• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ایک (اور) جلالی کالم:یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے۔۔۔بابر اقبال

ایک (اور) جلالی کالم:یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے۔۔۔بابر اقبال

گذشتہ سے پیوستہ

اللہ اللہ کر کے خان کو صبر آیا تو بی بی بولیں ’’ نماز تو رہ گئی، مگر قربانی صاحب حیثیت پر فرض ہے‘‘، خان نے پوچھا کہ کیا قربانی دی جاوے، تو جواب ملا ’’ اللہ کی راہ میں وہ چیز قربان کرو جو تم کو سب سے زیادہ عزیز ہو‘‘ یہ سن کر خان شیرو سے لپٹ کر رونے لگا، بی بی بولیں ’’ قربانی درند کی نہیں چرند کی ہے‘‘۔ یہ سن کر خان سکون میں آئے۔

اگلا مرحلہ تھا کہ پہنا کیا جاوے۔ ضروری تھا کہ با وقار بھی ہو اور سادہ بھی۔ خان کے سارے کپڑے پیوند زدہ تھے۔ بڑی مشکل سے ایک کرتا ملا۔ ساتھ کی شلوار سالم نہ تھی تو چوکیدار سے منگوا لی گئی۔ کپڑوں کا مرحلہ طے ہوا، تو جانور منگوانے کا سوال اٹھا۔ خان نے اپنا گلک توڑ دیا۔ اس میں سے کوئی ساڑھے سولہ ہزار نکلے۔ چوکیدار نے کہا ’’ کم از کم بیس ہزار میں صحیح بکرا آئے گا‘‘۔ یہ سنتے ہی اللہ والی نے اپنی نتھ اتار کے اس کے ہاتھ پر رکھی۔ یہ منظر دیکھ کر سب لوگ آبدیدہ ہوگئے۔ ایک وقت تھا یہاں روز بکرے بھونے جاتے اب یہ سادگی!

قربانی سے فارغ ہونے کے بعد پارٹی لیڈران ملنے کے لیے آنے والے تھے۔ خان نے بی بی سے پوچھا ’’ان کی تواضع کیسے ہوگی‘‘۔ اللہ کی اس بندی نے رسان سے جواب دیا ’’ کچھ دن پہلے پاپے منگوا رکھے تھے، ساتھ میں پتی والے چائے ہوگی، اگر مہمان زیادہ ہوگئے تو پانی بڑھا دیا جائے گا‘‘۔

مہمانوں کو بھنی کلیجی پیش کی گئی، چونکہ جلدی میں جو بکرا ملا وہ خصی کے برعکس تھا اس لیے بو بہت تھی، مگر کیا ہے بی بی کا تجربہ! انہوں نے لہسن اور دھنیے کا ایسا استعمال کیا کہ ساری بو دب گئی۔ نعیم الحق پورا پیالہ چٹ کر گیا۔ کہتا جاتا تھا جب بیگم زندہ تھیں ہم کو بھی روٹی ملا کرتی تھی۔

بی بی جو مراقبے میں مشغول تھیں اچانک چونک اٹھیں ان کے چہرے پہ روشنی پھیل گئی، بولیں ’’اللہ بڑا کارساز ہے آپکا دیرینہ مسئلہ حل ہونے کو ہے، اللہ کا ایک پیارا آپ کا کام آسان کرے گا، بے شک خدا ایسے ہی اپنے نیک بندوں کے کام آتا ہے‘‘۔ یہ جاننے کے لیے سب بے چین ہوئے مگر رعب ایسا کہ سورج کو دابے، کسی کی ہمت نہ پڑتی تھی۔

خان کو سرکاری تقریب کے لیے نکلنا تھا۔ اس کا یار، کرکٹ کا شائق ، بخارا کا فرزند زلفی ہونڈا ففٹی لے آیا۔ نہ پروٹوکول کا جھنجٹ نہ تیل کا خرچ۔ بنی گالہ سے قصر وزیر اعظم صرف تیس سے پینتیس منٹ میں مشاق زلفی کسی سوئنگ ہوتی گیند کی طرح لے جاتا تھا۔ لوگوں کے پہچان لینے اور رش لگنے کا جھنجٹ کا حل یہ نکالا گیا کہ خان ہیلمٹ پہن لیتا تھا۔ زلفی کے ہاتھ پر ایک سرخ پٹی بندھی تھی جس کو دیکھ کر سارے پولیس والوں کو راستہ چھوڑنے کا حکم تھا۔ اس سارے بندوبست کے باوجود شہزادوں کی طرح پلا خان اس ملک کے لیے ایسی مشقت سہے ، بی بی یہ درد برداشت نہ کر پاتی تھی۔ ابھی زلفی کک لگانے کو ہی تھا کہ ایک ہیلی کاپٹر نمودار ہوا۔ خان کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی۔ ایسی کیا ضرورت تھی جو یہ فضول خرچی کی گئی۔ مگر بی بی مسکرا رہی تھیں، اللہ جانے کیا ماجرا تھا۔

ہیلی کاپٹر رکا، تو اس سے پاک سرزمین کا وہ فرزند اترا جس کو کبھی اس کا مقام نہیں مل سکا تھا۔ وہ آغا وقار جس کی ایجاد پانی سے چلنے والی گاڑی عربوں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے داب دی گئی تھی، اس نے کہا ’’اے عمران تیرا اقبال بلند ہو، تیرے لیے یہ ہیلی کاپٹر اب پانی سے چلا کرے گا‘‘۔ اس کے ساتھ آنے والے ترجمان زبان دان فواد چوہدری کے چہرے پر بھی بشاشت تھی۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا “اور پائلٹ بھی فی پھیرا پچاس روپے لیا کرے گا”۔ خان کی ناگواری خوشگواری میں بدل گئی۔ اس وقت سب کے ذہنوں میں بی بی کا جملہ گونجا:’’اللہ بڑا کارساز ہے آپ کا دیرینہ مسئلہ حل ہونے کو ہے، اللہ کا ایک پیارا آپ کا کام آسان کرے گا، بے شک خدا ایسے ہی اپنے نیک بندوں کے کام آتا ہے‘‘۔

Avatar
بابر اقبال
گمشدہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *