زخمی شیرنی اور انجام کا خوف۔۔گل بخشالوی

سپریم کورٹ نے حکومت پنجاب کی جانب سے بلدیاتی اداروں کی قبل از وقت تحلیل کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے بعد فیصلے میں صوبہ بھر کے تمام بلدیاتی ادار وں کے بے روزگاروں کو بحال کرنے کا حکم جاری کردیا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عوام نے بلدیاتی نمائندوں کو 5 سال کے لیے منتخب کیا تھا، ایک نوٹیفکیشن کا سہارا لے کر انہیں گھر بھجوانے کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں ۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے اپنے دلائل میں کہا کہ پنجاب حکومت صوبے میں بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے کے لیے تیار ہے، صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے تاہم معاملہ ابھی مشترکہ مفادات کونسل میں زیر التوا ہے، درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی حکومتوں کی میعاد دسمبر 2021 تک تھی،تاہم 2018 کے عام انتخابات کے بعد پنجاب اور وفاق میں تحریک انصاف کی نئی حکومت آ ئی تو اس نے بلدیاتی حکومتیں تحلیل کر کے ایک سال میں الیکشن کرانے کا وقت دیا تھا ایک سال کی مدت گزرنے کے بعد پنجاب حکومت نے نئی ترمیم کے لئے ایک آ رڈیننس جاری کرتے ہوئے صوبہ بھر کے بلدیاتی ادارے تحلیل کردیئے۔

تحریک ِ انصاف کی حکمرانی نے بلدیاتی ادارے توڑ کر عوام سے کیا ہوا وعدہ اگر پورا نہیں کیا تو سپر یم کورٹ نے بھی تو درخواست گذار کی درخواست پر فیصلہ لٹکائے رکھا ، خوشی کی بات ہے کہ بلدیاتی ادارے بحال کر دیے گئے لیکن پنجاب میں تحریک ِ انصاف کی حکمرانی ہے اور بلدیاتی اداروں کے فنڈز بھی منجمد ہیں وزیر ِ اعلیٰ بھی شہباز شریف نہیں عثمان بزدار ہیں جو نہ کھاتا ہے اور نہ کھانے دے گا البتہ بلدیاتی منتخب ممبران پرانی تنخواہ و اور مراعات پر کام کریں گے جوگلچھڑ ے اُڑانے رہ گئے تھے وہ دسمبر تک اڑا لیں گے۔

فیصلہ تو بہت خوب ہے اس لئے کہ موجودہ حالات میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں خزانہ انتخابات کے اخراجات کے بوجھ کامتحمل نہیں ہو سکتا لیکن اگر انتخابات کروا بھی دیئے جائیں تو کیا گارنٹی ہے کہ اگر اپوزیشن کو شکست ہو ئی تو وہ اپنی شکست تسلیم کر لے گی ، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اگر انتخابات ہوئے تو اپوزیشن الیون بمقابلہ تحریک ِ انصاف ہو گی اور بہت ممکن ہے تحریک ِ انصاف کے ہاتھ سے پنجاب نکل جائے گا اس لئے لگتا ہے کہ وزیرِ اعظم عوام کے دلوں تک رسائی کے لئے مزید وقت لینا چاہتے ہیں اور سپریم کورٹ نے ان کی خواہشات کا احترام کیا !

عدالت عظمیٰ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے دوبارہ ضمنی انتخابات منعقد کرانے کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران بے لگام الیکشن کمیشن کو لگام ڈالتے ہوئے اس حلقے میں 10 اپریل کو ہونے والی پولنگ سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کو تا حکم ثانی مو خر کر کے درخواست کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ن لیگ ثابت کرے کہ پورے حلقے میں الیکشن کیوں ضروری ہے۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اگر الیکشن کمیشن کے فیصلے پر 10 اپریل کوا نتخابات ہو جاتے تو یہ روایت بن جاتی اور شیطان صفت لوگ مستقبل میں انتخابی عمل میں خلل ڈالنے اور اداروں کے لئے مشکلات پیدا کرکے اپنے گھناؤنے مقاصد حاصل کیا کرتے، لیکن اگر یہ الزام حکومتی امیدوار پر ہے تو سفید جھوٹ ہے اس لئے کہ ضمنی انتخابات کے دوسرے حلقوں میں شکست سامنے دیکھتے ہوئے اگر حکومتی امیدواروں نے کوئی ہنگامہ کھڑا نہیں کیا گیا تو ڈسکہ میں کیوں کیادر اصل پارلیمنٹ  دشمن موومنٹ حکومت کو پریشان کرنا چاہتی تھی اور انہوں نے پریشان کیا حالا نکہ ان کا امیدوار واضع اکثریت سے جیت رہا تھا۔

Advertisements
julia rana solicitors

ڈسکہ شہر کے 76 پولنگ اسٹیشنز میں سے 34 پولنگ اسٹیشنز سے شکایات کی الیکشن کمیشن نے نشاندہی کی تھی 20 پریزائڈنگ افسران بھی غائب ہوئے تھے۔ نوشین افتخار کے ڈسکہ شہر سے 76پولنگ اسٹیشنز میں 46 ہزار جبکہ پی ٹی ا ٓئی کے امیدوار کے 11 ہزار ووٹ تھے،تشدد کا مقصد ڈسکہ شہر میں پولنگ کا عمل متاثر کرنا تھا اور وہ کردیا گیا لیکن ایسے ہتھکنڈوں سے من پسند نتائج حاصل کرنے والے کیوں نہیں سوچتے کی جھوٹ کے پاﺅں نہیں ہوتے سچائی کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے ، دوسروں کے لئے قبر کھودنے والے خود ہی ا س میں د فن ہو جاتے ہیں مسلم لیگ ن کے خود پرست رہنما اگر سچائی تسلیم نہیں کرتے تو نہ کریں لیکن دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں ایم کیو ایم کے بعد مسلم لیگ ن کا سیاسی سورج غروب ہو چکا ہے اگر زخمی شیرنی دردناک آوازوں میں اپنے انجام کے خوف سے ماتم کر رہی ہے تو ذمہ دار کوئی اور نہیں ان کا اپنا خاندان ہے ۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply