ہمارے مہربان بینک اور ان کی ستم ظریفیاں۔۔۔بابر اقبال

SHOPPING
SHOPPING

ہم 2009سے ایک بینک کے کنزیومر ہیں، ہماری تنخواہ اسی کے اکاؤنٹ میں آتی ہے، اچھا خاصا  پرانا تعلق ہے۔ ایک روز رحیم یارخان میں ان کی برانچ کی اے ٹی ایم نے ہمارا کارڈ ضبط کرلیا، رات کا وقت تھا، ہم اگلے دن وقت نکال کر بینک پہنچے، بینک کی پالیسی کے مطابق ضبط ہونے والے کارڈ الف صاحب کے پاس جمع ہوجاتے تھے اور ب صاحب کے سسٹم سے ایک ڈاکیومنٹ بننے کے بعد ہمیں ملنا تھا۔ جس روز ہم پہنچے اس دن الف صاحب چھٹی پر تھے، ب صاحب نے کارڈ نکال کر دیکھا اور کل آجائیے، الف صاحب موجود نہیں ہیں۔

اگلے روز وقت نہ  ملنے کے باعث ایک دن چھوڑ کر وہاں پہنچا، الف صاحب موجود تھے، انہوں نے ہمارا کارڈ نکال کر اس کا جائزہ لیا اور پھر سوچ میں گم ہوگئے، چونکہ  دفتر سے وقت نکال کرآیا تھا جی تو چاہ رہا تھا کہ ہاتھ سے کارڈ لے کر بھاگ جاؤں مگر رسم ِدنیا کی وجہ سے بعض رہا، کافی دیر بعد  مراقبے سے باہر آکر بولے کہ ’’ ب صاحب ابھی سیٹ پر نہیں ہیں اس لیے آپ کو کارڈ نہیں دیا جاسکتا‘‘ میں نے ضبط کرتے ہوئے پوچھا ’’ ابھی حیات ہیں، یا پھر اس جہانِ  فانی سے کوچ کر گئے ہیں؟‘‘ انہوں نے جواب دیا ’’ ماشااللہ صحت مند ہیں، ابھی سیٹ پر نہیں ہیں، آپ انتظار کیجیے‘‘ میں جناب ب کی ٹیبل کے سامنے براجمان ہوگیا۔ اب ان کی ساتھ والی کرسی پر بیٹھے صوفی صاحب جن کا نام، م فرض کرلیجیے، کو کھجلی ہوئی بولے ’’ آپ کس سلسلے میں تشریف فرما ہیں؟‘‘ میں نے کارڈ کی ضبطگی اور آنیاں جانیاں بتائیں تو بولے ’’ ب صاحب بچوں کو اسکول سے لینے گئے ہیں، آپ تھوڑی دیر سے تشریف لے آئیں ان کو آنے میں تاخیر ہوگی‘‘ میں خون کے گھونٹ پی کر روانہ ہوا، اگلے روز میں بینک پہنچا تو الف اور ب صاحب دونوں موجود تھے، الف صاحب نے نہایت افسوس کے ساتھ اطلاع دی کہ پالیسی کے مطابق تین دن کے اندر کارڈ وصول نہ کیے جانے کے باعث کراچی برانچ روانہ کردیا گیا ہے۔ یہ سن کر میں ہکا بکا رہ گیا ۔ میں نے کہا ’’ آپ لوگوں کی آپسی موجودگی بینک کی قانونی مجبوری ہے، میرے تین بار آنے کے باوجود ایسے کارڈ کیسے بھیجا جا سکتا ہے؟ وہ بولے ’’ سر یہ تو پالیسی ہے ہم کچھ نہیں کرسکتے‘‘ میں نے اس پالیسی کی منطق سمجھنے کی کوشش کی تو سمجھ یہ ہی آیا کہ آڈٹ ریکوائیرمینٹ پوری کرنی ہوتی ہے۔ خیر ان کی ہجو کہہ کر گھر آگیا۔

سوچا اپنے دوسرے بینک میں ٹرانسفر کر کے اس کے اے ٹی ایم کو استعمال کرنا شروع کردوں، جب اپنے بینک کی ویب سے ٹرانسفر کی کوشش کی تو پتہ چلا بینک نے ٹرانسفر کی وجہ پوچھنے کا نیا فیچر متعارف کروایا، سوچا دیکھ لوں اپنے ہی اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کا کوئی آپشن ہوگا، مگر یہاں بھی دماغ کے استعمال سے گریز تھا، یا تو قرضہ ہوگا، یا کوئی خرید و فروخت۔ سرکار کا قانون یہ ہے کہ اپنی ٹیکس شدہ آمدنی اگر کسی اپنے ہی اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کی جائے تو پچاس ہزار سے اوپر رقم پر ٹیکس ہوگا، اس جہالت کی وجہ سے کم رقم ٹرانسفر کی اور وجہ بھی مجہول بیان کی۔ بینک اس ٹرانزیکشن پر چالیس روپے ڈکار گیا۔

SHOPPING

اب کہانی شروع ہوئی دوسرے بینک کی، جو صالحین کا اسلامی بینک ہے، اس بینک کے اپنے ہی نخرے ہیں، بہرحال یہ تدبیر بنا کر جینا شروع کیا، کوئی مہینے میں دس بارہ مرتبہ چالیس روپے کا ٹیکہ لگا کر اپنے بینک میں ٹرانسفر اور اس کے بعد اپنے پیسے خرچ کرنا، مگر مرزا فرما گئے تھے
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے، شب غم بری بلا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا۔۔
ایک روز رات کو سوچا کہ نیٹ فلکس پر بگ بینگ تھیوری کی نئی قسط دیکھ لوں، پتہ چلا کہ کوئی پیمنٹ ایشو ہے، اپنا اکاؤنٹ لاگ اَن کیا، مناسب پیسے موجود تھے۔ دوبارہ پیمنٹ کرنے کی کوشش کی، مسئلہ برقرار رہا۔ اب بینک فون کیا، کسی آنسہ نے فون اٹھایا، ان کو مسئلہ بتایا تو بولیں ’’ سر، بینک کے شرعی بورڈ کے مطابق نیٹ فلکس حرام ہے، ہم اس کی کوئی پیمنٹ نہیں کرینگے‘‘ اس بار میں گرتے گرتے بچا ’’ عرض کی ’’ آپ مجھے میرے پیسے خرچ کرنے سے کیسے روک سکتے ہیں؟‘‘ انہوں نے کہا ’’ سر، ہم کسی حرام کام کا حصّہ نہیں بن سکتے‘‘ میں نے پوچھا ’’ وہ جو آپ سود پر قرضے دینے کا کاروبار کرتے ہیں وہ چہ معنی دارو؟‘‘ بولیں ’’ سر ہم اسلامی اصولوں کے عین مطابق بینکنگ کرتے ہیں‘‘ ان سے پوچھا یہ جو قرضے آپ دیتے ہیں وہ مرکزی بینک کے کائبور پر نہیں ہوتے؟ بولیں ’’ ان تفصیلات کے لیے بینک کے شرعی بورڈ سے رجوع کریں، شکریہ‘‘
اب ایسے میں کیا کہیے!

SHOPPING

Avatar
بابر اقبال
گمشدہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *