے ہوں۔ دس، نو، آٹھ، سات، چھ۔۔۔۔ اور پھر کسی آپ کی آنکھ کھلی تو سرجری مکمل ہو چکی تھی۔ ایسا لگا← مزید پڑھیے
اس وقت فلسطین کے مسئلے کے حل کے بارے میں یاسیت پائی جاتی ہے۔ کسی کو اس کے حل ہونے کی توقع نہیں رہی۔ دو ریاستی حل سے امید ختم ہو رہی ہے۔ ایک ریاستی حل کسی کو قابلِ قبول← مزید پڑھیے
دو ریاستی حل کی امید ماند پڑ جانے سے ایک ریاستی حل میں دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ بھی بہت پرانا آئیڈیا ہے۔ جب فلسطینی اور صیہونی نیشنلسٹ کے درمیان مسلح ٹکراوٗ شروع ہوا تھا تو برٹش انتظامیہ نے← مزید پڑھیے