اٹھارویں ترمیم اور عوام دشمن پالیسیاں ۔۔ صائمہ جعفری

وفاق مختلف اکائیوں کے بیچ ایک قسم کا معاہدہ ہوتا ہے اور یہ ریاست کے ڈھانچے پر منحصر ہے کہ حکومت کو کیسے چلایا جائے گا ،اگر طاقت کا عدم توازن ریاست کی بنیاد میں ہو تو مختلف صوبوں اور قومیتوں کے درمیان احساس محرومی پیدا ہوجاتا ہے، جس سے وفاق کی جڑیں کمزور ہوجاتی ہیں، ١٨ ویں ترمیم آئین کی ترمیم کی ایک عمدہ مثال ہے۔

آئین پاکستان میں 18 ویں ترمیم کو اس لئے اہمیت حاصل ہے کیونکہ وہ صوبائی خود مختاری کی ضمانت دیتی ہے اور وفاق اور صوبوں کے درمیان طاقت کا توازن قائم رکھنے کی ضامن ہے، پاکستان پہلے ہی متعدد بحرانوں کا شکار ہے ایک طرف کورونا وباء ہے تو دوسری طرف امن و امان کا بحران،لاقانونیت اور معاشی ناہمواریاں غربت اور بے روزگاری نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور انہیں خود کشی پہ مجبور کردیا ہے، بجلی کے بحران اور اضافی بلوں نے عوام کو بے حال کردیا ہے ،ایسے میں ہمیں حکومت کا عوام دوست مثبت اور فعال کردار کہیں نظر نہیں آتا ،جس فلاحی ریاست مدینہ کی حکمران طبقہ بار بار مثالیں دیتا ہے اس کا دور دور تک کہیں نام و نشان بھی نہیں ہے ،سونے پہ سہاگہ کہ ان تمام داخلی بحرانوں کے باوجود حکمران طبقہ کی نظر اب 18 ویں ترمیم کے خاتمے پر ہے پاکستان اس وقت ہرگز اس وفاقی آئینی اور قانونی بحران اور کشمکش کا متحمل نہیں ہوسکتا جس میں اسے وفاق کی طرف دھکیلا جارہا ہے ،سندھ کے عوام میں پہلے ہی سخت مایوسی اور احساس کمتری ہے، کورونا وباء کے دوران وفاقی حکومت کا سندھ کے ساتھ متعصبانہ رویہ الزام تراشیاں اور حکومت سندھ کے فیصلوں ( جن میں لاک ڈاؤن سرفہرست ہے ) کی نفی کرنا اور منفی پروپیگنڈہ اور بیان بازیاں پہلے بھی حکومت کا غیر سنجیدہ رویہ ظاہر کرچکے ہیں، وزیراعظم متعدد بار جن مافیاز کا ذکر کر چکے ہیں وہ پہلے ہی حکومت میں براجمان ہیں اور بے حد متحرک نظر آتے ہیں، ملک میں چینی اور آٹے کا بحران پیدا کرنے والے افراد اور مافیاز کے خلاف شور تو بہت مچا مگر کارروائی کوئی نہیں ہوئی۔

یہ تمام نشانیاں ہیں ایک ناکام ریاست یعنی کہ failed state کی ،  18 ویں ترمیم جس نے سندھ کے پسماندہ عوام کو اپنی حکومت اور نمائندوں کے معاملے میں کچھ پاور دی ہے حکومت اس کو بھی چھیننے کے در پہ ہے۔وفاق کی طرف سے صوبوں کے حقوق پر حملے کوئی نیا عمل نہیں بلکہ  یہ وقتاً فوقتاً جاری رہتے ہیں، اٹھارویں ترمیم سے حکمران خائف اس لئے ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے وفاق کو کونکورینٹ لسٹ کی مینسٹریز اور محکموں سے ہاتھ دھونا پڑے گا جو کہ  صوبوں کے دائرہ ء  اختیار میں آجاتے ہیں ۔اس ترمیم کے تحت ٥٣ محکمے وفاق کے پاس جبکہ  ١٥٠ محکمے صوبوں کے ماتحت ہونے چاہئیں۔ یوں دفاع، قانون ، کامرس ، معیشت اور فارن  آفس وفاق کے پاس جبکہ  دوسرے تمام اختیارات صوبوں کے پاس ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس وفاق ٦ کے بجاۓ ٥٣ محکمے پہلے ہی اپنے پاس رکھتا ہے۔

اٹھارویں ترمیم دراصل پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک فیڈریشن بنانے کی کاوش ہے، جو وفاق کو منظور نہیں ، یہی وجہ ہے کے وفاق کی طرف سے صوبوں کو معاشی اور انتظامی امور میں فری ہینڈ نہیں دیا جاتا،حد تو یہ ہے کہ  سندھ میں چیف سیکرٹری اور آئی  جی کی تقرری پر بھی رسہ کشی مہینوں تک جاری رہی، ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ  ایک فیڈریشن میں صوبے وفاق کے ماتحت نہیں بلکہ  برابر کی اکائیوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستان  کے ان  حکمرانوں کو مضبوط وفاق سے ایک خاص لگاؤہے۔

وفاق کی صوبائی معاملات میں مداخلت کی بدترین مثال موجودہ کورونہ وائرس کی صورتحال ہے، جس میں وفاق لاک ڈاؤن کی مخالفت کرتا رہا اور سندھ حکومت حمایت۔
اس عمل کو صرف اور صرف وفاق کی بدنیتی کا نام ہی دیا جاسکتا ہے اور کچھ نہیں جو متضادات مفادات والے ٹولے حکومت میں براجمان ہیں، وہ نہ تو عوام دوست ہیں اور نہ ہی کوئی ایسی پالیسی وضع کرسکتے ہیں ،پاکستان کے اندرونی تضادات میں سے فرقہ واریت،رجعت پسندی اور انتہاء پسندی جیسے بحران پہلے ہی سنگین صورتحال اختیار کرچکے ہیں اوپر سے وفاق کی عوام دشمن پالیسیاں اور تکراری فیصلے حکومت پر سے عوام کا اعتماد ختم کرچکے ہیں، ریاست پاکستان کے مسائل ہمہ گیر اور بحران لاتعداد ہیں ایسے میں ملک 18 ویں ترمیم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا ہرگز متحمل نہیں ہوسکتا امید کرتی ہوں کہ عمرانی دور کی اس کرشمہ سازی جس کو ” یوٹرن ” کا نام دیا جاتا ہے 18 ویں ترمیم کے معاملے میں بھی کارگر ثابت ہو اور حکمران طبقہ اس بحران کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ایک ” یوٹرن ” لیکر ختم کردے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *