ناصر عباس نیّر کی تحاریر

نفرت آدمی کےدل کوآدمی کادل نہیں رہنے دیتی/ناصر عباس نیّر

مجھے یہ قول درست نہیں لگتا کہ ’’جس سے آپ محبت نہ کرسکیں، اس سے نفرت کرتے ہیں‘‘۔ نفرت، محبت کے سکّے کا دوسرا رخ نہیں ہے۔محبت ، سکّہ نہیں ہے۔ویسے بھی ہر سکے کا دوسرا رخ ، پہلے رخ←  مزید پڑھیے

مصنوعی ذہانت اور ہراری کی نئی کتاب/ناصر عباس نیّر

حال ہی میں اسرائیلی مصنف یووال نوح ہراری کی نئی کتاب Nexus:A Brief History of Information Networks from the Stone Age to AI شائع ہوئی ہے۔ ہراری ہمارے زمانے کے بڑے نہیں،مقبول عام مصنف ضرور ہیں۔بڑا مصنف ہر شے کو←  مزید پڑھیے

غالب، ستم زدگاں کا جہان، خیال و تمنا کی وسعت/ناصر عباس نیّر

غالب خیال اور تمناکی وسعت کے لیے دو عالم تو کیا عدم اور امکان کو بھی ناکافی سمجھتے ہیں۔وہ دو جہانوں کو آدمی کے لیے ناکافی سمجھتے ہیں۔ دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا یاں آپڑی یہ←  مزید پڑھیے

شکر اس کا جس نے ہمیں آدمی یا سور نہیں بنایا/ناصر عباس نیّر

چھت کی جانب جاتی ہوئی چیونٹیوں نے دیکھا کہ اس کمرے میں مدت بعد آدمیوں کی آواز سنائی دی ہے۔ان کے ننھے قدم رک گئے۔کچھ دیر تو انھیں سمجھ ہی نہ آئی کہ وہ کیا کریں۔ان میں سے چند ایک←  مزید پڑھیے

جنسی تشدد سے زیادہ بھیانک کچھ نہیں/ناصر عباس نیّر

دنیا میں سب سے بھیانک ، سب سے ہیبت ناک ، سب سے زیادہ دل کو چیر ڈالنے والی چیزکیا ہے؟ ریپ۔ ایک عورت پر ایک یا زیادہ مردوں کا جنسی تشدد۔ ریپ، ایک انسانی وجود کو طاقت کے انتہائی←  مزید پڑھیے

مراۃ الشعر پر چند باتیں/ناصر عباس نیّر

اگرچہ مولانا عبد الرحمن کی ’’مراۃ الشعر‘‘ ۱۹۲۶ء میں منظر عام پر آئی تھی ، مگر اس میں ’’ہماری شاعری (از مسعود حسن رضوی ادیب‘‘) کی مانند نئی شاعری کے خلاف باقاعدہ مقدمہ تیار کرنے کی کوشش نظر نہیں آتی۔←  مزید پڑھیے

’’جنگل کےشرفااورکہانی کاجواب کہانی ہے‘‘/ناصر عباس نیّر

جس زمانے میں ایلزپتھ ہکسلے اپنی کتاب White Man’s Country شایع کر رہی تھیں،انھی دنوں،لندن سکول آف اکنامکس و پولیٹیکل سائنس کے ممتاز پروفیسر برونسلا میلنوسکی کے شاگرد جومو کینیاتا اپنے ہم وطن گیکیوا لوگوںسے متعلق اپنا مقالہ Facing Mout←  مزید پڑھیے

یہ جاہ دنیا کروں گا کیا میں(آفتاب اقبال شمیم)-تحریر/ناصر عباس نیّر

کل آفتاب اقبال شمیم رخصت ہوئے۔ اردودنیا سوگوار ہے۔ وہ جدیدشاعری ، خصوصاً نظم کے ممتاز ترین شاعر تھے۔ ان کے یہاں جدید شاعری ، ایک اپنا الگ مفہوم متعین کرتی تھی۔اردو میں جدید شاعری کے ایک سےز یادہ کینن←  مزید پڑھیے

وجودی اور استعماری بیگانگی /ناصر عناس نیّر

ذلت آمیز بیگانگی کے علاوہ، بیگانگی کی کچھ اور صورتیں بھی نو آبادیاتی باشندے تجربہ کرتے ہیں۔انھیں وجودی بیگانگی کے مغربی تصور کی مدد سے نہیں سمجھا جاسکتا۔ مغربی وجودی بیگانگی، وجود کے مابعد الطبیعیاتی مرکز سے الگ ہوکر بےمعنویت←  مزید پڑھیے

زیرِ طبع کتاب”میری کہانی کی کہانی: میری زبانی” سےاقتباس/ناصر عباس نیّر

انہی دنوں ریڈیو کے مختلف پروگراموں میں بھی خط لکھے۔ ریڈیو پر اپنا نام سننے کا باقاعدہ نشہ تھا۔ تب ریڈیو ہر جگہ اور ہر وقت تھا۔ اکیلا پی ٹی وی تھا۔ ٹی وی بھی کسی کسی کے پاس ہوا←  مزید پڑھیے

میری کہانی کی کہانی:میری زبانی /ناصر عباس نیّر

میں نے اپنے کسی افسانوی مجموعے کا پیش لفظ لکھا نہ کسی سے کوئی تحریر لکھوائی۔ کتابوں کی اشاعت کے بعد جو تبصرے ، مضامین شائع ہوئے، انھیں بھی اپنے چاروں ( پانچواں زیر اشاعت ہے) مجموعوں میں سے کسی←  مزید پڑھیے

“دہلی میں رتن ناتھ سرشار پر سیمینار”/ناصر عباس نیّر

یہ سیمنیار چھ جولائی کو غالب انسٹی ٹیوٹ میں منعقد ہوا۔ اس کے محرک ڈاکٹر سرور الہدیٰ اور منتظم ڈاکٹر محمد ادریس ، ڈائریکٹر غالب انسٹی ٹیوٹ، تھے۔ پاکستان سے تبسم کاشمیری، اصغرندیم سید اور مجھے مدعو کیا گیا تھا۔←  مزید پڑھیے

اسماعیل کادارے کے لیے حرف تعزیت /ناصر عباس نیّر

جولائی کا آغاز ایک افسردہ کن خبر سے ہواہے۔ ایک بڑے ادیب کے انتقال کی خبر سے زیادہ افسردہ کردینے والی کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ البانیہ کے اسماعیل کادارے ، بڑے ادیب تھے جو آج اٹھاسی برس کی عمر میں←  مزید پڑھیے

کافکاکادروازہ اورعقوبت نگر (2)-ناصر عباس نیّر

پہلا حصّہ: کافکا’ایک صدی بعد/ناصر عباس نیّر دروازے کو تمثیل بنانے کی مثال ، کافکا کا افسانہ ’’ عقوبت نگر میں‘‘ (In the Penal Colony) ہے۔ عقوبت نگر ایک بے نام ،گرم جزیرے پر واقع مقام ہے۔ ایک سیاح کو←  مزید پڑھیے

اِک آگ کا دریا ہے/ناصر عباس نیّر

ایک زندہ شخص پر پہلےاجتماعی تشدد کرنا، پھراس کے کٹے پھٹے، زخموں سے چور پنجر کو جلادینا ،اور بعد ازاں اس کی راکھ کو بھی اڑادینا ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ درست ہو کہ تاریخ خودکو نہیں دہراتی ،اور وقت←  مزید پڑھیے

کافکا’ایک صدی بعد/ناصر عباس نیّر

ادب و فن اسی فانی زندگی کو لکھتے ہیں، اسے سمجھنے، بدلنے یا پھر جیسی یہ زندگی اس لمحے ہے اور انسانی تجربے میں آتی ہے، اسی طرح پیش کرنے کے لیے، لیکن کوئی ادیب لافانی ہونے کی آرزو سے←  مزید پڑھیے

آرٹیفیشل انٹیلیجنس بمقابلہ انسانی تخیّل/ناصر عباس نیّر

جنریٹو مصنوعی ذہانت کے پاس تخلیق، تفہیم اور ابلاغ کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔ وہ موسیقی ترتیب دے سکتی ہے، شاعری لکھ سکتی ہے، فکشن لکھ سکتی ہے، مصوری کرسکتی ہے۔ علمی مقالات لکھ سکتی ہے۔ علمی مقالات کے خلاصے←  مزید پڑھیے

آدمی کے اندر کی جگہیں /ناصر عباس نیّر

ہر آدمی کےاندر ایک” جگہ ” ہوا کرتی ہے، جو کسی نقشے کے تحت تعمیر ہوتی ہے۔ کبھی یہ نقشہ دوسرے ترتیب دیتے ہیں، کبھی آدمی خود، کئی بار دونوں مل کر۔ یہیں وہ زندگی بسر کرتا ہے، اور یہیں←  مزید پڑھیے

ورغلایاہواآدمی /ناصر عباس نیّر

اوائل سردیوں کی شام کی ایک چھینک ، رات تک بدترین زکام میں بدل سکتی ہے،اور زکام آدمی کو کئی دنوں کے لیے نکما اور قابل رحم بناسکتا ہے۔ یہ زندگی کی عام سچائی ہے اور اسی لیے مسلسل نظر←  مزید پڑھیے

طلوع صبح کہاں ، ہم طلوع ہوتے گئے‘‘:مجیدامجدکی برسی پر/ناصر عباس نیّر

ضیہ بیکراں فضائیں جہاں اپنے چہرے سے پردہ الٹ دیا ہے نمودِ حیات نے شاداب مرغزار کہ دیکھی ہے جس جگہ اپنے نمو کی آخری حد ڈال پات نے گنجان جھنڈ جن کے تلے کہنی سال دھوپ آئی کبھی نہ←  مزید پڑھیے