کئی برس ہوتے ہیں اک چار پانچ سال کا بچہ رو رہا تھا۔ بچے کا باپ کچہری سے گھر آیا تو پوچھا کیوں رو رہے ہو۔؟ بچے نے اٹھارہ برس بڑی اپنی تایا زاد کی طرف اشارہ کر کے کہا← مزید پڑھیے
اسلام آباد ایک خاموش شہر ہے اور خاموشی کی اپنی زبان ہوتی ہے۔ جب کبھی اس شہر جانا ہوا تو یونہی لگا جیسے کائنات ٹھہر گئی ہے، خیر لاہور سے جانے والے کو ہر شہر میں کائنات ٹھہری ہوئی ہی← مزید پڑھیے
محترم چیف جسٹس نے ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام کا نوٹس لے کر بالکل درست اقدام کیا کیونکہ الزامات شدید نوعیت کے تھے اور انتہائی ہیجان انگیزی کا باعث بنے۔ خدا جانے اگر نوٹس نا لیا جاتا تو ڈاکٹر شاہد← مزید پڑھیے
جب مجھے یقین ہو گیا کہ معصوم افسردہ شکل بنا کر گورنمنٹ کالج کی پراسپکٹس کو دیکھنے اور آہیں بھرنے کی اداکاری کے باوجود میرے والد اپنے تعلقات لڑا کر میری کوئی مدد نہ کریں گے تو مایوس ہو کر← مزید پڑھیے
لکھنا تو تھا اقبال لالہ پر جنھیں جانے کیوں ہر بار ایوب لالہ کہنے کو جی کرتا ہے، لکھنا تو تھا ایک سکرٹ پر جو منصف اعلی کو پریشان کرتا ہے، مگر لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا← مزید پڑھیے
اگر کوئی پوچھے کہ کالج سے میں نے کیا کمایا تو بلا توقف کہوں گا’ شیرو دادا۔ شیرو دادا کالج کے پہلے دن میرا دوست بنا اور آج تک روح کا بھی ساتھی ہے۔ اب میرے ایک کرم فرما کی← مزید پڑھیے
عرصہ ہوا کہ نیا نیا یوکے آیا تھا۔ کسی جگہ کھڑا تھا اور ایک بہت پیاری سی بچی کھیل رہی تھی، مجھے اپنی ماہ نور یاد آ گئی اور اسے مسکرا کر کھیلتے دیکھنے لگا۔ یکدم دو تین لوگ میرے← مزید پڑھیے
دسمبر کی ایک سرد رات تھی جب وقاص خواجہ نے مجھے میلان کندیرا کے متعلق بتایا۔ چلئیے زرا وقاص خواجہ کو بھی یاد کر لیں۔ قدرت کچھ فن کچھ گھرانوں میں رکھ دیتی ہے مگر ذہانت، میں نے ایک چین← مزید پڑھیے
2007ء کے بعد بگڑتے ہوئے معاشی حالات نے برطانوی عوام اور حکومت کو شدید متاثر کیا۔ کنزرویٹو نے اس معاشی بحران کی ایک اہم وجہ لیبر گورنمنٹ کی امیگریشن پالیسیوں کو قرار دیا اور وعدہ کیا کہ ان کی امیگریشن← مزید پڑھیے
جب میں نے وکالت پڑھنے کی خواہش ظاہر کی تو میرے والد نے کچھ خاص خوشی نہیں دکھائی۔ ایک جج کا بیٹے کو لاء کے بجائے انگریزی ادب میں ماسٹرز کرنے کا مشورہ ایک نوجوان کیلئیے اچنبھے کا باعث تھا۔← مزید پڑھیے
عربوں نے برطانوی سازش کا شکار ہو کر ترک خلافت سے بغاوت کی تو ارض فلسطین انگریز کے ہاتھ آ گئی۔ یہود، جن کا آبائی وطن یہ ارض تھی، ہمیشہ سے اس خطہ پہ حسرت کی نگاہ جمائے بیٹھے تھے۔← مزید پڑھیے
سن اٹھارہ سو ستاون نے برصغیر میں بہت کچھ بدل ڈالا، ہمیشہ کیلئیے۔ مگر سن اٹھارہ سو چھپن میں وہ سب کچھ بدل رہا تھا۔ عظیم مغل سلطنت قدموں پہ تھی گو ابھی سجدے میں جا کر سر کٹانے میں← مزید پڑھیے
مُکالمہ کانفرنس لاہور اختتام کو پہنچی تو پروفیسر نے مجھے کہا”ذرا ویہلے ہو کے ملو مینو” اور مجھے اندازہ ہو گیا کہ میری خیر نہیں۔ اتنی عزت سے بلانے کا مطلب تھا کہ طوفان سے پہلے خاموشی کا سماں ہے۔← مزید پڑھیے
سلسلہ شروع ہوا ہاروی وائنسٹائن سے اور سمجھئیے چھوت کی طرح پھیلا۔ اکتوبر میں اینجلا جولی اور گوئلتھ پالترو جیسی نامی گرامی اداکاراوں نے ہالی وڈ مغل، ہاروی وائنسٹائن پر جنسی ہراسگی کا الزام لگایا اور پھر تو جیسے بارش← مزید پڑھیے
پیارےخالد، میں تم سے کبھی نہیں ملا مگر تمھیں جانتا تو ہوں۔ تمھاری مریم کو تو میں جانتا بھی نہیں۔ مگر پچھلے کچھ دنوں سے تم پہ گزری اذیت میں نے محسوس کی ہے۔ ہاں میری کوئی بیٹی نہیں ہے← مزید پڑھیے
دم تحریر قریب دو سو چار پولنگ سٹیشنز کے نتائج آ چکے ہیں اور محترمہ کلثوم نواز قریب چودہ ہزار کی لیڈ سے محترمہ یاسمین راشد سے جیت رہی ہیں۔ دو سو بیس پولنگ سٹیشنز میں سے دو سو چار← مزید پڑھیے
کراچی کانفرنس میں اہالیان کراچی نے شفقت کی انتہا کرتے ہوے مجھے اساتذہ میں بٹھا دیا۔ اک طرف محترم عقیل جعفری تھے اور دوسری جانب محترم سید انور محمود۔ یکایک مجھے بانہوں میں بھرتے ہوے بولے، میں أپکا بہت فین← مزید پڑھیے
ایک سال گزر گیا۔ مگر ایسے کہ مُکالمہ کو زندگی اور فطرت کا حصہ بنا گیا۔ جب “ہم سب” چھوڑنے پر بھائی مجاھد حسین نے کہا کہ آپ اپنی سائیٹ بنائیے تو پہلا خیال تھا، “بھلا میں کیسے بنا سکتا← مزید پڑھیے
کتنا مشکل ہے نا کسی بچھڑے کو عرصے بعد دوبارہ ملنا۔ جیسے بچھڑنے سے لے کر جدائی تک کا سب عذاب دوبارہ سے اپنی روح پر جھیلنا۔ بالخصوص دو ایسے لوگوں کا جو کبھی کسی قانونی رشتے سے بندھے تھے،← مزید پڑھیے
سال بھر پہلے سائیٹ شروع ہوئی تو ہم بس “اناڑی کا کھیلنا، کھیل کا ستیاناس” کی عملی تصویر تھے۔ غلطیاں تھیں اور “یاروں” کے طعنے۔ جتنا تنگ ہمکو “نوری نستعلیق” نے کیا اتنا تو عمران نے نواز شریف کو نہیں← مزید پڑھیے