• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ریٹائرڈ ایڈمرل محمد شریف اور گمشدہ حقائق۔۔۔ثقلین امام

ریٹائرڈ ایڈمرل محمد شریف اور گمشدہ حقائق۔۔۔ثقلین امام

گزشتہ ماہ کے آخری ہفتے پاکستان نیوی کے دوسرے چیف آف سٹاف اور پاکستانی افواج کی جائینٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے دوسرے چئیرمین، ریٹائرڈ ایڈمرل محمد شریف سو برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔
پاکستانی بحریہ کے سربراہ کے طور پر ان کو فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا  گیا اور اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلوں نے اُن کی خدمات کا ذکر کیا، لیکن سنہ1977 کے مارشل لا ءاور آج کی بیوروکریسی کی تشکیل میں اُن کے گھناؤنے کردار پر کوئی بات سننے میں نہیں آئی،یا شاید میں نے نہیں سُنی۔
دیگر پرانے اور سینئر فوجی افسران کی طرح مرحوم ایڈمرل محمد شریف انگریزوں کے زمانے میں   بحریہ میں شامل ہوئے۔دوسری جنگ میں بھی حصہ لیا۔
سنہ 1965 کی جنگ میں انتظامی کام کیا، لیکن سنہ 1971 میں 16 دسمبر کے اُس بدقسمت موقع  پر پلٹن میدان ڈھاکہ میں موجود تھے، جب جنرل اے اے کے نیازی نے انڈین جنرل اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے۔
اِسی موقع پر ایڈمرل شریف نے بھی اپنا ذاتی پستول انڈین نیوی کے وائس ایڈمرل نیلا کانتا کرشنن کو ہتھیار ڈالنے کی علامت کے طور پر پیش کیا تھا۔ ایڈمرل صاحب کو انڈیا میں احترام اور عزت کے ساتھ قید میں رکھا گیا تھا۔

لیکن ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ایڈمرل شریف جب جنگی قیدی تھے تو ان سے اُس وقت کے امریکہ بحریہ کے سربراہ ایڈمرل زموالٹ ملاقات کرنے آئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایڈمرل زموالٹ اُن سے اُن کی شکست پر تعزیت کرنے آئے تھے۔

سنہ 1972 کے شملہ معاہدے کے بعد جب اگلے برس پاکستان کے تمام جنگی قیدی انڈیا سے رہا ہوکر وطن لوٹے تو اعلیٰ عہدوں پر فائز اکثر افسران کو نوکریوں پر بحال نہیں کیا گیا تھا، البتہ رئیر ایڈمرل محمد شریف اُن افسران میں تھے جن کو استثنیٰ دیا گیا۔

پاکستانی افواج کی تنظیمِ کے بعد نیوی کے بھی کمانڈر انچیف کا عہدہ ختم کردیا گیا۔ نئے عہدے یعنی چیف آف دی نیول سٹاف پر ایڈمرل حسن حفیظ احمد کی تعیناتی ہوئی۔ لیکن وہ چار برس کی میعاد پوری کرنے سے قبل ہی سنہ 1975 میں انتقال کرگئے۔

اس کے بعد اُس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بلحاظِ ترتیب نچلے افسر یعنی وائس ایڈمرل شریف کو ترقی دے کر چیف آف نیول سٹاف بنا دیا۔ اگر ایڈمرل احسن اپنی میعاد پوری کرتے تو ایڈمرل شریف اُس عرصے میں ریٹائر ہو چکے ہوتے۔

بہرحال ایڈمرل شریف چیف آف نیول سٹاف بننے کے بعد بحریہ کے تنظیمی کاموں میں مصروف ہو گئے۔ لیکن اس دوران وہ اُس زمانے کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیا کے بہت قریب آگئے۔

چند دوست جو سنہ 1977 کے حالات سے واقف ہیں، ان کے مطابق، ایڈمرل شریف بھٹو مخالف اسلامی تحریک کے حامی تھے۔اس زمانے میں حزب اختلاف کی نو جماعتوں کا اتحاد، پاکستان قومی اتحاد، نظامِ مُصطفیٰ کے نفاذ کے نام سے بھٹو مخالف تحریک چلا رہا تھا۔
لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ نظام ِ مصطفیٰ کی اصطلاح بریلوی مکتب فکر کی ہے لیکن جنرل ضیا کے مارشل لا ء سے فائدہ اُس مکتب فکر کو پہنچا جو “پیوریٹن” نظریات رکھتا ہے۔
جب بھٹو مخالف تحریک عروج پر تھی تو تینوں افواج کے سربراہان اور اُس وقت کے چئیرمین جائینٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا کہ افواجِ پاکستان ملک کی آئینی حکومت کے ساتھ ہے۔

تاہم 4 اور 5 جولائی کی درمیانی رات جب شب خون مارا گیا تو بظاہر کارروائی صرف بَری فوج نے کی تھی۔ لیکن حالات سے واقفیت رکھنے والے سمجھتے ہیں کہ اس کُو کی پلاننگ اور انجینئرنگ ایڈمرل محمد شریف کر رہے تھے۔

اُس وقت کے بَری فوج کے سربراہ جنرل ضیاالحق سب کی نظروں میں تھے اس لیے اگر وہ کسی سرگرمی میں شامل نظر آتے تو پکڑے جاسکتے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ ایڈمرل شریف نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے “آپریشن فئیر پلے” کی تنظیم اور اسے مربوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
لیکن قرائن بتاتے ہیں کہ اُس وقت کے جائینٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چئیرمین جنرل محمد شریف (ایڈمرل محمد شریف کے ہم نام) اور چیف آف ائیر سٹاف، ائیر چیف مارشل ذوالفقار علی خان، آپریشن فئیر سے آگاہ نہیں تھے۔

جب آئینی حکومت کا خاتمہ 5 جولائی 1977 کے مارشل کے ساتھ ہوگیا تو افواجِ پاکستان کے چئیرمین جائینٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل محمد شریف نے مارشل لاء کی اندرونِ خانہ مخالفت کی۔
کہا جاتا ہے کہ جنرل ضیا نے جائینٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل شریف کو “غیر موثر” یا “ڈِس فنکشنل”کردیا۔ (پاکستان میں جنرل محمد شریف کی تعریف و توصیف کم ہی بات کی جاتی ہے)۔

اگرچہ جنرل محمد شریف کو اگست سنہ 1977 میں غیر موثر کیا گیا تھا اور جنرل ضیاالحق نے جنرل شریف کی جگہ اپنے سازشی دوست ایڈمرل محمد شریف کو عملاً چیئرمین جائینٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بنا دیا لیکن اس کا اعلان نہیں کیا تھا۔

بعض محققین کا خیال ہے کہ جنرل محمد شریف   اگست میں مستعفی ہو گئے لیکن کچھ کا خیال ہے کہ ان سے زبردستی استعفیٰ لیا گیا اور اس استعفے کا نوٹیفیکیشن بعد میں جاری ہوا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ افواجِ پاکستان کے ریکارڈز میں ایڈمرل شریف کی تعیناتی کی تاریخ بحیثیت چیئرین جائینٹ چیفس آف کمیٹی واضح نہیں ہے۔ اس سے اندازہ یہ ہوتا ہے کہ 5 جولائی کے کُو کے بعد دوسرا کُو جنرل شریف کو ہٹانے کے لیے کیا گیا تھا۔

بہرحال ایڈمرل محمد شریف کو چئیرمین جائینٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بنا کر جنرل ضیا نے نا صرف جنرل محمد شریف کو “نیوٹرالائیز” کردیا بلکہ اپنے ایک وفادار ساتھی کو بظاہر ایک طاقتور عہدے پر بٹھا دیا۔

تاہم ایڈمرل محمد شریف نے جنرل ضیاالحق کی بحیثیت چیئرمین آف دی جائینٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی صرف دو برس خدمت کی۔ وہ سنہ 1980 میں اس عہدے سے ریٹائر ہوئے۔

اس کے بعد جنرل ضیا نے انہیں چیئرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) بنا دیا۔ جنرل ضیا نے جس طرح پورے ملک میں اسلامی شدت پسندی کو فروغ دیا اُسی طرح ایڈمرل شریف نے ملک کی بیوروکریسی کو اسلامائیز کرنے کا انوکھا انداز متعارف کرایا۔

ایڈمرل شریف کے زمانے میں اگر کوئی امیدوار کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو، لیکن پوچھے جانے پر اگر وہ دعائے قنوت یا نمازِ جنازہ نہ سنا سکتا تو وہ فیل ہوجاتا تھا۔

مذہبی سوالات و جوابات اور معلومات کسی بھی نوکری کے لیے مرکزی حیثیت اختیار کرگئے۔

سول سروسز کے تحریری امتحان میں اسلامیات عموماً بنیادی معلومات کا پرچہ ہوتا تھا جس میں ہر اوسط معلومات رکھنے والا امیدوار پاس ہو جاتا تھا،لیکن ایڈمرل شریف کے زمانے میں اسلامیات کے پرچے میں فیل ہونے کا تناسب بہت زیادہ بڑھ گیا۔

اگرچہ امیدواروں کے اسلامیات میں فیل ہونے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اور نہ اس پر باقاعدہ ریسرچ ہوئی ہے، لیکن ناکام ہونے والے قابل امیدوار، جن سے رابطہ ہوا، سب کا خیال تھا کہ مخصوص “پیوریٹن” مکتبۂِ فکر والے جوابات دینے والے امیدوار ضرور کامیاب ہوتے تھے۔

بھرتیوں کا یہی انداز بعد میں  نا صرف ایف پی ایس سی میں رائج ہوا بلکہ جلد ہی تمام صوبائی پبلک سروس کمیشنوں اور دیگر محکمہ جاتی بھرتیوں میں بھی اپنا لیا گیا۔

اسی  طرح جب ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر میڈیکل افسر بننے کے لیے انٹرویو دیتا تو اُس سے بھی اسلامیات کےسوالات کیے جاتے۔
آج پاکستان کی بیوروکریسی میں جو افسران کام کر رہے ہیں ان کی اکثریت ایڈمرل شریف کے سامنے انٹرویو دینے کے لیے پیش نہیں ہوئی ہو گی کیونکہ ایڈمرل صاحب 1980 سے لے کر 1986 تک ایف پی ایس سی کے چیئر مین رہے۔
لیکن وفاقی سطح پر سرکاری ملازمت کے لیے اسلامیات اور وہ بھی مخصوص “پیوریٹن” مکتبۂِ فکر والی اسلامی نظریات کی اسلامیات کو ایڈمرل شریف نے ایک سرکاری ملازمت کے حصول کے لیے کلیدی حیثیت دی۔

ایڈمرل محمد شریف کے اس پیوریٹن معیار کی بھرتیوں کے بعد پاکستان کی بیوروکریسی میں اگر کوئی متوازن، منطقی سوچ والا اور روشن فکر افسر نظر آجائے تو اُسے صرف ایک معجزہ ہی سمجھا جائے۔
ایڈمرل محمد شریف نے جنرل ضیا کے خواب کی تکمیل کے لیے جس طرح کی اسلامی بیوروکریسی کی تشکیل کا  ڈھانچہ بنایا، اُس میں ان اسلامی افسران کی کرپشن کی بے شمار کہانیاں سن کر اندازہ ہوجاتا ہے کہ “پیوریٹنزم” منافقت کی کس طرح آبیاری کرتا ہے۔

ثقلین امام
ثقلین امام
ثقلین بی بی سی لندن سے وابستہ ہیں اور کہنہ مشق صحافی اور تجزیہ نگار ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *