ہندوستان کی مارلن منرومدھو بالا۔۔۔اجمل شبیر

مدھو بالا کو ہندوستان کی مارلن منرو کہا جاتاہے،وہ وینس آف انڈین فلم انڈسٹری بھی کہلاتی تھی ۔ہم میں سے ہر ایک نے کبھی نہ کبھی بالی وڈ کا ایک گانا کہیں نہ کہیں ضرورسنا اور دیکھا ہوگا،اس گانے کے بول تھے ،جب پیار کیا تو ڈرنا کیا ،پیار کیا کوئی چوری نہیں کی ۔آج بھی مدھو بالا کے حسن کی قسمیں کھائی جاتی ہیں ۔دہلی کا ایک خاندان تھا ،جس کے سربراہ عطااللہ خان تھے،اس خاندان کی چھ لڑکیاں تھیں ،ان میں سے ایک لڑکی تھی ،جس کا نام ممتاز تھا ۔ممتاز آٹھ برس کی تھی ۔ممتاز کا چھ بہنوں میں تیسرا نمبر تھا ۔عطااللہ خان کی بیٹی ممتاز غربت اور تنگ دستی میں پرورش پارہی تھی ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس خاندان کی مالی حالت بہت ہی بدترین تھی ۔معلوم نہیں عطااللہ خان کے ذہن میں کیا بات آئی کہ وہ دہلی سے اپنے خاندان کو لیکر ممبئی آگئے اور بیٹی  ممتاز کو کہا کہ اب وہی اس خاندان کا سہارا بنے گی ۔عطااللہ خان کا خیال تھاکہ چھوٹی سی یہ بچی اس قدر حسین ،دلکش اور معصوم ہے کہ بالی وڈ انڈسٹری میں چھا جائے گی ۔

خاندان کی مالی حالت بہتر کرنے کا علاج عطااللہ خان کے نزدیک اس چھوٹی سی بچی کے پاس تھا ۔آٹھ سال کی ممتاز بہت خوبصورت اور چارمنگ تھی ۔ممتاز کا والد انہیں بمبے ٹاکیز میں لے گیا ،بمبے ٹاکیز وہ پروڈکشن ہاوس تھا جس نے دلیپ کمار کو دلیپ کمار بنایا تھا ۔یہ 1942 کا زمانہ تھا ،ممتاز کا اداکاری اور گائیکی کا ٹیسٹ ہوا ۔بسنت ممتاز کی وہ پہلی فلم تھی جس میں اس نے چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر کام کیا تھا ۔اس فلم کا ایک گانا ہے جو آٹھ سال کی بچی ممتاز نے گایا ہے ،کبھی موقع ملے تو یہ گانا ضرور سنیئے گا ۔اس گانے کے بول ہیں ،تمہیں مبارک ہو ۔

اس کے بعد ایک فلم بنی،جس کا نام امر تھا ۔جس کے ہیرو دلیپ کمار تھے ،جو اس وقت ممتاز سے دس سال بڑے تھے ۔اس فلم میں مدھو بالا اور دلیپ صاحب نے پہلی بار اکھٹے کام کیا ۔امر میں جس ہیرو نے ممتاز المعروف مدھو بالا کو بچی کے روپ میں دیکھا تھا ،اس کا نام تھا دلیپ کمار۔

اس کے بعد  1947 میں ایک فلم بنی،جس کا نام تھا ،نیل کمل ،مدھو بالا کی عمر اس وقت چودہ برس تھی ،ان کے ساتھ بائیس سال کے ایک ہیرو نے کام کیا تھا ،ان کا نام تھا راج کپور ۔اس فلم کے بعد پورا ہندوستان مدھو بالا کے حسن پر فدا ہو چکا تھا ،اب ممتاز مکمل طور پر مدھو بالا کا روپ اختیار کرچکی تھی ۔اس کے بعد محل میں بطور ہیروئن مدھو بالا نے شاندار پرفارمنس دی ۔یہ اپنی طرز  کی پہلی پراسرار اورعجیب و غریب فلم تھی ۔کمال امروہی نے اس فلم کو لکھا اور ڈائریکٹ کیا تھا ۔کبھی وقت ہو، موقع ملے تو اس فلم کا ایک گانا ضرور سن لیجیئے گا ،اس گانے کے بول کچھ یوں ہیں ،آئے گا آئے گا ،آنے والا آئے گا ۔

مدھو بالا کے حسن اور اداوں نے فلم  بینوں کو حیران کردیا تھا ۔ہندوستان کے لوگ مدھو بالا کے عشق میں دیوانے ہو گئے ،کامیابی نے ان کے ایسے قدم چومے کہ  ہالی وڈ کی دنیا میں ان کے حسن کی  کہانیاں پہنچ گئیں ۔مدھو بالا کو کامیابیاں آسانی سے نہیں ملی ،لیکن جلدی  ضرور  مل گئیں ۔

اب اس حسین لڑکی کی عمر سولہ سال ہو گئی تھی ۔دلیپ کمار کہتے ہیں یہ وہ زمانہ تھا جب مدھو بالا ایسی ہیروئن بن گئیں تھی کہ اسٹوڈیو کے اندر اور باہر لوگوں کی بھیڑ لگ جاتی تھی ،لوگ مدھوبالا کا ایک جلوہ دیکھنے کے لئے بیتاب رہتے تھے ۔لیکن سولہ سالہ حسینہ کی طبعیت میں کبھی بھی گھمنڈ نہ آیا ،کبھی غرور دیکھنے کو نہ ملا ۔شہرت نے انہیں مزید معصوم اور خوبصورت بنادیا تھا ۔بالی وڈ فلم انڈسٹری میں مدھو بالا وقت کی پابندی کے حوالے سے بہت مشہور تھی ۔محل کی کامیابی کے بعد مدھو بالا نے بہت سی کامیاب اور سپر ہٹ فلموں میں کام کیا ۔ہر فلم میں ان کا ایک الگ اور منفرد کردار تھا ۔انسان جاگ اٹھا میں وہ ایک مزدور لڑکی کی شکل میں نظر آئیں ،سنگدل میں وہ ایک گھریلو لڑکی کے روپ میں جلوے بکھیرتی نظر آئیں ،ترانہ میں وہ رومانس کی شہزادی کے روپ میں دلکشی بکھیرتی نظرآئیں ۔مدھو  بالا کی خوبصورت تھی ،اتنی حسین کہ لوگوں کا دھیان ان کی اداکاری پر نہیں بلکہ ان کے حسن پر ٹکا رہتا تھا ۔

اس زمانے میں تنقید کرنے والے یہ کہتے تھے کہ وہ ایک خوبصورت مورتی ہیں ،اس لئے شائقین ان کی فلموں کے دیوانے ہیں ،ایکٹنگ وغیرہ انہیں نہیں آتی ۔ترانہ میں دلیپ کمار اور مدھوبالا نے وہ کمال دکھایا کہ لوگوں کو شک ہونے لگا کہ کہیں یہ دونوں ایک دوسرے سے عشق تو نہیں کرتے ۔مدھو بالا وہ خوبصورت حسینہ تھی کہ جس کی خوبصورتی کے چرچے اب دنیا بھر میں تھے ۔اس حسن کی خوشبو کو دنیا کے تمام انسان محسوس کررہے تھے ۔اس وقت کا ہالی وڈ کا بہت بڑا ڈائریکٹر فرینک کاپرا مدھو بالا کے حسن کے عشق میں ممبئی آپہنچا ۔وہ ہالی وڈ کی ایک بہت بڑے بجٹ کی مووی میں مدھو بالا کو بطور ہیروئن کاسٹ کرنا چاہتا تھا ۔لیکن مدھو بالا کے والد عطااللہ خان نے مدھو بالا کو فرینک کاپرا سے ملنے سے روک دیا ۔اس طرح ایک بہت بڑا ڈائریکٹر مدھو بالا سے ملنے سے محروم رہا اور واپس چلا گیا ۔

دنیا کے سب سے بڑے امریکی فلمی میگزین میں اس دور میں ایک تصویر شائع ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی اور حسین اسٹار ہالی وڈ میں نہیں بلکہ ممبئی میں رہتی ہیں ۔اس کے بعد مدھو بالا کا انارکلی کا سفر شروع ہو گیا ۔مدھو بالا نے دنیا کی سب سے بڑی عظیم فلم مغل اعظم میں بطور انارکلی کردار ادا کیا ۔ایسی شاندار اداکاری کا مظاہرہ کیا کہ سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی ۔مغل اعظم اس دور کی سب سے مہنگے بجٹ کی فلم تھی ۔اس فلم میں دلیپ صاحب سلیم تھے ،پرتھوی راج اکبر بنے تھے اور مدھوبالا انارکلی تھی ۔انارکلی کا جو رول مدھو بالا نے کیا ،اس کے بعد لوگ کہنے لگے وہ صرف دنیا کی حسین ترین اداکارہ ہی نہیں ،بلکہ دنیا کی سب سے بڑی ایکٹریس بھی ہیں ۔مغل اعظم  1960 میں بنی تھی ۔ایسا لاجواب کام کیا کہ دنیا سکتے میں آگئی ۔بالی وڈ کی رومینٹک فلموں میں مغل اعظم آج بھی نمبر ون ہے اور ہمیشہ نمبر ون رہے گی ۔اس فلم میں محبت سے مزین ایسے ایسے سین ہیں کہ انسان حیرت میں پڑجاتا ہے کہ وہ کس سین کو کہے کہ یہ کمال ہے اور کس سین کے بارے میں کہے کہ اس میں کچھ کمی رہ گئی ہے۔یہ فلم شکسپئر کے رومینٹک ناول کی طرح سفر کرتی ہے ۔اس کے بعد تو پورا ہندوستان ہی مدھو بالا کا عاشق بن گیا تھا ۔کبھی موقع ملے تو مدھو بالا کی فلم ہورا بریج کا یہ گانا آیئے مہربان ضرور دیکھیں اور سنیں ۔

ایسی حسین خاتون کے ساتھ اس موقع پر زندگی نے ایک سنگین زیادتی کردی ۔وہ حسینہ جن پر پوری دنیا فدا تھی ،نجانے کتنے دل ان کے لئے دھڑکتے تھے ،لیکن انارکلی ہمیشہ محبت کے لئے ترستی رہی ۔وہ محبت نہیں مل سکی ،جس کی انہیں تلا ش تھی ،کہا جاتا ہے کہ دلیپ کمار سے انہیں عشق ہو گیا تھا ،انارکلی اور سلیم شادی کرنا چاہتے تھے ،لیکن انارکلی کا والد عطااللہ خان اکبر بادشاہ بن چکا تھا ۔اس نے انارکلی اور سلیم کی شادی نہیں ہونے دی ۔کہتے ہیں مدھو بالا کا دل ٹوٹ چکا تھا ،وہ دیوار میں چنوائی جارہی تھی ،لیکن کسی نے اس موقع پر ان کی مدد نہ کی ۔شاید انارکلی کی قسمت میں موت لکھی تھی اور سلیم شہنشاہ ۔پھر وہی ہوا دلیپ کمار بالی وڈ کے شہنشاہ بن گئے ۔مدھو بالا نے ساری زندگی فیملی کی ذمہ داریاں سرانجام دیں ،یہی عطااللہ چاہتا تھا۔پھر قسمت کا سنگین مذاق دیکھیں کہ وہ لڑکی جس کی مسکراہٹ سے سورج نکلتا تھا ،جس کی مسکراہٹ سے کائنات میں  رقص تھا ،اسی لڑکی کے دل میں ایک باریک سا چھید تھا ۔انارکلی عرف مدھو بالا بچپن سے ہی اس بیماری کا شکار تھی ،اور اس وقت دل کے چھید کو بھرنے کا کوئی علاج ہی نہ تھا ۔دل کے سوراخ کی وجہ سے وہ کئی مرتبہ شوٹنگ کرتے کرتے بیہوش ہوجایا کرتی تھی۔وہ چھید کسی غم کی وجہ سے تھا ،یا اس کی وجہ وہ حالات تھے ،جس کا شکار وہ ہمیشہ رہیں ۔وہ دل کے چھید کے ساتھ جیتی رہیں ،کام کرتی رہیں ،دنیا کو اپنا دیوانہ بناتی رہیں ۔کہتے ہیں وہ گھر کا کھانا کھاتی تھی ،پارسی کنویں کا پانی پیتی تھی ،پھر کیا ہوا صحت بد سے بدترین ہونے لگی ۔

اچانک ان کے ہونٹ سرخ ہو جاتے تھے ،منہ سے خون بہنے لگتا تھا ،پھر بھی وہ فیملی کی ذمہ داریا ں پوری کرنے کی خاطر کام کرتی گئی ۔ایک زمانے میں وہ دل کے چھید کا علاج تلاش کرنے لندن بھی گئیں ،لیکن وہاں بھی دل کا کوئی علاج نہ تھا ۔دل کی تنہائی دور کرنے کی خاطر کشور کمار سے شادی کی ،لیکن بیماری کی وجہ سے والد اور بہنوں کے پاس واپس لوٹ آئیں ۔شادی کے ایک ماہ بعد انارکلی اپنے والد کے گھر آگئی ۔اب عطااللہ خان کے گھر میں ایک کمرہ تھا ،جہاں ایک بستر پر وہ ہمیشہ سوئی رہتی تھی ۔اسی بستر پر انہوں نے زندگی کے کئی برس فدا کردیئے ۔وہ حسینہ جو پردہ اسکرین پر جگمگاتی تھی ،اب بستر مرگ پر دن پورے کررہی تھی ۔لوگوں کے خوابوں کی شہزادی کی زندگی اب ایک بستر تک محدود ہو گئی تھی ۔انیس سو انہتر میں دل نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور وہ یہ جہان فانی کو چھوڑ کر چلی گئیں ۔اپنے تمام غم ،اداسیاں لیکر وہ پری اب آسمان پر اپنی ساتھی حوروں کے پاس پہنچ چکی تھی ،شاید وہ جنت کی حوروں کی بچھڑی ہوئی حور تھی ،جو اب اپنے حقیقی مقام پر پر پہچ گئی۔جب مدھو بالا کا انتقال ہوا تو اس وقت ان کی عمر چھتیس سال تھی ۔آخری چھ سال وہ بستر مرگ پر رہیں ۔انارکلی نے تیس سال میں تمام کامیابیاں حاصل کی تھی ۔کامیاب انسان کیا ایسے جوانی میں ہی دنیا کو چھوڑ کرچلے جاتے ہیں ۔وہ ہمیشہ کم عمر رہیں ،وہ ہمیشہ معصوم رہیں ،وہ ہمیشہ محبت کے لئے ترستی رہیں،لیکن اس کا فن ہمیشہ امر رہا ۔بکھری ہوئی لٹ،جگمگاتی دو آنکھیں ،مسکراتے ہونٹ ،موتیوں جیسے دانت ،یقیناً وہ حور تھی ،یقیناً  وہ چاند کا دلکش ٹکڑا تھی ،یقیناً  وہ جنت کی حوروں کی ملکہ تھی ،یقینا ً وہ حسن کی دیوی تھی ۔مدھو بالا کا حسن ہمیشہ دنیا میں خوبصورتی کے ساتھ آنکھ مچولی کرتا رہے گا ۔جب بھی کوئی حسینہ کہے گی کہ وہ دنیا کی حسین ترین لڑکی ہے ،تو مدھو بالا کا حسن شرارتیں کرتا اس کے سامنے آجائے گا ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *