مینڈک میں غوطہ ۔ زندگی (9) ۔۔وہاراامباکر

مینڈک اپنی جُون بدل رہا ہے۔ یہ ایک ٹیڈپول سے مینڈک بننے لگا ہے۔ اس کے گلپھڑے اور ان کے تھیلے غائب ہو جائیں گے۔ آنکھ سر پر اوپر کی طرف چلی جائے گی۔ دم سکڑنے لگے گی۔ یہ اس کا مشاہدہ کرنے اچھا وقت ہے۔ کیوں نہ ہم ننھی منی سے آبدوز بنائیں اور اس مینڈک کے اندر غوطہ لگا کر فطرت میں ہوتی ایک بہت ہی خاص تبدیلی دیکھیں جو مینڈک بننے کی ہے۔

ٹیڈپول کی کھال پر ڈرامائی تبدیلیاں ہو رہی ہیں جس سے یہ موٹی ہو رہی ہے۔ اس میں بلغم بنانے کے غدود بن رہے ہیں جو اسے نم اور لچکدار رکھیں گے۔ مینڈک کو خشکی پر اس کی ضرورت ہو گی۔ ہم ان غدود کے اندر چھلانگ لگاتے ہیں اور کئی خلیاتی رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے ہم دورانِ خون کے نظام تک پہنچتے ہیں۔ اس کی رگوں میں آبدوز کی سیر ہمیں کئی تبدیلیوں کا مشاہدہ کروا رہی ہے۔ پھیپھڑے بن رہے ہیں، پھیل رہے ہیں اور ہوا سے بھرے جا رہے ہیں۔ ٹیڈپول کی لمبی چکر کھاتی آنت، الجی کو ہضم کرنے کے لئے مفید تھی۔ اب یہ سیدھی ہو جائے گی جو ایک گوشت خور جاندار کے لئے ہے۔ اس کا نیم شفاف ڈھانچہ اب کثیف اور غیرشفاف ہر رہا ہے۔ نرم ہڈی کی جگہ ہڈی لے لے گی۔

ہم اس کی ریڑھ کی ہڈی سے ہوتے ہوئے دم تک پہنچے۔ یہاں پر ایک نیا عمل شروع ہو رہا ہے جس سے یہ اس جاندار کے جسم میں جذب ہو جائے گی۔ ہم نے اپنا سائز مزید چھوٹا کر لیا۔ ہم اب دیکھ سکتے ہیں کہ پٹھوں کا ہر ریشہ سلنڈر کے شکل والے لمبے خلیوں سے بنا ہے۔ ان کا ایک ردھم میں سکڑنا اس جاندار کی حرکت کا سبب رہا ہے۔ ان پٹھوں کے سلنڈر کو ایک باریک اور کثیف جال گھیرے میں لئے ہوئے ہیں۔ ہم یہاں پر اسی کا نظارہ کرنے آئے تھے۔ یہ میٹرکس خود تبدیلی کی حالت میں ہے۔ اس کی انفرادی رسیاں الگ ہو رہی ہیں اور پٹھوں کے خلیے ٹوٹ رہے ہیں۔ ان سے خلیوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت ممکن ہو رہی ہے۔ یہ دم سے نکل کر جسم میں جا رہے ہیں۔

ہم نے اپنا سائز اور چھوٹا کر لیا۔ ہم اس جال کو بکھرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اب ہم اس رسی کو کھلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ یہ پروٹین کے ہزاروں انفرادی دھاگوں سے بُنی گئی تھی۔ اور ہر دھاگہ کولاجن کے ریشوں کا بنڈل تھا۔ ہر ریشہ کولاجن کی پروٹین کے تین تاروں سے بنا تھا۔ ہر تار امینو ایسڈ سے پروئی گئی لڑی ہے۔ یہ تین تار ایک دوسرے کے گرد لپٹے سٹرینڈ ہیں۔ اور یہاں پر ہمیں وہ نظر آیا جو ہم دیکھنے آئے تھے۔ یہ کھلتا کیسے ہے؟ یہاں پر کولاجنیز انزائم کا مالیکیول اپنے کام میں لگا ہے۔ کسی کھلی سیپ کی طرح اس کا منہ پہلے ان تین تاروں کو کھولتا ہے اور پھر امینو ایسڈ کی لڑی کو مضبوطی سے باندھنے والے پیپٹائیڈ کے بانڈ کو کاٹ دیتا ہے۔ یہ زنجیر، جو سالہا سال برقرار رہ سکتی تھی۔ فوراً ہی کٹ گئی۔

اب ہم اس عمل کے مزید قریب جا کر دیکتھے ہیں کہ یہ کیسے ہوا؟ اب ہم اس سکیل پر ہیں جو چند نینومیٹر کا ہے۔ یہ کتنا چھوٹا ہے؟ نہیں، جتنا آپ نے تصور کیا ہے، اس سے بہت ہی چھوٹا۔ یہاں پر ہمیں خلیے کا اندرونی حصہ نظر آ رہا ہے جو پانی کے مالیکیول، دھاتی آئیون اور بے شمار طرح کے بائیومالیکیول سے بھرا پڑا ہے۔ یہ مصروف مالیکیولر تالاب ایک ہنگامے کی کیفیت میں ہے۔ مالیکیول گھوم رہے ہیں، ہل رہے ہیں، ٹکرا رہے ہیں۔ ویسا ہی جیسے ہم اس سکیل پر توقع رکھتے ہیں۔ کیونکہ تمام تھرموڈائنامک سسٹم بے ترتیبی سے نکلتی ترتیب ہی تو ہوتے ہیں۔

اور اس ہنگامہ خیز جگہ پر یہ انزائم جگہ جگہ پر کولاجن کے ریشے پر سلائیڈ کر رہے ہیں۔ یہ بے ہنگم حرکات نہیں ہیں۔ اب ہم اس کے ایک انزائم کے قریب چلتے ہیں۔ اس انزائم نے اپنے جبڑوں سے پروٹین کی زنجیر اور پانی کے ایک مالیکیول کو پکڑا۔ یہ اس انزائم کی ایکٹو سائٹ ہے۔ یہاں اس ری ایکشن کی رفتار کنٹرول ہوتی ہے۔ تیز بھی، آہستہ بھی۔ یہ کوریوگرافی اس مالیکیولر مرکز میں ہونے والے ہنگامے سے بہت مختلف ہے اور اس مینڈک کی زندگی کے نظام میں ایسے عوامل بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ انزائم پہلے اس بانڈ کو ایک غیرمستحکم پوزیشن میں لے کر جاتا ہے اور پھر یہ کمزور بانڈ ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ اس پروٹین اور انزائم کے درمیان الیکٹران کی شئیرنگ کی وجہ سے ہے۔ اور اب اس پریسائز حالت میں انزائم کے مالیکیولر جبڑوں کے بیچ ٹوٹنے کے لئے تیار ہے۔

جب یہ جبڑے بند ہوں گے تو یہ کسی تار کو کاٹ دئے دینے سے کہیں زیادہ نفیس کام کریں گے۔ یہ ایک ذریعہ فراہم کریں گے جہاں پر کاٹالیسس ہو سکتا ہے۔ اس نشانہ بنے بانڈ کے عین نیچے ایک بڑا مثبت چارج والا ایٹم لٹک رہا ہے۔ یہ زنک کا ایٹم ہے۔ اگر ہم انزائم کو جبڑا کہیں تو یہ اس کے نوکیلے دانتوں کی طرح ہے۔ مثبت چارج والا ایٹم اس پروٹین میں آکسیجن کے ایٹم سے الیکٹرون اچک لے گا اور توانائی کا منظر بدل دے گا۔ باقی کا کام دوسرے دانت نے کرنا ہے۔ یہ انزائم کا امینو ایسڈ گلوٹامیٹ ہے جو اپنی جگہ میں آ چکا ہے کہ جو آکسیجن کے منفی چارج والے ایٹم کو ٹارگٹ بانڈ کے اوپر لٹکا دے گا۔ اس نے پانی کے باندھے گئے مالیکیول پر سے مثبت چارج والا پروٹین اچک لینا ہے۔ پھر یہ اس کو نائیٹروجن ایٹم میں اگل دے گا جو اس بانڈ کے آخر میں ہے اور اسے مثبت چارج دے دے گا۔ الیکٹرون کیمیکل بانڈ کی گوند ہیں اس لئے الیکٹرون کا نکلنا ویسا ہے جیسے ہم نے جوڑ ڈھیلا کر دیا اور اب یہ کمزور ہو کر ٹوٹ جائے گا۔

چند بار ایسا کیا گیا ہے اور پیپٹائیڈ کی زنجیر ٹوٹ گئی۔ ایک ری ایکشن جو سالہا سال لے جاتا، اب چند نینوسیکنڈ میں ہو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا یہ کام کسی بھی طرح اس سے مختلف ہے جو کیمیکل ری ایکشن میں کیٹالسٹ کرتے ہیں؟ کیا ٹرانزیشن سٹیٹ تھیوری سے اس عمل کی وضاحت نہیں کی جا سکتی؟ کوئی بھی کیمسٹ یا بائیوکیمسٹ آپ کو بتائے گا کہ ہائیڈروجن ایٹم یا پروٹون کو ہلانے کا مطلب لازمی نہیں کہ کوانٹم ایفیکٹ ہو۔ لیکن کم از کم ایک تہائی انزائم ایسے ہیں جن کا ایکشن سمجھنے کے لئے ہمیں کوانٹم مکینکس کی طرف جانا پڑتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟

اس کے لئے ہمیں ایک غوطہ اور لگانا ہو گا۔

(جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *