چھپے رُستم۔۔عزیز خان

علاقہ تھانہ سول لائنز بہاولپور میں منشیات فروشی بہت زیادہ تھی۔ ان دنوں ہیروئن کا نشہ نیا نیا متعارف ہوا تھا۔ اس کے بارے میں افسران بھی پریشان تھے اورمیری یہ کوشش ہوتی تھی کہ منشیات استعمال کرنے والوں کی بجائے فروخت کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے۔ایک دن شام کو میرا رشتہ دار رفیق بلوچ تھانہ پر میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ پبلک میڈیکل سٹور نزدBVH ہسپتال کا مالک نادر خان انڈین شراب ایک ہزار روپے فی بوتل کے حساب سے فروخت کر رہا ہے اگر آپ شراب برآمد کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ کو برآمد کروا سکتا ہوں۔ساتھ یہ بھی کہا کہ  ملزمان بہت بااثر ہیں اور شرفا ء کہلاتے ہیں۔۔۔میں نے جواباََ کہا کہ  مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ،جتنا بھی بااثر ہو،جرائم کی روک تھام کے لیے اسے ضرور گرفتار کروں گا۔میں نے رفیق بلو چ کو دوہزار روپے شراب کی خریداری کے لیے دیئے اور خود ایک کانسٹیبل کے ہمراہ موٹر سائیکل پر اس کے پیچھے روانہ ہوگیا۔

رفیق بلوچ نے مجھے احمد پوری گیٹ کیساتھ ایک جگہ رکنے کا اشارہ کیا اور خود پیدل ایک گلی کے اندر چلا گیا جہاں نادر خان کا گھر تھا۔وہ وہیں شراب کی فروخت کرتا تھا۔پلان کے مطابق کچھ دیر بعد رفیق بلوچ اور نادر خان گلی سے باہر نکلے ان کیساتھ ایک تیسرا شخص بھی تھا۔جس کا نام بعد میں سیف اللہ لغاری معلوم ہوا ،رفیق بلوچ کے اشارہ پر میں نے اور کانسٹیبل نے نادر خان کو پکڑنے کی کوشش کی تو، نادر خان نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی شراب کی بوتلیں نیچے پھینک دیں اور بھاگنے کی کوشش کی ،اس کے ہمراہ آئے سیف اللہ لغاری نے بھی بھاگنے میں نادر خان کی مدد کی۔نادر خان زور زور سے چلا بھی رہا تھا۔لیکن ہم نے نادر خان اور سیف اللہ کو قابوکرلیا۔کافی لوگ وہاں اکٹھے ہو گئے، لیکن پولیس کو دیکھ کر خاموش رہے۔زمین پرگرنے کی وجہ سے شراب کی بوتلیں ٹوٹ گئیں۔ شراب کی بوتلوں کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے بطور ثبوت اکٹھے کر کے شاپنگ بیگ میں ڈالے اور دونوں ملزمان نادر خان اور سیف لغاری کو لے کر تھانہ سول لائنز آگئے۔

تھانہ پر بقیہ شراب کی برآمدگی کے لیے نادر خان اور سیف اللہ سے پوچھ گچھ کی مگر وہ ماننے کو تیا رہی نہ تھے کہ یہ شراب ان کی ہے۔نئی نئی نوکری تھی غصہ بہت آتا تھا، اسی پوچھ گچھ میں ملزمان کو کچھ زیادہ ہی لترلگ گئے۔ کیونکہ شراب کی بوتلیں ٹوٹ گئیں تھیں ،اب مجھے سمجھ نہیں آرہی تھیں کہFIRکیسے درج کی جائے۔میں نے مختلف تجربہ کار پولیس افسران سے رابطہ کیا، کچھ نے کہا کہ جو صحیح کہانی ہے اسی طرح تحریر بنا دیں۔ لیکن کچھ نے کہا کہ اپنی طر ف سے شراب لے کر ڈال دیں۔میں نے یہی مناسب سمجھا کہ  جو حقیقت ہے وہ کی جائے ،غلط برآمدگی ڈالنے سے میں خود بھی پھنس سکتا تھا اور پھر سب سے بڑی بات میں انڈین شراب کہاں سے لاتا؟

تھوڑی دیر بعد تھانہ پر ملزمان کے رشتہ دار بھی آگئے۔ ان دنوں تھانہ سول لائنز پر غلام فرید بطور ہیڈ کانسٹیبل تعینات تھا۔اسی نے مجھے بتایا کہ ملزم سیف اللہ لغاری سب انسپکٹر منور عالم لغاری کا سالہ ہے۔مجھے ملزمان کی رہائی کے لیے سفارشیں کروائی گئیں اور رشوت کی پیشکش بھی ہوئی لیکن میں نے انکار کردیا۔اصل حقائق کے مطابق تحریر بنائی جس میں اس بات کا ذکر کیا گیا کہ ملزمان نے بوقت گرفتاری شراب کی بوتلیں توڑ دیں تھیں۔ملزمان کوحوالات میں بند کروایا اور تحریراندراج مقدمہ کے لیے محررتھانہ غلام فرید کے حوالے کردی ۔میں اپنی رہائش گاہ پر چلا گیا۔رات تقریباََ 2بجے دروازے پر بیل ہوئی ،میں سویا ہوا تھا۔اُٹھ کرباہرگیا تو غلام فرید محررکھڑا تھا۔کہنے لگا سر! ملزم نادر خان کا والداور میرا والد قریبی دوست ہیں۔شراب کی برآمدگی بھی نہیں  ہے، آپ کے لیے بھی مشکل ہو سکتی ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں ان کو چھوڑ دیتا ہوں۔نادر خان کے رشتہ دار میرے والد کو لے کر تھانہ پر آگئے ہیں۔میری بہت مجبوری ہے مہربانی کریں۔

مجھے اتنا تجربہ نہ تھا کہ  میں نادر خان وغیرہ کو پکڑ کر تھانہ لے آیا، ان پر تشدد بھی کیا۔اس بارے میں بہت سے لوگوں کوعلم بھی تھا اگر میں ان کو چھوڑوں گا تو خود بھی مصیبت میں پھنس سکتا ہوں۔غلام فرید محرر کی کافی منت سماجت کے بعد میں نے ملزمان کوچھوڑنے کی اجازت دے دی ،وہ میرا شکریہ ادا کرتا ہوا چلاگیااور تھانہ واپس جاکر نادر خان اور سیف اللہ لغاری کو چھوڑ دیا۔۔

اگلے دن صبح 9بجے میں تھانہ پہنچا تو SHOچوہدری نذیر تھانہ پر موجود تھا جس نے مجھے اپنے کمرے پر بلوایا اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بولا کہ  یہ آپ نے کیا کیاہے؟ نادر خان پبلک میڈیکل سٹور کا مالک ہے میڈیکل سٹور والوں نے آپکے خلاف ہڑتال کردی ہے۔انھوں نے جسمانی تشدد پر اپنا میڈیکل بھی کروا لیا ہے اب وہ آپکے خلاف ہائی کورٹ بہاولپور میں رٹ کرنے جا رہے ہیں۔ میں نے SHOکو ساری کہانی سنائی اور یہ بھی بتایا کہ میں اندراج مقدمہ کے لیے تحریر محرر غلام فرید کے حوالے کر کے گیا تھا لیکن غلام فرید کے کہنے پر میں نے انھیں چھوڑ دیا۔مجھے اس بات کا اندازہ نہ تھا کہ وہ اس طرح کریں گے۔محرر غلام فرید نے مجھ سے وعدہ کیا کہ  کوئی مسئلہ نہیں ہے، میں ان سے بات کرتا ہوں ،وہ آپ کے خلا ف کوئی کاروائی نہیں کریں گے۔لیکن نادر خان وغیرہ نے غلام فرید محرر کا کہا بھی نہ مانا اور میرے خلاف ہائی کورٹ بہاولپورمیں رٹ دائر کردی کہ  میں اُن کو گھر سے اٹھا کر لے گیا، تشدد کیا اور 5500روپے رشوت لے کر چھوڑا۔جبکہ میں نے ان سے کوئی رشوت نہ لی تھی۔

بہاولپور ان دنوں ایک چھوٹا سا پُرامن شہرہوا کرتا تھا۔چھوٹی سی بات بھی پورے شہر میں پھیل جاتی تھی۔اس واقعہ کا بھی پورے شہر میں چرچا ہو گیا تھا۔ ملک فرخ صاحب ایڈوکیٹ میرے مستقل وکیل ہوتے تھے میں جب بھی کوئی پھڈا کرتا ان کے پاس ہی جاتا تھا، اکثرمجھے ڈانٹتے بھی تھے۔لیکن ہمیشہ مجھ پہ مہربانی کرتے تھے اور اس سلسلہ میں کبھی مجھ سے فیس بھی نہیں لی۔ہائی کورٹ سے تو جان بچ گئی مگر نادر خان وغیرہ نے میرے خلا ف اینٹی کرپشن میں ایک درخواست دے دی کہ میں نے ان سے 5500روپے بطور رشوت وصول کیے ہیں۔میں نے اپنے سنیئرز کو تمام حقائق بتا دیئے اور ان سے کوئی بات نہ چھپائی اور یہ بھی بتایا ،کہ  مجھے تھانے کی نوکری کا اتنا تجربہ نہیں  ہے، کیونکہ ملزمان نے بوتلیں بھی توڑ دیں تھیں، اس لیے میں درست طور پر حالات نہ سمجھ سکا، میرے خلاف سیف اللہ لغاری کے بہنوئی منور عالم لغاری اور ایک جج میاں فیض الحسن بھی نادر خان وغیرہ کیساتھ شامل ہو گئے۔منور عالم لغاری کو اس بات کا غصہ تھا کہ اسکا نام لینے کے باوجود سیف اللہ پر تشدد کیا گیا اور یہ کہا گیا کہ  “بلوچ سو لتر بھی کھاتا ہے اور پیاز بھی کھاتا ہے”۔میں خود منورعالم لغاری SIسے ملا ،انھیں بھی ساری روداد سنائی لیکن وہ میری بات سننے کو تیار نہ تھے، ان سب کا ایک ہی فیصلہ تھا کہ مجھے نوکری سے برخواست کروانا ہے۔

چوہدری رحمت اللہ وڑائچ انسپکٹر ان دنوں بہاولپور میں بطور سرکل آفیسر اینٹی کرپشن تعینات تھے۔ درخواست ان کے پاس گئی ،لیکن انھیں بھی پتہ نہیں مجھ پر کس بات کا غصہ تھا۔انھوں نے میری ایک نہ سنی اور میرے خلاف اینٹی کرپشن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کردیا۔ملازمت میں دوسری دفعہ مجھ پہ اینٹی کرپشن کامقدمہ درج ہوا ،ایک دفعہ پھر میں مصیبت میں پھنس گیا۔گھر والے پھر پریشان تھے اور کہتے تھے کہ میں کیسا انسان ہوں جو ہر دفعہ کوئی نہ کوئی پنگا کر کے آجاتا ہے۔میرے کزن اقبال بلوچ نے میری بہت مدد کی ،انھوں نے مدعی نادر خان وغیرہ سے صلح کی کوشش بھی کی لیکن نادر خان وغیرہ ماننے کو تیار نہ تھے، بلکہ انھوں نے میرے ساتھ ایک نئی دشمنی نکال لی۔ نادرخان کا رشتہ دار صوبہ خان افیون و شراب کا ٹھیکیدار ہوا کرتا تھا کیونکہ میرے والد صاحب ایکسائز آفیسر تھے کسی زمانہ میں صوبہ خان کو بھی والد صاحب نے گرفتار کر کے مقد مہ درج کیا تھا۔۔۔مقدمہ تو درج ہو گیا جس پر میں نے ضمانت قبل از گرفتاری کروالی۔

اب ایک نئی جنگ اور ایک نیا محاذ  شروع ہو چکا تھا۔نادرخان وغیرہ کی کوشش تھی کہ  کسی طرح میری ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ کروائی جائے اور مجھے نوکری سے برخواست کروایا جائے لیکن دنیا کا ہر کام اللہ کی مرضی سے ہی ہوتا ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ غلام فرید محرر جس نے نادر خان وغیرہ کو چھوڑا تھا جب بھی میں یہ کہتا کہ یہ سب آپکی وجہ سے ہوا ہے اور آپ ہی ان کو روکیں تو وہ آگے ہنس کے کہہ دیتا تھا کہ وہ میرا کہا نہیں مانتے۔مقدمہ کے دوران سب سے اذیت ناک بات وہ آواز ہوتی تھی جو عدالت اینٹی کرپشن کے باہر اہلکار” عزیز اللہ خان بنام سرکار ” لگایا کرتے تھے اور میں اس کو پچاس روپے دیا کرتا تھا کہ وہ آواز نہ لگائے بس کہہ دیا کرے تاکہ میں پیش ہوجاؤں۔پھر جج اینٹی کرپشن کے ریڈر کو عدالت میں جج کی موجودگی میں سائلین سے رشوت لینے پر تکرار بھی کرتے دیکھا۔حالانکہ یہ مقدمہ بالکل جھوٹا تھا مگر مجھے جو شرمندگی محسوس ہوتی تھی وہ ناقابل بیان ہے۔

سرکل آفیسر اینٹی کرپشن کے رویے سے یہ بات عیاں ہوگئی تھی کہ انھوں نے مجھے گناہ گار لکھ کر اس مقدمہ میں چالان کردینا ہے چنانچہ میں ملتان ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کے دفتر میں گیاجہاں میری ملاقات DSPلیگل صادق ترین صاحب سے ہوئی جن کومیں نے تمام حالات بتائے اور انھیں یقین دلایا کہ میں نے نادر خان وغیرہ پر تشدد ضرور کیا ہے پر پیسے نہیں لیے۔صادق ترین صاحب میرے والدصاحب کو بہت اچھی طرح جانتے تھے۔انھوں نے میری کیس فائل منگوانے کا وعدہ کیااور یقین دہانی کی کہ آپ سے زیادتی نہیں ہوگی۔ایک ہفتہ گزرنے کے بعد میں دوبارہ صادق ترین صاحب گیا تو انھوں نے مجھے بتایا کہ انسپکٹر ظفر وڑائچ نے آپ کو گنہگار لکھتے ہوئے آپ کے چالان کی سفارش کی ہے آپ ایک درخواست ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کے نام لکھ دیں میں آپکی تفتیش تبدیل کروا دیتا ہوں۔چنانچہ میں نے وہی کیا اورمیری تفتیش تبدیل ہوگئی۔اب یہ تفتیش ایک انسپکٹر جو کہ خمینی کے نام سے مشہور تھے کو دے دی گئی۔

نادر خان وغیرہ نے یہ ٹھان لیا تھاکہ وہ ہر صورت میں مجھے نوکری سے برخواست کرواکے  دم لیں گے اور اپنی بے عزتی کا بدلہ لیں گے۔اس کے لیے وہ منہ مانگی قیمت بھی دینے کو تیار تھے۔شروع میں تو انسپکٹرخمینی نے میری بات سنی اور کہنے لگا کہ آپ سے ان کی دشمنی کیا ہے؟میں نے اُسے تمام سچائی بتائی تو بولا ،آپ نے اس بات کا اندراج روزنامچہ یا کسی ضمنی میں کیا تھا؟ میں نے جواب دیا کہ روزنامچہ میں تو نہیں البتہ جب یہ مجھے تھانہ پر آکر دھمکیاں دے رہے تھے تو ایک مقدمہ کی ضمنی میں،میں نے ان کے بارے میں لکھا تھا۔میں نے اس ضمنی کے حصول کے لیے SSPکو درخواست دی اور محافظ خانہ سے ضمنی کی کاپی نکلوا کر انسپکٹرخمینی کو دی۔

نادر خان وغیرہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ انسپکٹر خمینی جو کہ ایماندار پولیس آفیسر ہے وہ یہ مقدمہ خارج کررہا ہے تو انھوں نے بھی تبدیلی تفتیش کے لیے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کو درخواست دے دی۔جس پر اس مقدمہ کی تفتیش تبدیل ہوکر ملک مرید حسین DSPکے پاس چلی گئی۔میں پریشان تھا کہ بڑی مشکل سے ایک ایماندار آفیسر کے پاس تفتیش آئی تھی جو میرے حق میں لکھنے والا تھا۔ملک مریدحسین بہت سمجھدار اور قابل پولیس آفیسر تھے مجھے بلوایا اور پوچھا کہ  آپکی مدعی سے کیا دشمنی ہے؟کہ وہ آپ کو اس مقدمہ میں چالان کروانے کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرنے کے لیے تیار ہے میں نے انھیں تمام حالات سچ سچ بتائے اور یہ بھی کہا کہ  میرے پاس کوئی سفارش نہیں ہے، جس حد تک میرا قصور ہے اسکی سزا میں بھگت چکا ہوں۔ملک مرید حسین DSPصاحب نے مقدمہ خارج کردیا اور اس طرح میں ایک اور مصیبت سے بچ گیا۔مگر میری ترقی اپنے بیج میٹ کے ساتھ نہ ہوسکی اور ایک چھوٹی سی غلطی کی مجھے اتنی بڑی سزا ملی۔اپنے نئے آنے والے پولیس  افسران کو یہی کہہ سکتا ہوں کہ وہ جوبھی کریں سوچ سمجھ کر اور قانون کے دائرے میں رہ کر کریں اپنے ساتھی پولیس  افسران کی سفارش ضرور مانیں مگر جہاں اپنی ذات متاثر ہوتی ہو وہاں کوئی ایسا کام نہ کریں جو ان کے لیے پریشانی کا باعث بنیں ۔اس واقعہ کے بعد میں نے جب بھی کسی ملزم کو حوالات تھانہ میں بند کیاپھر اسے نہیں چھوڑا۔۔۔اوراگر چھوڑا تو تما م قانونی تقاضے پورے کیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *