کاش ضیا مر گیا ہوتا۔۔۔سیّد علی نقوی

میں کبھی بھٹو صاحب کو آئیڈلائز نہیں کر سکا اس کی سب سے بڑی وجہ شاید میرا انکی شہادت کے بعد پیدا ہونا سمجھ لیجیے یا کچھ اور۔۔۔ لیکن جب میں بڑا ہو رہا تھا تو اس وقت مرد مومن کی حکومت تھی اور بھٹو ایک غدار تھا، وہ ایک ظالم وڈیرہ تھا اور ایک ایسے وڈیرے کی اولاد تھا کہ جو انگریزوں کا پٹھو تھا تبھی انگریز سرکار نے اسکو “سر” کے خطاب سے نوازا تھا، بھٹو شراب پیتا تھا، بھٹو اُس وقت پانچ ہزار کا ایک سگار پیتا تھا کہ جب سونا سو روپے تولہ سے بھی کم قیمت تھا، بھٹو کی ماں ایک ہندو رقاصہ تھی کہ جس کو شاہنواز بھٹو نے بغیر نکاح کے اپنے پاس رکھ لیا تھا اس رقاصہ کے سابقہ تعلقات جواہر لال نہرو کے ساتھ تھے اور کچھ لوگ اسی بنیاد پر کہتے تھے کہ بھٹو نہرو سے مشابہت رکھتا ہے، بھٹو شعیہ تھا اسے لیے اس نے ایک ایرانی عورت سے شادی کی تھی، بھٹو نے ملک توڑا تھا، بھٹو کی بیٹی ایک رنگین مزاج لڑکی تھی اس لڑکی کی ایسی ننگی تصاویر کہ جس میں نہ اسکی شکل نظر آتی تھی نہ جسم پاکستان کے شہروں میں جہازوں کی مدد سے گرائی جاتیں تھی، میاں نواز شریف روایت کرتے ہیں کہ یہ اور اسکا باپ انگریزوں کے کتے نہلانے والے لوگ ہیں انگریزوں کے کتے۔۔۔

ایک دن میں نے سنا کہ میرے بڑے بھائی اپنے کچھ دوستوں سےکسی پروفیسر صاحب کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہہ رہے تھے وہ جب سے شاہی قلعے سے چھوٹے ہیں کام کے نہیں رہے انکی انگلیاں پین بھی ٹھیک سے نہیں پکڑ پاتیں، کیونکہ وہاں ان کو کرنٹ لگائے جاتے تھے۔۔

ہم نے سنا   کہ ہمارے ایک بڑے کزن کی پاکستان ٹیلی ویژن کی شاندار نوکری عشقِ بھٹو کے پاگل پن کی نذر ہوگئی۔۔۔

سنا کہ ملتان کے سپورٹس گراؤنڈ میں بھٹو کے حامیوں کو کوڑے لگتے رہے اور ان لوگوں کی چیخیں پورے شہر میں گونجتی تھیں کیونکہ جب ان پر تشدد کیا جاتا تھا تو انکے منہ کے آگے مائیک اور دور دور تک چوکوں میں سپیکر لگائے جاتے تھے تاکہ لوگ ان کی چیخیں سنیں اور بھٹو دوستی سے تائب ہو جائیں، ہم نے یہ بھی سنا کہ یہ سلسلہ تب بند ہوا جب جیالوں نے اسی مائیک پر ضیاء الحق کو گندی گالیاں دینی شروع کیں۔۔۔۔

اس سب کے ساتھ ساتھ اخبارات خالی صفحات چھاپتے رہے، شاعر شاعری کرتے رہے، اسی بیچ کہیں بینظیر کی آصف زرداری سے شادی ہوگئی اور لوگوں کو بہتان باندھنے کے لیے ایک اور کردار میسر آیا، ہم بڑے ہوتے گئے
یہاں تک کہ کچھ آم پھٹے اور بہار آئی۔۔۔۔

انتخابات ہوئے، نہ جانے کیوں اور کیسے بینظیر بھٹو کی حکومت قائم ہوگئی، لوگ نوکریوں پر بحال ہوئے لیکن ہم پر بینظیر کا تاثر برُا ہی رہا ا،سی بُرے تاثر کے ساتھ انہوں نے ایک ڈیڑھ سال حکومت کی اور پھر ا ن کی حکومت کو چلتا کیا گیا، ضیا تو چلا گیا لیکن ظلمت کچھ خاص کم نہ ہو سکی۔۔۔

اوپر والی سطروں میں میں نے کچھ قصے اپنے بچپن کے وہ بیان کیے جو ہم بھٹو کے بارے میں سنا کرتے تھے اسکے بعد ہم نے سرکاری ٹی وی پر اور نوائے وقتوں میں شیخ رشید سے وہ وہ باتیں سنی کہ جو نابالغوں کے کان تک سرخ کر دیں شاید ہی کوئی الزام تھا جو اس عورت پر نہیں لگایا گیا ،جو الزام اس پر نہیں لگائے جا سکے ان کے لیے آصف زرداری کو چن  لیا گیا۔۔ میاں نواز شریف کی 1990 کی حکومت بھی ہوا ہوئی، بینظیر دوبارہ اقتدار میں آئیں مرتضیٰ بھٹو سڑک پر قتل ہوئے الزام لگا آصف زرداری پر اور سب نے یقین بھی کیا، نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو رو رو کر اپنی کہانی سناتی رہیں لیکن لوگ چونکہ اصلی قاتل تک پہنچ چکے تھے اس لیے کسی نے انکی بات تک نہ سنی۔۔

کچھ عرصے کے بعد ایک ہیوی مینڈیٹ کی حامل حکومت گری ملک پھر سے مضبوط ہاتھوں میں چلا گیا۔ بینظیر جلا وطن ہوئیں آٹھ سالہ جلا وطنی کے بعد واپس آئیں اور ایک دن جلسہ گاہ کے باہر ماری گئیں، الزام لگا آصف زرداری پر جی ہاں وہی زرداری کہ جو مرتضیٰ بھٹو قتل کیس سمیت کئی دیگر کیسز کے سلسلے میں گیارہ سال قید میں رہ کر ابھی ابھی باہر آیا تھا ۔یہ وہ کیسز تھے کہ  جن میں نہ تو وہ مجرم ثابت ہوا نہ ان کا کوئی فیصلہ آیا اور نہ ان گیارہ سالوں کی کسی نے اُس سے معافی مانگی۔۔۔ لیکن قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے حکومت بھی اسی زرداری کو ملی کہ جس پر بینظیر کے قتل کا شبہ نہیں بلکہ یقین تھا۔۔۔

وہ لوگ کہ جو کل تک بینظیر کا نام سننے اور شکل دیکھنے کے روادار نہیں تھے انہوں نے یہ مطالبہ شروع کیا کہ بینظیر کے قاتل کیوں نہیں پکڑے جاتے حالانکہ حکومت پیپلزپارٹی کے پاس ہے؟ سکاٹ لینڈ یارڈ سے لیکر پتہ نہیں کس کس نے تحقیقات کیں لیکن کوئی واضح جواب نہ آ سکا جس سے بھائیوں کا یہ یقین کہ زرداری ہی بینظیر کا قاتل ہے پختہ سے پختہ تر ہوتا گیا لیکن کسی نے بینظیر کی اس وصیت کو نہیں مانا کہ جس میں اس نے موجودہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر چودھری پرویز الٰہی، سابق آرمی چیف پرویز مشرف اور بیت اللہ محسود کو اپنی جان کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔

آج پیپلزپارٹی کا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہے جو کہ اسی بینظیر کا بیٹا ہے اور آج بھی شیخ رشید اس کے متعلق وہی باتیں کرتا ہے جو اسکی ماں کے متعلق کیا کرتا تھا کچھ خاص فرق نہیں پڑا بس ایک فرق یہ آیا کہ کل اُس  شیخ رشید کی سرپرستی ضیاء  کی باقیات کا ایک مہرہ نواز شریف کیا کرتا تھا اور آج اس شیخ رشید کی سرپرستی ضیاء  کا ایک اور مہرہ عمران خان کر رہا ہے جب میں یہ کہتا ہوں کہ عمران خان ضیاء الحق کی باقیات میں سے ہے تو لوگ ہنستے اور اس بات کو میرا بغض عمران کہتے ہیں سوچا آج اس بات کو واضح کر دوں ضیاء الحق پاکستان کے وہ پہلے حکمران تھے کہ جنہوں نے کرکٹ کو سیاسی رنگ پہنایا کہ جب وہ کرکٹ ڈپلومیسی کرتے ہوئے ایک کرکٹ میچ دیکھنے ہندوستان پہنچ گئے تھے آپ ہی وہ پہلے حکمران ہیں کہ جو کرکٹ بورڈ کے پیٹرن ان چیف بنے اور یہ مخص اتفاق ہے کہ عمران خان سن1982  میں اس وقت کپتان بنے کہ جب ان سے سینئر کھلاڑی ٹیم میں موجود تھے یہ وہ وقت تھا کہ جب ضیا الحق اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ حکومت کر رہے تھے عمران خان ریٹائر ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ضیاء الحق انہیں روک لیتے ہیں، ضیا صاحب کے دنیا سے جانے کے بعد وہ نور نظر بنتے ہیں تو جنرل حمید گل کے جو بقول عبد الستار ایدھی مرحوم کے انکو اور عمران خان کو بینظیر بھٹو کی حکومت گرانے کے لیے سرگرم کرنا چاہتے تھے یہ بات 1996 کی ہے اور ایدھی صاحب نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتائی تھی جو کہ آج بھی یو ٹیوب پر دیکھا جا سکتا ہے اور یہ بھی محض اتفاق ہے کہ تحریک انصاف کا قیام بھی انہی تاریخوں کے آس پاس کا ہے، اگر کسی کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان میں کرکٹ ٹیم کا مطلق العنان کپتان کہ جو یہ بات فخریہ کہتا ہو کہ میں آج تک کرکٹ بورڈ کا تابع بھی نہیں رہا وہ اسٹیبلشمنٹ کا ہی ایک مہرہ ہوتا ہے یا نہیں تو میرے جیسے کم پڑھے لکھے کے لیے یہ بات واضح کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اگلے دس سال جو جو بھی آرمی چیفس آئیں گے وہ ضیا الحق کے زمانے کے کمیشنڈ ہونگے۔ یہی نہیں آپ کا نصاب، آپ کے نصاب بنانے والے آپ کے استاد، آپ کے دانشور، آپ کے پالیسی میکر، آپ کے مولوی ہر ایک شخص ضیاء کمیشنڈ ہے، میں آج جب شیخ رشید کی، عمران خان کی، اسد عمر کی ،مراد سعید کی بلاول اور پیپلز پارٹی کے حوالے سے گفتگو سنتا ہوں تو مجھے تسلی ہو جاتی ہے کہ بلاول درست سمت میں جارہا ہے آج جب کوئی بھی بلاول کو نامرد اور زنخا کہتا ہے یا کوئی اسکے موٹاپے کو ان دوائیوں کا اثر کہتا ہے کہ جو وہ اپنی نامردی کے علاج کے سلسلے میں استعمال کر رہا ہے تو مجھے اطمینان ہوجاتا ہے کہ بلاول درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے کیونکہ ہمارے اسلاف کی مقدس ہستی کا قول ہے کہ اگر حق کو پہچاننا مشکل ہو یہ دیکھو کہ باطل کے نشانے پر کون ہے۔۔۔ یہی کردار تھے جو کبھی بھٹو کی ولدیت کو مشکوک بناتے تھے تو کبھی اسکی ماں کے گھنگھرو ڈھونڈتے تھے انہی کے بڑے تھے جنہوں نے بھٹو کی لاش کو اس غرض سے ٹٹولا تھا کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس کا ختنہ بھی ہوا تھا کہ نہیں۔۔ یہ بات کرنل “رفیع الدین” نے اپنی کتاب “بھٹو کے آخری 323 دن” میں لکھی ہے کہ جب لاش کو تختے سے اتارا گیا تو بھٹو کی شلوار اتار کر اس کے عضو کی تصویریں اس غرض سے اتاری گئیں کہ اس کا ختنہ بھی ہوا ہوا ہے کہ نہیں، اور وہ یہی تھے جو ہر وقت اس ٹوہ میں رہتے تھے کہ بینظیر کا کوئی معاشقہ انکے ہاتھ لگ جائے۔۔۔

وہ لوگ کہ جنہوں نے کبھی پیپلز پارٹی پر تھوکا بھی نہیں وہ جب یہ پوچھتے ہیں کہ بینظیر کا قاتل کون ہے تو ہنسی آتی ہے اور پلٹ کر صرف ایک سوال کرنے کو دل کرتا ہے کہ پاکستان میں آج تک ہونے والے قتلوں میں سب سے ہائی پروفائل قتل وہ تھا کہ جب ایک جہاز میں آرمی چیف و صدر مملکت سمیت گیارہ حاضر سروس جرنیل اور امریکی سفیر ایک ساتھ سفر کر رہے تھے اور وہ جہاز ہوا میں پھٹ کر بہاولپور میں گرا، ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کی آج تک ایف آئی آر بھی درج ہوئی کہ نہیں؟؟ اگر ہوئی تو اس پر کیا پیش رفت ہوئی؟ دنیا کی بلاشبہ نمبر ون انٹیلیجنس ایجنسی نے کیوں آج تک اپنے گیارہ جرنلز کے قتل کی کوئی تحقیقات عوام سے شیئر نہ کیں؟؟ یہ ایک سوال ہے جو ہر پاکستانی کو پوچھنا چاہیے بینظیر قتل کی تحقیقات تو انٹرنیشنل ایجنسیاں کرتی  رہیں ایک فیصلہ بھی آیا کہ کسی کی لاش کو ڈی چوک میں لٹکایا جائے لیکن اس ملک میں موجود ضیاء کی باقیات اس پر اس قدر سیخ پا ہوئی کہ جس عدالت نے فیصلہ دیا وہ عدالت ہی نا اہل ہوگئی۔۔

بقول محمد حنیف صاحب کے کہ جب بھی میں کسی جیالے سے یہ نعرہ سنتا ہوں کہ” زندہ ہے بھٹو زندہ ہے” تو دل کرتا ہے کہ اس کو جھنجھوڑ کر بتاؤں کہ بھٹو تو کب کا پھانسی کے پھندے پر جھول گیا آتجھے بتاؤں کہ کون زندہ ہے جہاں دیکھو صرف ضیا زندہ ہے۔۔۔۔ کاش بھٹو زندہ ہوتا تو آج بیماری پھیل جانے کے ڈر سے جمعہ نماز روکنے پر سندھ کی عوام پولیس پر حملہ آور نہ ہوتی، اگر بھٹو زندہ ہوتا آج وزیراعظم ہاؤس کے باہر ایک شخص بھوک کے ہاتھوں خود سوزی نہ کرتا، یہ ضیا کا اعجاز ہے کہ آج اسکی باقیات اس بدبو دار ترین نظام کو ریاست مدینہ کہتے ذرا نہیں ہچکچاتی، یہ ضیا کہ معجزہ ہے کہ اس ملک میں نو مولود بچیوں کا ریپ ہوتا ہے اور وزیر کہتا ہے کہ پاکستان میں عورتیں محفوظ ہیں، یہ ضیا کا ہی اعجاز ہے کہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی پر پابندی لگاتا ہے تو تکلیف یہاں ہوتی ہے، یہ ضیا کی ہی تعلیمات ہیں کہ حکیم اللہ محسود کی موت ہماری پارلیمنٹ پر سوگ طاری کر دیتی ہے، یہ ضیا الحق کا ہی پڑھایا ہوا سبق ہے کہ ایک آکسفورڈ کا پڑھا ہوا شخص دم تعویز سے وزیراعظم بنتا ہے، انڈوں اور کٹوں سے معیشت سنوارنے کی کوشش کرتا ہے اور سیاسی مخالفین کو جانور اور زندہ لاشیں سمجھتا ہے، مجھے آج کے وزیراعظم میں اس وقت بھی ضیا نظر آتا ہے کہ جب وہ صحافیوں پر زمین تنگ کرتا ہے، اپنے جلسے میں سوال پوچھنے والے طالبعلم کو باہر نکال دیے جانے کی دھمکیاں دیتا ہے، جب وہ کسی عربی بدو کی گاڑی چلاتا ہے، جب اسکا وزیر کہتا ہے کہ ہم اپوزیشن کی شکل نہیں دیکھنا چاہتے، جب وہی وزیر سیاسی لوگوں کے سامنے لائیو ٹی وی شو میں میز پر بوٹ رکھ دیتا ہے۔۔۔۔

مجھے اس معاشرے میں صرف ضیا ہی ضیا نظر آتا ہے اس معاشرے میں رہنے والی میرے جیسی زندہ لاشیں ہر روز صرف یہی خواہش کرتیں ہیں کہ کاش ضیا مر گیا ہوتا۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *