بابر اقبال کی تحاریر
Avatar
بابر اقبال
گمشدہ

ہمارے مہربان بینک اور ان کی ستم ظریفیاں۔۔۔بابر اقبال

ہم 2009سے ایک بینک کے کنزیومر ہیں، ہماری تنخواہ اسی کے اکاؤنٹ میں آتی ہے، اچھا خاصا  پرانا تعلق ہے۔ ایک روز رحیم یارخان میں ان کی برانچ کی اے ٹی ایم نے ہمارا کارڈ ضبط کرلیا، رات کا وقت←  مزید پڑھیے

داستانِ زیریں و کھودو ۔۔۔ بابر اقبال

یہ کہانی آپ لوگوں نے سن رکھی ہوگی، اسی زمانے کی ایک اور کہانی آپ کو سنانی ہے۔ جب فرہاد نہر کھود رہا تھا، اس وقت یہ قصّہ زبان زد عام ہوا، اس کی شہرت پڑوس کی بستیوں تک پہنچی، وہاں ایک سردار کی بیٹی زیریں ہوا کرتی تھی، زیریں میں شیریں والی نہ کوئی خوبصورتی تھی نہ کوئی گن، مگر اس نے پانچ سو روپے ماہانہ پر کئی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ رکھے ہوئے تھے جو اس کو ہمہ وقت ’’نمبرون‘‘ قرار دینے پر مصر رہتے۔ ←  مزید پڑھیے

سوہنے رسول ﷺ کا عشق۔۔۔بابر اقبال

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میری نانی جان، نانا کے ساتھ عمرے پر گئیں تھیں، وہ آخری سال تھا جب بحری جہاز کے ذریعے لوگ عمرہ کر سکتے تھے، نانی جان بوڑھی تھیں اور رسّے کے ذریعے بحری جہاز←  مزید پڑھیے

قصّہ ایک بادشاہ اور امیر کا۔۔۔۔بابر اقبال

وہ اتنا امیر تھا کہ اس کے خزانوں کے شمار کے لیے بے شمار منشی رجسٹر اونٹوں پہ لادا کرتے کیوں کہ اس وقت الماریاں نہ ہوا کرتیں تھیں، اس کے خزانوں کی چابیوں کے لیے بڑے بڑے چالیس کمرے←  مزید پڑھیے

قدرت اللہ شہاب کی باتیں۔۔۔۔بابر اقبال

قدرت اللہ شہاب دنیا میں میرے آنے کے بعد فقط تین سال رہے، اس کم عمری میں میں انہیں ظاہر ہے نہیں جان سکتا تھا، کم عمری میں جب میں نے سسپینس اور جاسوسی ڈائجسٹ پر ہاتھ صاف کرنا شروع←  مزید پڑھیے

ایک (آخری) جلالی کالم: عارف، حکمت اور بابا رحمت ۔۔۔بابر اقبال

عصر حاضر کے عارف نے کہا تھا ’’ بےشک کامیابی حکمت میں ہے‘‘، خان نے میری طرف حیرانی سے دیکھا گویا بات سمجھ نہ آئی ہو۔  کتنا ہی  سادہ آدمی  ہے جو اللہ والوں کے ادب سے ناواقف ہے،گو اب←  مزید پڑھیے

ایک (اور) جلالی کالم:یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے۔۔۔بابر اقبال

گذشتہ سے پیوستہ اللہ اللہ کر کے خان کو صبر آیا تو بی بی بولیں ’’ نماز تو رہ گئی، مگر قربانی صاحب حیثیت پر فرض ہے‘‘، خان نے پوچھا کہ کیا قربانی دی جاوے، تو جواب ملا ’’ اللہ کی←  مزید پڑھیے

ایک جلالی کالم: خان کی نماز ۔۔۔ بابر اقبال

بشریٰ بی بی نے کہا۔۔‘‘اپنی جان کو ہلاکت میں مت ڈالو، عیدین تم پر فرض نہیں کی گئیں یہ واجبات میں سے ہیں‘‘۔ ابھی ایک دو دن پہلے ہی سلیم نام کے صحافی نے نواز شریف جیسے مجرم کے بارے←  مزید پڑھیے