گھٹیا افسانہ نمبر 31۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

“بابا تمہاری ہارڈویئر کی دوکان ہے اس میں ہمارا تو کوئی قصور نہیں ہے۔ ہر کوئی کو اُن کا بابا پارکاں میں لے جاتا ہے، اک ہمارا بابا ہے مجال ہے جو کبھی پارکاں میں لے جائے۔” ایسے کئی فقرے ہیں جو نازیہ اور بلاول نے مجھے بول رکھے ہیں، آج دوکان سے واپسی پہ یہ فقرے دماغ میں گھوم رہے ہیں۔ “عید پہ لے گئے تھے بچوں کو پارکاں میں، سارا دن گھر اور سکول میں بندھے رہتے ہیں، سکول بھی تو ڈربے بنے ہوئے ہیں، گھر سے نکالو سکول میں ڈالو، سکول سے نکالو گھر میں باندھ دو، ان کا بھی دل کرتا ہے”۔ میری بیوی بھی مجھے کبھی کبھی بچوں کی ضد پہ کہہ دیتی ہے۔ اب صبح نو بجے ورکشاپیں کھُل جاتی ہیں۔ بڑے بڑے ہارڈویئر کی دکاناں بارہ بجے کھلتی ہیں، میں آٹھ ساڑھے آٹھ بچوں کو سکول چھوڑ کر دوکان کھول لیتا ہوں۔ بارہ بجے تک جو بِکری ہونی ہوتی ہے ہو جاتی ہے، باقی والے دن کی بِکری سے گھر نہیں چلتا۔ شام کو بھی دس کر کے آتا ہوں کیونکہ ایمرجنسی والے کام کا سامان میری طرف سے جاتا رہتا ہے۔ بچے اس لیے باہر لے جانے کی ضد کرتے رہتے ہیں اور میرے ٹائٹ شیڈول سے وہ ناراض بھی رہتے ہیں۔ آج شام اعلان ہوا ہے کہ دوکانیں بند کر دو، کرونا وائرس آ گیا ہے۔ اللہ معاف کرے۔ گھر بچوں کو چھٹیاں مل گئی ہیں سکول سے وہ بھی ادھم مچائے کھڑے ہیں۔ “بابا اب تو تم کو چھٹیاں ہیں دکاناں سے، ہمیں اب تو جھیل والے پارکاں میں لے جاؤ ناں”۔ نازیہ نے شاید میرے انتظار میں وقت گزارا تھا۔ میں نے کل صبح صبح پارکاں میں لے جانے کا وعدہ کیا۔ وہ صبح میرے جاگنے سے پہلے اٹھ کر تیار تھی۔ میں نازیہ اور بلاول کو پارکاں میں کھیلتا اور بھاگتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ اچانک سے ایک سوٹی پھر دوسری سوٹی میری کمر میں لگ چکی ہیں، میں تڑپ کر اٹھا ہوں، اس سے پہلے کہ پیچھے مڑ کر دیکھتا تیسری سوٹی میری کمر پہ لگ گئی ہے، یہ ایک پولیس والا ہے، “اوئے کھوتے کے بچے تم لوگوں کو شرم نہیں آتی، اپنا کچھ خیال نہیں ہے”۔ وہ پولیس والا مجھے گالیاں دے رہا ہے۔ “سر میں تو بچوں کو پارکاں میں کِھلانے لایا ہوں، میں نے کچھ غلط نہیں کیا، آپ کو کیا ہو گیا ہے”۔ پولیس والا بار بار مجھے مارنے کے لیے سوٹی اوپر اٹھا رہا ہے۔ باقی لوگ بھی پارکاں میں بھاگ رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کو پولیس والے مار رہے ہیں۔ میں نے نازیہ اور بلاول کی طرف دیکھا ہے۔ وہ بھاگتے ہوئے میری طرف آ رہے ہیں۔ ان کے چہرے سہمے ہوئے ہیں۔ وہ آ کر میری ٹانگوں سے چمٹ گئے ہیں۔ میں پولیس والے کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ کہیں یہ اب دوبارہ بچوں کے سامنے مجھے سوٹیاں نہ مار دے۔ نازیہ میری ٹانگوں سے لپٹی ہوئی ہے۔ بلاول سہما ہوا پولیس والے کو دیکھ رہا ہے اور ایک ہاتھ سے میری شلوار کو پکڑا ہوا ہے۔ “دفع ہو جاؤ یہاں سے، اپنے گھروں میں بیٹھو کھوتے کے بچو، اپنا خیال نہیں ہے تو دوسروں کا خیال کر لو، اپنے بچوں کا ہی خیال کر لو، ذلیل لوگوں نے ہمیں بھی ذلیل کر رکھا ہے”۔ میں نے فوراً جوتے پہنے ہیں اور نازیہ بلاول کو اٹھا کر تیزی سے پارک سے نکل آیا ہوں۔ باہر موٹر سائیکل موڑ کر بچوں کو بٹھا کر نکلا تو سامنے چوک میں دو پولیس والوں نے چار لڑکوں کو کام پکڑوا رکھے ہیں، میں جلدی سے وہاں سے نکل گیا ہوں۔ نازیہ کانپ رہی ہے۔ بلاول میری کمر سے لپٹا ہوا ہے۔

حسن علوی صاحب کی شاگردی ایسی کونسی شغلیہ یا آسان بات ہے۔ نادر جب سے اُن کے پاس گیا ہے بس کچھ نہ کچھ لکھ پڑھ رہا ہوتا ہے۔ کہہ رہا تھا کہہ رہا تھا کہ اتنی تحقیقی مشق زائد کہیں ہو رہی ہو جو حسن علوی صاحب کرتے یا کرواتے ہیں۔ یہ نادر کا ہی شوق تھے کہ ڈاکٹر علوی کے پاس ہی پی ایچ ڈی کرے۔ نادر نے ابھی ناشتہ کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ لفظ سرائیکی کا ماخذ کیا ہے؟ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کم از کم پانچ متضاد آراء پہ بحث کرو۔ بابا نے چائے پیتے ہوئے گفتگو میں حصہ ڈالا ہے کہ لفظ سرائیکی کے ماخذ کے متعلق خاصی متضاد تحقیقات اور تجزیے موجود تو ہے۔ جارج ابراہم گریسن کی اس متعلق تحقیق کافی مستند سمجھی جاتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ لفظ سندھی کے لفظ سرو کی ارتقائی شکل ہے۔ اُس کے مطابق سندھی میں اس کے معنی شمال یا شمالی کے ہیں۔ اک خیال تو یہ بھی ہے کہ سنسکرت کا لفظ سؤوریا ہی اس کا ماخذ ہے۔ یہ قدیم ترین ہندوستان کی ایک سلطنت گنوائی جاتی ہے، ویسے اس کا ذکر مہابھارت میں بھی ہے۔ نادر نے بابا کو بیچ میں ٹوکتے ہوئے پوچھا ہے کہ بابا اس بات کو چھوڑیں، یہ میں کر لوں گا، بلکہ تقریباً مکمل کیے بیٹھا ہوں۔ مجھے ایک مشورہ دیں۔ تھلوچی اور شاہ پوری کے مابین لسانی تنازعہ کی بنیادوں پہ تحقیق کروں یا پھر موجودہ بھارت میں سرائیکی کے مستقبل پہ تحقیقی مقالہ لکھوں، عنوانات تو دونوں شاندار ہیں، لیکن مجھے دونوں عنوانات میں سے کسی ایک کو پانچ دنوں کے اندر طے کرکے اکیڈمی کو اطلاع دینی ہے۔ اپنی نوعیت کا یہ دوسرا مقابلہ ہے۔ میں چاہتا ہوں اس مرتبہ اپنا مقالہ پیش کروں گا، شوق کو مقبول گیلانی یا مہرعبدالحق کی تحقیقات کو موضوع تحقیق بناؤں گا لیکن یہ دونوں موضوعات پہلے ہی دیگر احباب پیش کر چکے ہیں۔ بابا کچھ توقف کر رہے ہیں، چائے کے کپ سے آخری گھونٹ پی کر منہ صاف کر کے بولنا شروع کیا ہے کہ بھارت میں سرائیکی بولنے والے لوگوں کی آبادی بمشکل ایک لاکھ ہی ہو گی۔ ایک ارب کی آبادی میں ایک لاکھ لوگوں کی زبان کو کیا مستقبل ہو سکتا ہے؟ یہ تو خیر ایک فضول موضوع ہے۔ اچھا اسی طرح شاہ پوری اور تھلوچی کے مابین بھی تنازعہ قابل ذکر کبھی نہیں رہا۔ نجانے آج کل اکادمی کیسے کیسے موضوع دے رہی ہیں؟ شخصیات اور اُن کے انفرادی کام پہ کافی تحقیقات ہو رہی ہیں، کیا کوئی وسیع موضوعات پہ بھی تحقیقات کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے؟ مثال کے طور پہ سرائیکی کا مزاحمتی کردار اور اُس کے اسباب پہ تحقیق کر لو۔ نادر نے قہقہہ لگاتے ہوئے پھر سے بابا کو ٹوکا ہے کہ آپ چاہتے ہیں مجھے پی ایچ ڈی کی ڈگری نہ ملے۔ پھر ایسے متنازعہ موضوعات کی وجہ سے بندہ بدنام ہو جاتا ہے۔ مجھے کیا ضرورت ہے کہ مزاحمتی ادب کو زیرِ بحث لانے سے دیگر نظریات کے حامل لوگ مجھ سے خوفزدہ ہو جائیں گے، آج لابیوں کی دنیا ہے، میں بھوک نہیں مرنا چاہتا۔

مجھے نہیں یاد کہ میں نے کوئی بھی پوسٹ کی ہو اور اِس بندے نے کوئی کام کا کمنٹ کیا ہو۔ غلطی میری اپنی ہے۔ مجھے طاہرہ مجید نے منع بھی کیا تھا کہ زندگی میں کسی سرخے کو فرینڈ لسٹ میں مت داخل کرنا، یہ چوتیے نجانے کدھر سے باتیں نکال کر لے آتے ہیں۔ اب پاکستان میں ڈاکٹروں کی محنت اور قربانی سب کو نظر آ رہی ہے۔ سب اُن کی تحسین کا بندوبست کر رہے ہیں۔ لوگ طرح طرح کی باتیں ڈھونڈ کر لکھ رہے ہیں تاکہ ڈاکٹروں کو معلوم ہے کہ عوام اُن کی محنت سے محبت کرتی ہے۔ اُن کی قربانی کی قدر کرتی ہے۔ میں نے ابھی ایک پوسٹ لکھی ہے کہ ہمیں تم سے پیار ہے جس کے ساتھ ڈاکٹروں کی ایک تصویر بھی اپ لوڈ کی ہے۔اُس پوسٹ پہ اِس کامریڈ کا متعصبانہ کمنٹ ملاحظہ فرمائیں:
مورخ یہ بھی بتائے گا کہ “ہمیں تم سے پیار ہے” سے زیادہ کسی دوسرے فقرے کا کثیر مدتی و کثیر جہتی استحصالی استعمال نہیں کیا گیا۔ آپ پولیس والوں کو “تھیندی” دینا چاہتے ہیں، یا آپ کسی فوجی سپاہی کو مسلسل مائل بہ قربانی رکھنا چاہتے ہیں، یا آپ تاریک راہوں میں مارے جانے والے کے شلغم سے مٹی دھونا چاہتے ہیں، یا آپ طلباء کی جیبوں سے بلاتامل و بلاجھجک پیسے بٹورنے خاطر ان کو مفت کا ہیرو بنانا چاہتے ہیں، یا زراعت افسروں سے الیکشن کی ڈیوٹی کروانا چاہتے ہیں، یا پھر جیسے آج کل ڈاکٹروں اور دیگر میڈیکل سٹاف کو ضروری حفاظتی انتظامات کے بغیر “آتش کرونا میں بےخطر” کودتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں تو بس کہہ دیجیے کہ “ہمیں تم سے پیار ہے”۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *