امتحانات کی منسوخی ؛ جلدی نہ کیجیے۔۔ابرار خٹک

پاکستانی بچوں میں ’’کرونا ‘‘کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر تمام بورڈز کے امتحانات منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ یونیورسٹیوں اور کالجوں کو ہائیر ایجوکیشن کی ہدایات اور خود یونیورسٹیوں کے صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔یہ اعلان جمعرات کو وزیر اعظم کے زیرصدارت اجلاس میں ہوا ۔ تعلیمی اداروں کو 15 جولائی تک بند رکھنے کا فیصلہ بھی سامنے آیا ،واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے علاوہ دیگر صوبے یکم جون کو ادارے کھولنے کے حق میں نہ تھے ۔ کرونا کے خدشات کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ فیصلہ بظاہر درست ہوگا تاہم معلوم ہوتا ہے کہ اس حوالے سے پوری طرح مشاورت یا ہوم ورک نہیں کیا گیا۔ماہرین تعلیم ،جائزہ کاروں،معیار سازوں سے مشاورت،بین الاقوامی سطح پر اس قسم کی صورت حال میں دوسرے ممالک کے تجربات سے آگاہی و استفادہ ،ملکی تعلیمی و امتحانی نظام کا تنقیدی جائزہ اور اس کے ساتھ ساتھ میکنزم کی تشکیل اہم امور تھے ، جن کو فیصلے سے قبل اپنی تمام تر جزئیا ت کے ساتھ ملحوظ رکھنا ضروری تھا۔ بہتر ہوتا کہ اس حوالے سے ممکنہ مسائل کو اعلان سے پہلے ماہرین کے سامنے رکھ لیا جاتا۔ ترقی یافتہ ممالک کا تدریسی و امتحانی نظام کافی حد تک سائنٹفک اصولوں کو مدنظر رکھ کر چلایا جاتا ہے جب کہ ہمارے ہاں ہمیشہ معیار کو مقدار پر قربان کرنے کی روش ملتی رہی ہے۔ہم برابری یا مساوات کے قائل ہیں جب کہ عدل کا تقاضا ہے کہ جس کا جتنا استحقاق ہے،اسے اتنا ہی دیا جائے۔ نمبر گیم سے ہم پہلے ہی معیار تعلیم بلند کرتے آرہے ہیں!

سابقہ نتائج کا موجودہ کلا س کے نتائج پر اطلاق کا فارمولہ آسانیوں کے ساتھ بہت سار ی قباحتیں بھی رکھتا ہے۔فیل شدہ ،نمبروں  کو بہتر بنانے والے امتحانی امیدواروں کےمسائل بڑے اہم ہیں،خصوصاً زیادہ محنت کرکے سابقہ نتائج سے بہتر نتائج کے آرزو مند امیدواروں کو اس فیصلے سے زیادہ دکھ اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ ے گا،دراصل یہی وہ بچے ہیں جن میں آگے بڑھنے کی صلاحیت موجود ہے اور ان کو نظر انداز کرنا حوصلہ شکنی کے مترادف ہوگا۔ ہمارے ملک میں مختلف بورڈزہیں اور ان سب کے امتحانات کا معیار ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ٹیکسٹ بک بورڈز،تدریسی اداروں اورامتحانی بورڈزمیں ایک دوسرے سے رہنمائی ومشاورت، فیصلہ سازی، معیار بندی اور دیگر امور میں ربط و ہم آہنگی، کا فقدان پایا جاتا ہے،لہٰذا اس فیصلے سے تعلیم کے معیار کا مزید نقصان ہوگا۔ بہتر ہوتا اگر ا س کے لیے ماہرین کی مشاورت سے متبادل تجاویز پر غور کیا جاتا۔مانا کہ یہ ہنگامی صورت ِحال ہے اور اس میں اس قسم کے فیصلے مجبوری بن جاتی ہے،تاہم اتنی جلدی بھی نہیں کرنی چاہیے کہ بنیادی مسائل اور لوازمات کا خیال تک نہ رکھا جائے۔زندگی کے ہرشعبے سے لاک ڈاؤن اٹھایا جارہا ہے ،بہتر ہوتا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو موجودہ صورت حال میں متبادل نظام کی تشکیل کا کام سونپ دیا جاتا اوراس سے بہتر، ممکنہ رستے نکال لیے جاتے ۔تمام تر حفاظتی تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے موجودہ صورت حال کو’’ ایجوکیشن فار کرونا ‘‘کے لیے استعمال کیا جاتا۔بہر حال اس فیصلے کو موثر اور معیاری بنانے کے لیے ممکنہ نظر ثانی ،جانچ پرکھ کی ضرورت ہے۔ ماہرین تعلیم سے مشاورت کرکے ایسا میکنزم تشکیل دیاجائے جس میں صحت،تعلیمی معیار ، حوصلہ افزائی اور حوٍصلہ شکنی کے پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے ۔واضح پالیسی بناکر طلبہ ، والدین،اساتذہ او راداروں کو اس حوالے سے رہنمائی دی جائے اور آئے روز کے اعلانات سے گریز کیا جاسکے۔

ابرار خٹک
ابرار خٹک
میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغ۔ مری تمام سرگزشت کھوۓہوٶں کی جستجو۔۔۔(اقبال)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *