• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(تیئسواں دن)۔۔گوتم حیات

کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(تیئسواں دن)۔۔گوتم حیات

اُس سے میری پہلی ملاقات یونیورسٹی کی کینٹین میں ہوئی تھی۔ میں اکثر صبج ہی صبح جبّار کی کینٹین میں چائے پینے پہنچ جاتا تھا، وہ پہلے سے ہی وہاں پر چائے پی رہا ہوتا۔ کینٹین والا جبّار اور وہ دونوں بلوچ تھے، اسی لیے آپس میں ان دونوں کی گفتگو بلوچی زبان میں ہی رہتی تھی۔ میرے کینٹین پہنچنے پر جبّار مجھ سے اردو میں مخاطب ہو کر چائے بنانے لگ جاتا اور وہ لڑکا اپنی چائے ختم کر کے کچھ ہی منٹوں میں ڈیپارٹمنٹ کی طرف روانہ ہو جاتا۔ مجھے اس کے ڈیپارٹمنٹ کا کوئی علم نہیں تھا، نہ ہی اس بات سے واقفیت تھی کہ وہ ایم اے کا  سٹوڈنٹ ہے یا بی ایس کا۔ البتہ اس بات کا مجھے یقین تھا کہ وہ سوشل سائنسز کے ہی کسی ڈیپارٹمنٹ کا  سٹوڈنٹ ہے۔

ہمیں جبّار کی کینٹین میں صبح کی چائے پیتے ہوئے تقریباً آدھا سمیسٹر بیت چکا تھا، اس دوران ہم دونوں میں سے کسی نے بھی ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں کی، نہ ہی ہم نے ایک دوسرے کو کبھی سلام کیا۔ عموماً صبح ہی صبح اس کو دیکھ کر میرا دل اداس ہو جاتا، اداسی کی بنیادی وجہ اس کا بلوچ ہونا تھا اور میں حالاتِ حاضرہ کا رسیا یہ بات بخوبی جانتا تھا کہ بلوچستان میں حالات سازگار نہیں ہیں۔ پے در پے ملٹری آپریشنز نے بلوچستان کا سماجی و سیاسی ڈھانچہ اپنی بنیادوں سے ہلا کر رکھ دیا ہے اور پھر برسوں کی خشک سالی نے بلوچ عوام خاص  طور پر غریب لوگوں کو دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔

سمیسٹر امتحانات کا شیڈیول آیا تو ہمیں تین دن کی اضافی چھٹی ملی۔ ٹیچرز کا کہنا تھا کہ سب سوشل سائنسز کے ڈیپارٹمنٹ کا پہلا پیپر ایک ہی تاریخ کو رکھا گیا ہے لیکن ہم چونکہ طالبعلموں کی نفسیات سے واقف ہیں اس لیے کم سے کم ہمارا شعبہ آپ لوگوں کو تین دن کی چھٹی دے رہا ہے تا کہ آپ سب سکون سے گھر پر رہ کر پیپرز کی تیاری کریں۔

ہماری جماعت کو تین دن کی چھٹی دی گئی لیکن میرا دل اگلے تین دن تک یونیورسٹی سے غیر حاضر رہنے کے لیے آمادہ نہیں تھا۔ اس لیے میں ان تین دنوں میں پابندی سے یونیورسٹی جاتا رہا، سوائے اپنے ڈیپارٹمنٹ کے ہر جگہ جانا ہوتا، جبّار کی کینٹین، آرٹس لابی اور لائبریری۔

ایک دن صبح   میں جبّار کی کینٹین پہنچا تو وہ بھی حسبِ معمول وہیں پر موجود تھا، میں نے اسے سلام کیا اور پوچھا کہ امتحانات قریب ہیں، سمیسٹر بھی ختم ہونے کو ہے، لیکن ابھی تک ہم نے کبھی ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں کی اور نہ مجھے تمہارے ڈیپارٹمنٹ کا علم ہے، میری ان باتوں پر وہ مسکرایا، میں نے نوٹ کیا کہ اس کی مسکراہٹ اداسی سے لبریز تھی۔ میں دوبارہ گویا ہوا، اس کی خاموشی سے بھرپور اداس مسکراہٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے اس سے کہا، کہ آج ہمیں اس کینٹین میں روزانہ آتے ہوئے تقریبا ً ساڑھے چار ماہ ہو چکے ہیں۔ ان ساڑھے چار ماہ میں یہ ہمارا پہلا مکالمہ ہے، اس مکالمے میں بھی تم خاموش ہی ہو اور میں بولے چلا جا رہا ہوں، اب تم کچھ کہو، میں تمہیں سننے کا خواہش مند ہوں۔

میرے اِن بے دھڑک جملوں کو سن کر وہ تھوڑا پریشان سا ہو گیا تھا،لیکن پھر اپنی پریشانی پر فوراً ہی قابو پاتے ہوئے اس نے مجھ سے میرا نام پوچھا اور کہنے لگا اگر تمہیں دیر نہیں ہو رہی تو ہم چائے لے کر سامنے سٹیرز پر جا کر بیٹھ جاتے ہیں، میں نے کہا ہاں کیوں نہیں، وہیں پر چلتے ہیں۔

اس مختصر سی ملاقات کے بعد ہم تقریباً روز ہی ملنے لگے، اس کا نام مشاہد تھا ،وہ شعبہ فارسی ادب میں تھرڈ ایئر کا طالبعلم تھا۔ مشاہد کا سارا خاندان بلوچستان میں ہی مقیم تھا۔ کراچی میں وہ یونیورسٹی کے قریب ہی ایک ہوٹل کی بیرونی منزل پر اکیلا رہتا تھا۔

امتحانات ختم ہوئے اور میں نے سکھ کا سانس لیا۔ اب ایک مہینے کی بریک کے بعد نئے سمیسٹر کا آغاز ہونا تھا۔ اس لیے یونیورسٹی میں  سٹوڈنٹس خال خال ہی نظر آتے، زیادہ تر طالبعلم چھٹیاں گزارنے کے لیے اپنے آبائی علاقوں میں روانہ ہو گئے تھے۔ میں سوچ رہا تھا کہ شاید مشاہد بھی ان چھٹیوں میں بلوچستان جانے کی تیاری کر رہا ہوگا لیکن وہ ہر روز مجھے پابندی سے یونیورسٹی میں ملتا، ہم لوگ کینٹین سے چائے لے کر  سٹیئرز پر بیٹھ کر خوب باتیں کرتے۔ ہمیں ملتے ہوئے اب کافی دن گزر چکے تھے لیکن اس کی مسکراہٹ میں وہی اداسی برقرار تھی، ایسا لگتا تھا کہ یہ اداسی جنم جنم سے اس کی ساتھی ہے اور اب ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرنا ناممکن ہے۔

ایک دن جبکہ ابھی نیا سمیسٹر شروع ہونے میں صرف ایک ہفتہ رہ گیا تھا میں نے اس سے پوچھا کہ تم اپنے گاؤں کیوں نہیں گئے، اب تو چھٹیاں بھی ختم ہونے کو ہیں، تمہیں اپنے والدین سے ملنے گاؤں جانا چاہیے تھا، اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو ان چھٹیوں میں لازمی اپنے امی ابو سے ملنے کے لیے جاتا، مگر میں تو اسی شہر کا باسی ہوں اور ہر روز ہی امی ابو کا چہرہ دیکھ کر یونیورسٹی آتا ہوں۔ میری اس بات پر وہ غصے سے کہنے لگا کہ تم میری جگہ نہیں ہو سکتے اور ہم میں سے کوئی بھی کسی کی جگہ نہیں ہو سکتا ہر کوئی اپنی اپنی پیدائش کے دکھ سکھ خود ہی سہتا  ہے اور ختم ہو جاتا ہے۔ میں نے اس سے معذرت چاہی اور اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے اس سے کہا کہ میرا یہ مطلب نہیں تھا، تم مجھے غلط مت سمجھو، میں بس یونہی تم سے پوچھنا چاہ رہا تھا کہ چھٹیاں ختم ہو رہی ہیں اور تم اپنے والدین سے ۔۔۔؟

اس نے میری بات کاٹی اور کہا کہ میں ہمیشہ کے لیے اب یہیں کا ہو چکا ہوں، اس کے قتل کے بعد اب گاؤں جانا میرے لیے ممکن نہیں اور جاؤں بھی تو کیسے۔۔۔ وہاں کی کھلی فضا میں، بلند و بالا خوبصورت پہاڑوں کے اندر قبائلی رواجوں کی بوسیدگی نے لوگوں کے دماغوں کو بیڑیوں سے باندھ کر رکھا ہوا ہے۔ انفرادیت کی وہاں کوئی حیثیت نہیں، اگر کوئی حیثیت ہے تو رواجوں کی ہے، ان رواجوں کو پروان چڑھانے والے سنگدل لوگوں کی ہے۔ مجھ جیسا شخص تو وہاں ایک لمحہ بھی سانس نہ لے پائے اور پھر اس کے قتل کے بعد میرا اس زمین سے رشتہ ختم ہو چکا ہے۔

اس کی اتنی لمبی تمہید کے بعد میں نے پریشانی کے عالم میں اس سے قتل کے بارے میں دریافت کیا، میں نے ڈرتے ڈرتے اس سے پوچھا کیا تم گاؤں میں کسی کو قتل کر کے شہر آئے ہو۔۔۔۔ آخر کس قتل کی بات کر رہے ہو تم؟۔

اس نے جب مجھے تفصیل بتائی تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اُس وقت مجھ پر آشکار ہوا کہ اداسی کسی بھی طرح سے پیدائشی طور پر شخصیت کا حصہ نہیں ہوتی بلکہ اس کو تو ہم بےبس انسانوں پر زبردستی مسلط کیا جاتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ہماری شخصیت کا لازمی جز و بن جاتی ہے۔ اگر حالات موافق ہوں تو ہر انسان کے لبوں پر مسکراہٹ کے نغمے کھل سکتے ہیں، یہ مسکراہٹ میرے سامنے بیٹھے ہوئے مشاہد کے لبوں پر بھی تو کھل سکتی تھی مگر افسوس کہ اس کے حصے میں اداسیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیرے سائے لکھ دیے گئے تھے جن کو زندگی کی آخری سانس تک اس کے ساتھ رہنا تھا۔

اُس نے مجھے بتایا تھا۔۔
مجھے اُس سے محبت تھی، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ہم دونوں کو ہی ایک دوسرے سے محبت تھی۔ محض قبائلیت کے فرق کی وجہ سے اس کے والد نے ہمیں رشتہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ہم دونوں بلوچ قوم کے فرد ہو کر بھی ایک دوسرے سے الگ تھے، بلوچیت ہار گئی تھی اور قبائلی عصبیت جیت چکی تھی۔ کچھ ہی مہینوں بعد اس کی شادی کر دی گئی۔ وہ اپنی شادی سے ناخوش تھی۔ بس مجبوری کی حالت میں ماں باپ کی طرف سے مسلط کردہ بندھن کو نبھائے چلی جارہی تھی۔ شادی کو تین ہی ماہ ہوئے تھے مگر ہمارا ملنا جلنا جاری رہا، ان تین مہینوں میں ہماری سات ملاقاتیں ہوئیں اور پھر ہم نے گاؤں سے فرار ہو کر کراچی جانے کا فیصلہ کر لیا۔ ہمارا ماننا تھا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں ہم دونوں سکون سے بقیہ زندگی گزار لیں گے، دو کروڑ کی آبادی کے شہر میں کون ہمیں ڈھونڈتا پھرے گا۔ لیکن یہ ہماری خام خیالی تھی۔ کراچی پہنچ کر چھ مہینے سکون سے گزر گئے اس دوران ہم میں سے کسی کا بھی گھر والوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ ہم بھی اپنے حال میں خوش تھے۔ ہر گزرتا دن ہمیں خوشیاں فراہم کرتا ہوا گزر رہا تھا۔ لیکن پھر ایک دن گھر کے قریب ہی بازار میں خریداری کرتے ہوئے گاؤں کے ایک شخص نے ہمیں دیکھ لیا، ہم اُسے نظرانداز کر کے فوراً اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ اُس شخص کو دیکھ کر ہم دونوں ہی خوفزدہ ہو چکے تھے، بازار سے گھر تک پہنچنے میں پانچ منٹ کا پیدل فاصلہ طے کرنا ہمارے لیے عذاب ہو گیا، چلتے چلتے ہمارے قدم بھاری ہونے لگے، بمشکل ہم گھر پہنچے، دروازے کا تالا کھول کر جلدی جلدی اندر گئے اور جب پلٹ کر میں دروازہ بند کرنے لگا تو مجھے وہی شخص سامنے کھڑا ہوا نظر آیا۔

وہ بازار سے ہمارا پیچھا کرتے ہوئے یہاں تک پہنچ چکا تھا۔ اسے وہاں دیکھ کر میرے اوسان خطا ہو گئے۔ میں نے زور سے دروازہ بند کیا۔ ہمارا اب اس جگہ رہنا خطرناک تھا، کوئی دوسرا ٹھکانہ بھی نہیں تھا جہاں ہم بروقت جا کر خود کو محفوظ رکھتے۔ پریشانی کے عالم میں تین چار گھنٹے بیت گئے۔ آخر بہت ہمت کر کے ہم دونوں نے وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا، ہمارا ارادہ ریلوے اسٹیشن جانے کا تھا، ہم گھر سے نکل کر بس  سٹاپ پر پہنچے تو پولیس  موبائل سائرن بجاتی ہوئی ہمارے قریب آکر رک گئی، فرنٹ سیٹ پر ڈرائیور کے ساتھ وہی شخص بیٹھا ہوا تھا اور پیچھے تین، چار اہلکار بھی موجود تھے۔ انہوں نے ہمیں سختی سے گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا، ہم مجبوراً اس میں بیٹھ گئے۔ اس دوران وہ گاڑی کافی دیر تک چلتی رہی۔ حب ریور روڈ کراس کر کے ایک ویران سی جگہ میں اچانک گاڑی رک گئی۔رات کا وقت تھا، کچھ نہیں معلوم کہ وہ کون سی جگہ تھی۔ اُن لوگوں نے ہمیں اُتر جانے کے لیے کہا، ہم دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے ہوئے گاڑی سے اترے۔ ہمارے اترتے ہی دو بندوں نے مجھے زور سے اپنی طرف کھینچا اس دوران میرا ہاتھ، اس کے ہاتھ سے چھوٹ چکا تھا اور وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش میں زمین پر گر گئی۔۔۔ گاؤں کا شخص فرنٹ سیٹ سے نکل کر باہر آیا اس نے مجھے وہاں سے بھاگ جانے کے لیے کہا، میں وہیں کھڑا رہا، میں نے کہا میں اس کو اکیلے چھوڑ کر نہیں جا سکتا، تم لوگوں کو خدا کا واسطہ ہمیں جانے دو۔۔۔۔ میری منت سماجت کرنے پر بھی وہ پتھر دل اپنی بات پر قائم رہا، اس نے اپنی جیب سے پستول نکال کر لڑکی کے پاؤں پر دو گولیاں ماریں، وہ درد سے چیخ اُٹھی، اس کی چیخ کی آواز میں آج تک نہیں بھلا پایا۔ وہ شخص مزید آگے بڑھا، اس کے پستول کا رخ اب اس کے دل کی طرف تھا، دو، گولیاں، تین گولیاں۔۔۔۔ کسی انسان کو ختم کرنے کے لیے ایک گولی بھی کافی ہوتی ہے لیکن اس کے دل پر تین گولیاں ماری گئیں۔ وہ اسی ویرانے میں زندگی کی سانسیں ہار چکی تھی، میں اس کو نہیں بچا سکا، بندوقوں کے سائے میں زندگی کو صرف ہارا ہی جاسکتا ہے۔ وہ لوگ اس کی لاش کو گاڑی میں ڈال کر لے گئے، میں اُس ویرانے میں حواس باختہ پاگلوں کی طرح گاڑی کے پیچھے دیر تک بھاگتا رہا، گاڑی دھول اڑاتی ہوئی نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی!

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *