کرونا اور ناسٹلجیا(اختصاریہ)۔۔شاہد محمود

علم نہیں کہ آپ نے اس دور کے بارے سنا ہو، جب تیل سوڈا وغیرہ لے کر کنالی میں صابن بنایا جاتا تھا ۔اسی سے کپڑے دھوئے اور نہایا بھی جاتا تھا ۔ خواتین کبھی کبھار لسّی سے بھی سر دھو لیتی تھیں ۔ برتن دھونے کے لئے اور زخم بھرنے کے لئے چولہے کی “سواہ” استعمال کی جاتی تھی ۔

کیلشیم کی کمی تختی پر پوچا لگانے والی گاچی مٹی جو آپ کے ملتان کی معروف تھی ،اکسیر مانی جاتی تھی اور نمک سرسوں کے تیل میں ملا کر دانت صاف کر لیے جاتے تھے یا مسواک و داتن کا چلن عام تھا ۔۔ جب تھوڑی ترقی ہوئی تو سورج مارکہ سن لائٹ صابن پیلے رنگ کا آ گیا اور برتن کپڑے دھونے سے لے کر نہانے دھونے تک استعمال ہوتا ۔ پھر جیسے جیسے “میڈیا” نے ذہنوں میں برانڈز کے زہر بھرنے شروع کیے تو ہم گھروں میں خوشنما پیکنگز میں مختلف زہریلے برانڈز / چیزیں لانا اور استعمال کرنا شروع ہو گئے اور دھیرے دھیرے خود بھی زہریلے ہو گئے ۔

جب نان  سٹک برتن بھی مضر صحت ٹرے تو سب کو مٹی کے برتنوں کی یاد آئی ، اور فریج آنے سے پہلے کسی گاؤں تو کیا کسی شہر میں کوئی شاید ہی بھوکا سوتا تھا ۔ مشینوں اور گولہ بارود کے بے دریغ استعمال سے پہلے موسم شدید کیے، پھر موسم کے سرد گرم اثرات کو کنٹرول کرنے کے لئے مشینیں بنائیں جو مزید گرمی پیدا کرتی ہیں ۔

بندہ بندے کا دارو تھا ،اب بندہ بندے کا شکاری ہے، کیونکہ دیگر مخلوق کو تو ہم پہلے ہی شکار کر چکے ،کیا ہاتھی گینڈے شیر سب ختم ہوتے جا رہے  ہیں اور جنگل بھی؟ ۔ پر حرص و ہوس نہیں ۔۔۔ البتہ کبھی کبھی کوئی مچھر کسی نمرود کا شکار کر لیتا ہے اور کبھی کوئی “کرونا” بندے کو اس کا رب یاد کروائے نہ کروائے اوقات ضرور یاد کرا دیتا ہے ۔
رہے نام اللہ کا ۔۔ باقی سب فانی ہے، سب مایا ہے۔

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *