میڈیا پھوپھو۔۔مدیحہ الیاس

میرے بھانجے اور بھتیجے جب چھوٹے تھے اور میرا نام صحیح سے ادا نہیں کر سکتے تھے تو مجھے میڈیا خالہ یا میڈیا پھوپھو کہہ کے بلاتے تھے اور پھر خوب ہنستے تھے۔۔ ان معصوم ذہنوں نے لفظ تو بالکل صحیح ایجاد کیا تھا۔۔

میں میڈیا کو زیادہ لفٹ نہیں کرواتی مگر آج کل  ذرا حساس عنوان کےتحت ہر جگہ لب کشائی ہو رہی تھی تو سوچا، دیکھیں تو سہی  کہ معاملہ کیا ہے۔ جب پوری بات سے تھوڑی تھوڑی آگاہی حاصل کر لی تو ایک ہی لفظ ذہن میں آیا ”میڈیا پھوپھو“۔۔ جو سارے جہاں میں سنی اَن سنی، دیکھی اَن دیکھی، کہی اَن کہی خبریں کووِڈ19 کی طرح پھیلانے سے پہلے prophylactic ally کہتی ہیں ”اللّٰہ جھوٹ نہ بلواۓ “ اور پھیلانے کے بعد کانوں کو ہاتھ لگا کر ہاتھ جوڑ کر رب کے حضور معافی کے  کلمات ادا کر کے کہتی ہیں ”تووا۔۔ تووا استغفار۔۔ کیسی دنیا ہے۔ شکر کر زلیخا۔۔ اگر شانو کی نند کی بھاوج کے دیور کی خالہ کرشید کے دوہترے کی چھوٹی بہن کی زبان سے مجھے یہ بات نہ پتہ چلتی تو تیری تو ساس نے آج تجھ سے چار برتن مزید دھوا لینے تھے۔۔ ہاں ہاں پکی خبر ہے۔۔ تجھے اپنی پھوپھو پہ یقین نہیں۔۔ میں نے تین سالہ گُڈی کی زبان سے سنا تو فوراً تیرے پاس آ گئی ،تصدیق کرنے میں بھی وقت ضائع نہیں کیا۔ میں چاہتی تھی سب سے پہلے یہ خبر میں تجھے سناؤں۔ کیا پتہ اللّٰہ انہی نیکیوں کی وجہ سے مجھے بہشت بخش دے۔ کدی کسی کا بُرا نہیں سوچا ،تیری پھوپھو نے۔۔ رب معاف کرے“ اور ان آخری کلمات سے گویا وہ خود کو IV سینیٹائیزر انجیکٹ کر کے ٹوٹل گناہوں اور جراثیم سے پاک کر لیتی۔۔

اور پھر جب کوئی فیکے کی شادی میں سب کے سامنے یہ بول دے کہ پھوپھیاں تو زیادہ تر جھوٹی ہوتی ہیں تو سب سے پہلے یہ والی پھو پھو صف ماتم بچھاتی ہیں اور بین شروع کر دیتی ہیں ۔۔ ہاۓ مجھے جھوٹا کہہ دیا۔۔ ہاۓ مجھے جھوٹا کہہ دیا۔۔ اگلا بندہ لاکھ بولے کہ آپ کو نہیں کہا ، جنرل بات کی ہے۔۔ مگر ان کی سوئی اُدھر ہی اٹکی رہتی ہے۔۔ اور پھر سیانے لوگ اس پھوپھو کے دماغ کے سائز کا تعین کر کے معافی مانگنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں،اور پھر پھوپھو کا نیکسٹ سائیکل سٹارٹ ہوتا ہے،ساتھ والے گھر جا کے۔۔۔ ”دیکھا۔۔ کنج معافی منگی اس نے۔ اگر میں جھوٹی ہوتی تو معافی  کیوں مانگتا“

اس سے آگے کیا لکھوں ،بس آپ اس کہانی کو میڈیا کے کردار پر رکھ کر  سوچیے گا کہ صداقت کتنی ہے۔۔۔

Avatar
ڈاکٹر مدیحہ الیاس
الفاظ کے قیمتی موتیوں سے بنے گہنوں کی نمائش میں پر ستائش جوہرشناس نگاہوں کو خوش آمدید .... 🙂

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *