• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ابتلاء و آزمائش کے وقت اہل ایمان کا کردار۔۔شاکر عادل عباس تیمی

ابتلاء و آزمائش کے وقت اہل ایمان کا کردار۔۔شاکر عادل عباس تیمی

قضاء وقدر پر ایمان اور اس سے رضامندی کا اظہار

صبروشکر کا مظاہرہ

توکل علی اللہ کے ساتھ اختیار اسباب

اللہ تعالی کی ذات سے حسن ظن

دعاءومناجات اور صدقات

جملہ قسم کی تعریف اور حمد وثنا اسی ذات مقدس کے لیے لائق وزیبا ہے ،جو کائنات کے ذرّےذرّے کا مالک ہے اور درخت کا ایک  ایک پتا بھی اسی کے حکم کے تابع ہے۔اور درودوسلام ہو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو دونوں جہان کے لیے رحمت بنا کر مبعوث کیے گئے۔صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔

ابتلاء وآزمائش ،یا عذاب ،یہ رب العالمین ،قادر مطلق کی خلاقیت وربوبیت کا عظیم مظہرہے۔ وہ نیکوکار کو ابتلاء وآزمائش سے دوچار کرتا ہے اور بدکاروں پر عذاب کو مسلط کرتا ہے۔جو اپنی نوعیت،شکل اور ہیئت وکیفیت میں مختلف ہوا کرتا ہے،جسے ہم قحط، زلزلہ،سیلاب،وبائی امراض اور دیگر شکلوں میں دیکھتے ہیں،اور جس میں جانی ومالی دونوں نقصانات کا سامنا ہوتا ہے۔اس میں عقلمندوں کے لیے موعظت وعبرت ہے کہ وہ گناہوں سے تائب ہوکر راہ راست پر آجائیں۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے  “ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون”(السجدۃ:۲۱)بالیقین ہم انہیں قریب کے چھوٹے سے بعض عذاب اس بڑے عذاب کے سوا چکھائیں گے تاکہ وہ لوٹ آئیں۔

مذکورہ آیت کریمہ میں(العذاب الادنی)سے مراد مختلف النوع دنیوی عذاب ہے،جب کہ(العذاب الاکبر)سے بروز قیامت کا عذاب مراد ہے،جیسا کہ تفسیر طبری اور ابن کثیر وغیرہ نے نقل کیا ہے۔

اہل ایمان کو جب آفات وبلایا کا سامنا ہو اور دلوں میں اضطراب وبے چینی کی کیفیت گھر کر نے لگے تو اس وقت ان پر چند باتیں ضروری قرار پاتی ہیں،تاکہ ان کا ایمان متزلزل نہ ہو اور صبرواستقامت اور حسنِ  ظن کے ساتھ اللہ سے ان کا رشتہ قائم رہے۔اس ضمن میں ضروری ہدایات یہ ہیں:
قضاءوقدر پر ایمان اور اس سے رضامندی کا اظہار:تقدیر کا خیروشر ،یہ ایسا مسئلہ ہے،جو آسمان وزمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال قبل ہی طے پاچکا۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے:(مااصاب من مصیبۃ فی الارض ولافی انفسکم الافی کتاب من قبل ان نبراھا ان ذلک علی اللہ یسیر)[ الحدید:۲۲] نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ(خاص)تمہاری جانوں میں،مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے،یہ (کام]) اللہ تعالی پر (بالکل)آسان ہے۔
زمینی مصیبت سے مراد:خشک سالی،سیلاب ،زلزلہ ودیگر آفات ارضی وسماوی۔
نفس کی مصیبت سے مراد:مختلف قسم کے امراض،جان ومال کا اتلاف،تنگدستی وغیرہ۔

جیسا کہ عبدا للہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، وہ فرمارہے ہیں:”کتب اللہ مقادیر الخلائق قبل ان یخلق السموات والارض بخمسین الف سنۃ”[ صحیح مسلم:حدیث رقم:۴۹۲۶]اللہ تعالی نے آسمان وزمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال قبل مخلوقات کی تقدیر لکھ دی۔

اب اہل ِ ایمان کو چاہیے کہ وہ رضامندی کے ساتھ اللہ تعالی کے مقدر کیے گئے فیصلے کو قبول کرے ،اور شعورو فہم اور عقل سلیم کی روشنی میں اللہ تعالی کے عطا کردہ اختیارات اور پیدا کردہ وسائل وذرائع اورتدابیر کو بروئے کار لا کر صبر وشکر کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرے۔

شکروصبر کا مظاہرہ:یہ دونوں عمل اللہ تعالی کو اپنے بندوں سے مطلوب ہیں  اورجس پر بے حساب اجروثواب ہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے:(انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب) [ الزمر:۱۰] صبر کرنے والوں ہی کو ان کا پورا پورا بے شمار اجر دیا جاتا ہے۔نیز(اولئک علیھم صلوات من ربھم ورحمۃ)[ البقرۃ:۱۵۷]ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں ۔نیز(واولئک ھم المھتدون)اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ۔

مومن کی ان دونوں صفتوں کا ذکر کرتے ہوئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “عجبا لامر المومن ،ان امرہ کلہ خیر،ولیس ذاک لاحد الا للمومن،ان اصابتہ سراء شکر فکان خیرا لہ،وان اصابتہ ضراء صبر فکان خیرا لہ”۔[ صحیح مسلم، حدیث رقم:۲۹۹۹] اہل ایمان کا معاملہ بھی عجیب وغریب ہے،وہ اس لیے کہ اس کا سارا کا سارا معاملہ خیر وبھلائی سے منسلک ہے،اور یہ بات صرف اہل ایمان کے ساتھ خاص ہے،(وہ اس لیے کہ)اسے جب خوشی ملتی ہے تو وہ شکر بجا لاتا ہے،جس میں اس کے لیے خیر ہے۔اورجب اسے نقصان پہنچتا ہے تو اس پر صبر کرتا ہے تو اس کے لیے اس میں بھی بھلائی ہے۔

توکل علی اللہ کے ساتھ اختیار اسباب:اللہ تعالی کی ذات مکمل بھروسے اور اعتماد والی ہے۔چنانچہ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ مصیبت کی گھڑی میں اللہ سے اپنا اعتماد نہ کھوئے۔بلکہ پُرامید رہے کہ ضرور اس کے حکم سے یہ بلا ٹل جائے گی اوریہ مصیبت رفع ہوجائے گی۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے(ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ) [الطلاق:۳]اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔
نیز فرمایا(ان اللہ یحب المتوکلین)۔[آل عمران:۱۵۹] اللہ تعالی توکل کرنے والوں سے محبت کرتاہے۔

نیز فرمایا:(وعلی اللہ فتوکلوا ان کنتم مومنین)[ المائدۃ:۲۲] اور تم اگر مومن ہوتو تمہیں اللہ تعالی ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

لیکن یاد رہے کہ اختیار اسباب توکل کے منافی نہیں۔چنانچہ جو لوگ اسباب اختیار نہیں کرتے اور اللہ تعالی کی ذات پر امید لگائے بیٹھے ہیں،اس کی مثال اس باغبان کی یا کسان کی ہے،جو پودا نہ لگائے یا بیج نہ ڈالے اور اللہ تعالی سے پھل اور اناج کی امید لگائے بیٹھا رہے۔اس لیے مصیبت وآزمائش کے وقت اس کی نوعیت کے حساب سے اسباب اختیار کرنا اس پریشانی سے نکلنے کا واحد ذریعہ ہے۔اور انہیں اسباب میں سے دوا اور دعاء بھی ہے،اور ان دونوں اسباب سے جڑی جو احتیاطی باتیں ہیں وہ تدبیریں ہیں۔چنانچہ اگر آپ کسی مرض میں مبتلا ہیں تو طبی نقطہ نظر سے پرہیز اور روحانی نقطہ نظر سے گناہوں سے توبہ اور اجتناب ضروری ہے۔

اللہ تعالی کی ذات سے حسن ظن :یہ ایسا اہم نکتہ ہے کہ مصیبت وآزمائش کے وقت بہت سے لوگ اللہ کے بارے میں غلط گمانی اور بدگمانی دونوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔اور سب سے پہلے وہ اپنی قسمت کو کوستے ہیں۔پھر ان کی زبان اللہ کے بارے میں بدگمانی کے الفاظ نکالتی ہے کہ دنیا جہان کی مصیبتیں ہم غریبوں ہی کے لیےہوتی ہیں،یا نیکو کار ہی کو اللہ تعالی آزماتا ہے،غنڈے موالی اور بدمعاش لوگوں کو کھلی چھوٹ ہے وغیرہ وغیرہ۔اللہ تعالی کی ذات کے تعلق سے یہ بدظنی ایسی بات ہے کہ جس سے بندے اور اللہ کے درمیان کا رشتہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔بندہ اللہ کے بارے میں بدظنی کا شکار ہوکر بے یقینی میں چلاجاتا ہے اور بھروسہ کھودیتا ہے۔

آزمائش یا عذاب کی گھڑی میں بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کا جائزہ لے۔اگر اس کے حصے میں نیکیاں ہیں تو وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ساتھ مصیبت پر صبر واستقامت کا مظاہرہ کرے اور اللہ کی ذات سے حسن اعتقاد رکھے۔اور اگر وہ شخص گناہوں میں مبتلا ہے اوراس سے معاصی کا ارتکاب ہورہا ہے ،تو اللہ تعالی سے سچی توبہ کرے اور اس یقین واعتماد کے ساتھ دعاء ومناجات میں لگارہے کہ اللہ تعالی اسے گناہوں کی معافی دے گا اوراس عذاب سے نجات بھی۔

اس ضمن میں بندوں کے پیش نظر یہ بات ہمیشہ رہنی چاہیے کہ اللہ تعالی سے بدگمانی کرنا یہ اہل ایمان کی صفت نہیں ،بلکہ یہ منافقوں اور مشرکوں کی جماعتیں ہیں جو اللہ تعالی کے تئیں غلط گمانی کے شکار رہتے ہیں ،جس کی وجہ سے ان پر عذاب کا نزول ہوگا ،وہ اللہ کے عذاب،غیظ وغضب اور لعنت کے مستحق ٹھہریں گے ،نیز یہ کہ اللہ نے ایسے لوگوں کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے جو کہ بُری جگہ ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:(ویعذب المنافقین والمنافقات والمشرکین والمشرکات الظانین باللہ ظن السوء علیھم دائرۃ السوء وغضب اللہ علیھم ولعنھم واعد لھم جھنم وساءت مصیرا)[الفتح:۶]ور تاکہ ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے جو اللہ تعالی کے بارے میں بدگمانیاں رکھنے والے ہیں،(دراصل)انہی  پر برائی کا پھیرا ہے،اللہ ان پر ناراض ہوا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لیے دوزخ تیارکی اور وہ (بہت )بُری لوٹنے کی جگہ ہے۔

دعاء ومناجات اور صدقات:ابتلاء وآزمائش یا عذاب کے وقت یہ ایسے اعمال خیر ہیں جو اللہ تعالی کے غصہ کو ٹھنڈا کرتے ہیں اور مکفرات ذنوب کا ذریعہ بھی ہیں۔چنانچہ دعاءومناجات میں انبیاء کرام کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی وہ جملہ دعائیں شامل ہیں ،جن کے ذریعے انہوں نے اللہ رب العالمین سے مدد طلب کی اور عفوودرگزر کے ساتھ اللہ تعالی نے ان کی نصرت وتائید فرمائی۔جیسے دعاء آدم(ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا لنکونن من الخاسرین)،دعاء یونس(لاالہ الا انت سبحنک انی کنت من الظالمین)،دعاء ابراہیم(ربنا اغفرلی ولوالدی وللمومنین یوم یقوم الحساب)۔

نیز وہ جملہ دعائیں جن کی تعلیم بطور خاص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی اور وہ کتابو ں میں مذکور ہیں۔نیز اللہ تعالی کے اسماء وصفات کے ذریعے مانگی گئی دعائیں رد نہیں ہوتیں۔جیسا کہ بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا:اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس ذریعے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ بلاشبہ توہی اللہ ہے،تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں،تو ایک ہے،بے نیاز ہے،جس سے نہ کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا،اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”لقد سالت اللہ بالاسم الذی اذا سئل بہ اعطی،واذا دعی بہ اجاب”۔تم نےاللہ تعالی سے ایسے نام کے ذریعے سوال کیا ہے کہ جب اس کےذریعے مانگا جائے تو وہ نوازتا ہے اور جب اس کے ذریعے پکارا جائے تو وہ جواب دیتا ہے۔[ترمذی،حدیث رقم:۳۴۷۵، ابوداود،حدیث رقم:۱۴۹۳]، [علامہ البانی رحمہ اللہ نے “صحیح ابوداود”میں اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔]

صدقہ نافلہ کی بڑی فضیلت آئی ہے،یہ اجروثواب،مال میں برکت ،گناہوں کے کفارہ ،امراض سے شفایابی اور اللہ تعالی کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کا ذریعہ ہے۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے:(آمنوا باللہ ورسولہ وانفقوا مما جعلکم مستخلفین فیہ فالذین آمنوامنکم وانفقوا لھم اجر کبیر) [ الحدید:۷]اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ،اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اللہ نے تمہیں (دوسروں کا)جانشیں بنایا ہے،پس تم میں سے جو ایمان لائیں اور خیرات کریں انہیں بہت بڑا ثواب ملے گا۔

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”الصدقۃ تطفئ الخطیئۃ کما یطفئ الماء النار”۔صدقہ گناہوں کو اس طرح مٹاتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے۔ [ابن ماجہ:حدیث رقم:۴۲۱۰] علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع الصغیر [۲۷۸۰]میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

صدقہ کے عجائب میں سے یہ بھی ہے کہ یہ امراض سے شفایابی کا سبب ہے۔ابوامامہ الباھلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”داووا مرضاکم بالصدقۃ”۔اپنے مریضوں کا صدقہ کے ذریعے علاج کرو۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع الصغیر[۳۳۵۸] میں اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔

علی بن حسن بن شقیق کہتے ہیں:”میں نے عبدا للہ بن المبارک سے سنا ،وہ بتا رہے تھے کہ ان سے ایک شخص نے ایسے پھوڑے کے بارے میں سوال کیا جو سات سالوں سے ان کے گھٹنے میں تھا۔اس نے بہت طرح سے علاج کروایا اور ڈاکٹروں سے صلاح ومشورہ کیا،تاہم کوئی فائدہ نہ ہوا۔عبداللہ بن مبارک نے اس شخص سے کہا: جاؤ  اور ایسی جگہ میں کنواں کھودو جہاں پانی کی ضرورت ہو۔مجھے امید ہے کہ وہاں پانی کا چشمہ پھوٹے گا اور تمہارے پھوڑے سے خون رسنا بند ہوجائے گا۔اس شخص نے ایسا ہی کیا اور شفایاب ہوگیا۔[سیر اعلام النبلاء للامام الذھبی،۸\۴۰۷]

ابوامامہ الباھلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ان صدقۃ السر تطفئ غضب الرب”۔بلاشبہ سری صدقہ رب تبارک وتعالی کے غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع [۳۷۹۷] میں اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔

اخیر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ابتلاء وآزمائش کے بقدر اجروثواب بھی متعین ہے،یعنی اجروثواب کا حجم اسی قدر بڑھا ہوگا جس قدر آزمائش بڑی ہوگی،چنانچہ جو اس مصیبت سے رضامندی کا اظہار کرے گا،اللہ تعالی کی اسے خوشنودی حاصل ہوگی، اور جو اس سے ناراضگی جتلائے گا تو اس کے لیے اللہ کی ناراضگی ہے۔جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے: “ان عظم الجزاء مع عظم البلاء،وان اللہ عزوجل اذا احب قوما ابتلاھم،فمن رضی فلہ الرضاء،ومن سخط فلہ السخط”۔[ ترمذی،حدیث رقم:۲۳۹۶]،[ابن ماجہ،حدیث رقم:۴۰۳۱۔]علامہ البانی رحمہ اللہ نے “صحیح ترمذی “میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ الہ العالمین دنیا جہان کے مسلمانوں کی حفاظت فرما۔اس آزمائش اور مصیبت کی گھڑی میں جب کہ پوری دنیا اضطراب وبے چینی میں زندگی گزار رہی ہے،ایک تنہا تیری ہی ذات ہے جہاں ہردرد کا مداوا موجود ہے،تو اپنی رحیمی اور کریمی کے وسیلے سے اپنے گنہ گار بندوں پر رحم وکرم فرما ۔ جو راہ راست سے بھٹک کر کفروشرک،ضلالت وطغیان میں ہیں تو اس “کورونا “وبا کو ان کی ہدایت کا ذریعہ بنا دے اور اہل ایمان کےدرجات بلند فرما۔ اس مرض میں جو وفات پاچکے انہیں شہید کا درجہ عنایت فرما۔
وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی الہ وصحبہ اجمعین ۔

shakiradiltaimi
shakiradiltaimi
محمد شاکر عادل بن محمد عباس بی ۔اے،جامعہ اسلامیہ،مدینہ منورہ ہائر ڈپلوما ان کاؤنسیلنگ اینڈ گائیڈنس(جامعہ اسلامیہ ،مدینہ منورہ) استاذ جامعہ الہدی الاسلامیہ،ہورہ،کولکاتا،مغربی بنگال

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *