اے ۔وسیم خٹک کی تحاریر
اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

لعنت۔۔ اے وسیم خٹک

 وہ شہرمیں خواتین کی مارکیٹ میں روزانہ دوستوں کے سات سامان خریدنے کے لئے آنے والی خواتین کے ساتھ اپنی ہوس بھری نگاہ سے ریپ کرتا تھا کبھی لڑکیوں کے ساتھ کندھا ٹچ کرکے تسکین پاتا تھا ۔۔کبھی تو حد←  مزید پڑھیے

ماں مجھے بہت ڈر لگتا ہے (جنسی استحصال شدہ لڑکی کی فریاد ) اے وسیم خٹک

ماں مجھے ڈر لگتا ہے ۔ بہت زیادہ ڈر لگتا ہے ہر آہٹ پر اب چونک جاتی ہوں ۔ اب اپنے سائے سے ڈر جاتی ہوں ۔ سورج کی روشنی بدن پر آگ سی لگاتی ہے پانی کی بوندیں تیزاب←  مزید پڑھیے

پشاور پریس کلب دھماکےکے آٹھ سال۔ اے وسیم خٹک

 آج بائیس 22 دسمبر 2017 کو پشاور پریس کلب پر خودکش دھماکے کے  آٹھ  سال مکمل ہوجائیں گے مگر ابھی تک دھماکے میں ملوث عناصر کو نہ ہی گرفتار کیا جاسکا نہ ہی ان کا پتہ لگایا جاسکا کہ کون سے←  مزید پڑھیے

بچے بڑی مشکل سے بڑے ہوتے ہیں ۔۔ اے وسیم خٹک

کسی بھی معاشرے میں لڑکے اور لڑکی کی شادی کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ جب کوئی شادی کے بندھن میں بندھ جاتا ہے ، گر وہ لڑکا ہے تو دلہا اور اگر لڑکی ہے تو دلہن کہلاتی ہے ۔←  مزید پڑھیے

یوتھ کارنیوال کا اختتام پنجاب کیوں آگے رہا ۔۔ اے وسیم خٹک

سپورٹس کمپلیکس قیوم سٹیڈیم پشاور میں چارروزہ جشن یوتھ کارنیوال اپنی بھر پور رعنائیوں، چمک دمک اور رمق کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیاـ ۔ پنجاب یونیورسٹی پہلے نمبر پر جبکہ دوسرے نمبر پر وفاق کی یونیورسٹی قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد←  مزید پڑھیے

شہید بے نظیر بھٹو وومن یونیورسٹی، بیلے ڈانس اور غیر ذمہ دارانہ صحافت ۔اے وسیم خٹک

 غیر نصابی یا ہم نصابی سرگرمیاں کسی بھی تعلیمی ادارے کی پروموشن کے لئے جزو لاینفک بن گئی ہےـ اور پھر اُن سرگرمیوں کی میڈیا کوریج اُس سے بھی ضروری چیزہے جس سے پبلسٹی ملتی ہے اور ادارے کی کاکردگی←  مزید پڑھیے

دھرنوں کا پشاور پر حملوں سے تعلق ۔ اے وسیم خٹک

 اسلام آباد میں لبیک یا رسول اللہ تحریک کا دھرنا اختتام پذیر ہوگیا ہے ـ مگر لاہور میں   شہیدوں کے قصاص مانگنے کے لئے اراکین ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں ـ کیونکہ ان کی دکانداری ابھی ختم نہیں ہوئی←  مزید پڑھیے

عورت مضبوط ہے، کمزور نہیں ۔اے وسیم خٹک

 عورت کے بارے میں مَیں بچپن سے سنتا آرہا ہوں کہ عورت بہت کمزور ہے، لاچار ہے اور بے چاری ہے مگر مجھے گزشتہ پچیس سالوں سے عورت نہ ہی کمزور نظر آئی نہ بے چاری اور نہ ہی لاچار←  مزید پڑھیے

اتفاق۔ اے وسیم خٹک

اُنہوں نے ایک مرتبہ پھر ملک کی بہتری کے لئے اکٹھا ہونے کی منصوبہ بندی کی اور تمام جماعتیں ایک دفعہ پھر اکٹھی ہوئیں کہ اگر ہمارا مقصد ایک ہے تو ہم دور دور کیوں ہیں؟ انہیں اس بات کا←  مزید پڑھیے

مرغیوں اور جانوروں کی عزت بھی خطرے میں ۔ اے وسیم خٹک

وطن عزیز میں جنسی بیماری کے بڑھتے ہوئے واقعات پر عقل انگشت بد نداں ہے. عورتوں کا جنسی استحصال، چھوٹی لڑکیوں کا جنسی استحصال، لڑکوں کے ساتھ جنسی عمل یہ تو بہت پہلے سے چلتی آرہا تھا. اس کے خاتمے←  مزید پڑھیے

سوچنا منع ہے۔۔۔ اےوسیم خٹک

 انسان اور جانور میں سب سے بڑا اور نمایاں فرق سوچ کا ہے۔ـ انسان کو اللہ تعالیٰ نے سوچنے کی صلاحیت سے نوازا ہے وہ مشاہدات اور تجربات سے بھی استفادہ کرتاہے جبکہ جانور ان سے محروم ہوتے ہیں جبکہ←  مزید پڑھیے

نامعلوم افراد۔اے وسیم خٹک

بہت عرصہ سے نامعلوم افراد کا لفظ سنتے آرہے ہیں مگر ہمیں معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اتنی دہشت مچائی ہوئی ہے ۔ یہ لفظ جتنا اب مشہور ہوا ہے اس سے پہلے اتنا  نہیں←  مزید پڑھیے

پچپن لفظی کہانی،آئیڈیل۔۔۔ اے وسیم خٹک

آئیڈیل مسجد کامولوی اُس کا ائیڈیل تھاـ ۔۔ وہ اُس کے وعظوں سے بہت متاثر تھا۔۔ اپنے ذہین بیٹے کو مدرسے میں داخل کرنے کی منصوبہ بندی کی،،، مگر ایک دن اُسے ایک شرمناک خبر ملی ۔ کہ۔۔۔۔ مولوی بچے←  مزید پڑھیے

سپورٹس سائنسز کانفرنس اور سپورٹس سائنسز کے لڑکے ، لڑکیوں کے رویے۔ اے وسیم خٹک

ہمارے ملک میں کھیل کے میدان میں پرفارمنس اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے، ریسرچ ، ٹیچنگ اور کوچنگ کو ہمیشہ نظرانداز کیا گیا ہے جس کی وجہ سے صرف ٹیلنٹ پر انحصار کیا جاتا ہے ، اگر ٹیلنٹ نہیں←  مزید پڑھیے

کہانی کا سبق کیا ہے؟۔ اے وسیم خٹک

گئے وقتوں کی بات ہے۔ایک بادشاہ کو اپنی ملکہ سے بہت محبت تھی۔زندگی سے بھی زیادہ!پھر ایک دن اس کے محل کے باہر ایک ننگ دھڑنگ سادھو آیا۔دربانوں نے بادشاہ سے ملاقات کروانے سے انکار کیا تو سادھو نے لنگوٹ←  مزید پڑھیے

سستی شہرت کا نقصان

دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو شہرت،عزت اور دولت نہ چاہتاہوـ ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ دنیا میں  اُسے اچھے نام سے یادکیا جائے  اُس کی ہر محفل میں تعریف ہو.  تعریف کرنے والا کوئی←  مزید پڑھیے

جمہوریت کاعدم استحکام ،آمر وسیاستدان یکساں ذمہ دار۔۔۔ اے وسیم خٹک

پاکستان کی تاریخ کا بدترین لمحہ وہ تھا جب 1958ء میں فوجی جرنیل ایوب خان نے آئین کو معطل کرتے ہوئے پاکستان میں مارشل لاءنافذ کر دیا۔ ان کے چند اقدامات نے ملک کی جڑوں میں ایسےناسور پیدا کر دئیے←  مزید پڑھیے

سو لفظی کہانی۔ انکار

یہ میرا ڈرامہ ہے۔۔ لکھاری نے پروڈیوسر کے سامنے اپنی کہانی رکھی۔ پروڈیوسر نے پوچھا ۔ کس حوالے سے ہے ڈرامہ؟ لکھاری نے کہا موجوہ صورتحال پر ہے ۔ پروڈیوسر نے کہانی کا پلاٹ پڑھا ۔ لڑکیاں ہیں ؟ جی←  مزید پڑھیے

سو لفظی کہانی۔لندن بابو

اُس کو ملک چھوڑے ہوئے تیس سال ہوگئے تھے۔ اس وقت ملک میں امن تھا ۔جب ملک آئے تو۔۔ درہ آدم خیل میں چیک پوسٹ پر لمبی قطار دیکھی ، تو انہوں نے گاڑی سب سے آگے روک دی ۔←  مزید پڑھیے

افغانستان کا یوم استقلال اور پاکستانی دانشور۔۔۔ اے وسیم خٹک

کچھ دن پہلے میں ایک عجیب مخمصے کا شکار تھا جب میرے پاکستانی دوستوں کی سوشل میڈ یا پر افغانستان کے حوالے سے مبارکباد کی تصویریں لگ رہی تھیں اور وہ ایک دوسرے کو افغانستان کے یوم استقلال کے حوالے←  مزید پڑھیے