فتح مکہ اور مدینے کی محبت۔۔منصور ندیم

چشمِ فلک حیرت سے پلک جھپکنا بھول چکی تھی، نسلِ انسانی کے  سب سے بڑے  انسان محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم آج سے 1400 پہلے ایک ایسے شہر کی جانب لشکر کشی کے لئے جارہے  تھے ، جہاں سے وہ رات کے اندھیرے میں اپنی جان کی حفاظت کے لئے نکلے  تھے ، آج وہ لشکر و افرادی قوت سے اتنے  طاقتور تھے  کہ آرام سے اس شہر کو فتح کرتے کہ جہاں کی زمین اِن کے خون کی پیاسی تھی،جہاں کے لوگوں نے  ساتھیوں سمیت اِن پر  وہ ستم کیے تھے کہ انہیں جان بچانے کے لئے شہر بدر ہونا پڑا۔

جہاں اِن  کے چچا حضرت عباس مکہ کے سردار ابو سفیان کو اونچے ٹیلے پر لے گئے جہاں سے لشکر کے دستے شہر میں داخل ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔

اس وقت ایک صحابی (جو دستے کے سپہ سالار بھی تھے) نے جھنڈا لہراتے ہوئے اعلان کیا ،الیوم یوم المرحمہ ، ترجمہ :(آج بدلے کا دن ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا الیوم یوم الرحمہ (آج معاف کرنے کا دن ہے)، اور جھنڈا باپ سے لے کر ان کے بیٹے کو دے دیا۔

جب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی مکہ شہر میں داخل ہوئی تو اس بخشے ہو ئے اعزاز ِ فتح پر فاتح کا سر عجز اور شکرانے پر جھکا ہوا تھا، اس وقت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا سر اتنا زیادہ جھکا ہوا تھا کہ داڑھی کے بال کجاوے کی لکڑی کو چھو رہے تھے اور زبان پر سورہ فتح کی آیات مبارکہ جاری تھیں ۔

محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی ترتیب یوں کی تھی کہ مکہ میں لشکر مختلف اطراف سے داخل ہوا تھا، اور سب مختلف اطراف سے داخل ہوکر اپنے اپنے مقامات پر ٹھہرے رہے ،یہاں تک کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، اِس کے بعد یہاں سے آگے بڑھے ،آگے پیچھے چاروں طرف موجود انصار و مہاجرین کے جلو میں مسجدِ حرام کے اندر پہنچے اور بڑھ کر حجرِ اسود کو چوما، پھر بیت اللہ کا طواف کیا ،اِس وقت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک کمان تھی بیت اللہ کے گرد اور اس کی چھت پر تین سو ساٹھ بت تھے ،محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اسی کمان سے ان بتوں کو ٹھوکر مارتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے، جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا۔
ترجمہ :حق آگیا اور باطل چلا گیا، باطل جانے والی چیز ہے۔

آج محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم چلنا تھا ، آج بیس سال کی  گئی ریاضتوں کا دن تھا، جس مقصد کی دعوت دی تھی آج وہ دن آگیا تھا، آج جھوٹے معبودوں سے خانہ کعبہ کی تطہیر کرنی تھی، تطہیرِ کعبہ کے فورا ً بعد محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ فام غلام بلال کو بلایا اور کعبہ کی چھت پر چڑھ کر آذان دینے کا حکم دیا ،اور پھر مکہ کے گلی کوچے اور گھاٹیاں سرمدی نور میں نہائی ہوئی گونج سے چھلکنے لگے ۔ بلال نے اذان دی ،پھر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت میں مسلمانوں نے نماز ادا کی ۔

آج مکہ کے قریش مسجدِ حرام میں گردنیں جھکائے کھڑے تھے ،مسجدِ حرام کھچا کھچ بھر چکی تھی، قریش مکہ کو انتظار تھا کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم آج کیا سلوک کریں گے  ، وہی جو ہر فاتح آج تک مفتوحین کے ساتھ کرتا رہا تھا، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے دروازے پر آئے ،نیچے قریش کھڑے تھے، مکہ فتح ہوچکا تھا اور تمام مکہ بحیثیت ایک مجرم کے حاضر تھا۔

محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا! قریش کے لوگوں تمھارا کیا خیال ہے، یہ سوال ان سے پوچھا جارہا تھا جس قوم کی طرف سے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اور اِن  کے ماننے والوں کو کیا کیا دکھ نہ مل چکے تھے۔ کس طرح یہ سرزمین ان کے خون کی پیاسی رہی تھی۔

محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : “لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ”
ترجمہ : آج کے دن تم پر کوئی ملامت نہیں۔ تمہیں معاف کیا جاتا ہے۔ کیا وسعت  و حوصلہ تھا اور کیا کھلے دل کی مثال تھی۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے نا صرف معاف کیا، بلکہ اعلان کیا کہ مہاجرین کی جائیدادیں جو کافروں کے قبضہ میں تھیں، ان کو واپس نہیں مانگا جائے گا۔ بلکہ مہاجرین کو ہی اپنے حقوق چھوڑنے کی تلقین کی۔ ابوجہل کا بیٹا عکرمہ اس موقع پر بھی دو مسلمانوں کو قتل کرکے خوفزدہ ہو کر کہیں بھاگ گیا۔ اس کی بیوی نہایت پریشانی کے عالم میں بارگاہ ِ محمد عربی میں حاضر ہو کر اپنے خاوند کے لئے معافی کی خواستگار ہوئی۔ محمد عربی نے عکرمہ بن ابوجہل کو بھی معاف کیا۔ بلکہ اپنے چچا حضرت حمزہؓ کا جگر چبانے والی ہندہ  زوجہ  ابو سفیان کو بھی معاف کر دیا۔ مدینہ جاتے ہوئے اپنی پیاری بیٹی سیدہ زینب کو اونٹ پر برچھی مارنے والے ہبار ابن اسود کو بھی معاف کردیا۔

پھر کعبہ کے متولی عثمان کو بلوایا ، پوچھا عثمان بن طلحہ کہاں ہے ،تو خزاں رسیدہ پتے کی طرح لرزتا بوڑھا سامنے آیا، اس کا چہرہ خوف سے فق تھا ،محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، “عثمان وہ دن یاد ہے جب میں نے تم سے چابی مانگی تھی؟، عثمان سر جھکائے کھڑا تھا ،بولا جی حضور مجھے ایک ایک بات یاد ہے( اس وقت چابیاں محمد عربی کے ہاتھ میں تھیں،) اور تم نے انکار کیا تھا، تو میں  نے کہا تھا “عثمان ایک دن آئے گا جب یہ چابیاں میرے پاس ہو نگیں اور میں جسے چاہوں گا دوں گا” تو تم نے قہقہہ  لگایا تھا اور کہا تھا “کیا اس دن قریش مر جائیں گے، تو میں نے کہا تھا “نہیں وہ تو قریش کی سچی عزت کا دن ہو گا” دیکھ لو عثمان وہ عزت کا دن آگیا۔

پھر محمد عربی نے عثمان کو پاس بلایا، چابیاں اس کے ہاتھ پر رکھیں اور کہا “جا یہ چابیاں ہمیشہ تم اور تمھارے خاندان کے پاس رہیں گی اور یہ اعزاز آج تک عثمان بن طلحہ کے خاندان کے پاس ہے ۔یہ اعزاز کسی اور قبیلے یا شخص کو نہیں دیا۔ بلکہ آج تک یہ چابیاں اسی قبیلے کے پاس ہیں۔

وطن واپس آنے والے مہاجرین کو نہ ان کے گھر واپس دلوائے اور نہ ہی کوئی جائیداد۔ آدرش اور محبت میں چھوڑی گئی جائیدادیں ایک انوکھی قسم کی کمیونزم اور سوشلزم ہے ،جو روس کے انقلاب سے کئی سو سال پہلے نظر آئی تھیں، مگر آج کا اسلام کا مبلغ یہ سب بھول بیٹھا ہے۔

خیر مکہ فتح تو ہوا، مگر محمد عربی تو مدینے کے  ہوگئے ،
مکے کے واسیوں کو مہاجرین کی جائدادیں مبارک۔۔
مگر محمد عربی تا عمر وصال مدینے کے  رہے ۔
اک مکے کے پردیسی ،جو زخمی پاؤں سے ہجرت کے دوران مدینہ پہنچے تھے ۔۔ گھر واپسی پر بھی مکے کے  نہ ہوئے۔

محمد عربی جب مدینہ میں داخل ہوئے تو اس مقام کے قریب مدینہ کی بچیوں نے اس قصیدے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا تھا۔

طلع البدر علينا
من ثنيات الوداع
وجب الشكر علينا
ما دعى لله داع
أيها المبعوث فينا
جئت بالأمر المطاع
جئت شرفت المدينة
مرحبا يا خير داع

یہی وہ جگہ تھی جہاں مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی نماز فجر پڑھی تھی ، اکثر لوگ مسجد قباء کو پہلی نماز کی جگہ سمجھتے ہیں، مگر پہلی نماز اس مقام پر پڑھی تھی، مسجد قباء یقینا ًاسلام کی پہلی مسجد تھی، مگر مدینہ کی پہلی نماز کا مقام   تصویر میں موجود ہے، یہ جگہ آج تک ویسے ہی موجود ہے، کھجوروں کے باغات کے وسط میں چھوٹا سا کچا مصلہ ہے ، اس کی دیواریں بھی اسی حالت میں موجود ہیں۔

آنے والے دنوں میں مدینے کے جن انصاروں نے دین کو ریاست اور سلطنت بخشی انہیں کتنا اور کب اقتدار ملا بھی یا نہیں ،مگر ایک بات ضرور ہے ،انصار نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبتوں کا رشتہ ضرور جوڑ لیا تھا محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم مدینے  کے ہوگئے ۔

(نوٹ : یہ تصویر 28 جنوری 2020 کو مغرب کے وقت لی گئی تھی اس لئے بہت صاف نہیں ہے۔ اس مقام کو یہاں مقامی لوگ مسجد مصباح بھی کہتے ہیں، عربی میں مصباح کے معنی ” لیمپ، روشنی یا، قندیل کے ہیں ،چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں وقتِ  فجر پہنچے تھے اور طلوع سحر کا وقت قریب تھا ،اسی نسبت سے اسے مصباح کہا جاتا ہے۔)

یہی دن تھے جب فتح مکہ ہوا، مختلف روایات کے مطابق 16، 17 اور 20 رمضان کو فتح مکہ ہوا، اس لئے زیادہ وثوق سے کوئی دن نہیں لکھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *