گنے کے کاشتکاروں کی بھی سُن لیں۔۔شاہد یوسف خان

فیس بُک پر گردش کرتی ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈیرہ غازی خان کی ایک شوگر مل کے باہر  گنے سے لدی ٹرالیوں کی تصویر دیکھی اور وہاں پر شوگر مِل مافیا کے چند ڈنڈے اٹھائے ‘آدمیوں ” کو دیکھا جو کسانوں  کو وارننگ دے رہے ہیں۔ ویسے کسانوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے  کیونکہ ان کی سال بھر کی محنت  فضول سی تو ہے۔ کسان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ،صرف نعرہ ہے جو کسانوں کے ساتھ اس طرح کے رویوں کے لیے بنایا  جا چُکا ہے ۔ شوگر ملز  مُلکی معیشت میں بھی ایک اہم حیثیت رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک مافیا کا درجہ رکھتی ہیں  اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مافیا کی سرپرستی    ہمارے سیاستدانوں کے ذمہ  ہے، اپوزیشن سے لے کر حکومت تک سب اس میں ان پانچ انگلیوں کی طرح کسان کو لوٹتے  ہیں جیسے پانچوں انگلیاں لقمے پر ایک ساتھ حملہ آور ہوتی ہیں۔

گنے کا کسان اس وقت  مشکل  صورتحال سے گزر رہا  ہے  کئی کئ دن مل کے باہر ٹرالیاں کھڑی کرکے انتظار کرنا پرتا ہے اور ریٹ بھی پورا نہیں ملتا۔  اس وقت 180 روپے  گنے کا سرکاری نرخ ہے جو کسانوں کو 160،170 مل رہا ہے یہاں آپ کو بتاتا چلوں سوکھی لکڑی 450 روپے من اور گیلی لکڑی 350 روپے من فروخت ہو رہی ہے۔    کسانوں نے کافی حد تک کوشش کی ہے کہ کہ گُڑ بنا کر وہیں بیچا جائے لیکن ایک کسان سے معلوم ہوا تو انہون نے بتایا کہ گُڑ بنانے مین بھی کافی مشکل ہوتی ہے اور اس ے بھی دکانداروں کے ہاں بیچنے میں کافی تکلیف ہوتی ہے ۔

گزشتہ دنوں لاہور سے ڈیرہ غازی خان جانا ہوا تو  ملتان ڈیرہ روڈ  کی تعمیر  کی وجہ سے ایک گھنٹے کا سفر پانچ گھنٹے میں طے کرنا پڑا۔ روڈ کی تعمیر اپنی جگہ لیکن یہ سفر کی تکلیف ان گنے سے لدی ٹرالیوں کی وجہ سے ہوئی جو اس چھوٹی  سی   سڑک پر خود بھی پھنسی ہوئی تھیں اور  دوسری ٹریفک کے لیے بھی مسئلہ بن رہی تھیں۔ میرے ساتھ سفر کررہے ایک   شخص نے بتایا کہ یہ ٹرالیاں وہ چار پانچ روز پہلے سے دیکھ کر گئے اور اب لائن بڑھ چُکی ہے   وہ اس لیے رُکی ہوئی ہیں کہ انہیں ملز میں داخلے کی اجازت نہیں مل رہی ۔ پھر سوچا کہ ڈیرہ غازی خان  میں  کسی بھی عہدیدار نے  ضلع بھر میں ایک شوگر مل  تک نہیں  بنائی ورنہ لوگ اتنے ذلیل نہ ہوتے ۔ ایک صحافی دوست نے بتایا کہ ساٹھ ستر کی دہائی میں ڈیرہ غازی خان  کو شوگر مل فری زون قرار دلوایا گیا تھا اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ڈیرہ ڈویژن کپاس کی فصل کا گڑھ ہوتا تھا۔ لیکن اب حالت یہ ہے کہ کسان کپاس کی کاشت سے مکمل طور پر اکتا چُکے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ  مناسب  نرخ نہیں مل رہا ۔ خاکسار  نے خود  چھوٹی سی زمینداری کا تجربہ  کیا  ہوا ہے  اور کپاس کی کاشت کر کے  نقصان دیکھا ہوا ہے لیکن حکومت  اس جانب کبھی سوچتی ہی نہیں۔

پچھلی کچھ دہائیوں سے  سیاست دانوں کی طرف سے شوگر ملز لگانے کے رجحان میں بہت اضافہ ہوا ہے ۔  اس کی بڑی  وجہ شوگر ملز کے کاروبار میں ہونے والا بے پناہ منافع ہے۔ پاکستان میں اعداد و شمار کے ذریعے منافع ، اثاثوں اور دولت کو ثابت کرنا بہت مشکل کام ہے کیوں کہ معیشت کا ایک بڑا حصہ ” کاغذی ریکارڈ ” میں درج نہیں ہے اور اس کو طاقتور لوگ  مخفی رکھنے میں کامیاب چلے آرہے ہیں ۔  پاکستان میں تو آبادی ، بجٹ ، سالانہ   پلاننگ اور شرح اضافے یا گراوٹ کے تمام اعدادو شمار ” اندازوں ” پر مبنی ہوتے ہیں کیوں کہ یہاں دہائیوں تک مردم شماری نہیں ہوتی اور اگر ہوتی ہے تو سندھ اور بلوچستان کے بیشتر حصوں میں اعداد و شما ر  اکھٹے کرنے میں رکاوٹیں ہونے کی وجہ سے  بجلی کے میٹروں کی فرضی ریڈنگ کی طرح کا عمل دُہرا کر “فرضی اعدادوشما ر ” گھڑ  لیے   جاتے ہیں ۔  مگر شوگر ملز مالکان کتنا کما رہے ہیں اس کا اندازہ   ہم ان کی صنعتی  عمارتوں   کی تعمیر   اور جائیدادوں کی خرید و فروخت سے  لگا  سکتے ہیں ۔ مثلاً جمال دین والی میں جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز کے نام سے 1991ءمیں شوگر مل لگی ۔ اس کے مالکان جہانگیر ترین اور مخدوم سید احمد محمود نے پندرہ سولہ سال کے دوران یونائیٹڈ شوگر ملز ، ماچھی گوٹھ  کو خریدنے کے علاوہ گھوٹکی میں اور ڈھرکی میں بھی شوگر ملز قائم کر لیں  اور اب رحیم آباد کے قریب شوگر مل  لگانے کا منصوبہ ہے ۔

دریں اثناء اسی گروپ نے ونڈ ا بنانے کی فیکٹری ،پاکستان کا بڑا لائیوسٹاک فارم قائم کیا  ہے ۔ پیپرز ملز اور بجلی بنانے کے منصوبے اس کے علاوہ ہیں ۔ جبکہ ہزاروں ایکڑ اراضی یا خرید لی ہے یا ابھی تک اس کولیز پر ظاہر کیا جا رہا ہے ۔  اپنی دولت اور اس کی وجہ سے قائم سماجی بر تر ی کی وجہ سے حکمرانی کے ایوانوں میں ان کا اثر و رسوخ فیصلہ کن حد تک ہوتا ہے ۔ پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کی مر کزی قیادتیں ، شوگر ملز کے بے پنا ہ منافعوں کے حصول کی دوڑ میں لگی ہیں ، جن میں پاکستان مسلم لیگ کے سر براہان میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر پرسن آصف علی زرداری ،مرکزی رہنما مخدوم سید احمد محمود ،رکن مر کزی کمیٹی ذکاء اشرف ،پاکستان تحریک انصاف کے مر کزی سیکر ٹری جنرل جہانگیر ترین ، پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کے صدر چوہدری شجاعت حسین ،  چوہدری پرویز الہٰی ، چوہدری منیر ہدایت  اللہ ، خسروبختیار ، سردار نصراللہ دریشک ، ہمایوں اختر ، ہارون اختر ،  میاں اظہر ،میاں الطاف ، سلیم وغیرہ شامل ہیں ۔  اس وقت ملک میں کام کرنے والی شوگر ملز کی تعداد 90 کے قریب ہو چکی ہے جو انہی سیاستدانوں کی ملکیت میں ہیں ۔

لیکن  ہم جیسے   انصاف تلاش  کرنے کہاں جائیں ۔۔ یہ ملز مافیا سیاسی حوالے سے  تو ایک دوسرے کا مخالف ہے لیکن  کسانوں کو لوٹنے کے  حوالے سے سارے متحد ہیں۔ آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ پارلیمنٹ میں کبھی گنے، کپاس، گندم یا  کسانوں کے کسی بھی مسئلے پر کوئی بحث ہوئی ہو، کبھی نہیں، کیونکہ یہ اکثریتی ووٹ دینے والا اور ملک کی معیشت کو چلانے والا طبقہ ہمیشہ سے ہی نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔

بدقسمتی یہ  کہ عدالتوں نے بھی  کسانوں کی بہتری کے لیے آ ج تک کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ فاضل عدلیہ کے نوٹسز سے یہی لگتا ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ سیاست ، اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا ہے۔ اس وقت ملک عزیز کو کسانوں نے بہت  سہارا دیا ہوا ہے لیکن کسانوں کو سہارا دینے والا کوئی نہیں بلکہ  دھکے دیے جا رہے ہیں۔

شاہد یوسف خان
شاہد یوسف خان
علم کی تلاش میں سرگرداں شاہد یوسف خان ایم اے سیاسیات اور صحافت مکمل کر چُکے ہیں ۔ سیاسی و سماجی موضوعات پر سوالات کرتے رہتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *