صبر اور قسمت کی حقیقت کو سمجھیے۔۔حافظ صفوان محمد

صبر صرف ایسی مصیبت پر ہوتا ہے جو ناگہانی ہو۔ مثلًا فصل بے موسمی بارش کی وجہ سے خراب ہوگئی تو اس پر صبر کیا جائے گا، لیکن اگر بارش موسم کے مطابق ہوئی ہے اور فصل نہیں بچائی جا سکی تو اس پر صبر نہیں بلکہ اپنی کوتاہی پر جرمانہ کیا جانا چاہیے۔ اگر چالان اس وجہ سے ہوا ہے کہ لائسنس گھر بھول آئے تھے تو اس پر صبر کیجیے، لیکن اگر لائسنس بنوایا ہی نہیں ہے تو ایسے غیر ذمہ دار شہری کو نقد جوتے لگنے چاہئیں۔ القصہ جو نقصان اپنے ہاتھ سے کیا ہے اس کو خود درست کرنا چاہیے نہ کہ صبر کے نام پر بے عملی کو فروغ دینا۔

یہی غلط فہمی قسمت کے بارے میں ہے۔ بھیک مانگ کر کھانے کو اپنی قسمت سمجھنے والے ایک صحابی کشکول لے کر نبی کریم کے پاس آئے اور سوال کیا۔ آپ علیہ السلام نے ان کا پیالہ بکوا کر انھیں کلہاڑی خریدوا دی کہ جائیے محنت کیجیے اور اپنی قسمت خود بنائیے۔ قسمت کو کوسنا بدترین بے عملی ہے جس کا اسلام نے کوئی درس نہیں دیا۔

یہ شدید غلط فہمی ہے کہ آدمی اپنے موجودہ حال پر راضی رہے اور اسے توکل یا قناعت کا مترادف سمجھے۔ قرآن نے ان لیس للانسان الا ماسعیٰ (انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے) کا درس دیا ہے۔ عرب کے بے زر و در بدوؤں نے نبی کریم کی آواز پر لبیک کہا، گھروں کو چھوڑا اور دنیا بھر میں پھیل گئے۔ چنانچہ جتنا مقدر تھا وہ ان کو ملا اور ان کی کئی نسلوں نے خوب خوشحالی کی زندگی گزاری۔ حالات بدلنے کی صرف یہی ترتیب ہے۔ نماز پڑھ کر یا وظیفہ کرکے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے سے حالات نہیں بدلتے۔

مولوی اور سرمایہ دار کی ملی بھگت نے جس میں اب فوجی بھی شامل ہوچکا ہے، غریب آدمی کے ذہن کو غلام بنانے کے لیے صبر اور قسمت کے لکھے کا اتنا ڈھنڈورہ پیٹا ہے کہ اسے کہیں اور دیکھنے اور کچھ کرنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا۔ عام دیندار آدمی اپنی قسمت کو کوستے مایوسی کی موت مر جاتا ہے۔ یہ مذہب کے نام پر انسانیت کا بدترین استحصال ہے۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”صبر اور قسمت کی حقیقت کو سمجھیے۔۔حافظ صفوان محمد

  1. او ڈفر مولوی تو وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْر کی نصیحت کون کی ناگہانی آفت کے حوالے سے کی گئی ہے۔۔ تم خود کو لسانیات کا ماہر اور لغت نویس کہتے ہو۔۔۔ اپنے شعبے کے حوالے سے لکھا کرو۔۔ مذہب سے تمھارا کیا لینا دینا۔۔۔ ہر طرف ٹانگ اڑاتے ہو۔۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *