پرانی اپوزیشن اور نئی حکومت۔۔۔عبدالرؤف خٹک

SHOPPING

اگر دیکھا جائے تو اس وقت پی ٹی آئی کو اک زبردست اپوزیشن میسر آئی ہے ، اگر اپوزیشن چاہے تو پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم دے سکتی ہے ، لیکن اس کے لیے اپوزیشن میں بیٹھی جماعتوں کو ایک ہونا پڑے گا ،متحد ہونگے تو اپوزیشن مضبوط ہوگی ، اگر دیکھا جائے تو اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت اک کمزور سی حکومت نظر آتی ہے ، اس کے تمام وزراء جو اس وقت اپنے عہدوں پر براجمان ہوچکے ہیں ان میں زیادہ تر نئے ہیں اور وہ بالکل بھی اپنے عہدوں کے لئے موزوں نہیں لگتے، ہر وزیر میڈیا کے سامنے اک نئی بانسری بجا رہا ہوتا ہے ،اس کے ساتھ ساتھ ہمارے وزیراعظم صاحب بھی پہلی بار اس ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے ہیں ،وہ بھی فیصلوں میں جلد بازی کرجاتے ہیں ،جو ان کے لیے بعد میں شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے ۔

لیکن اس حکومت کو جو اپوزیشن اس دفعہ ملی ہے وہ اک تگڑی اور تجربہ کار اپوزیشن ہے وہ سب وزارتوں کے مزے چکھ چکے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اپوزیشن کا رول کیسے ادا کیا جاتا ہے ؟ لیکن اس وقت اپوزیشن متحد ہوتی نظر نہیں آتی ،اپوزیشن نے شروع ہی سے کمزور رول ادا کیا ،چھوٹی جماعتوں کی کوشش یہی ہے کہ حکومت کو شروع ہی سے ٹف ٹائم دیا جائے ، لیکن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے باہمی اختلافات کی وجہ سے اپوزیشن وہ رول ادا نہیں کر پارہی جو ادا کرنا چاہیے تھا ،اسکی واضح مثال وزیراعظم  کا چناؤ تھا یا صدر کا چناؤ دونوں بار اپوزیشن بکھری نظر آئی ،اگر شہبار شریف کی وزارت عظمی کے لئے پیپلز پارٹی تیار نہیں  تھی ،وہیں صدر کے چناؤ کے لیے اعتزاز پر مسلم لیگ کو تحفظات تھے ، دونوں صورت میں فائدہ حکومت کو  ہوا ۔

محسوس یہ ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی اندرون خانہ پی ٹی آئی کو سپورٹ کررہی ہے یا اس کا جھکاؤ حکومت کی طرف ہے ، اور خان صاحب بھی اپنی تقریروں میں کہہ چکے ہیں کہ ہم سندھ حکومت کے ساتھ ٹکراؤ نہیں چاہتے  بلکہ ان کے ساتھ ملکر کام کریں گے ،اپوزیشن جو اس وقت بکھری پڑی ہے اور مولانا فضل الرحمن صاحب کی پوری کوشش یہی ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں متحد ہوکر حکومت کو ٹف ٹائم دے اور اس کو اس کے وہ وعدے یاد دلائیں جو حکومت بننے سے پہلے عوام سے کیے گئے تھے ،
اپوزیشن کے ساتھ ساتھ میڈیا نے بھی حکومت کو دانت دکھانا شروع کردئیے ہیں ،وہ بھی حکومت میں بیٹھے وزیروں کو اپنے ٹاک شوز میں بلا کر انھیں ان کے کیے وعدے یاد دلائے جارہے ہیں ۔

حکومت کی پوری کوشش یہی ہے کہ ہمیں تین مہینے کا وقت دیا جائے ،اس کے بعد تنقید آپ کا حق ہے ، تین مہینوں میں حکومت کی کارکردگی آپ کے سامنے آجائے گی ،
کیا حکومت واقعی تین مہینوں میں کوئی تبدیلی لا پائے گی ؟ کیونکہ حکومت کے وعدے منوں وزنی ہیں ،اور وہ تین مہینوں میں صرف درختوں کا جال ہی بچھا دیں تو لوگوں کو اس بات کا یقین دلایا جاسکتا ہے کہ اگر درخت لگ سکتے ہیں تو پچاس لاکھ گھر بھی بن سکتے ہیں اور ایک کروڑ نوکریاں بھی مل سکتی ہیں ، لیکن اس کے لیے انتظار کرنا پڑے گا اس حکومت کو اگلی باری کا ۔

خان صاحب کے وعدے قوم کو بھاتے تو تھے  لیکن ان پر عمل کرنا اک عرصہ مانگتا ہے ،یہ تین مہینوں کے بس کی بات نہیں ،اپوزیشن اس بات کو بخوبی جانتی ہے کہ خان صاحب قوم سے جو وعدے کربیٹھے ہیں ،وہ دنوں میں حل ہونے والے نہیں ، اور خان صاحب کی حکومت میں بیٹھے ان لوگوں میں بھی وہ دم خم نہیں کہ  وہ خان صاحب کے معیار پر پورا اتریں ،دیکھتے ہیں یہ نئی حکومت اپنی پالیسیاں کیسے تشکیل دیتے ہیں ؟ بھارت کے ساتھ مذاکرات ہوں یا امریکہ کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ ٹریک پر لانا ،یہ اس حکومت کے لئیے ایک بہت بڑا چیلنج بھی ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو جو کافی عرصے سے سرد مہری کا شکار تھے اسے دوبارہ اپنے موڑ پر کیسے لاتے ہیں ؟ اگر دیکھا جائے تو اس وقت شاہ محمود قریشی جو وزیر خارجہ بھی ہیں جو اس سے پہلے بھی پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزیر خارجہ رہ چکے ہیں ، اور اک منجھے ہوئے سیاست دان بھی ہیں ،اور وہ کافی مہارت بھی رکھتے ہیں خارجہ امور پر ، امید ہے کہ وہ پاک امریکہ تعلقات کو بہتری کی طرف لائیں گے ۔

SHOPPING

عمران خان کی کوشش یہی ہے کہ جتنا جلدی ہوسکے ہم عوام کو سرکاری طور پر جو ریلیف دے سکیں وہ دیں ،تاکہ عوام کو بھی نظر آئے کہ کام ہو رہا ہے ، یہ بھی یاد رہے کہ اس ملک میں ستر سال سے جو تماشے ہوئے ہیں وہ پل بھر میں ختم ہونے والے نہیں ، وعدے اپنی جگہ لیکن گند صاف کرنا اتنا آسان نہیں ہے ،اس میں سالوں لگ سکتے ہیں ،بس نیتیں صاف ہونی چاہیے ،اور انتقامی سیاست سے گریز کرنا چاہیے ،امید ہے یہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کریگی اور اپوزیشن کو بھی ساتھ لیکر چلے گی اور قوم سے کیے  وعدوں کو بھی نبھانے کی کوشش کرے گی ۔

SHOPPING

Avatar
Khatak
مجھے لوگوں کو اپنی تعلیم سے متاثر نہیں کرنا بلکہ اپنے اخلاق اور اپنے روشن افکار سے لوگوں کے دل میں گھر کرنا ہے ۔یہ ہے سب سے بڑی خدمت۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *